کراچی میں بارش کے الیکٹرک”کِلر الیکٹرک” بن گئی

60

ملک کے سب سے بڑے شہر میں گرمی کی شدت اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سے لوگ تنگ تھے اور بارش کے لیے دعائیں کررہے تھے اور نمازِ استسقا ادا کررہے تھے۔ اللہ نے نمازیں اور دعائیں قبول کیں اور 29 اور 30 جولائی سے بارشوں کا مسلسل سلسلہ شروع ہوا۔ بارش کے آغاز پر لوگوں کے چہرے شاداں دکھائی دینے لگے۔ بارش ہو اور لائٹ نہ جائے، یہ ممکن نہیں۔ مگر جب اللہ کی یہ رحمت بلا تعطل برسنے لگی تو یہی بارش شہریوں کے لیے رحمت کے بجائے باعثِ زحمت بن گئی۔ اِس بار محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے برعکس طوفانی بارش تو نہیں ہوئی لیکن 175 ملی میٹر بارش کے نتیجے میں حکومتِ سندھ کی براہِ راست نگرانی میں چلنے والے ادارے سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (ایس ایس ڈبلیو ایم بی)، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو اینڈ ایس بی)، بلدیہ عظمیٰ کراچی، تمام ضلعی میونسپل کارپوریشنز مع ڈسٹرکٹ کونسل کراچی، اور کے الیکٹرک کے نظام کی قلعی کھل گئی۔
دو روز کی بارش کے دوران کے الیکٹرک کے انتہائی خراب نظام نے 5 معصوم بچوں سمیت 19 افراد کی جانیں لے لیں۔ سہراب گوٹھ پر قائم عارضی مویشی منڈی میں درجنوں نہیں بلکہ ہزاروں مویشی بیمار ہوگئے۔ شہر کی بیشتر سڑکیں زیرآب آگئیں۔ کے ڈبلیو اینڈ ایس بی کا سیوریج کا خراب نظام ہونے کی وجہ سے گٹر ابلنے لگے۔ کے ایم سی کے 31 بڑے نالوں سمیت شہر کے تقریباً پانچ سو نالے بھر گئے، اور نکاسی آب کا ناکارہ سسٹم پوری طرح عیاں ہوگیا۔
یہ سب کچھ ایسی صورت میں ہوا جب محکمہ موسمیات ایک ہفتہ قبل ہی تیز اور طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کرچکا تھا۔ جبکہ سبھی کو معلوم ہے کہ مون سون کی بارشیں جون، جولائی اور اگست میں ہوا کرتی ہیں۔ یہ سلسلہ برسوں سے چل رہا ہے، یہ اور بات ہے کہ کراچی میں بارشیں کم ہوتی ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے کہ بارشیں بالکل ہوتی ہی نہیں۔ اِس بار بھی پیشگوئی کے مطابق تیز اور دھواں دھار بارش نہیں ہوئی لیکن مسلسل کئی گھنٹوں تک بارش کا سلسلہ جاری رہا۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، مگر یہ شہر کس کا ہے؟ اسے ہر سیاسی جماعت ’’اپنا‘‘ شہر تسلیم کرتی ہے، مگر اس کے ساتھ کوئی بھی اپنوں جیسا سلوک نہیں کرتا۔ وہ بھی نہیں جنہیں حق پرستی کے نعرے کے ساتھ اس کراچی نے بنایا اور پروان چڑھایا۔ سوائے جماعت اسلامی کے کوئی ایک پارٹی یا جماعت نظر نہیں آتی جو کراچی کے مسائل کے حل کے لیے ہر وقت عوام کے ساتھ کھڑی نظر آئے۔ سبھی جماعتیں انتخابات کے موقع پر مسائل حل کرانے کے دعوے اور وعدے کرکے انتخابات کے بعد اپنے حلقوں سے غائب ہوجاتی ہیں۔
قائداعظم کے شہر کو اپنا شہر کہنے والی متحدہ قومی موومنٹ نے تقریباً 30 سال کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں پر حکمرانی کی، مگر ہمیشہ ہی اختیارات نہ ہونے کا رونا رویا۔ حالانکہ ان کے پاس ہر دور میں وہ تمام اختیارات رہے جو انہوں نے مانگے، مگر ان ’’حق پرستوں‘‘ کے اسمبلیوں میں ہوتے ہوئے کراچی اپنی حیثیت کھوتا رہا۔ 1979ء میں جس شہر کو اُس وقت کے میئر عبدالستار افغانی مرحوم نے اس کی ضروریات کے مطابق ڈھال کر روشنیوں کا شہر بنایا تھا اسے ایم کیو ایم نے اپنے قیام کے بعد ’’تاریکی‘‘ میں ڈبو دیا۔ ایم کیو ایم کے اسمبلیوں میں رہتے ہوئے سب سے بڑا ظلم تو یہ ہوا کہ کراچی کے ادارے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، کراچی بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی (کے بی سی اے)، اور سب سے بڑھ کر کراچی کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ آکٹرائے اس سے چھین لیا گیا۔
2001ء میں جب کراچی کے لوگوں نے بلدیاتی انتخابات میں ووٹ دے کر جماعت اسلامی کے نمائندوں کا چنائو کیا تو ناظم نعمت اللہ خان نے مکمل ایمان داری اور دیانت داری سے شہر کی خدمت کی۔ انہوں نے پانی کی فراہمی سمیت کئی منصوبے بنائے اور مکمل کیے۔ نعمت اللہ خان کے دور میں نہ صرف شہر کے اندر چھوٹے ڈیم بنانے پر غور شروع کیا گیا بلکہ بارش کے پانی کی نکاسی کا نظام بحال کرنے کے لیے منصوبے بناکر کوششیں بھی کی گئیں۔ مگر اُن کا دور ختم ہونے کے بعد اُن کے بیشتر منصوبوں کو کاغذوں میں دبادیا گیا۔
حالیہ دو روزہ بارشوں کے دوران کے الیکٹرک نے جس غفلت و لاپروائی کا مظاہرہ کیا اس کی ماضی کی کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (کے ای ایس سی) کی تاریخ میں بھی مثال نہیں ملتی۔ کے الیکٹرک کے ناقص نظام سے پہلے ہی عروس البلاد کے شہری بیزار ہیں، لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ یہ ادارہ تمام ’’برائیوں و بیماریوں‘‘ کے ساتھ نہ صرف چل رہا ہے بلکہ اپنا نظامِ تقسیم و ترسیلِ بجلی درست کرنے کی بھی کوشش نہیں کررہا۔ گزشتہ ماہ جولائی میں سپریم کورٹ کے جسٹس گلزار احمد نے ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کے الیکٹرک کے بارے میں ریمارکس دیے تھے کہ ’’کے الیکٹرک کوئی فلاحی ادارہ نہیں، یہ پاکستانی نہیں، یہ تو یہاں کمانے آئے ہیں، کے الیکٹرک نے جتنا کمانا تھا کما لیا، یہ اب پورے کراچی والوں کی کھال تک اتار کر لے جائیں گے‘‘۔
عدالتِ عظمیٰ کے جج کے یہ ریمارکس کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی کے عکاسی ہیں، مگر اس کے باوجود کے الیکٹرک اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کے ’’کان پر جوں نہیں رینگ رہی‘‘، نتیجے میں منگل کے روز بارش کے دوران نارتھ ناظم آباد میں ہونے والا دردناک واقعہ رونما ہونا ہی تھا۔ اس واقعے میں دو طالب علم بچے احمد حمزہ اور عبیر احمد بجلی کے پول کے لٹکے ہوئے تار کی وجہ سے کرنٹ زدہ پول سے ٹکراکر شہید ہوگئے۔ یہ دو بچے ہی نہیں بلکہ شہر کے مختلف علاقوں میں دیگر تین معصوموں سمیت دیگر 17 افراد بجلی کے ان پولوں سے ٹکراکر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سوال یہ ہے کہ جب پورے سال ہی کے الیکٹرک کسی نہ کسی علاقے میں بجلی منقطع کرکے مینٹی نینس کرنے کا عذر پیش کرتی ہے تو پھر ہر بارش میں یا ہر کچھ عرصے بعد بجلی کے پولوں سے ٹکراکر اور تار گرنے سے جان لیوا واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں؟ کے الیکٹرک پر الزام ہے کہ وہ نہ صرف تانبے کے تاروں کو سلور کے تاروں سے بدل چکی ہے، بلکہ وہ اپنے کمپیوٹرائزڈ میٹرز کے ذریعے زائد بل بناکر صارفین سے جعل سازی کررہی ہے۔ کرنٹ لگنے سے معصوم افراد کی ہونے والی ہلاکتوں کے واقعات کے بعد کے الیکٹرک کے خلاف عوام میں نفرت میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس لیے حکومت کو فوری طور پر کے الیکٹرک کو فارغ کرکے کے ای ایس سی کو بحال کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ اگر موجودہ حکومت نے ایسا نہیں کیا تو اس حکومت پر بھی شبہ کیا جاسکتا ہے کہ بھاری رشوت کے عوض وہ کے الیکٹرک کو رعایت دے رہی ہے۔ کراچی کے لوگوں کو سپریم کورٹ کے سینئر جج کے ریمارکس کے بعد عدالت سے یہ توقع ہے کہ وہ کے الیکٹرک کے بارے میں ازخود کارروائی کرے گی۔
صرف کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کے ای ایس سی کی نجکاری کیوں کی گئی تھی ؟ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ صرف کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے ’’کے ای ایس سی‘‘ کو کیوں نجی شعبے کے حوالے کیا گیا؟ حالانکہ ملک کے دیگر شہروں میں بجلی سپلائی کرنے والے اداروں کی حالت نہ تو ماضی میں اچھی تھی اور نہ اب بہتر ہوسکی۔ نجکاری کرنا ہی تھی تو دیگر شہروں کے اداروں کی بھی کرنی چاہیے تھی، وہاں کے اداروں کو حیسکو، لیسکو، پیسکو اور فیسکو کے نام سے متعارف کرانے کے باوجود سرکاری تحویل میں ہی رکھا گیا، جبکہ کے ای ایس سی (کیسکو) کو ابراج نامی غیر ملکی ادارے کے سپرد کردیا گیا۔ لوگ یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا کے ای ایس سی کی 2005ء میں اس لیے نجکاری کی گئی تھی کہ اس کا شہر کراچی ایک لاوارث شہر ہے، باوجود اس کے کہ وہ پورے ملک کا 72 فیصد ریونیو جنریٹ کرکے دیتا ہے۔ اس قدر آمدنی دینے والے شہر کو جس طرح کی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں، آخر وہ کب دی جائیں گی ؟

گورنر ، وزیر بلدیات اور میئر بارش سے لطف اندوز ہوتے رہے

مسلسل ہونے والی بارش کے نتیجے میں حکومتی کردار ادا کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت، اور تحریک انصاف و متحدہ قومی موومنٹ کی وفاقی حکومت شہریوں کو درپیش صورتِ حال سے بالاتر ہوکر واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم نظر آئیں۔ ان تینوں جماعتوں کے رہنماء بارش سے پریشان ہونے والے شہریوں کی مدد کے بجائے فوٹو سیشن کرانے اور ہوٹلوں میں چائے پی کر لطف اندوز ہوتے دکھائی دیے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل میئر وسیم اختر کے ہمراہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے رہے۔ تاہم کسی بھی جانب سے بارش سے قبل احتیاطی اقدامات نہ کرنے پر متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی تو کجا کارروائی کا اشارہ بھی نہیں دیا گیا۔ صوبائی وزیر مختلف سڑکوں پر کھڑے پانی کو دیکھتے رہے اور اپنے ساتھیوں سے گپیں لڑاتے رہے۔ جبکہ گورنر عمران اسماعیل اور میئر وسیم اختر کے دوروں سے ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں صرف اپنی سیاسی موجودگی کا اظہار کررہے تھے۔ گورنر سندھ وفاق کے نمائندے ہونے کے باوجود بارشوں سے بجلی کی بندش کے حوالے سے بھی کے الیکٹرک سے باز پرس نہیں کرسکے، اور نہ ہی کے الیکٹرک کے دفاتر جاکر ان کی کارکردگی معلوم کرنے پر توجہ دی۔ دونوں نے زیادہ وقت فیڈرل بی ایریا میں واقع کیفے پیالہ میں چائے پینے اور میڈیا سے باتیں کرنے میں صرف کیا۔جبکہ صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی بارش کے پانی کی فوری نکاسی نہ ہونے اور نالے صاف نہ کیے جانے پر نہ تو سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور نہ ہی بلدیہ عظمیٰ سمیت کسی بھی ضلعی بلدیاتی ادارے سے بازپرس کرسکے۔ وہ بھی سارا دن فوٹو سیشن اور میڈیا سے گفتگو کرنے میں مصروف رہے۔ میئر وسیم اختر کا کہنا تھا کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے نالوں کی صفائی نہیں ہوسکی۔ تاہم وہ یہ بات نہیں بتاتے کہ 2016ء تا 2018ء نالوں کی صفائی کے کروڑوں روپے کہاں خرچ کیے کہ سارے نالے یا تو تجاوزات کی لپیٹ میں ہیں یا پھر کچرے سے بھرے ہوئے ہیں۔ جبکہ صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کا کہنا ہے کہ 2016ء تا 2018ء نالوں کی صفائی کے لیے کے ایم سی کو مجموعی طور پر ایک ارب 25 کروڑ روپے دیے گئے۔
بارش کے دوران اور بعد میں بھی گورنر، میئر، وزیراعلیٰ اور وزیر بلدیات میں سے کسی نے سہراب گوٹھ پر لگی عارضی مویشی منڈی، تھڈو ڈیم، اسکیم 33 سمیت کسی بھی نشیبی علاقے کا دورہ کرکے وہاں کی صورت حال کا جائزہ لینے کی طرف توجہ نہیں دی، اور نہ ہی کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے معصوم طالب علموں احمد حمزہ اور عبیر سمیت کسی متوفی کے گھر تعزیت کے لیے گئے۔ یہ ہیں ہمارے بے حس حکمران۔

حصہ