ریاستی لارنس آف عربیے

181

آج کشمیر کے حوالے سے ایک انتہائی دلخراش سانحے پر یاد آیا بھی تو کون؟
جناب ماہر القادری مرحوم!۔
مرحوم جنت مکانی ماہر القادری جو قادر الکلام شاعر نعت گو اور محب وطن نظریاتی پاکستانی تھے کسی اور تناظر میں کہے گئے ان کے اشعار تھے کہ

پہلے ہر شے کو ہم آواز کیا جاتا ہے
پھر کہیں نغمے کا آ غاز کیا جاتا ہے
عشق میں ایسے بھی مقام آتے ہیں کہ جب
حسن کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے

اگرچہ کشمیر کے حوالے سے ان اشعار کا یہاں کوئی تُک نہیں بنتا، مگر جہاں تک ” ہم آواز ” والی بات ہے وہ کم از کم سانحہ کشمیر اور اس شہہ رگ کے کٹ جانے اور ہماری ریاستی بزدلی پر سو فیصد صادق آتی ہے
ہے شے کو ہم آواز کئے بناء کوئی بھی نغمہ چاہے وہ کتنا ہی معنی خیز و دلنشیں ہی کیوں نہ ہو سامع کی توجہ حاصل نہیں کرسکتا لہذا ضروری ہے کہ پہلے ماحول کو سازگار کیا جائے اور پھر کسی نغمے کو چھیڑا جائے ۔
کشمیر پر حالیہ بھارتی تسلط سے قبل ہماری ریاست کی جانب سے جس دیدہ دلیری اور عیاری کے ساتھ ماحول کو سازگار بنا نے کے لئے یکے بعد دیگر منہ چبا چبا کر ایسے بیانات دیے گئے جو حیران کن تھے کم از کم ان کے لئے تو ضرور جن کے دلوں میں کسی نہ کسی طرح ابھی بھی ’کشمیر‘ ۔ پاکستان کی شہہ رگ ‘ کا درجہ رکھتا تھا۔
خطے میں نئے راگ الاپنے سے پہلے ماحول کی خاطر خواہ سازگاری کے لئے ریاستی بیانئے کی کچھ جھلکیاں جو پاکستانی قوم کو اطمینان کا لالی پاپ دینے کے سوا کچھ نہ تھے، کچھ یوں تھے ۔
بھارتی پنجاب کا وہ علاقہ جہاں پاکستان اور ہندوستان کی سرحدیں ملتیں ہیں بیٹھے بٹھائے ایک مخصوص ‘ غیر مسلم ا قلیت’ کو خوش کرنے کی خاطر ایک راہداری کھولی گئی اور اس کا فیتہ کاٹنے کی رسم پر ہمارے وزیر اعظم نے یہ بیان دیا کہ’کرتاپور بارڈر دونوں ملکوں کے مابین تعلقات بہتر استوار کرنے کے لیے کھولا گیا ہے’ (آخر وہ بہتر تعلقات کی یقین دہانی کس نے کروائی؟ راہداری کھلنے سے فائدہ کس کو تھا؟۔ ان سوالات کا جواب بہرحال اب تک نہیں اس کا)بنام آسٹرجیکل اسٹرائیک دونوں ممالک کے مابین جو ڈرامہ رچا یا گیا وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب ہندوستان میں جنرل الیکشن سر پر تھے، اور ہماری جانب سے کسی بھی جذباتی مو و کا فائدہ ہندو انتہا پسند مودی کو جا سکتا تھا، یاد ہوگا کہ ایک بھارتی طیارے سے پاکستان کی حدود میں کچھ بم پھینکے گئے اور حافظ سعید کے تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں مجاہدین تربیت حاصل کرتے تھے ۔ مگر کس سے؟ (یہ اضافی سوال خارج از مضمون)۔
اس چھلکا چھلکی میں ایک جنگی ہواباز کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا اور اس کا طیارہ فضا میں ہی تباہ کردیا گیا۔
چوبیس گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ اس ہواباز کو سنبھالنا ہمارے لئے مشکل ہوگیا اور دیسی چائے پلا کر جس کی عالمی سطح پر خوب تشہیر کی گئی اور ہماری ریاست کا بیانیہ تھا کہ’ ابھی نندن کو جذبہ خیر سگالی کے تحت چھوڑا گیا ہے’اس کے چند ہی دنوں بعد ہندوستان کی فضا مودی سرکار کے لئے ہموار ہوتی چلی گئی ۔ اور ہمارے ریاستی بیانئے میں بھی معمولی کاٹ چھانٹ کے بعد جو چیز میڈیا کے سامنے لائی گئی وہ کچھ اسطرح سے تھی کہ’پاکستان میں کشمیری تنظیموں کے دفاتر سیل کردیئے گئے ہیں تاکہ دنیا ہم پر دہشت گردی کا الزام نہ لگائے’اور پھر اگلے ہی دن یہ چیز کچھ مزید تفصیل کے ساتھ بیان کی گی کہ ‘ پاکستان سے کشمیریوں کے لیے کمک و رسد پہنچانے والی تمام تنظیموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے’نریندر مودی کے لئے راستہ تو‘ابھی نندن’کی رہائی سے بن ہی چکا تھا، کشمیری جہا دی تنظیموں پر پابندی کے اعلان نے یہ چبھن بھی دور کردی پھر ہمارا بیان دیکھیں’مودی اگر جیت جائیں تو کشمیر کا مسئلہ بہتر انداز سے حل ہوسکے گا.چلئے مودی جی جیت گئے، یعنی کہ ہمارے ریاستی بیانئے کے مطابق اب کشمیر کا ستر سال سے حل طلب معاملہ تصفیے کے قریب پہنچ چکا ۔ایسے میں کچھ بین الاقوامی دباؤ تھے کہ جس کی بدولت ہمیں حافظ محمد سعید کی گرفتاری کرنی ضروری ہوگئی تھی ورنہ ٹرمپ کو کیا منہ دکھاتے؟
اسی اثنا میں سلامتی کونسل کی ایک عارضی نشست کی رکنیت کے چناؤ کا وقت آگیا اور جذبہ خیر سگالی ہم پر غالب آگیا ۔ ہمارا ایک قیمتی ووٹ برادرانہ تعلقات کے نام پر ہندوستان کے حق میں چلا گیا اور ریاستی بیانیہ کچھ اسطرح سامنے آیا کہ” بھارت کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی عارضی رکنیت کے لئے پاکستان نے حمایت کی، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم ہوں.’لیجئے جناب کشمیر کے بھارت کا حصہ بن جانے کے ریزولیشن کے بعد یہ دوریاں بھی کم ہو گئیں ۔غالب کی ایک غزل کا مصر عہ سے شاید بات واضح ہوسکے ؎
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
ہم نے اپنے ابتدائی مضامین میں جب خان صاحب اینڈ کمپنی نے تازہ تازہ الیکشن جیتا تھا ” پورا ہوا جو خواب تھا کپتان کا ” کے عنوان سے کالم لکھا جس میں چند باتوں کی نشاندھی اور خدشات ظاہر کے تھے۔
ان میں سے بہت سی پوری ہوچکی ہیں جیسے یہ کہ ہم لکھ چکے تھے کہ ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی بنیاد رکھنے، آئی ایم ایف کی غلامی میں جانے اور قادیانیوں کو مسلم اسٹیٹس دینے کے کے ساتھ ساتھ مغربی ثقا فتی تہذیب کو پروموشن کے لئے کپتانی کی کرسی خان کے حوالے کی گئی ہے اور جلد یا بدیر کپتان کا خواب پورا ہونے ولا ہے ۔
آئی ۔ایم ۔ ایف کی غلامی وا لا خدشہ پورا ہوا، قادیانیوں کے لئے راستے ہموار کئے جا چکے، اپ آئینی ترمیم کی ہچ باقی بچی ہے، ویسے بھی کپتان کہہ چکے ہیں کہ ‘ قادیانیوں موقف جاننے کے لئے ان کا پارلیمنٹ میں آنا بہت ضروری ہے ‘کشمیر پر بھارتی فیصلے کے جواب میں ہمارے ریاستی بیانات، طفل تسلیوں اور سلطان راہی طرز کی بھڑک بازیوں نے یہ بات بھی سمجھا دی کہ کسی بھی نغمے کا آغاز کرنے سے پہلے ‘ ہر شے کو ہم آواز کیا جا نا ‘ کتنا ضروری ہے ،عرب قوم کو بھی اپنے لارنس آف عربیے کا بہت بعد میں معلوم ہوا تھا اگر ہمیں سال دو سال بعد معلوم ہو تو اس میں کیا ہرج ہے؟
کیا یہ کم ہے کہ ‘ہمارا پرنس ۔ اسمارٹ ہے، سادگی پسند ہے، اور پرچی بھی نہیں دیکھتا!
کون قائد اعظم؟ ارے وہ جنھوں نے کشمیر جنت نظیر کو شہہ رگ کہا تھا؟
بھائی اگر کشمیر ہماری شہہ رگ ہوتا اور کٹتے وقت ہمیں تکلیف بھی نہ ہوتی بدن کو معلوم نہ پڑتا کہ کوئی چھری پھیر رہا ہے دیکھو گلا بھی کٹ گیا اور ہمارا بدن مطمئن ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کشمیر شہہ رگ تھا ہی نہیں!
کشمیر کے معاملے پر ان ستر سا لوں میں قوم کے ساتھ ہمیشہ سے ہی بھیانک مذاق ہوتا رہا ۔ ابتدائی ایام کو دیکھتے ہیں کہ جب قائد اعظم اپنے پورے وزنری قد و کاٹھ کے ساتھ کشمیریوں کی پشت پر تھے ۔
اب اس بے حمیت جتھے پر نگاہ دوڑاتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ انہیں کون سمجھائے کہ یہ اس وقت کی کہانی ہے جب 1926ء میں جب قائد اعظم نے کشمیر کا دورہ کیا تھا اگرچہ اسوقت اگرچہ کشمیر میں تحریک حریت کے خدوخال تو زیادہ نمایاں نہیں تھے لیکن کشمیری مسلمانوں کی حالت زار دگرگوں تھی اور انہیں ہندؤوں کے مقابلے میں دوسرے تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا تھا۔ آپ وہاں کے زعماء سے ملے اور وادی کے حالات معلوم کئے، وہاں آپ کا قیام لگ بھگ ڈیڑھ ماہ رہا، اسی دوران دو تین مرتبہ کشمیر جانا ہوا، اور پھر آپ کی یہ رائے بنی اور آپ نے فرمایا ’’جموں کشمیر کے مسلمانوں کی تحریک آزادی ان بے انصافیوں کا ردعمل ہے جو ایک صدی سے ان پر روارکھی گئی ہیں۔”
یہاں تک کہ جون 1944 آگیا ۔ قائد اعظم نے جموں کشمیر کا دورہ کیا اور مسلم کانفرنس کے سالانہ جلسے میں جو آپ کی صدارت میں منعقد ہواآپ نے فرمایا کہ ‘’’جب میں اس جلسے پر نگاہ ڈالتا ہوں مجھے خوشی ہوتی ہے اور یقین ہوتا ہے کہ مسلمان اب جاگ اٹھے ہیں اور وہ مسلم کانفرنس کے جھنڈے تلے کھڑے ہوگئے ہیں۔ میں ایک مہینے سے یہاں مقیم ہوں اور اس عرصے میں میرے پاس ہر خیال کے آدمی آئے ہیں میں نے دیکھا کہ 99فیصد جو میرے پاس آئے ہیں مسلم کانفرنس کے حامی ہیں۔میں آپ کو ہدایت دیتا ہوں کہ آپ صاف صاف اور کھلے الفاظ میں اعلان کریں کہ ہم مسلمان ہیں۔ عزت کا صرف ایک راستہ ہے وہ ہے اتفاق و اتحاد ایک پرچم،ایک نصب العین، ایک پلیٹ فارم۔ اگر آپ نے یہ حاصل کیا تو آپ یقینا کامیاب ہوں گے۔ مسلم لیگ اور ہماری خدمات’تائید و حمایت آپ کے قدموں پر ہوگی‘‘۔
لارنس آف عربیے کی طرح ایک تھے لارڈ ماونٹ بیٹن جو اس غیر منصفانہ بٹوارے کے خالق تھے ان کی آشا و مرضی سے جون1947 کو تقسیم ہند کا فارمولہ طے پایا تھا اس فارمولے کے تحت ریاستوں کی آزادی اور الحاق کے بارے میں کچھ اصول و ضابطے منظور ہوئے جس پر فریقین راضی تھے وہ یہ تھا کہ ریاست اپنے طور پر فیصلے کی مجاز ہے کہ وہ پاکستان یا ہندوستان کسی میں سے ایک کا انتخاب کرے ۔
اسطرح ان سے جب کشمیریوں سے حق خود ارادیت چھینا گیا تو 19 جولائی 1947ء کو ریاست نے جو مسلم اکثریت تھی، الحاق پاکستان کی قرار داد منظور کی۔قرارداد پر عمل درآمد نہ ہو سکا
24 اکتوبر 1947ء کو سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا تو 27اکتوبر1947ء کو ہندوستان کی افواج نے کشمیر میں براہ راست اپنی افواج اتا ریں ۔
قائد اعظم نے فوری طور پر جواب دیتے ہوئے پاکستانی کمانڈر انچیف کو حکم دیا کہ وہ اپنی افواج کشمیر میں داخل کر دے لیکن ایسا نہ کیا گیا۔ قائداعظم کے اس حکم اور کمانڈر انچیف کی طرف سے حکم عدولی بھی ریکارڈ کا حصہ ہے ۔ قائد اعظمؒ کشمیر کے بارے میں کس حد تک فکر مند تھے۔ قائد اعظم کے آخری ایام میں ان پر جب غنودگی اور نیم بے ہوشی کا دورہ پڑتا تھا تو آپ فرماتے تھے کہ کشمیر کو حق ملنا چاہیے آئین اور مہاجرین کے الفاظ استعمال کیے۔
علامہ محمد اقبالؒ جو بذات خود ایک کشمیری النسل تھے،آپ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری اور بعد ازاں کشمیر کمیٹی کے صدر بھی رہے۔ علامہ اقبالؒ نے ہی 14 اگست1934 کو کشمیریوں کے سا تھ اظہار یکجہتی منانے کیلئے پورے مسلمانان ہند کو دعوت دی تھی۔ 1931ء کے واقعات جن میں سری نگر میں 22افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا اس واقعہ کے صدائے بازگشت کو ہندوستان تک پہنچانے میں علامہ اقبالؒ کا بہت بڑا کر دار تھا۔ حضرت علامہ محمد اقبال نے جب1930میں مسلمانان ہند کیلئے ایک الگ وطن کا مطالبہ پیش کیا تھا اسی دوران انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ معرض وجود میں آنے والی نئی مملکت اسلامیہ میں اگر کشمیر شامل نہ کیا گیا تو اس مملکت کو بنانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اب دیکھتے ہیں آج کا منظر نامہ کہ جب بھارتی حکومت نے بیک جنبش قلم کشمیر یوں سے ان کا آئینی حق چھین کر اپنے ساتھ ضم کرنے کا اعلان کردیا ۔ ہمارے پرنس کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بھارت کے عزائم کا پہلے سے علم تھا بھارت کا آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا اقدام گو کہ مکمل طور پر غیر متوقع نہیں تھا۔کئی بھارتی اور پاکستان تجزیہ کا اسکی بات کررہے تھے لیکن عموماً سامنے کی بات کو بطور اسموک اسکرین یادھوکہ سمجھ کر نظر انداز کرکے کوئی اور خفیہ چیز ڈھونڈنے کی عادت بعض اوقات شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری طرف سے کیا پیش بندی کی گئی تھی؟
معذرت کے ساتھ ہماری جانب سے بدحواسی تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ پردے کے پیچھے کچھ اور ہی ہے۔ورنہ یوں بیٹھے بٹھائے ٹرمپ صاحب کو کشمیر کی ثالثی میں کیا دلچسپی درحقیقت قانون سازی سے پہلے اس قسم کے اقدامات کے بعد بھارت نے یہ ثابت کردیا کہ مودی حکومت کشمیری عوام کے ردعمل سے شدید خوفزدہ ہے۔ اب ہوگا کیا؟
ریاست اگر مردہ ہو جائے تو شہہ رگ کٹنے پر جسم کو کچھ تکلیف نہیں ہوتی ۔ مگر قوم اگر زندہ ہو تو جسم میں کانٹا بھی چبھے تو وہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ ہماری ریاست اور قوم کے درمیان یہی معاملہ ہے کتنے ہی لارنس آف عربیے ہماری صفوں میں موجود ہیں ہمیں بھی نہیں معلوم لیکن یہ بات طے ہے کہ اگر ہندوستان کے بیس کروڑ مسلمان اپنی بقا کے لئے کوئی اجتماعی فیصلہ کر لیتے ہیں تو ہندوستان کو ۔ اکھنڈ بھارت کے نعرے سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔

حصہ