امتحاں اور بھی ہیں۔۔۔!۔

81

فرحت طاہر
ثریا بیگم پر ایک ہول سا سوار ہونے لگا۔ ’’پندرہ روزے گزر چکے ہیں مگر ابھی تک کوئی گہماگہمی نظر نہیں آرہی…!‘‘ عید کی تیاری تو ہر گھر میں زیر بحث ہے، مگر ان کو تو اپنے نواسے سعد کی شادی کی فکر ہے جس کے لیے وہ بطورِ خاص انڈیا سے کراچی آئی ہیں، لیکن شادی کے گھر میں ایسی کوئی تیاری اور فکر نظر نہیں آرہی ہے۔
اسی خیال میں الجھی وہ لائونج اور برآمدے سے نکل کر لان میں داخل ہوئیں تو ان کی نظر اپنی سمدھن زینب رشید پر پڑی۔ وہ نمازِ فجر سے فارغ ہوکر ذکر و اذکار میں مصروف تھیں۔ اپنے سے کہیں نحیف اور عمر رسیدہ ہونے کے باوجود عبادت میں ان کی مشاقی ثریا بیگم کو خفیف سی شرمندگی سے دوچار کرگئی۔ کچھ دیر بعد جب زینب رشید ان کی طرف متوجہ ہوئیں تو شادی کی تیاری کی فکر کا اظہار انہوں نے اُن سے بھی کیا۔ جواب میں زینب نے سرد آہ بھری اور کچھ دیر بعد گویا ہوئیں ’’لگتا ہے وہی منظر ہے جو میری شادی کے وقت تھا،70سال بعد بھی حالات جوں کے توں ہیں…‘‘ ثریا بیگم نے استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔
………
’’زینب‘‘۔ ’’جی دلہن چچی!!‘‘ وہ کمرے میں داخل ہوئیں تو زینب اپنے کڑھائی شدہ کپڑے تہہ کررہی تھی۔ عید کے تیسرے دن اس کی رخصتی تھی جبکہ سال بھر پہلے اس کا نکاح اپنے چچازاد رشید سے ہوچکا تھا۔ انہوں نے زینب کے دمکتے چہرے کو دیکھا اور سوچ میں پڑ گئیں کہ اس کو کس طرح پریشانی کی خبر سنائی جائے؟‘‘
صوبہ بہار کے اس چھوٹے سے گائوں میں ہونے والی شادی کی تقریب خطے کے بدلتے نقشے کے باعث ایک بحران میں گھر گئی تھی۔ قیام پاکستان کا اعلان ہوتے ہی فسادات شروع ہوگئے تھے جن میں خونِ مسلم سے ہولی کھیلی جارہی تھی۔ باشعور اور دیندار رشید قوم کے امتحان کے اس لمحے میں، اپنی زندگی کے اس خوشگوار موڑ میں مشغول ہونے کے بجائے قوم کے زخموں پر اس کا مسیحا بنا ہوا تھا۔ اس موقع پر وہ گائوں آنے کے بجائے رضاکار کی حیثیت سے لاہور روانہ ہوگیا تھا۔ ظاہر ہے اس کا مطلب شادی کا التوا تھا، اور یہی خبر تھی جو زینب کو بتانے کی ذمہ داری اس کی والدہ نے اپنی دیورانی پر لگائی تھی۔ وہ سوچ میں پڑ گئیں کہ کیسے بتائوں؟ مگر بہرحال اس بات کو معلوم ہونا ہی تھا۔ اور پھر جلد ہی حالات اس نہج پر آگئے کہ شادی کے بجائے سب بچائو کی فکر میں لگ گئے، کیونکہ یہاں بھی زبردست فساد کی خبر گردش کررہی تھی۔ افراتفری میں سب یہاں سے روانہ ہوگئے اور پھر یہاں وہ کچھ ہوا جس پر انسانیت شرما کر رہ گئی۔ ندی نالوں میں خونِ مسلم بہہ رہا تھا۔ جہاں جہاں آبادی تھی، دھواں اٹھ رہا تھا۔ برسوں سے ساتھ رہنے والے پڑوسی جان، مال، عزت و آبرو کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ جہاں یہ صورت حال ہو وہاں بے سرو سامانی نظر آتی ہے۔ کچھ دن کیمپ میں رہنے کے بعد وہ لوگ ممبئی چلے گئے تاکہ وہاں سے پاکستان جاسکیں۔
کراچی پہنچ کر ایک نئے ملک اور فضا میں زندگی شروع ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ اپنائیت اپنے آبائی گھر سے زیادہ محسوس ہوتی تھی۔ برنس روڈ کا ایک فلیٹ جو کسی بھی لحاظ سے اس طرح کی رہائش کے مماثل نہ تھا جو وہ ہندوستان میں چھوڑ کر آئے تھے، مگر بہرحال سر چھپانے کے لیے بڑا اچھا ٹھکانہ تھا۔ تین ماہ تک وہ لوگ ایک ہندو کو کرایہ دیتے رہے، اس کے بعد بلڈنگ ایک مسلمان نے خرید لی۔ ہندو یہاں سے اس اطمینان اور سکون سے گئے کہ بلب تک اتار کر لے گئے۔ یہ دیکھ کر ان سب کو اپنا گائوں سے نکلنا یاد آجاتا۔ کچھ سمیٹنا تو درکنار، وہ لوگ جان بچنے پر ہی شکر گزار تھے۔ اپنے لیے الگ ملک بنانے کی سزا صرف مسلمانوں کا ہی مقسوم ٹھیری تھی۔
کچھ دن بعد رشید بھی لاہور سے کراچی پہنچ گیا تو مختصر سے اہتمام کے ساتھ رخصتی کردی گئی۔ سرکاری ملازمت ملنے کے چند ماہ بعد اس کی تقرری ڈھاکا ہوگئی تھی، چنانچہ وہ زینب کو لے کر وہاں روانہ ہوگیا۔ شادی شدہ عملی زندگی اور ایک اجنبی ماحول کی زندگی میں فرق زینب اور رشید کبھی نہ کرسکے تھے، کیونکہ ان دونوں نے یہ دونوں سفر ایک ساتھ ہی شروع کیے تھے۔ زبان اور موسم مختلف سہی، مگر چونکہ رشید کا تعلق سماجی اور اصلاحی تحریکوں سے تھا، لہٰذا ایک وسیع حلقہ احباب یہاں بھی موجود تھا جو ان دونوں خصوصاً زینب کو کبھی تنہائی کا شکار نہ ہونے دیتا تھا۔ خواہ بیماری ہو یا کوئی اور خوشی یا غمی، ہر موقع پر کوئی نہ کوئی دلجوئی کے لیے موجود ہوتا۔ زندگی کے بیس سال یوں گزر گئے گویا ابھی تو آکر ٹھیرے تھے۔
اپنے حلقے کے باہر جب لوگوں سے رابطہ ہوتا تو یہ دونوں ایک عجیب سی کیفیت سے گزرتے۔ سرکاری اور غیر بنگالی افراد کے رویّے اور ردعمل میں مقامی افراد کی آنکھوں سے جھانکتی نفرتیں کسی طوفان کا پیش خیمہ محسوس ہوتیں۔ اور پھر واقعی وہ وقت آگیا جس کے لیے پیشگوئیاں کرنے کی ضرورت نہیں تھی، محض ہوا کے رخ سے طوفان کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔ اور پھر ایک سرد شام سقوطِ ڈھاکا کے بعد بھائی بھائی سے جدا ہوگیا۔ خون کی ہولی ایک دفعہ پھر زینب اور اس جیسے لاکھوں لوگوں کو دربدر کر گئی، اور وہ دوبارہ ہجرت کرکے کراچی پہنچ گئی۔ اکلوتا بیٹا سعید تو پہلے ہی انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے لاہور بھجوا دیا گیا تھا۔ محبِ پاکستان اہل بنگال بھی واجب القتل ٹھیرائے گئے تھے، اور رشید تو تھا بھی غیر بنگالی! گھر کا لٹنا ایک بار پھر مقدر تھا، یہ اور بات کہ اب اپنے ہی کلمہ گو بھائی کے ہاتھوں تھا! وہ قید کرکے بھارت پہنچا دیا گیا۔
دو سال بعد جب وہ رہا ہوکر پاکستان پہنچا تو یہاں بنگلادیش نامنظور کی مہم چل رہی تھی۔ لاہور کی سڑکیں جوان خون سے رنگین ہورہی تھیں، ان ہی میں سعید بھی تھا۔ بیٹے کو زخمی دیکھ کر اپنی رہائی کی خوشی بھی ادھوری لگی، اور کیوں نہ لگتی؟ پاکستان بھی تو ادھورا ہوگیا تھا! جیسے کسی ٹوٹی ہوئی چیز کو جوڑنے کی ناکام کوشش میں انگلیاں فگار ہوجاتی ہیں اسی طرح زینب اور رشید جیسے لاکھوں افراد زخمی زخمی تھے۔ دنیا کے بنتے بگڑتے نقشوں کی طرح گھر اور خاندان جو سماجی اکائی ہے، تبدیلی کے عمل سے گزرتا رہتا ہے۔ اسی طرح سے زینب کے گھر میں بھی ایک خوشگوار تبدیلی سعید کی شادی کی صورت میں ہوتی نظر آئی۔ اس کی تعلیم اور پھر باعزت روزگار کے بعد اگلا مرحلہ گھر بسانے کا تھا۔ اس مقصد کے لیے نگاہِ انتخاب رافعہ پر پڑی۔ بیس سالہ رافعہ ابھی کالج سے فارغ ہوئی تھی، رشتے میں زینب اور رشید کی بھانجی کی بیٹی تھی۔ ان کے رشتے پر کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا، مگر درمیان میں دو ملکوں کی سفارت حائل تھی، کیونکہ رافعہ کے والدین ہندوستان میں رہتے تھے۔ بہرحال تمام سقم دور کرنے کے بعد رافعہ دلہن بن کر پاکستان آگئی۔ برسوں کی کہانی پڑھنے والے محض چند سطروں میں پڑھ لیتے ہیں، اور یہ کہانی زینب نے بھی چند لمحوں میں ثریا کے آگے دہرا دی۔ اس سے آگے تو وہ بھی چشم دید گواہ تھی۔
اسے اچھی طرح یاد تھا 35 سال پہلے جب رافعہ کے لیے پاکستان سے رشید ماموں کے بیٹے کا رشتہ آیا تو وہ بیٹی کی جدائی کے خیال سے فوراً ہی ناں کر بیٹھی تھی، مگر پھر باپ نے بلا بھیجا اور دونوں بیٹی داماد کو بٹھا کر دردمندانہ لہجے میں التجا کی:
’’ہجرت نہ کرنے کے جس فیصلے پر میری نسل آج تک پچھتا رہی ہے… قدرت تمہیں اگر موقع دے رہی ہے تو اس کو ضائع نہ کرنا میرے بچو!‘‘
یوں رافعہ کے مستقبل کا فیصلہ ہوگیا۔ رافعہ کے سامنے دونوں ملکوں کی قربت اور فاصلوں کی واضح تصویر تھی، لیکن اسے اپنے بزرگوں کے فیصلے پر اعتماد تھا۔ والدین تو بس دکھی دل سے بیٹی کو رخصت کررہے تھے، مگر رافعہ کے لیے مشعلِ راہ اپنے نانا کے وہ جملے تھے جو انہوں نے بوقتِ رخصت اس کو گلے لگا کر کہے تھے:
’’بیٹی تم ایک آزاد ملک کی شہری بن کر جارہی ہو… غلامی کی ساری خو بو یہیں چھوڑ کر جانا…‘‘ اور آج رافعہ کا طریقہ زندگی اور اس کے گھر کا نقشہ نانا سے کیے گئے عہد کی پاسداری کا عملی ثبوت تھا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ غلامی میں زندگی بسر کرنے والی اس کی ماں کے لیے یہ سب کچھ بہت اجنبی تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ بیٹی کو رخصت کرنے کے بعد ان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ وہ گاہے بہ گاہے اگر پاکستان آتیں تو شاید اس کلچرل شاک سے محفوظ رہتیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہاں بسنے والے تمام افراد اسی سوچ کے حامل ہیں؟ کیا ان سب کا رہن سہن ایک ہے؟ اگر یہ سب کچھ وہ دیکھ لیتیں تو ندامت کے اس گہرے احساس سے نکل آ تیں جس کا شکار وہ تھیں، اور اپنے ہجرت نہ کرنے کے فیصلے کا جواز بہت اچھی طرح دے سکتی تھیں۔ رافعہ نے سفر زندگی اپنے شریکِ زندگی اور اس کی ماضی کی روشنی میں شروع کیا تھا، لہٰذا وہ اسی کے مطابق زندگی گزار رہی تھی۔ ابتدا میں کچھ شوہر کی فرمانبرداری اور محبت، اور اس سے بھی زیادہ نانا جان کی بریفنگ، وہ خودبخود اس سانچے میں ڈھل گئی جس کا سعید خواہاں تھا۔
ثریا بیگم جس دن پاکستان پہنچیں اس سے اگلے روز رمضان کا آغاز ہوگیا۔ کچھ وقت تو انہیں سیٹ ہونے میں لگا، پھر انہوں نے گھرکے معمولات میں حصہ لینا شروع کردیا۔ بڑے حیران کن شب وروزتھے سب کے۔ سحری اور نمازِ فجر کے بعد تھوڑا آرام کرکے سب اپنے کام پر روانہ ہوجاتے۔ رافعہ کام سمیٹ کر قرآن لے کر بیٹھ جاتی، اور نو بجے خواتین سے لائونج بھر جاتا تو دورۂ قرآن شروع ہوجاتا۔ وہ ختم ہوتا تو ظہر کا وقت قریب ہوتا۔ خواتین رخصت ہوتیں تو رافعہ کچن کے کچھ کام نبٹا دیتی، پھر آرام کا وقت ہوتا۔ اس دوران سعد اور سعید آفس سے، سعدیہ اور یاسر یونیورسٹی سے، اور ربیعہ کالج سے آجاتی۔ تین بجے کے قریب رافعہ اپنی قریبی کچی بستی روانہ ہوجاتی جہاں درسِ قرآن ہوتا تھا۔ پھر واپسی عصر کے وقت ہوتی۔ اس کے بعد افطار کی تیاری۔ وہ بھی ایک عجوبہ ہی تھی، ثریا بیگم کے لیے! بس کھجور اور شربت کے بعد نمازِ مغرب، پھر فوراً کھانا، اس کے بعد سب تراویح کے لیے روانہ ہوجاتے۔ رات گئے سب جمع ہوتے تو چائے اور پھل وغیرہ لیتے، ساتھ خوش گپیاں بھی ہوتیں۔
ایک دو دن تو ثریا بیگم نے برداشت کیا، پھر اپنی ممتا نچھاور کرتے ہوئے بولیں کہ اپنی جان کو اتنا مت تھکائو! دوپہر میں تو آرام کرلیا کرو۔ باَلفاظِ دیگر وہ چاہ رہی تھیں کہ خاتونِ خانہ بشمول بچے اور ملازمین رمضان کی روایتی تیاریوں میں مصروف ہوں اور پکوڑے، سموسے اور چھولے سے دستر خوان سجے۔ رافعہ بہت پیار سے ماں سے بولی:
’’اماں! وہ بے چاری غریب عورتیں اسی وقت فارغ ہوتی ہیں اور وہ سال بھر انتظار کرتی ہیں کہ ان کو روحانی غذا ملے۔ راشن وغیرہ بھی تقسیم کرنا ہوتا ہے۔‘‘ ثریا بیگم چپ ہوگئیں، مگر ان کے لیے حیران کن بات یہ تھی کہ ضعیف ساس بھی اس معاملے میں نہ صرف بہو کی ہم نوا ہیں بلکہ ان تمام سرگرمیوں پر خوش بھی۔ اور تو اور، بچے بھی کبھی کوئی فرمائش نہیں کرتے ماں سے۔ سب سے زیادہ حیرانی انہیں اپنے داماد سعید کو دیکھ کر ہوتی۔ کبھی کوئی شکایت نہیں بیوی سے، اُلٹا ہر طرح اس کی معاونت ہوتی ہے گھر کے کاموں میں۔ ذرا بھی مردانگی کا زعم نہیں خوش ہوں یا رنجیدہ۔ وہ اپنے جذبات کا درست تجزیہ کرنے سے قاصر تھیں۔
رافعہ بہرحال اپنی ماں کا اشارہ سمجھ گئی اور اگلے دن سے روایتی افطاری کا تھوڑا بہت سامان کرنے لگی۔ لیکن جب ثریا بیگم نے دیکھا کہ ان کے سوا کوئی بھی ان تکلفات میں نہیں پڑتا، سب کے پاس اپنے اپنے جواز تھے، کسی کو ہاضمے کا بہانہ، کسی کو وزن بڑھنے کی شکایت، تو کسی کو تراویح میں نیند آنے کا خدشہ! لہٰذا انہوں نے بھی اس اہتمام کو منع کردیا، کیونکہ بہرحال غذا ان کی بھی برائے نام ہی تھی، ہاں بس روزے کے ساتھ پکوڑوں کا ایک زندگی بھر کا تصور تھا جو پاش پاش ہوگیا تھا۔ ان کے لیے تو سعدیہ اور ربیعہ کا طریقۂ زندگی بھی بڑا شاکنگ تھا۔ زینب خالہ کی تو عمر کا تقاضا تھا کہ وہ ذکر اﷲ میں مصروف ہوں، مگر جوان جہان بچیاں بھی قال و قیل رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر کوئی بات نہ کرتیں۔
دوسری عجیب مصروفیت کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ پر دونوں کا منہمک ہونا تھا۔ بات صرف اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی نہیں تھی، یہ تو وہاں ان کے پوتے، پوتیوں کی زندگی میں بھی جزو لاینفک کی طرح شامل تھی، مگر اس کے ذریعے سے وہ لوگ جو کچھ کر رہی تھیں وہ ایک اور دنیا تھی۔ ثریا بیگم نے اس پر اپنے گھر میں بچوں کو تعلیمی پراجیکٹ کرنے کی بازگشت سنی تھی، ورنہ ڈرامے فلمیں اور گانے ہی چلتے دیکھے تھے جو ان کے تعرض کا سوچ کر ان کو دیکھتے ہی بند کردیے جاتے، مگر یہاں تو وہ دونوں ان کو متوجہ کرکے نہ جانے کہاں کہاں کے مسلمانوں کا احوال دکھاتیں۔ ایک مصری لڑکی کے بہیمانہ قتل اور اس سے بڑھ کر وجۂ قتل پر حیران تھیں۔ صرف پردہ کرنے پر؟ سعدیہ نے ان کو فلسفہ تصورِ اقلیت سمجھایا تو وہ بھی سوچ میں پڑگئیں۔ اپنی نسلِ نو میں گھٹتے ہوئے لباس اور مذہب پر بڑھتی ہوئی لاپروائی تو واقعی انڈین مسلمانوں کے لیے بھی وجہ پریشانی بنی ہوئی تھی، خواہ اس کا خوبصورت نام مذہبی رواداری ہی کیوں نہ ہو۔
ثریا بیگم ظہر کی نماز پڑھ کر لان میں آئیں تو آم کے پیڑ تلے کرسی بچھائے سعد اپنے کسی دوست کے ساتھ محو گفتگو تھا۔ ان کے دل کی کلی کھل گئی۔ ایک تو وہ انہیں گھر میں مل گیا، دوسرے یقینا اس کا لہجہ بتا رہا تھا کہ موضوعِ گفتگو شادی کی تیاریاں ہیں۔ بڑے جوش سے ہاتھ ہلا رہا تھا۔ ان کو قریب آتے دیکھ کر دونوں نے کھڑے ہوکر استقبال کیا اور خالی کرسی پر جگہ دی۔
’’اور تیاری کیسی ہورہی ہے؟‘‘ پسندیدہ ٹاپک!
’’جی جی، الحمدﷲ! پوری تیاری ہے۔‘‘ سعد نے پُرجوش لہجے میں کہا۔ ’’کل یہاں سے جلوس نکلے گا اور سب جوہر موڑ تک پہنچیں گے۔‘‘۔
وہ تو اﷲ بھلا کرے یاسر کا، جو اسی وقت آکر کھڑا ہوا تھا اور نانی کے ہونق چہرے کو دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ ان کے فہم سے بالاتر کوئی بات ہورہی ہے تو اس نے بھائی کی بات کاٹی اور کہا ’’بھائی جان! نانو آپ کی شادی کی تیاری کیupdate جاننا چاہ رہی ہیں! کے الیکٹرک کے خلاف مظاہرے کی نہیں…‘‘ تو سعد ایک دم کھسیا کر رہ گیا اور ہکلاتا ہوا بولا ’’جی بس اگلے ہفتے اتوار بازار سے کپڑے لے لوں گا۔ باقی کچھ تحفے امی، ابو دیں گے… ایک میٹریس بھی لینا ہے۔‘‘
اب ہکا بکا ہونے کی باری ثریا بیگم کی تھی۔ ان کو اپنے پڑوسی کے بیٹے کی پچھلے سال ہونے والی شادی یاد آگئی جس میں صرف اس ڈیزائنر کے انتخاب پر بھی ہفتوں بحث ہوئی تھی جس سے دولہا دلہن کا ویڈنگ ڈریس ڈیزائن کرانا تھا، پھر اس کے کلیکشن پر کتنی ریسرچ ہوئی تھی فرنیچر سے لے کر…؟ اور یہاں کتنے آرام سے بات ختم! لیکن کیا یہاں واقعی سب گھروں میں ایسا ہوتا ہے؟ نہیں۔ انہیں اپنے بہت سے رشتہ داروں کی ہونے والی تقریبات کا بخوبی علم تھا۔ یہ تو آٹے میں نمک برابر چند لوگ تھے جو مدینہ جیسی ریاست کا خواب دیکھتے ہی نہیں، اسی کے مطابق لائف اسٹائل رکھتے تھے۔
عید کا دن مصروف گزرا۔ عجیب حال ہوگیا تھا ثریا بیگم کا… کبھی پاکستان ہجرت نہ کرنے پر احساسِِ محرومی کے جذبات، اور کبھی کچھ مناظر، خصوصاً ٹی وی اور میگزین پر نظر پڑنے پر یا کچھ لوگوں سے مل کر نظریہ پاکستان پر ہی دھندلاہٹ کا شکار! ان ہی کیفیات میں شادی بھی نمٹ گئی۔ خواہش تھی کہ عیدِ قرباں تک رک جائیں اور یہاں کا یوم آزادی بھی اپنی آنکھوںسے دیکھیں کہ یہ دونوں تہوار ایک ساتھ آرہے تھے، مگر ویزا ایکسپائر ہونے کی صورت میں سرحدوں کے دونوں طرف موجود اپنی اولادوں کو خطرے میں ڈالنا انہیں اچھا نہ لگا، اور حسرت دل میں رہ گئی۔
بالآخر ان کی روانگی کا دن آپہنچا۔ سب ان کو چھوڑنے ایئرپورٹ جارہے تھے۔ وہ سعد کی گاڑی میں بیٹھیں جس میں اس کی بیوی سارہ کے علاوہ رافعہ اور خالہ زینب بھی موجود تھیں۔ راستے میں سعد کا موبائل بج اٹھا۔ اس نے گاڑی کنارے کرکے بات کی۔ ’’ہاں! شجر کاری مہم بہت ضروری ہے… ووٹرز لسٹ پر بھی کام تیز ہونا چاہیے، مگر درمیان میں عیدالاضحی کے پندرہ دن ہیں…۔ قربانی کی کھالیں حاصل کرنا بھی تو کسی ٹیسٹ کیس سے کم نہیں۔‘‘ ثریا بیگم نے گہری سانس لی۔ رافعہ کے چہرے پر تھکاوٹ ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کی، اور پھر دل میں بول اٹھیں ’’ابھی امتحان اور بھی ہیں۔‘‘

حصہ