تیس مار خاں

31

دوسری قسط
بادشاہ نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے کہا کہ تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ تم نے ان تیس کے تیس کو ہلاک کر دیا ہے، انھوں نے تو ہمارے درجنوں سپاہی تک ہلاک کر ڈالے تھے پھر بھی ہم ابھی تک ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے تھے۔ تیس مارخان نے جواب میں کہا کہ کیا مجھے اس بات کی اجازت ہے کہ وہ پوٹلی جو میرے پیروں کے سامنے رکھی ہے میں ثبوت کے طور پر اسے آپ کے سانے کھول سکوں۔ بادشاہ جو اب تیس مار خاں سے کافی متاثر ہو چکا تھا اس نے اپنے درباریوں سے کہا کہ تیس مار خاں کی پوٹلی کو اس کے قریب لایا جائے اور اسے اجازت دی جائے کہ وہ اس پوٹلی کو کھول سکے۔ درباریوں نے تیس مار خاں کی پوٹلی اٹھائی، تخت کے قریب لے گئے اور تیس مارخاں سے کہا کہ اسے کھولا جائے۔ تیس مارخاں نے پوٹلی کھولی تو سب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس میں انسانی ناکیں تھیں اور جب ان کو گنا گیا تو وہ پوری تیس تھیں۔ باد شاہ نے کہا کہ اسے (تیس مار خاں) کو پکڑ کر رکھا جائے، اسے وہاں لیجایا جائے جہاں اس کے دعوے کے مطابق تیس ڈاکوؤں کی لاشیں ہیں اور نہیت لڑاکا سپاہیوں کا دستہ ہمراہ لیا جائے کیونکہ وہاں ہم بہت جانی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ ڈاکوؤں کا ہی آدمی ہو اور ہمیں مزید نقصان پہنچانا چاہتا ہو۔ اگر اس کا دعویٰ سچا ہے تو وہاں ڈاکوؤں کی لاشیں اور مال و اسباب بھی ہوگا اور اگر یہ جھوٹ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے تیس خون کسی اور کے کئے ہیں اور ہمیں ڈاکوؤں کی کہانی سنا رہا ہے۔ ایسی صورت میں اسے ہمارے سامنے واپس لاکر قتل کر دیا جائے۔
بیسیوں شمشیرزنوں کے دستے کے ہمراہ تیس مارخاں ٹھیک اسی مقام پر پہنچے جہاں ڈاکوؤں کی لاشوں کو ایک غار میں بند کر دیا گیا تھا۔ جب غار کا منھ کھولا گیا تو اس سے تیس لاشیں برآمد ہوئیں۔ دستے میں شامل کئی اہم عہدیدار ڈاکوؤں کو پہچانتے تھے۔ ڈاکوؤں کا لوٹا ہوا مال، ان کے ہتھیار اور گھوڑے، سب کے سب برآمد کر لیے گئے اور نہایت عزت کے ساتھ تیس مار خاں کو سب سازوسامان کے ساتھ باد شاہ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ سب کچھ سچ جان کر باد شاہ اپنے تخت سے اٹھ کر تیس مارخاں سے گلے ملا اس لیے کہ اس نے تنہا وہ کارنامہ انجام دیا تھا جو اس کے بہادر سپاہی بھی انجام نہ دے سکے تھے۔ اس کو مہمان خاص بنالیا گیا اور بھاری انعام دینے کا اعلان کرتے ہوئے اس سے گزارش کی گئی کہ وہ بادشاہ کا مہمان رہے۔ اندھے کو کیا چاہیے، دو آنکھیں اس لیے تیس مار خاں کو اس میں کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔
کچھ ہی دن گزرے تھے کہ کسی قریبی بستی والوں نے آکر دہائی دی کہ ان کی بستی میں ایک خونخوار شیر نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ کچھ دنوں پہلے تک تو جنگل کا وہ شیر ان کے مال مویشیوں پر ہی حملہ کیا کرتا تھا لیکن اب عالم یہ ہے کہ وہ ان کی بستی کے انسانوں کی جان کا دشمن بھی بن گیا ہے اور آئے دن کوئی نہ کوئی عورت یا مرد، بچی یا بچہ اس کا لقمہ بن جاتا ہے جس کی وجہ سے بستی والے سخت پریشان ہیں۔ گھروں میں بند ہو کر رہ گئے ہیں۔ کھیتوں کا رخ نہیں کرتے اور خوف و دہشت کی وجہ سے ان کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ باد شاہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ ماہر شکاریوں سے رابطہ قائم کیا جائے اور بستی والوں کی زندگی کو آسان بنایا جائے۔ کئی ہفتے تک شکاریوں کی ٹیمیں وہاں جاتی رہیں لیکن ہر مرتبہ یہی اطلاع ملی کہ شکاریوں کی ٹیم کا کوئی نہ کوئی شکاری تو شیر کا شکار ہوتا رہا لیکن شیر کسی سے شکار نہ ہو سکا۔ یہ بات بادشاہ کی ناک کا مسئلہ بن گئی۔ بادشاہ سخت پریشان تھا کہ آخر وہ کرے تو کیا کرے۔ ایک دن بادشاہ سخت پریشانی کے عالم میں دربار میں ٹہل رہا تھا کہ ایک مصاحب نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ تیس مار خاں کو وہاں بھیجا جائے۔ وہ ایک بہادر اور نڈر انسان ہے۔ اگر وہ تیس ڈاکوؤں کو اکیلا مار سکتا ہے تو شیر کو ماردینا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ بظاہر یہ مشورہ تعریفانہ تھا لیکن اس میں ایک شیطانیت پوشیدہ تھی۔ تیس ڈاکوؤں کا مارا جانا اس مصاحب کی نگاہ میں ایک معجزہ یا اتفاق ہی تھا جو تیس مارخاں کی لیے وجہ شہرت بن گیا تھا۔ پہلے ہی دن سے اس نے اپنے خاص بندوں کو تیس مارخاں کی حقیقت معلوم کرنے کی مہم پر لگا دیا تھا۔ شاہوں کے دربار میں یہ بہت بڑا عذاب ہے کہ وہاں ہر فرد دوسرے کو نیچا دکھانے اور باد شاہ کی نظروں میں اپنا مقام بنانے کی لیے بے چین رہتا ہے خواہ ایسا کرنے میں کسی کی جان ہی کیوں نہ لینی پڑ جائے۔ جب سے بادشاہ کی نظروں میں تیس مارخاں کی لیے تعریفیں ہی تعریفیں دکھائی دی تھیں، اس مصاحب کی راتوں کی نیند ہی اڑ کر رہ گئی تھی اور حسد کی آگ اس کے سینے کو جھلسائے دے رہی تھی۔ یہ آگ اس وقت اور بھی دہک اٹھی جب اسے تیس مار خاں کی حقیقت اس کے خاص بندوں نے آکر بتائی۔ جب سے اسے یہ معلوم ہوا کہ تیس مارخاں کا تعلق ایک نہایت غریب گھرانے سے ہے اور وہ ایک نہایت سست، کاہل، ہڈحرام اور ڈرپوک انسان ہے تو اسے یوں لگا جیسے وہ رات دن انگاروں پر لوٹ رہا ہو۔ اسی دن سے اس نے سوچنا شروع کر دیا تھا کہ اس انسان کو اپنے راستے سے کسی ایسی ترکیب سے ہٹانا ہوگا کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ یعنی تیس مار خاں کا پتہ بھی صاف ہو جائے اور بادشاہ کو سازش کا پتہ بھی نہ چلے۔ شیر کو تیس مار خاں کے ہاتھوں مروانے کا مشورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ اسے معلوم تھا کہ جب شیر کو ماہر شکاری بھی نہ مار سکے تو اکیلا تیس مارخاں شیر کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ اس طرح شیر تیس مارخاں کو مار کھائے گا اور اس کی راستے کی ایک چٹان بھی ہمیشہ ہمیشہ کی لیے ہٹ جائے گی۔ بادشاہ مصاحب کی بات سن کر بہت غور سے مصاحب کا جائزہ لیا لیکن کسی جذبے کا اظہار نہیں کیا بلکہ کہا کہ تیس مارخاں کو دربار میں بلایا جائے۔ تیس مار خاں پورے طمطراق کے ساتھ دربار میں حاضر ہوا۔ دربار میں جو بھی حاضر ہوتا وہ رویتی انداز میں رکوع کی حالت میں ضرور جھکتا اس لیے کہ بادشاہوں کے سامنے پیش ہونے کے آداب میں ایسا کرنا اچھا سمجھا جاتا تھا لیکن تیس مارخاں سلام و آداب تو ضرور کرتا لیکن وہ روایتوں کا پابند نہیں تھا۔ اس کا اس طرح بیباکانہ دربار میں آنا بھی مصاحب کو پسند نہیں تھا لیکن بادشاہ نے کبھی اس بات پر ناگواری کا اظہار نہیں کیا۔ یہ بات مصاحب کو اور بھی تکلیف پہنچاتی تھی۔ جب تیس مارخاں حاضر ہوا تو باد شاہ نے پوری بات اس کے سامنے رکھی اور کہا کہ وہ اس سلسلے میں کیا کر سکتا ہے۔ ساری بات سن کر تیس مارخاں کے پیروں کے نیچے سے زمین سرک کر رہ گئی لیکن اس نے اپنے آپ پر قابو پاکر کہا کہ آپ جیسا حکم کریں بندہ حاضر ہے۔ بادشاہ نے ایک دستہ ساتھ لیجانے کا کہا تو تیس مارخاں نے ادب سے عرض کیا کہ بادشاہ سلامت مجھے اپنا شکار تنہا ہی کرنا پسند ہے۔ یہ بات سن کر بادشاہ حیران بھی ہوا اور بہت خوش بھی لیکن مصاحب کے چہرے کا رنگ اڑ کر رہ گیا۔ اس کا خیال تھا کہ تیس مارخاں خوف و دہشت کی وجہ سے راہ فرار اختیار کرے گا یا کم از کم اپنے ہمراہ کسی دستے کو لیجانے کو پسند کریگا۔ اس نے سوچا تھا کہ دستے کو منتخب کرنے کا کام بھی بادشاہ اسی کو ہی سونپے گا تو وہ دستے میں اپنے خاص بندوں کو ساتھ کرکے ایسی ہدایات دیدوں گا جس کی وجہ سے شیر واقعی تیس مارخاں کو کھا ہی جائے لیکن وہ اپنی اس سوچ میں بھی ناکام ہو گیا۔
تیس مار خاں کو اپنی حقیقت بہت اچھی طرح معلوم تھی اور وہ جب گھر سے چلا تھا تو یہی سوچ کر چلاتھا کہ یا تو وہ کچھ بن کر گھر واپس جائے گا یا پھر مرجائے گا لیکن اب بے شرمی یا بے غیرتی کی زندگی نہیں گزارے گا۔ بس یہی سوچ کر اس نے نے کا فیصلہ کیا کہ یا تو وہ اکیلا ہی شیر کا مقابلہ کرکے مارا جائے گا یا اس کا رب اس کی لیے کوئی راہ نکال لے گا۔
سپاہیوں نے اس کی خواہش اور بادشاہ کے حکم کے مطابق اسے سورج غروب ہونے سے کچھ پہلے اس بستی کے جنگل کے قریب چھوڑ دیا جہاں آدم خور نے تباہی مچائی ہوئی تھی۔ کچھ دور ایک اونچا درخت بھی تھا جہاں تیس مار خاں پناہ لے سکتا تھا۔ ایک بڑی ساری دودھاری اور بہت تیز دھار والی تلوار اس کی کمر سے لپٹی ہوئی تھی۔ رات بھر کے کھانے پینے کے سامان کے علاوہ اور کچھ اس کے ہمراہ نہیں تھا۔ سپاہیوں کا وہ دستہ جو تیس مار خاں کے ساتھ آیا تھا وہ آدم خور شیر کی درندگی کی کہانیاں سن سن کر اتنا خوف زدہ ہو چکا تھا کہ تیس مار خاں کو اس جنگل میں اتارنے کے بعد وہ اتنی تیز رفتاری سے بھاگا کہ مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ ابھی دستے کو فرار ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی اور تیس مارخاں سوچ ہی رہا تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کہ ان کے کانوں میں شیر کی غراہٹ سنائی دی۔ شیر کی غراہٹ نے حقیقتاً ان کے اوسان خطا کر دیئے۔ ان کے پاس اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ تیزی سے اس درخت کی جانب لپکیں جو ان سے چند قدموں کے فاصلے پر ہی تھا۔ یہی ایک صورت جان بچانے کی تھی لیکن اس کا کیا جائے کہ مارے دہشت کے ان کے قدم من من بھر کے ہوکے رہ گئے تھے۔ چار نہ چار وہ درخت کی سمت بڑھے اور اس پر چڑھنا شروع کر دیا۔ ابھی وہ کچھ ہی اوپر چڑھے تھے کہ شیر سارے فاصلے طے کرتا ہوا بالکل درخت کے قریب پہنچ گیا۔ تیس مار خاں نے کمر سے لٹکی تلوار ہاتھ میں تھام لی تھی اور مسلسل اوپر چڑھنے کی تگ و دو میں مصروف تھے۔ خوف کے مارے منھ سے بس ہائے شیر ہائے شیر کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں نکل رہا تھا۔ بدن تھا کہ تپ لرزہ کی طرح کانپ رہا تھا۔ اسی دوران انھوں نے دیکھا کہ شیر نے درخت کے نیچے آکر ایک چھلانگ لگائی اور قریب تھا کہ وہ ان کو دبوچ ہی لے اسی دوران ان کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر شیر کے دھاڑتے ہوئے کھلے منھ میں جا گری۔ تیز دھار والی دودھاری تلوار پوری کی پوری شیر کے حلق میں اتر تی چلی گئی اور شیر زمین پر جا گرا۔ شیر کے زمین پر گرنے پر تیس مار خاں نے سکون کا سانس لیا اور کسی نہ کسی طرح ایک اونچی شاخ تک پہنچے میں کامیاب ہو گئے۔ شاخ پر سکون سے بیٹھنے کے بعد انھوں نے نیچے جھانکا تو ایک اور ہی منظر ان کے سامنے تھا۔ شیر کے حلق کے اندر تک ان کی تلوار اتری ہوئی تھی۔ شیر کوئی آواز نکالے بغیر مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا اور خون کی دھاریں اس کے حلق سے بہہ رہی تھیں۔ کچھ ہی دیر میں شیر ٹھنڈا ہو گیا لیکن مارے خوف کے ان میں نیچے اترنے کی ہمت پیدا نہیں ہو رہی تھی۔ سورج غروب ہو چکا تھا لیکن اب بھی اتنی روشنی تھی کہ یہ منظر بالکل صاف نظر آرہا تھا۔ جب شیر نے بالکل ہی تڑپنا بند کر دیا تو انھوں نے درخت کی کئی خشک شاخیں توڑ کر شیر کو ماریں لیکن شیر تو مر چکا تھا اسے ان شاخوں کے مارے جانے کا کیا احساس ہوتا۔ جب تیس مارخاں کو یقین کامل ہوگیا کہ شیر واقعی مر چکا ہے تو وہ ڈرتے ڈرتے نیچے اترے۔ اپنی تلوار شیر کے حلق سے نکالی جو خون میں تر بتر تھی۔ یہ دیکھ کر وہ ایسی اکڑ کا شکار ہوگئے جیسے وہ شیر ان کی کسی دلیری کی وجہ سے ہلاک ہوا ہو۔ تیز دھار واکی تلوار سے شیر کا سر اس کے دھڑ سے جدا کیا اور درخت کی ایک اونچی شاخ پر لٹکا دیا اور خود کئی درختوں کی شاخوں کی مدد سے ایک مضبوط مچان سی بناکر سکون کے ساتھ اس پر بیٹھ گئے۔ رات کافی ہو چکی تھی البتہ آج پورا چاند تھا جس کی وجہ سے کافی دور تک کے مناظر دیکھے جا سکتے تھے۔ اپنے کھانے پینے کا سامان نکالا اور بہت مزے لے لے کر اسے کھانے لگے۔ سچ پوجھیں تو کھانا کھانے کا جو مزا آج اسے آ رہا تھا وہ درباری شاہی کے خاص ڈائینگ ہال میں بیٹھ کر کھانا کھانے میں بھی اسے نہیں آیا تھا کیونکہ آج وہ اپنے رب کی مدد اور عنایت پر بہت ہی خوش تھا۔ کچھ دیر تک تو وہ فطرت کے حسین مناظر دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا رہا اور پھر نیند نے اسے آ لیا۔
(جاری ہے)

حصہ