داستانِ سفر۔۔۔ کل سے آج تک

47

عظمیٰ ابو نصر صدیقی
تیز جھلساتی دھوپ میں تپتی زمین پر وہ ننگے پیر چلی جارہی تھی۔ بار بار پلٹ کر دیکھتی، ذرا سی سرسراہٹ سے ٹھٹھک جاتی۔ اپنی ملگجی اوڑھنی سے اپنے بوجھل وجود کو ڈھانکتی، چھپاتی اپنی منزل کی تلاش میں سرگرداں… وہ منزل جس کے لیے وہ تقریباً سب کچھ کھو چکی تھی۔ ’’سس …سی…‘‘ اس کے منہ سے سسکاری نکلی اور وہ بے اختیار بیٹھ گئی۔ گردوغبار سے آلودہ پیر میں کوئی کانٹا چبھ گیا تھا۔ کانٹے تو اس کے پورے وجود کو چھلنی کرچکے تھے جن کی اذیت اس کانٹے سے کئی گنا زیادہ تھی، اور احساسِ تنہائی نے اس کی تکلیف کو مزید بڑھا دیا تھا۔ لنگڑاتے پیر کے ساتھ اس نے قریب ایک درخت تلاش کیا اور ٹیک لگاکر آنکھیں موند لیں۔
منزل ابھی نہ جانے اور کتنی دور ہے؟ گزرتے لمحات کی تھکن اس پر غالب آنے لگی۔ سونے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کہ ایک عزت ہی تو بچی تھی اس کے پاس، جسے وہ کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتی تھی۔
آنکھیں بند کرتی تو جیسے کرچیاں سی چبھنے لگتیں… اتنا خون دیکھا تھا کہ بند آنکھوں میں بھی اب اندھیرے کے بجائے سرخی در آئی، اس نے سرد آہ بھری۔
…………٭٭٭………
’’بائو عزیز ہے گھر پر…؟‘‘ وہ اپنی اوڑھنی سے ہاتھ پونچھتی دروازے تک پہنچی۔ ساتھ کے گھر سے رنبیر سنگھ اور بھیم سنگھ آئے تھے۔ برسوں کی محلے داری تھی، لیکن اب حالات ایسے تھے کہ کسی پر بھی بھروسا نہیں کیا جاسکتا تھا، مسلمان ہونا ہی جرم ٹھیرا تھا۔
’’وہ گھر پر نہیں ہیں… شام تک…‘‘ ابھی اس کا جملہ پورا بھی نہ ہونے پایا تھا کہ باہر سے شور و غل کی آوازیں سنائی دیں… ’’آگیا یارو! پکڑو اسے جانے نہ پائے، بڑا بنا پھرتا ہے پاکستان کا حامی…‘‘
’’اللہ رحم کرے، خدا کرے وہ فریدہ کو ساتھ نہ لائے ہوں…‘‘ اس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا۔ دروازہ کھولنے کو اس کے شوہر نے سختی سے منع کر رکھا تھا، وہ تیز تیز دوڑتی ڈیوڑھی تک پہنچی… آگے کا منظر اس کے حواس گم کرنے کے لیے کافی تھا، اس نے اپنے محبوب شوہر کو پاکستان کے نام پر خون میں نہاتے دیکھا۔ یکبارگی اس کے دل میں یہی خیال آیا کہ اپنے شوہر کے آگے ڈھال بن جائے، لیکن اس کی نظروں کے سامنے اس کی نند فریدہ کا بکھرتا وجود، دل دہلاتی چیخیں اس کو اِس بات پر مجبور کررہی تھیں کہ وہ اپنی عزت اور بچوں کو بچا لے جائے۔ اسی لمحے اس نے اپنے دس سالہ بیٹے فرید احمد کا ہاتھ تھاما اور پچھلے دروازے سے نکل کھڑی ہوئی، وہ ظالم کسی بھی لمحے گھر میں داخل ہوسکتے تھے۔
پچھلی گلیوں سے بلوائی گزر چکے تھے۔ ہر طرف آگ اور خون کا منظر دکھائی دیتا تھا۔ اپنی جان اور عزت بچانے کے لیے اسے کئی بار خون میں لتھڑی لاشوں کے درمیان چھپنا پڑا۔ اجڑے ہوئے گھروں سے اپنے بچے کے لیے کھانے پینے کا سامان ڈھونڈتے اسے ہر لمحے ایک ہی دھڑکا لگا رہتا کہ اب شور کی آوازیں آئیں گی… اور وہ پکڑی جائے گی… جلی کٹی لاشوں کے درمیان گزاری وہ راتیں اس سے اس کی نیندیں کب کی چھین چکی تھیں۔ اب اسے اپنی منزل تک بس چلتے ہی رہنا تھا۔ وہ ریل کی پٹری سے منزل کا راستہ تلاشتی چلتی جاتی۔ اسی اثنا میں کچھ دور اسے ایک ریل رکی نظر آئی، آنکھوں میں امید کی چمک اور رفتار میں یکایک تیزی آگئی۔ تھوڑا قریب آنے پر مسافروں کو گاجر مولی کی مانند کاٹتے اور پھینکتے ظالم بلوائیوں پر نظر پڑی اور وہ اپنے بچے کا ہاتھ پکڑے کھیتوں میں دوڑتی چلی گئی۔ اچانک اسے ٹھوکر لگی اور کمزوری اور تھکن کی انتہا کے باعث وہ بے ہوش ہوگئی۔ نہ جانے کب اسے ہوش آیا تو اس کا بیٹا فرید بھی اس سے بچھڑ چکا تھا۔
’’یااللہ یہ کیسی آزمائش ہے؟‘‘ وہ جو اب تک اپنے شوہر کی موت پر بھی نہ روئی تھی، اپنے بیٹے کے بچھڑنے پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
درخت سے ٹیک لگائے اسے خاصی دیر ہوگئی تھی، ایک بار پھر اس نے اپنی بکھری قوت کو جمع کیا اور اپنی آنے والی اولاد کے لیے اپنے قدم پاک سرزمین کی جانب بڑھا دیے۔ نہ جانے کتنی دیر وہ چلتی رہی۔ نقاہت سے بار بار قدم لڑکھڑا جاتے، بس آخری منظر اس کی آنکھوں میں تھا کہ سامنے پاک فوج کے جوانوں کا ایک دستہ اس کی جانب بڑھا اور وہ بے ہوش ہوکر گر پڑی۔
کیمپ کا منظر شاید اس بھیانک رات سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والا تھا۔ اپنے زخمی وجود کے ساتھ آسمان کو دہلاتی ان عورتوں کی چیخیں، جن کے پاس خاندان تو کیا عزت بھی نہ بچی تھی۔ صابرہ روز آنے والے قافلوں میں اپنے بیٹے کو تلاش کرتی۔ انہی دنوں اس نے ایک کمزور سی بچی کو جنم دیا، جس کے ماتھے پر ہونٹ رکھتے وہ اپنا تمام ضبط کھو بیٹھی ’’یا اللہ اسے میرے جیسا نصیب مت دینا۔‘‘ وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔
…٭…
کیمپ سے اب جھونپڑی میں بیس سال کا طویل عرصہ اس نے اپنے بچھڑے بیٹے کی زندگی اور ملنے کی دعائیں کرتے گزارا… ہر دن امید بن کر آتا اور پھر ڈھل جاتا۔
آج صبح سے ہی جھونپڑیوں کی اس بستی میں ہلچل سی تھی، فوجی جوانوں کا ایک دستہ ان جھونپڑی والوں کی گھروں میں منتقلی کے کاغذات لے کر آیا تھا۔
’’اماں! تمہارے ساتھ کون کون ہے؟‘‘ وہ جو گھٹنوں میں سر دیے چارپائی پر بیٹھی تھی، اماں سنتے ہی چونک اٹھی ’’کک… کک…کون؟‘‘
’’اماں میں فوج کی طرف سے آیا ہوں، یہ جھونپڑیاں یہاں سے اٹھائی جارہی ہیں اور آپ لوگوں کو پکے مکان دیے جارہے ہیں۔‘‘ اس نوجوان نے تفصیل سے بتایا۔
صابرہ ٹک ٹک اس کی بھوری آنکھوں کو دیکھ رہی تھی۔ ’’عزیز احمد…؟‘‘ وہ ہو بہو اپنے باپ کی تصویر تھا۔ ’’نہ… نہ فرید احمد… تم فرید احمد ہو ناں؟‘‘ اس کے دل سے مچلتی ہوئی آواز نکلی۔
’’جی اماں…! پر تم مجھے کیسے جانتی ہو؟‘‘ اس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا۔ سامنے بیٹھی ملگجے بالوں اور جھریوں بھرے چہرے والی عورت میں اب اسے بھی ماں کی شبیہ نظر آنے لگی۔
’’ارے میں تجھے کیسے نہ جانوں گی؟ تُو میرا فرید ہے، میرا خون ہے، میرا بیٹا… اری نفیسہ دیکھ تیرا بھائی آیا ہے، میرا فرید آیا ہے۔‘‘ وہ کبھی ہنستی، کبھی روتی، کبھی سب کو بلاتی۔ اس کی جھونپڑی کے باہر رش لگ گیا تھا، ہر کوئی مبارک باد دے رہا تھا، وہ بار بار اپنے بیٹے سے لپٹ جاتی۔ ایک ماں کو اس کا بچھڑا ہوا بیٹا مل گیا تھا، اور اس کی خوشی کی کیفیت نے آس پاس کھڑے تمام افراد کی آنکھوں کو نم کردیا تھا۔
آج فرید احمد اس کی بیٹی، اس کا، اور پاک دھرتی کا محافظ بنا اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اپنے بیٹے کو فوجی کے روپ میں دیکھ کر اس کے اندر تک ٹھنڈک اتر گئی۔ ’’بیٹا تمہیں یاد ہے ناں کہ ہم نے کیسی کیسی مصیبتیں اور صعوبتیں جھیلی ہیں، صرف اس پاک زمین کی خاطر؟ تو تمہیں قسم ہے میرے بیٹے کہ تم اس کی عزت و حرمت کی حفاظت کرو گے، بالکل اپنی ماں کی عزت کی طرح، جس نے سخت سے سخت اور برے سے برے حالات میں بھی اپنی چادر کو سر سے اترنے نہ دیا۔ تم اس راہ میں بہایا گیا اپنے باپ دادا کا خون کبھی نہیں بھلائو گے… بولو، وعدہ کرو۔‘‘
فرید احمد نے اپنی ماں کے ہاتھوں کو تھام کر ہاں میں سر ہلاتے ہوئے انہیں اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔ ’’ماں میں جانتا ہوں کہ میری دو مائیں ہیں، ایک تم اور دوسری یہ سوہنی پاک دھرتی۔‘‘
صابرہ نے فخر سے ایک بار پھر اپنے محافظ بیٹے کی پیشانی کو چوم لیا۔
…٭…
فرح نے اپنی کہانی کو ایک خوش گوار اختتام دے کر مکمل کیا، کالج میگزین کے لیے لکھی گئی اس کہانی کو لفافے میں رکھا اور میز پر بکھری قیام پاکستان کے حوالے سے لکھی گئی جابجا کتابوں کو ترتیب دینے لگی، جن میں سے اس نے اپنی کہانی کے لیے مواد اکٹھا کیا تھا۔
جیسے جیسے یوم آزادی قریب آرہا تھا، ان کے گھر میں سرگرمیاں بڑھتی جارہی تھیں۔ فرح کی مما ایک سماجی ادارے سے منسلک تھیں، اور بھائی ایک میوزیکل بینڈ سے وابستہ… پاپا نہایت ایک اہم سیاسی شخصیت تھے، اور فرح خود ایک ادیبہ ہونے کی حیثیت سے بہت حساس طبیعت کی مالک تھی، جسے کالج میں غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں بہت لطف آتا، تحریر و تقریر دونوں ہی میں اسے کمال حاصل تھا۔
’’فواد… فواد… دروازہ کھولو…‘‘ اس نے زور سے دروازے پر دستک دی۔ کمرے میں کان پھاڑ دینے والی آواز میں میوزک چل رہا تھا، جس میں اس کا بھائی جشنِ آزادی کے حوالے سے ملّی نغمے کی تیاری کررہا تھا۔ ہاتھ پائوں سب تھرک رہے تھے۔
آئو سنائوں تم کو عجب کہانی… ہو ہو ہو
قربانیوں کی لہو رنگ کہانی… ہو ہو ہو
فرح نے اپنے بھائی میں فرید احمد کو تلاش کیا۔ تھرکتے وجود، بڑھے ہوئے بال پونی میں جکڑے ہوئے… ہاتھوں میں رنگ برنگے بینڈز، کانوں میں ٹاپس… اس کی الجھی تنقیدی نظر کو محسوس کرتے ہوئے فواد نے میوزک کی آواز کم کی اور اس کو کندھوں سے پکڑ کر گھما گھما کر اپنا نیا شاہکار گانا سنانے لگا۔
’’یہ… یہ تم آزادی کا نغمہ سنا رہے ہو یا بزرگوں کی قربانیوں کا مذاق اڑا رہے ہو؟‘‘ فرح کا دل دکھ سے بھر گیا۔
’’ڈیئر سسٹر! میں اس وقت بالکل بھی تقریر سننے کے موڈ میں نہیں ہوں، پھر بھی اگر دل چاہ رہا ہے تو پلیز امی کو لکھ کر دے دو، ان کا بھی کوئی نہ کوئی سیمینار ہوگا 14 اگست کے دن۔‘‘ فواد نے دروازہ کھول کر اس کو جانے کا اشارہ کیا۔
وہ پیر پٹختی وہاں سے نکلی اور نہ چاہتے ہوئے بھی مما سے ٹکرائو ہو ہی گیا۔ بغیر دوپٹے اور آستین کے جدید تراش خراش کی قمیص شلوار میں ملبوس اس کی مما کہیں سے بھی جوان بچوں کی ماں نہیں لگ رہی تھیں۔
’’مما آپ کہیں جارہی ہیں؟‘‘ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھی۔
ہاں ڈیئر… نیا پاکستان اور آزادیٔ نسواں کے حوالے سے کچھ پروگرامات کی تیاری چل رہی ہے، بس وہیں جارہی ہوں۔‘‘ اس نے پھر اپنی مما کا موازنہ صابرہ احمد سے کرنا چاہا۔ اس کی نظروں کو دیکھ کر وہ اس کا گال تھپتھپاتے ہوئے بولیں ’’کیا بات ہے، کوئی پریشانی ہے کیا؟‘‘
’’نن… نہیں… کچھ نہیں…‘‘ وہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہ سکی۔
’’اور یہ تم نے اپنا کیا حلیہ بنا رکھا ہے؟ بالکل بھی نہیں لگ رہا کہ تمہارا تعلق کسی ماڈرن گھرانے سے ہے۔ آج ہی جائو اور اپنے لیے ڈھنگ کے کپڑے لو۔ یہ ڈھیلے ڈھالے کپڑے اور بڑی سی چادر لے کر بالکل اپنی دادی لگتی ہو۔‘‘ وہ اسے ہی سنا کر آگے بڑھ گئیں۔
کیا قیام پاکستان کی داستانیں جھوٹی ہیں؟ وہ عورتیں جنہوں نے اتنی مشکلات کے باوجود اپنی عزت، اپنی اوڑھنی کو نہ چھوڑا… اور ایک آج کی پاکستانی خواتین ہیں جن کو ابھی اس سے بھی زیادہ آزادی چاہیے۔ اس نے دروازے سے نکلتے اپنی مما کو دیکھا۔
جس تہذیب اور ثقافت سے جان چھڑا کر ہم اس پاک ملک آئے تھے، آج وہی ہندوانہ تہذیب اور مغربی کلچر ہماری تہذیب کو ناپاک کررہا ہے۔ وہ دکھ اور تاسف سے اپنی میز کی طرف بڑھی جہاں کتابیں تحریکِ آزادی کی لہو رنگ داستان سنا رہی تھیں۔ ’’نہیں، میں ایسا ہرگز نہ ہونے دوں گی، میں اور میرے جیسے اور بھی نوجوان اس پاک دھرتی کو ناپاک نہیں ہونے دیں گے۔‘‘ اس نے اپنا بڑا سا دوپٹہ مزید اپنے گرد لپیٹ لیا اور ایک کتاب کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا، امید کی اجلی کرن تھی جو اُس کے خوب صورت چہرے سے عیاں تھی۔

حصہ