آزاد کشمیر نہیں، آزاد ہندوستان

141

مجھے معلوم ہے بے شمار ایسے لوگ ہوں گے جو اس عنوان کو دیکھ کر ہنسے ہوں گے، مجھے جاہل کہا ہوگا، کتنے غصے میں آئے ہوں گے۔ اسی قبیل کے لوگ اُس دن بھی میرے جیسے لوگوں کی سوچ پر کھلکھلا کر ہنسے تھے جب 7 اکتوبر 2001ء کو کسی عفریت کی طرح دندناتا ہوا امریکا 48 ترقی یافتہ ممالک کی ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے ساتھ افغانستان جیسے پسماندہ ملک پر حملہ آور ہوا تھا۔ اُس وقت میرے جیسے دقیانوس، ماضی پرست، معروضی حالات سے بے خبر یہ کہتے تھے کہ اس کائنات کا ایک حقیقی فرمانروا ہے جو فتح سے ہم کنار کرتا ہے، لیکن اس کے لیے صرف ایک ہی شرط ہے کہ اس کی ذات پر مکمل بھروسا کیا جائے۔
کوئی قوم جو صرف اپنے دست و بازو، اسلحہ و بارود، شاندار ٹریننگ، عسکری نظم و ضبط اور جدید ٹیکنالوجی پر کامل بھروسا کرکے میدان میں اترتی ہے اور صرف تسلی کے لیے اللہ کو بھی شریک کرنے کے لیے دعا کرتی ہے تو وہ اُسے اس کے مال و اسباب کے سپرد کردیتا ہے۔ اس کا تو واضح حکم ہے ’’نکلو اللہ کی راہ میں، ہلکے ہو یا بوجھل۔‘‘ (التوبہ:41)
آج اٹھارہ سال کے بعد وہ تمام تبصرہ نگار اور دفاعی تجزیہ نگار منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ لیکن گواہ رہے آج کا یہ دن، اس خطے کا کشمیر، موجودہ متحدہ بھارت اور ملتِ اسلامیہ کی واحد ایٹمی قوت پاکستان، کہ کشمیری اب جس توکل سے بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ اُن کا ہر مجاہد اپنے لیے جذبے کی تحریک صرف افغان طالبان کی فتح سے لے رہا ہے۔ یہ آغاز برہان مظفر وانی اور ذاکر موسیٰ کی شہادت اور اُن کے ساتھیوں کے جہاد سے ہوچکا ہے۔ اب یہ جنگ صرف کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی، یہ بھارت میں بسنے والے تیس کروڑ مظلوم مسلمانوں کی آزادی اور اس خطے پر اللہ کی مکمل حاکمیت کا پرچم لہرانے تک چلے گی۔ یہ کوئی خواب نہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے اُن سے جو صرف اس پر بھروسا کرکے نکلتے ہیں، اور سید الانبیاؐ کی بشارت ہے جو اس خطے سے فتح کی علامت کی طرح وابستہ ہے۔
میرے اُن دوستوں کی تسلی کے لیے جو میری گفتگو کو اس وقت نسیم حجازی کا ناول سمجھ رہے ہوں گے، تھوڑی دیر معروضی حالات میں کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کو پرکھتے ہیں اور اللہ کی حاکمیت کو میرے ان دوستوں کی طرح ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔
عمران خان کے دورۂ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس رازکو افشا کرنے کے بعد کہ مودی نے اسے ثالثی کی درخواست کی تھی، یہ اچانک کشمیر کا محاذ اتنا گرم کیسے ہوگیا؟ سب سے پہلے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ شروع ہوئی، پھر وادی میں ایک بہت بڑے آپریشن کی تیاری شروع ہوگئی۔ تمام لائو لشکر اور اسلحہ و بارود پہنچا دیا گیا، خوف زدہ کرنے کے لیے کلسٹر بم پھینکے گئے، چاروں جانب دستے مارچ کرنے لگے، سیاحوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، امرناتھ یاترا والوں کو بھی وادی چھوڑنے کا سندیس دے دیا گیا۔ صدارتی حکم نامے سے آرٹیکل 370 ختم کردیا گیا، اور اب لوک سبھا میں امیت شاہ نے وہ بل بھی پیش کردیا ہے جس کے تحت آرٹیکل(A) 35 بھی ختم ہوجائے گا اور کشمیر ایک ایسا خطہ بن جائے گا جس میں ہر کوئی جاکر آباد ہوسکے گا۔ مقصد وہی ہے کہ جس طرح اسرائیل نے یہودیوں کو یروشلم میں آباد کرکے فلسطینیوں کو بے دخل کیا تھا، ویسا ہی اب کشمیر میں بزور طاقت کیا جائے۔ لیکن یہ اتنا سادہ معاملہ نہیں ہے۔ عالمی سطح پر اس وقت 1920ء کی عرب دنیا، خلافتِ عثمانیہ کی ذلت آمیز شکست کے بعد قومی اور قبائلی ریاستوں میں منقسم ہونے کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور فرانس کے تسلط میں بھی تھی۔ آج 2019ء کی عالمی سطح بالکل مختلف ہے، اور وہ یہ کہ طالبان کی افغانستان میں فتح نے اس خطے کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔
امریکا کی 18سالہ جنگ میں سرمایہ اور ٹیکنالوجی، دونوں کو شکست ہوئی ہے اور بھارت کی بھی اٹھارہ سالہ افغان حکمت عملی بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ڈوبنے کے ساتھ ساتھ اسے ذلیل و رسوا کرکے کان سے پکڑ کر افغانستان اور اس کے معاملات سے بے دخل کردیا گیا ہے۔ کہاں 2001ء میں امریکا نے پورے خطے پر مکمل کنٹرول کا خواب دیکھا تھا اور کہاں اب یہ خطرہ کہ امریکا کے افغانستان سے نکلنے اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد دنیا بھر کے جہادیوں کا اگلا ٹھکانہ کشمیر ہوگا، اور جب یہ لوگ کشمیر میں داخل ہوں گے تو اس شوق اور ولولے کے ساتھ ہوں گے کہ وہ ابھی ابھی ایک عالمی طاقت اور اُس کے اڑتالیس حواریوں کو افغانستان میں شکست دے کر آئے ہیں۔
دنیا بھر کے جہادی جن احادیث سے اپنے لیے رہنمائی لیتے ہیں وہ کشمیر کی فتح کا ذکر نہیں کرتیں، بلکہ جہادِ ہند کی بشارتوں والی فتح کے تذکرے سے معمور ہیں۔ کشمیر میں جہادیوں کا داخل ہونا، جو بھارت کے سات ہزار پانچ سو سولہ (7516) کلومیٹر لمبے سمندری ساحل کی موجودگی میں اس قدر آسان ہے کہ طاقت ور ترین فوج بھی اسے نہیں روک سکتی، اگر یہ وہاں داخل ہوگئے تو پھر ان کی منزل کشمیر کی آزادی نہیں بلکہ جہادِ ہند ہوگی۔ ایسی صورت میں یہ جنگ بھارت کے ہر شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اسرائیل کے اردگرد آباد مصر، سعودی عرب، اردن، شام، لبنان، عراق اور خلیجی ریاستوں میں مسلمانوں کی کُل آبادی بیس کروڑ کے قریب ہے، جبکہ اکیلے بھارت میں 25 کروڑ مسلمان آباد ہیں، اور یہ ایسے مسلمان ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ذلت اور رسوائی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ہر جگہ خوف میں زندہ ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے بیس کروڑ مسلمانوں پر کم از کم دس حکومتیں ہیں جو جہادیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے امریکی مفادات پر عمل پیرا ہیں، جبکہ بھارت تو اس وقت اٹھارہ ریاستوں میں خانہ جنگی سے نبرد آزما ہے۔ ان 25 کروڑ مسلمانوں میں سے چند ہزار بھی کشمیر کے جہاد میں شامل ہوگئے تو بھارت ایک ایسا ملک بن جائے گا جہاں آسام سے لے کر پلوامہ تک ہر محلہ آگ و خون میں نہا رہا ہوگا، اور اس منظرنامے پر اسی دن سے بھارت میں غور شروع ہوگیا تھا جب تین سال پہلے کشمیریوں کے ساتھ شہید ہونے والوں میں کیرالہ کے نوجوان بھی شامل تھے۔ پوری انتظامیہ خوف میں ڈوب گئی تھی۔
یہ جو اچانک اس محاذ پر گرم جوشی آئی ہے یہ ایک عالمی طے شدہ پلان کا حصہ ہے۔ جس طرح اگست 2018ء میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ طالبان پر مکمل قوت سے آخری بار حملہ کرکے انہیں تباہ و برباد کردیا جائے، اور پھر دنیا کے سب سے بڑے غیر ایٹمی بم سمیت سب کچھ استعمال کیا گیا تھا لیکن نتیجہ الٹ نکلا، ویسے ہی بھارت کو کہا گیا ہے کہ طالبان امریکا معاہدہ ہونے سے پہلے پہلے جس طرح ممکن ہوسکے کشمیریوں کی تحریک کو دبادے۔ عالمی تبصرے یہ ہیں کہ ایسا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے۔ کیوں کہ اس ایکشن کے بعد کشمیریوں کی آپس میں تھوڑی بہت تقسیم بھی ختم ہوجائے گی، اور اس جہاد کی آگ بھارت میں پھیلنے کا بھی خطرہ ہے۔ ایسے میں وہی الزام جو امریکا لگاتا تھا کہ یہ سب پاکستان کی مدد سے ہورہا ہے، ویسا ہی الزام لگاکر پاکستان سے کنٹرول لائن پر جنگ کا آغاز ہوگا۔ اس ایٹمی فلیش پوائنٹ کا بہانہ بناکر اقوام متحدہ اور عالمی برادری اس میں کودے گی، جس کا آخری منظر وہ ہوگا جس کا اشارہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا ہے کہ وہ ثالثی کرنے کو تیار ہے۔ اس ثالثی کا بنیادی مقصد صرف ایک ہوگا کہ کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو ایک عام قومی آزادی کی جنگ سے آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ اسے ویت نام اور انگولا کی طرح قوم پرستی اور خطے کی آزادی تک تسلیم کرکے مسئلہ حل کیا جائے۔ اس معاملے میں دونوں جانب سے پسِ پردہ بہت کام ہوچکا ہے، کافی حد تک حل بھی تجویز ہوچکے ہیں۔
پاکستان اور چین کے لیے گلگت بلتستان اہم ہے کیوں کہ سی پیک وہاں سے گزرتی ہے یہ پاکستان کو دے دیا جائے۔ لداخ میں بدھ آباد ہیں اور یہ چین اور بھارت کے درمیان بہترین بفر زون بن سکتا ہے، اسے نیم خود مختاری دے دی جائے۔ سوال وادی اور جموں پر آئے گا۔ اس علاقے کو کچھ سالوں کے لیے اقوام متحدہ کی نگرانی اور دونوں ملکوں کی مشترکہ کمان کے تحت ایک سیاحتی خطے کا درجہ دیا جائے گا اور پھر دس سال بعد اگر رائے شماری کرائی جائے گی تو اس وقت تک کشمیری ایک عالمی سیاحتی مرکز کی تمام خرابیوں کے عادی ہو چکے ہوں گے۔ ایسے میں نتیجہ یقینا مختلف ہی نکلے گا۔
یہ ہے وہ عالمی طاقتوں کا خواب جو اب کشمیریوں کے خون سے تحریر کیا جارہا ہے۔ لیکن ایسا ہی خواب افغانستان میں بھی دیکھا گیا تھا۔ امریکی ڈالروں کی بھرمار، نائٹ لائف اور کلبوں کی زندگی، تعیش اور معیار زندگی کی بلندی بھی افغان طالبان کے خلاف نفرت پیدا کر سکی اور نہ ہی انہیں شکست دے سکی۔ اس لیے کوئی کچھ تعبیر کرے میرے لیے میرے آقا سید الانبیاؐ کی یہ بشارت اہم ہے کہ یہ خراسان (افغانستان) ہے، یہاں سے کالے جھنڈے نکلیں گے اور ایلیا (بیت المقدس) میں گاڑ دیے جائیں گے۔ آج وہ کالے جھنڈے افغانستان میں سر بلند ہو چکے ہیں۔ اب وہی حکمت عملی کشمیر میں اپنائی جائے گئی اور یہاں بھی میرے آقاؐ کی بشارت موجود ہے ’’جب تم ہند کے بادشاہوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائو گے تو عیسیٰ ابن مریم کو اپنے درمیان پائو گے۔‘‘ (کتاب الفتن)۔
ہم اس معرکے میں داخل ہوچکے۔ اب یہ افغانستان کی طرح اٹھارہ سال چلتا ہے یا زیادہ یا پھر کم، لیکن فتح کی بشارت موجود ہے، صرف کشمیرکی فتح نہیں آزاد ہندوستان کی بشارت۔

حصہ