پاکستان قدرتی خوبصورتی کا عظیم الشان شاہکار

50

خالد معین
(تیسری قسط)
نیا دن اور بابوسر ٹاپ کا طویل سفر…کاغان پولیس والوں نے رات بتادیا تھا کہ بابوسر ٹاپ کا راستہ کھل گیا ہے، مگر جب ہم بابوسر ٹاپ پہنچے تو تنگ راستے کے گلیشیرز دھوپ سے پگھل گئے تھے اور اُنہیں ہٹانے کا کام جاری تھا۔ تنگ راستے پر ایک گاڑی یا تو مقابل سمت سے آسکتی تھی یا مخالف سمت جاسکتی تھی، اس صورت میں آنے والے بھی عجلت میں دکھائی دیے اور جانے والے جلد سے جلد تنگ راستوں سے محفوظ راستوں کی طرف جانے کو بے تاب تھے۔کوئی تین گھنٹے سے زیادہ وقت لگا، مگر خدا خدا کرکے ہماری کوسٹر گلیشیرز والے تنگ راستوں سے بحفاظت آگے بڑھ گئی۔ اب سب نے سکون کا سانس لیا۔ ہماری آئندہ منزل پاک چین بارڈر خنجراب تھی، جہاں ہم دوسری صبح سے پہلے روانہ نہ ہوسکے۔ خنجراب کی بلندی 15397 فٹ ہے۔ خنجراب تک پہنچے تو یہاں بھی چاروں جانب برف سے ڈھکے پہاڑوں سے سامنا ہوا۔ پانی کی جھیل بھی برف سے جمی ہوئی ملی۔ یہاں قدرت کے بیش بہا مناظر دیکھے، اور سردی کی ایک نئی شدید لہر سے بھی ٹکرائو ہوا۔ غزالہ باجی نے بڑی ہمت دکھائی اور وہ وہیل چیئر پر پاک چین بارڈر پر پہنچ گئیں، جو چاروں جانب برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کے درمیان ایک خوب صورت سی سڑک اور بارڈر کے روایتی لوازمات کے ساتھ پاک فوج کے جوانوں کے عزم و ہمت کی امین ہے۔ سیاحوں کا یہاں بھی بڑا ہجوم موجود تھا، جن میں فیملیز کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ سیاح فوجی جوانوں کے ساتھ تصاویر اور سیلفیز لے رہے تھے، پھر جیسے ہی غزالہ باجی وہاں پہنچیں، بہت سے سیاحوں نے اُنہیں خراج ِ تحسین پیش کرتے ہوئے دھڑادھڑ اُن کے ساتھ تصاویر بنوانی شروع کردیں۔ یہ سب ہمارے سفر کی خوش گوار اور ناقابل ِ فراموش یادیں ہیں۔ سخت سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے جب ہماری کوسٹر خنجراب سے روانہ ہوئی تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ مگر خدا کی قدرت کہ تھوڑی ہی دور چلنے کے بعد اچانک برف باری ہونے لگی۔ بس پھر کیا تھا، کوسٹر کنارے لگادی گئی، بچے بڑے سب نیچے اتر آئے۔ ہم میں سے بیشر کی زندگی کا یہ انوکھا واقعہ تھا، جب ہم سب نے برف باری دیکھی اور برف باری میں بہت سا وقت گزارا، تصاویر لی گئیں۔ یہ سرخوشی ہمیشہ یاد رہے گی۔ آگے چلے تو ایسے بلند پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا، جہاں درخت اور ہریالی کا ڈیرا جما ہوا تھا۔ مار خور کے بارے میں تو آپ لوگ جانتے ہی ہوں گے کہ یہ ہمارا قومی جانور ہے، لیکن اس کو دیکھنا سخت دشوار ہے، کیوں کہ وہ سیکڑوں فٹ بلند پہاڑوں پر رہتا ہے، اور وہاں کیسے اپنا توازن برقرار رکھتا ہے اور کیسے اپنی نسل کو پروان چڑھاتا ہے، یہ قدرت کا ایک کرشمہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ مار خور کی نسل کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے شکار پر سخت پابندی ہے، اگر کوئی مارخور پر ایک فائر بھی کردے تو اُس کا جرمانہ پانچ لاکھ روپے بتایا جاتا ہے، تاہم مارخور کے قیمتی گوشت کے سبب لوگ اس کے شکار سے باز نہیں آتے۔ اسی سفر کے دوران ایک بلند وبالا پہاڑ پر ایک دو نہیں، چار مار خور دکھائی دیے، اور پورے سفر میں نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد ہمیں کوئی مار خور دکھائی دیا۔ مار خور کا نام مار خور کیوں ہے، اس کی بہت سی مقامی توجیہات ہیں۔ ایک تو یہ کہا جاتا ہے کہ جنگلی بکرے کی طرح کے صحت مند چوپائے کے سینگ ایک خاص طرح کے ہوتے ہیں، اور یہ سینگ آپس میں بل کھائے ہوئے سانپ سے مشابہ ہوتے ہیں، اس لیے اس کا نام مار خور پڑا۔ دوسرے، فارسی میں سانپ کو مار کہتے ہیں اور خور کا مطلب سانپ کھانے والا۔ حالاں کہ مار خور سانپ کھاتا نہیں، البتہ سانپ مارنا اس کا مشغلہ ضرور ہے اور یہ سانپ کو چبا جاتا ہے۔ مار خور کے گوشت کے علاوہ اس کے سینگ بھی بیش قیمت تصور کیے جاتے ہیں۔ وائلڈ لائف والے مار خور کی نایاب نسل کو محفوظ بنانے کے لیے جو اقدامات کررہے ہیں، اُن میں مزید وسعت ہونی چاہیے۔
ہمارا رُخ اب گلگت بلتستان کی وادی ِ ہنزہ کی جانب تھا، جو اسلام آباد سے سات سو کلومیٹر پر شاہراہ ریشم کے کنارے، سطح ِ سمندر سے 2500 میٹر بلند ہے۔ یہاں جو زبانیں بولی جاتی ہیں اُن میں بروشکی، واخی اور شینا شامل ہیں۔ تاہم ان زبانوں کو اپنی بقا کے مسائل کا سامنا ہے، خاص طور پر شینا کے بولنے والے اب بہت کم رہ گئے ہیں۔ شام ڈھلے ہنزہ پہنچے اور یہاں کے ایک مرکزی بازار علی آباد میں ہمارے نوجوان ساتھیوں نے ایک مناسب ہوٹل بھی ڈھونڈ نکالا۔ وادی ِ ہنزہ بلاشبہ ایک خوب صورت ترین سیاحتی مرکز ہے۔ وادی ِہنزہ میں چند دن قیام کے بعد اندازہ ہوا کہ یہاں کے مقامی لوگ بے حد بااخلاق، ملن سار، سادہ طبیعت اور مہمان نواز ہیں۔ خشک میوہ جات، دست کاریاں، مقامی ملبوسات، زیورات اور دیگر رنگا رنگ تاریخی اور ثقافتی اشیاء علی آباد ہنزہ کے طویل اور بل کھاتے بلند بازار کی زینت ہیں۔ یہاں تمام اشیاء کی قیمتیں مناسب لگیں۔ تمام سفر کے دوران پہلی بار چائے، چائے کی طرح ملی، اور دودھ پتی کی اچھی طرح پکی ہوئی چائے تیس روپے میں، جب کہ دیگر کھانے پینے کی اشیاء بھی اتنے داموں میں دستیاب تھیں کہ جیب پر بلا؎وجہ کا بار نہ پڑے۔ وادی ِ ہنزہ میں بجلی صرف دو یا تین گھنٹے آتی ہے، اور کب آئے گی، یہ بجلی والے خود طے کرتے ہیں، اس لیے سارا کاروبار ِ حیات جنریٹر پر چلتا ہے۔ وادی ِ ہنزہ میں علی آباد کے پُرپیچ طویل اور بلند بازار کی رونقیں رات گئے تک سیاحوں کے دم سے آباد رہتی ہیں، اور مقامی کھانوں کے روایتی چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں کے علاوہ جدید انداز کے ہوٹل بھی یہاں موجود ہیں۔ ایک ریسٹورنٹ میں جانا ہوا تو چند بڑی ٹیبلوں پر شاعروں اور ادیبوں کی اہم کتابیں دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی، ریسٹورنٹ کے نوجوان ویٹر سے اس حوالے سے بات ہوئی تو اُس نے بتایا کہ یہ کتابیں یہاں آنے والے گاہکوں کے لیے ہیں تاکہ وہ کھانے کے انتظار کے دوران ان کتابوں کا مطالعہ کرسکیں، تاہم یہ کتابیں برائے فروخت نہیں ہیں اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہمارے تمام عملے کو ہے۔
وادی ِ ہنزہ میں تاریخی اعتبار سے دیکھنے کو ایک تو قلعہ ہے، جسے دیکھنے کا ٹکٹ پانچ سو روپے رکھا گیا ہے، جو کچھ زیادہ لگا۔ اسی طرح یہاں ہزار سال قدیم گنیش ولیج بھی ہے، اس کا ٹکٹ تین سو روپے ہے، یہ بھی اس لحاظ سے زیادہ لگا کہ اس تاریخی ولیج میں یوں تو ساٹھ ستّر گھر ہیں، مگر قدیم ولیج والے مٹی کے پانچ چھ گھر ہی محفوظ رہ گئے ہیں۔ ان گھروں میں چھوٹے مندر اور مسجدیں دونوں دیکھنے کو ملیں، گندم اور دیگر غذائی اجناس کو ذخیرہ کرنے کے علاوہ ان گھروں میں اوپر کی ایک منزل بھی تھی۔ تالاب پانی سے خالی سے ملا۔ دیگر لوگوں کے یہاں آباد ہونے کے حوالے سے نوجوان گائیڈ نے بتایا کہ یہ وادی ِ ہنزہ کے غریب لوگ ہیں، جن میں اکثریت بیوائوں اور یتیموں کی ہے، اور انہیں یہاں کمیونٹی سسٹم اور اپنی مدد آپ کے تحت رہنے کے لیے مختلف گھر دیے گئے ہیں۔ وادی ِ ہنزہ میں دو پہاڑوں کے درمیان لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ایک کرشمہ یہ ہوا کہ دونوں پہاڑ ایک ہوگئے، اس کے سبب یہاں آبشار کا پانی فل آف منرل ہوگیا، لیکن اس گہرے سلیٹی پانی نے ہم جیسے لوگوں کو خاصا الجھا دیا۔ ایسا لگا کہ شدید کائی اور گندی مٹی اس پانی میں ملی ہوئی ہے، جب کہ مقامی لوگ یہی پانی پیتے ہیں، اسی سے نہاتے ہیں اور اسی سے کھانا بناتے ہیں، اور یہی پانی اُن کی نالیوں میں بھی بہتا نظر آتا ہے۔
ڈاکٹروں نے اس پانی کو صحت بخش قرار دیا ہوا ہے، اور اس حوالے سے سرٹیفکیٹ بھی دیے ہوئے ہیں۔ کچھ گھنٹے اس پانی کو گلاس یا بوتل میں رکھ دیں تو اس کا رنگ خاصی حد تک صاف ہوجاتا ہے۔ اس پانی میں دو سو اہم منرل موجود ہیں۔ ایک مقامی نوجوان سے بات ہوئی تو اُس نے بتایا کہ اُس نے چند اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر اس پانی کو صاف کرنا شروع کر؎دیا ہے اور علی آباد میں دیگر منرل واٹر کی طرح عمدہ پلاسٹک کی بوتلوں میں فروخت کرنا شروع کردیا ہے، جب کہ اس کے منرل ضائع نہیں جاتے اور قیمت پچاس روپے ہے۔ میں نے چند بوتلیں اس نوجوان سے خریدیں اور اپنی فیملی کو پیش کیں، جو ڈارک پانی سے الرجک تھے۔ وادی ِ ہنزہ میں صبح سات بجے ناشتے کے لیے ایک ایسے چھوٹے سے ہوٹل میں بھی جانا ہوا جو ایک سابق مقامی فوجی چلا رہا تھا، وہ سنتا کچھ اونچا تھا مگر ستّر سال کا بوڑھا، جوانوں کی طرح چست دکھائی دیا۔ اُس کے ہوٹل پر بڑے اچھے پراٹھے، چائے اور آملیٹ ملے۔ وہاں ایک اور مقامی بوڑھے کو دیکھا جو ناشتے کے لیے وہاں آتا تھا، اور سیاست دانوں سے سخت عاجز تھا، وہ پرویزمشرف کا فین تھا اور سارا وقت پرویزمشرف کی تعریفیں کرتا رہتا تھا، جب کہ وہ ہوٹل کے مالک کا بھی پرانا واقف کار اور مداح تھا، اور اُس کے بارے میں مجھے گاہے گاہے اہم معلومات مہیا کرتا رہا۔ ہوٹل کی دیواروں پر چند ماڈرن ماڈل لڑکیوں کی خوب صورت رنگین تصاویر دیکھنے پر مقامی بوڑھے نے بتایا کہ یہ ہوٹل کے مالک کی بیٹیاں ہیں جو تعلیم یافتہ ہیں، اور اب شادی شدہ بھی ہیں۔ میں ان تصاویر کو دیکھ کر سمجھا تھا کہ یہ کوئی مشہور چینی یا ویت نامی ماڈلز ہیں، مگر اس بوڑھے نے جلد میری غلط فہمی دور کردی۔
(جاری ہے)

حصہ