پاکستان ۔۔۔ قرضستان

75

کیا ستم ہے کہ اب ہم بہ حیثیت قوم قرض کو کسی قسم کی برائی سمجھنے سے بھی قاصر ہوچکے ہیں۔
ایک وقت تھا کہ گھر کے بڑے بوڑھے اپنی اولاد کو وصیت کرکے جاتے تھے کہ بیٹا جس حال میں بھی ہو گزارا کرنا سیکھو۔ روکھی سوکھی کھالو لیکن قرض کی طرف پھٹکنا بھی نہیں۔
لیکن جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے یہ قرضہ ہماری رگ و پے میں سرایت کرتا چلا جا رہا ہے۔
کسی بھی قوم کی معاشی ترقی کا دار و مدار ملک کی آمدن اور اخراجات پر ہوتا ہے۔ پاکستان کی آمدن اخراجات کے مقابلے پر ہمیشہ سے ہی خسارے کا شکار رہی ہے جس کی وجہ سے اخراجات پورے کرنے کے لیے عوام پر ٹیکس کا بوجھ لادا جاتا رہا۔ مگر اس میں بھی ایک بڑی قباحت یہ سامنے آتی ہے کہ ٹیکس نیٹ کا دائرہ اکثریت میں محض تنخواہ دار طبقے کی حد تک ہی محدود رہا اور ایک بہت بڑا طبقہ وہ ہے جس نے کسی نہ کسی بہانے اپنے لیے مراعات حاصل کیں اور ٹیکس کے چکر میں پڑا ہی نہیں۔
تجارتی منصوبوں اور فیزیبلٹی دکھا کر اربوں کھربوں روپے قرض لینے والے ہر آنے والے حکمران کی لیپا پوتی کرکے اپنے قرضے معاف کروا چکے ہیں۔
ظاہر ہے کہ اسٹیٹ بنک سے جو رقم قرض کے نام پر لی گئی اس خسارے کو پورا کرنے اور کھاتوں کے ہیر پھیر کا بوجھ بھی براہ راست عوام پر ٹیکسوں کی صورت میں ڈالا گیا۔
اس کھلم کھلا ہیر پھیر کے ساتھ ہی اسٹیٹ کے ہر اداکار نے اپنے اپنے طور پر ملکی خزانے کو بھرنے کے لئے عوام سے مدد کی اپیل بھی کی جس کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک نعرے بھی مارکیٹ کئے، جن میں سے چند ایک تو میرے اور آپ کے حافظے میں محفوظ ہیں۔
مثلا ” کشکول توڑو ”…. ” قرض اتارو۔ ملک سنوارو ” اور پھر ” ڈیم بناؤ ‘۔
تازہ ترین ڈیم والے بابا سے کون پوچھے کون حساب مانگے؟ کہ ڈیم والے با با آپ نے جو پیسے جمع کئے، ان کا کیا بنا؟۔ ساڑھے نو ارب روپے آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی؟
” قرض اتارو ملک سنوارو” مہم بھی کوئی بہت پرانی بات نہیں اس کے تحت عوامی عطیات، قرضِ حسنہ اور ٹرم ڈپازٹس کی شکل میں نو سو اٹھانوے ملین روپے جمع ہوئے تھے۔ اس میں سے صرف ایک سو ستر ملین روپے کے بارے میں پارلیمنٹ کو بتایا گیا تھا کہ یہ قرض اتارنے کے لیے استعمال ہوئے۔ مگر باقی رقم کس کے پیٹ میں چلی گئی؟ اس بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا مارچ ملک پر قرضوں کا مجموعی حجم 5.2 ٹریلین روپے بڑھ گیا۔
مرکزی بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں مقامی غیر ملکی اور پبلک سیکٹر انٹر پرائزز کے قرضوں میں اضافہ ہوا۔
حکومت نے 28.6 ٹریلین روپے کا براہ راست قرض لیا جبکہ بقیہ قرضوں کے لیے بھی وفاقی حکومت، وزارت خزانہ کی دی گئی ضمانتوں اور مرکزی بینک کے کردار کی وجہ سے ذمے دار ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے خسارے میں چلنے والے اداروں کی بحالی کا وعدہ کیا تھا۔ مارچ کے اختتام تک پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کا مجموعی خسارہ 1.9 ٹریلین روپے ہوچکا تھا۔
9 ماہ کے دوران خسارے میں 4141.2 ٹریلین روپے یا 28.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔ مرکزی بینک کے مطابق مارچ کے اختتام پر ملک پر بیرونی قرضوں کا حجم 105.8 بلین ڈالر تھا۔
9 ماہ کے دوران بیرونی قرض میں 10.6 بلین ڈالر کا اضافہ بھی ہوا جس کے بعد پاکستان کا مجموعی قرض اب جی ڈی پی کے 91.2 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
پاکستان میں کئی مہینوں پر محیط غیر یقینی معاشی صورتحال کے بعد گزشتہ ہفتے حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے چھ ارب ڈالر قرض کے معاہدے پر اتفاقِ رائے ہوا اور آئی ایم ایف کی جانب سے یہ بتایا گیا ہے کہ یہ رقم ’ایکسٹینڈڈ فنڈ یہ فیسیلیٹی‘ (ای ایف ایف) کے تحت دی جائے گی۔
اس پروگرام کے تحت آئی ایم ایف نہ صرف رقم دیتا ہے بلکہ ساتھ میں تکنیکی معاونت بھی کی جاتی ہے۔
ای ایف ایف کے منصوبے کے تحت قرض لینے والے ملک کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ طے شدہ شرائط اور اصلاحات پر عملدرآمد کروائے۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے دیے گئے پیسے ا سٹیٹ بینک آف پاکستان میں جاتے ہیں اور حکومت ان پیسوں سے ترقیاتی منصوبے نہیں شروع کر سکتی جبکہ اس رقم کے بدلے آئی ایم ایف حکومت کے اقدامات اور اخراجات پر مختلف شرائط لگاتی ہے۔
ا ی ایف ایف کے منصوبے کے تحت قرض لینے والے ملک کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ طے شدہ شرائط اور اصلاحات پر عملدرآمد کروائے۔
اور اس عملدرآمد کے چکر میں جب تک قرض دینے والے کی مرضی کو فالو نہیں کیا جائے گا حکومت اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کرسکتی ہم نے ماضی میں قرضہ لیکر کیا کیا تیر مارے رے ذرا ان پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں۔
محترم وسعت اللہ خان نے تو لکھ کر اپنا حق ادا کردیا کہ” ضیاء الحق مرد حق مرد مومن نے اچھے اور نیک جذبے کے ساتھ یکم جولائی انیس سو پچاسی کے بجٹ میں درآمدات پر ایک فیصد اقرا سرچارج عائد کر دیا تھا۔ تاکہ جمع ہونے والی رقم سے تعلیم فروغ پائے۔ ضیا صاحب چلے گئے مگر اقرا سرچارج جون انیس سو چورانوے تک رہا۔ پینسٹھ ارب روپے جمع ہوئے۔ کہاں گئے، تعلیم پر لگے تو کب اور کیسے؟ نہ کوئی بتاتا ہے نہ چھان بین کرتا ہے۔”
بجٹ کی کتابوں میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ دو ہزار اٹھارہ انیس کے وفاقی بجٹ میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے ایک کھرب روپیہ مختص کیا گیاتھا۔ مگر اب کس کتاب میں تلاش کروں کہ یہ ایک کھرب روپیہ کہاں خرچ ہوا؟
کہنے والے تو کہتے ہیں کہ مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ جو سینیٹر پہلے ایک ’’پجیرو‘‘ پر مل جاتا تھا اب ستر کروڑ میں بھی مشکل سے ’’ لبتا‘‘ ہے۔ پاکستان کی قرضوں کی تاریخ کم و بیش پاکستان جتنی پرانی ہے پہلے مہینے کی تنخواہ دینے کے لیے بانی ٔ پاکستان نے صنعت کاروں سے اپیل کی تھی کہ کچھ رقم دو تاکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جا سکیں، چنانچہ فوری طور پر محب وطن صنعت کاروں نے قرض کے بجائے بطور عطیہ یہ رقوم قومی خزانے میں جمع کروائیں اس کے بعد تو گویا لائن لگ گئی۔
فیلڈ مارشل اور صدر پاکستان ایوب خان کے دور میں بھی ملک مقروض ہی تھا اس دورمیں کم سے کم اتنا ضرور ہوا تھاکہ تقریباً 180 ملین ڈالر کے بیرونی قرضے چکائے گئے جو بہرحال مکمل طور پر پھر بھی ادا نہ ہوسکے تھے جس کا بوجھ بعد میں آنے والی حکومتوں پر پڑا اس کے باوجود پاکستان کس قدر مستحکم تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان نے پہلی بار دوسرے ممالک کو قرض دینے شروع کیے جن میں جرمنی بھی شامل تھا۔ ایوب خان ہی کے دور میں پاکستان میں کارخانے لگے اور تمام بڑے ڈیمز کے پراجیکٹ مکمل ہوئے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان پر مجموعی طور پر بیرونی قرضہ 6341 ملین ڈالر ہوچکا تھا جس کا زیادہ تر حصہ امریکی حکومت کا تھا۔ بھٹو صاحب کی معاشی و زرعی اصلاحات کے دور میں پاکستان نے دنیا کے بیشتر ممالک اور ورلڈ بینک کے سامنے ہاتھ پھیلانے شروع کیے‘ ان سے بڑے بڑے قرضے لینے شروع کیے۔ بھٹو صاحب دور میں سوائے پاکستان اسٹیل ملز کے بظاہر ایسے کوئی منصوبے بھی نظر نہیں آتے جہاں یہ رقم کھپائی گئی ہو۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے بنیادی کام شروع کردیا تھا جس پر ابتدائی رقم لیبیا اور سعودی عرب نے فراہم کی تھی۔ بھٹو صاحب گزرے تو قرضوں کا یہ بوجھ جنرل ضیا الحق کے کاندھوں پر آگیا۔ اس وقت کُل بیرونی قرضہ 12913 ملین ڈالر تک چلے گئے تھے۔ جنرل ضیا کے دور میں تقریباً 6572 ملین ڈالر کے بیرونی قرضے لیے گئے۔ ظاہر ہے یہ تمام قرضے امریکا کے گریٹر گیم کا حصہ تھے اور اس طرح جنرل ضیا مسلسل گیارہ سال تک روس جیسی سپر پاور کے خلاف جنگ میں مصروف رہے۔
ایٹمی پروگرام کی تکمیل اور ایف 16 طیارے خریدنے کے علاوہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ چھوٹے ڈیم اسی دور میں بنے۔ نوازشریف کے ادوار میں پاکستان کا کُل بیرونی قرضہ 39000 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ دونوں منتخب جمہوری حکمرانوں نے مجموعی طورپر صرف دس سال کے عرصے میں26090 ملین ڈالر کا بھاری قرضہ حاصل کیا۔ دیکھا جائے تو ان دس برسوں میں 250 ارب روپے کے ایک موٹر وے کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس موٹر وے پر خرچ کیا جانے والا قرضہ براہ راست قرضہ دینے والے ملک کو بطور چنگی ٹیکس کے واپس بھی ملتا رہا۔
پرویز مشرف کے دور میں کل بیرونی قرضہ 34000 ملین ڈالر ہوگیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پرویز مشرف کے 8 سالہ دور میں بیرونی قرضوں میں ریکارڈ کمی ہوئی۔ پرویز مشرف نے ہی ڈالر کی قیمتوں کو ایک مقا م پر روکے بھی رکھا تھا۔اچھی بات یہ رہی کہ پرویز مشرف نے تقریباً 5000 ملین ڈالر کے ریکارڈ قرضے کم کرائے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں آنے والی حکومتیں ملک میں نئے منصوبے شروع کرنے کے لیے قرضے لیتی رہی ہیں جس کی وجہ سے اس وقت پاکستان پرغیرملکی قرضوں کا بوجھ 75 کھرب سے زیادہ ہو چکا ہے۔
’’نیا پاکستان۔ قرضستان‘‘ کے بنتے بنتے خوب قرضے آئے جن میں زبا نی اور غلط بیانی دونوں قرضے ہتیا کر چین، عرب اور خلیجی ممالک سے اربوں ڈالروں کے وعدوں‘ دعوئوں کے بعد تازہ ترین اب آئی ایم ایف کے چھ ارب ڈالرز کے ساتھ ساتھ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے اربوں ڈالرز کے علاوہ موجودہ حکومت نے 5000ارب روپے کا مزید قرضہ صرف 11ماہ میں قوم کے متھے مار کر گویا بہت تیر مار لیا ہے۔
جبکہ گزشتہ حکومت کے پانچ برس میں یہ 10,660ارب روپے بڑھا تھا۔ مالیاتی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ کے سب سے بھاری ٹیکسوں والے بجٹ میں 5,555ارب روپے کے ٹیکس لگانے کے بعد بھی بجٹ خسارہ اعلیٰ ترین سطح یعنی 8.2رہے گا۔
ایک مالیاتی جائزے کے مطابق گزشتہ سال میں ایف بی آر 4435ارب روپے کے ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہا۔ یوں لگتا ہے کہ چار کھرب کا ہندسہ بہ مشکل عبور کیا جاسکے گا۔ ایسے میں 1400ارب کے نئے ٹیکس کیسے وصول ہوں گے؟ اگر ہو بھی گئے تو خسارہ کم ہونے کے بجائے پھر بھی بڑھ جائے گا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ’قرضستان‘ حکومت جو کفایت شعاری کے ڈھونگ رچاتے نہیں تھکتی، اس کے جاری غیر پیداواری اخراجات گزشتہ سال میں 2000ارب روپے یعنی 48 فیصد زیادہ ہوئے۔ اگلے برس بھی قرضے اور دفاع پہ اُٹھنے والے اخراجات ہمارے کُل محاصل کے 67.4 فیصد ہوں گے جو درحقیقت گزشتہ بجٹ کے تخمینہ سے 11 فیصد زیادہ ہیں جب کہ ترقیاتی بجٹ تعلیم اور صحت پر خرچ کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ فی کس آمدنی کم اور مہنگائی آسمان پہ۔ تنخواہوں اور اُجرت میں معمولی اضافے اور بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار سے اس حکومت کی ’’تبدیلی‘‘ کا نقاب اُتر گیا ہے۔ اُلٹا کالے دھن والوں کو ایسی ترغیبات دی جا رہی ہیں کہ سابق ’’کرپٹ حکمران‘‘ بھی منہ میں انگلی دبائے بیٹھے ہیں۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ کہ ڈالر کی قدرو قیمت اور مہنگائی میں اضافہ جس رفتار سے موجودہ حکومت کے پہلے 8ماہ میں دیکھنے میں آیا ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، حکمرانوں کی جانب سے کسی قسم کی کوئی سنجیدگی دیکھنے میں بھی نہیں آرہی۔
اب جب یہ آئی ایم ایف کے چکر میں پھنسے ہیں تو آتے ہی معلوم ہوا کہ وہ پہلے تو پچھلے پیسوں کا حساب مانگ رہے ہیں ساتھ ہی ساتھ ان نئے پیسوں کو خرچ کرنے کی وجوہات پوچھ رہے ہیں۔
نواز شریف کے بارے میں تو یہ مشہور کیا ہوا تھاکہ وہ وکیل نہیں بلکہ ’’جج‘‘ کرتے ہیں۔ اس قرضستان حکومت نے’’آئی ایم ایف‘‘ کرلیا ہے۔ اسی کا گورنر اسٹیٹ بنک، اسی کا مشیر اور اسی کی بیوروکریسی!
معلوم ہو ا ہے کہ یہ قرضہ بھی ان شرائط کے ساتھ مشروط ہے کہ پیٹرول کی قیمت ڈالر کے برابر رکھی جائے۔ ہر قسم کی سبسڈی سے ہاتھ کھینچ لیا جائے۔ بجلی کے فی یونٹ نرخ ہر ماہ ری شیڈول کرکے کم از کم ایک سال کے اندر سو فیصد تک بڑھا دیے جائیں‘ سوئی گیس کی قیمتوں میں چار سو گنا اضافہ ایک سال کے اندر اندر کیا جائے اور خواتین کی فلاح و بہبود اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سماجی ماحول تشکیل دینے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کو آگے بڑھایا جائے۔ اقلیتوں کے تحفظ کے لیے نمایاں اقدامات بھی اسی قرضے سے مشروط ہیں۔

حصہ