پاکستان قدرتی خوب صورتی کا عظیم الشان شاہکار

76

خالد معین

(دوسری قسط)
آئیے! دیکھتے ہیں تحریک ِ محنت کس طرح کام کرتی ہے اور اس کے بنیادی اغراض ومقاصد کیا ہیں:
1۔کلمہ ٔ طیبہ کی ترویج و اشاعت اور تحفظ ِ پاکستان
2۔ ملازمین میں اسلامی تعلیمات کے فروغ اور اُن کے افکار و کردار کی تعمیر کے ساتھ اَن پڑھ ملازمین کو پڑھنا لکھنا سکھانے کے مختلف ذرائع اور موقع فراہم کرنا۔
3۔ خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی روشنی میں محنت کشوں کو اُن کے حقوق و فرائض سے آگاہ کرنا اور معاشرے میں اُن کی عظمت کا احساس پیدا کرنا۔
4۔ دور ِ حاضر کے مزدور مسائل کا حل اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پیش کرنا۔
اور یہ ہیں تحریک ِ محنت تنظیم کے کچھ سالانہ اعداد و شمار:
اکتوبر 2017ء تا دسمبر 2018ء تقسیم شدہ کتب کی تفصیل:
قرآن ِ مجید:5201، تفہیم القرآن :2644، احادیث کی کتب: 1507، سیرت :2449، عام کتب :74483، رسائل :6126، شعبہ ٔ خدمت میںمستحق افرادکی امداد :1101788روپے، ممبرز کتب کمیٹی : 16004۔ یہ بڑے مختصر سے اعدادو شمار ہیں، جب کہ تحریک کے پاس لاکھوں کی تعداد میں دینی اور اصلاحی کتب کا ذخیرہ موجود ہے، جو پورے پاکستان کے ایسے ملازمین کے لیے رعایتی قیمت پر دستیاب ہے، جو دین کا شعور حاصل کرنا چاہتے ہیں، دین کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں، اپنی عاقبت اور دنیا سنوارنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے امتیاز بھائی نے بتایا کہ وہ پاکستان اسٹیل ملز میں اپنے مسلک کے علاوہ دیگر مسلک کے حوالے سے کتابیں وہاں مہیا کرتے تھے، یہ بھی کرتے تھے کہ کسی کتاب کی قیمت ہزار روپے ہے تو اس کی بڑی آسان سی ماہانہ قسط طے کرلیتے تھے، جب قسط چند ماہ میں پوری ہوجاتی تو وہ ملازم نئی کتاب حاصل کرسکتا تھا۔ یہ کام معاشرے میں مثبت اقدار اور دین کے فروغ کے لیے کیا جاتا ہے، اور اسی لیے اس میں خدا تعالیٰ برکت اور آسانیاں بھی پیدا کرتا ہے۔ مرکز میں دینی اور اصلاحی کتابوں کا ایک شان دار ڈسپلے سینٹر بھی موجود ہے، جہاں سے تشنگان ِ علم اپنی پسند کی کتابیں رعایتی قیمت پر حاصل کرتے ہیں۔
مرکز میں مختصر قیام کے دوران ہمارے سفر کے لیے کوسٹر آچکی تھی اور اس کے ڈرائیور رزاق اور نوجوان کلینر کبیر بھی ہمیں یہیں ملے۔ دونوں بڑے سمجھ دار اور اپنے کام کے ماہر نکلے۔ مشکل سے مشکل راستے میں کوسٹر کے ڈرائیور رزاق نے، جو بالاکورٹ کے پہاڑی علاقے کا رہنے والا تھا، بڑی مہارت اور حاضر دماغی کا مظاہرہ کیا اور ہمارے سفر کو محفوظ اور تسلی بخش بنایا۔ یہی نہیں، رزاق کیوں کہ خاصے عرصے سے انہی علاقوں میں نت نئے مسافروں کے ساتھ سفر کرتا رہا ہے، اس لیے اسے ایک جانب تمام راستوں اور پُرپیچ راستوں کی خبر ہے، بلکہ وہ یہاں کے تمام اچھے ہوٹلوں اور ڈھابوں کے بارے میں بھی جانتا ہے۔موڈ میں ہوتا تو سفر کے دوران آس پاس کے بارے میں اہم معلومات بھی فراہم کرتا جاتا۔
پنڈی سے نکلتے ہوئے ہماری نظر کی عینک مرکز میں رہ گئی، اور یوں دور کے تمام نظارے اب ہمیں اپنی محدود بینائی سے دیکھنے تھے، جو اچھی خاصی متوازن ثابت ہوئی اور پورے سفر کے دوران پہاڑوں کے طویل سلسلوں پر نظر ٹکانے کے باوجود قریب و دور کے فطری حسن اور جا بہ جا بکھرے ہوئے فطرت کے پیش قیمت نظاروں سے مسلسل ہم آغوش رہنے سے ایک اندرونی تراوٹ کے احساس سے یوں گھل مل گئی کہ یاد ہی نہ رہا کہ ہمیں دور کے نظاروں کے لیے نظر کی عینک درکار ہوتی ہے۔ ویسے بھی آلودگی نہ ہونے اور بلند مقامات پر ہونے کے سبب تمام مناظر صاف و شفاف دکھائی دیے، یہاں تک کہ سورج کی نرماہٹ، چاند کے طلسمی رنگ، بادلوں کی ترنگ اور آسمان کی وسعتیں سب کے سب کھلے کھلے، روشن اور دھلے دھلے نظر آئے۔ کوسٹر کا سفر اگرچہ مسلسل رہا اور کئی کئی گھنٹوں پر مشتمل رہا، اس کے باوجود بوریت اور اکتاہٹ نہیں ہوئی۔ لمبے اور مسلسل سفر کے سبب سب سے بڑا فائدہ یہ رہا کہ ہمارے قافلے نے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ جگہیں دیکھیں اور دوران ِ سفر جہاں جہاں تھوڑی دیر قیام کی ضرورت محسوس ہوئی، اُس کا مزا بھی لے لیا گیا۔پہلا قیام بالاکوٹ کے ایک ہوٹل میں رات بھر کے لیے کیا گیا۔ اس کا محل ِ وقوع بڑا شان دار تھا، چاروں جانب گلیشیر موجود تھے۔ جہاں یہ گلیشیر نہیں تھے، وہاں سرسبز درختوں سے ڈھکے ہرے بھرے پہاڑ تھے، اس لیے جہاں نظر دوڑائو، قدرت کے حسین اور دل کش نظاروں کی بہاریں موجود تھیں۔ نوجوانوں نے بتایا کہ ہوٹل کے مقابل دریائے کنہار اپنی بھرپور روانی سے بہتا ہے، اور اس کا نظارہ صبح پانچ بجے کیا جائے تو اس کا کوئی دوسرا بدل نہیں۔ سب کے سب ایک عزم کے ساتھ سوئے اور پانچ بجے اٹھ کر دریاکی جانب روانہ ہوگئے۔ واقعی منہ اندھیرے ہلکی ہلکی روشنی میں دریائے کنہار کے پُرشور پانی اور چاروں جانب سبزے کی چادروں اور اوس میں بھیگے نظارے کا دیدار ایک انوکھا تجربہ ثابت ہوا، سبھی نے دریا کے قریب پہنچ کر اس کے ٹھنڈے پانی سے منہ پر چھپکے مارے اور تھوڑی دیر دریا کی روانی میں گم رہے۔
ناشتے کے بعد روانگی تھی، امتیاز بھائی کا اصرار تھا کہ بالاکوٹ میں سید احمد بریلوی شہید کی قبر پر حاضری دی جائے۔ یہ وہی سید احمد بریلوی شہید ہیں، جو 1831ء میں سکھوں اور فرنگیوں سے جہاد کرتے ہوئے بالاکوٹ کے مقام پر شہید ہوئے اور وہیں اُن کی قبر ِ مبارک بھی ہے۔ پاکستان میں آنے والے8اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز زلزلے کے دوران یوں تو پورا بالاکوٹ ہی زمیں بوس ہوا، بے پناہ جانی اورمالی نقصان الگ ہوا، تاہم سید احمد بریلوی شہید کی قبر کا احاطہ جہاں پچاس ساٹھ قبریں اور بھی ہیں، خدا کے کرم سے محفوظ رہا اور اپنی جگہ مضبوطی سے قائم رہا۔ سید احمد بریلوی شہید کی قبر ِ مبارک پر جاتے ہوئے تو نہیں، البتہ واپسی پر ہماری حاضری ضرور ہوئی۔ بالاکوٹ سے شوگران پہنچے، وہاں چند دن قیام رہا۔ شوگران میں چاروں جانب شیشم، چنار، صنوبر، بلوط، دیودار، اخروٹ اور دیگر قیمتی لکڑیوں کے عظیم اور بلند و بالا درختوں نے پہاڑوں کو چاروں جانب سے گھیرا ہوا ہے اور پہاڑوں کے فطری حسن کو اپنے سرسبز اور حد ِ نظر تک بلندیوں کو چھوتے ہوئے عزم سے یوں مزین کیا ہے کہ پہاڑوں اور ان درختوں کا ساتھ لازم و ملزوم بن گیا ہے۔ جنگلات پاکستان میں ویسے بھی اپنے رقبے کے لحاظ سے کم ہیں، اور ٹمبر مافیا رہے سہے جنگلات کو بھی ٹھکانے لگانے کے درپئے ہے، جس سے پاکستان میں ایک جانب آلودگی کا عفریت بڑھ رہا ہے، بارشیں کم ہونے لگی ہیں، اور دوسری طرف قدرت کے عظیم تحفے درخت بڑی بے دردی سے کاٹے جارہے ہیں۔ یہ درخت کتنے قیمتی ہیں، اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چنار کے درخت کی ایک فٹ لکڑی کی قیمت دس ہزار روپے ہے، یہی وجہ ہے کہ درخت دشمنوں نے جہاں جہاں انہیں موقع ملا ہے، بڑی بے دردی سے ان قیمتی ترین املاک کو نقصان پہنچایا ہے، یا یوں کہیں کہ پہاڑوں کے فطری حسن کو جگہ جگہ سے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے۔ شوگران کے قریب دو پہاڑی سلسلے ’سری پائے ‘ خاصے مشہور ہیں۔ یہ جگہ 9500 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں کی چڑھائی بڑی دشوار گزار ہے اور صرف جیپوں کی مدد سے طے کی جاسکتی ہے۔ دو جیپوں میں صبح سویرے تمام قافلہ ’سری پائے‘ کے سفر پر روانہ ہو ا۔ سری کی پہاڑی پہلے پڑتی ہے، جہاں ایک چھوٹی سی جھیل بھی ہے، لیکن اصل قیام پائے پر ہوتا ہے جو واقعی بڑی خوب صورت پہاڑی ہے۔ ’پائے‘ کا مطلب ہمارے والے ’پائے‘ ہرگز نہیں، بلکہ مقامی زبان میں اس کا مطلب خوب صورتی اور حسن سے عبارت ہے۔ البتہ ’سری‘ کے معنی سر ہی کے ہیں، یعنی بلند ترین پہاڑی۔ پائے پر پہنچے تو چاروں جانب برف سے ڈھکے پہاڑوں کے حیران کن سلسلے نظر آئے۔ گزشتہ سال ان علاقوں میں نہ صرف ریکارڈ برف باری ہوئی بلکہ یہ برف باری عام موسم کے برخلاف بہت دیر تک جاری رہی، اسی لیے پہاڑوں پر اب بھی چاروں جانب برف کی سفید چادریں بچھی ہوئی ملیں، جو کہیں کہیں پہاڑوں میں دبے سبزے اور سبز درختوں کے ساتھ مل کر ناقابل ِ یقین نظارے ترتیب دیتی نظر آئیں، اور بادلوں کی آنکھ مچولی اور ہم آغوشی نے بھی مناظر کے حسن میں بے پناہ اضافہ کردیا تھا۔ شوگران میں خاصی ٹھنڈ ملی، اور ’سری پائے‘ میں تو یہ ٹھنڈ ہمارے لیے ایک امتحان بن گئی، اگرچہ توقع تو تھی کہ ان علاقوں میں ٹھنڈ ملے گی، مگر جون کے موسم میں کراچی کے باسیوں کے لیے جتنی ٹھنڈ یہاں موجود تھی، وہ گرم ملبوسات کے باوجود ہمارے ہوش اڑانے کے لیے کافی تھی۔
شوگران 2362 میٹر بلندی پر واقع ہے، جہاں چند دن قیام کے بعد ایک صبح ناران کاغان کے راستے بابوسر ٹاپ کی طرف قافلے کے طویل سفر کا آغاز ہوا۔ بابوسر ٹاپ کے بارے میں مسلسل یہی اطلاعات مل رہی تھیں کہ اس کا راستہ گلیشیرز پگھلنے کے سبب اس سیزن میں بند پڑا ہے اور سیاحوں کے کئی قافلے صرف اس آس میں کہ بابوسر ٹاپ کھل جائے،کئی کئی دن سے آس پاس کے ہوٹلوں میں پڑائو ڈالے ہوئے تھے۔ ہمارا قافلہ ایک طویل پہاڑی سلسلے کو عبور کرتا ہوا شام ڈھلے کاغان کے پاس ایک ہوٹل میں رکا۔ یہاں جو سردی ملی، اُس نے ’سری پائے‘ اور شوگران کی سردی کو بھلا دیا، اُس پر بارش بھی ہوگئی، بس پھر کیا تھا… سردی شام تک تو ایک یا دو سینٹی گریٹ رہی، مگر رات بڑھتے ہی منفی درجہ ٔ حرارت میں تبدیل ہوگئی۔ تمام قافلہ سر ِشام کھانا کھاتے ہی گرم بستروں میں ایسا دبکا کہ صبح تک اپنے بستر سے کوئی نہ اٹھا۔ لیکن مجھے رات ساڑھے دس بجے ایک فرد کے لیے کھانا لینے کمرے سے نکلنا پڑا۔ یاد نہیں کہ اتنی سردی پہلے کبھی برداشت کی تھی یا نہیں، البتہ جتنی دیر کمرے سے باہر رہا،کپکپاتا ہی رہا۔ واپس آنے پر نیا تماشا ہوا، ابھی کمرے میں لوٹا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی، باہر نکلا تو دیکھا کہ کاغان کے دو مقامی لوگ تھے، جن میں سے ایک نے انسپکٹر کی ودری پہنی ہوئی تھی اور دوسرا سادہ لباس میں تھا، اوراس کے انداز سے صاف عیاں تھا کہ وہ پولیس والا ہی ہے۔ میں نے اپنا تعارف کرایا اور اُن کے آنے کی وجہ دریافت کی، اُنہوں نے چبھتے ہوئے لہجے میں کئی سوال کیے، یہاں آنے کی وجہ پوچھی، آگے کے سفر کا بھی پوچھا، خاندان کے افراد کے بارے میں سوالات کیے۔ اس دوران سادہ لباس والا سوالات کرتا رہا اور وردی والا سرد اور تفتیشی انداز میں مجھے اندر باہر گھورتا رہا۔ میں تو پہلے ہی بلا کی سردی سے گھبرایا ہوا تھا، اُس پر قانون کے ان رکھوالوں کے تیکھے سوالات۔ ایک لمحے کو مجھے پولیس کے روایتی جیب خرچ کا بھی خیال آیا، مگر میں اس حوالے سے کچھ نہیں بولا۔ ایک جگہ اُنہوں نے مجھے گھیر لیا، اور وہ جگہ تھی شناختی کارڈ، جو بہ وجوہ میرے پاس نہ تھا۔ خیر! اس کا حل اسامہ کی صورت میں نکل آیا، اسامہ نے اپنا شناختی کارڈ دکھایا، پولیس والوں کو ہم نے یقین دلایا کہ باقی تمام لوگوں کے پاس شناختی کارڈ موجود ہیں، میں نے مجبوراً اپنا میڈیا والا تعارف کرایا، اس پر وہ لوگ مطمئن ہوئے اور آخر میں بہت معذرت بھی کی اور بتایا کہ جب سے سی پیک کا سلسلہ شروع ہوا ہے، یہاں چینیوں کا آنا جانا بڑھ گیا ہے اور حکومت نے اُن کی سیکورٹی بھی سخت کردی ہے، اس لیے ہمیں باہر سے آنے جانے والوں پر کڑی نظر رکھنے کا آرڈر ہے۔ یہ قصہ تمام ہوا۔ میں نے اُن پر تو اپنی کپکپاہٹ ظاہر نہ ہونے دی مگر کمرے میں داخل ہوتے ہی میری گھگھی بندھ گئی۔ واقعی اُس رات بہت زیادہ سردی تھی جو ہم کراچی والوں کے لیے ایک کڑے امتحان سے کم نہ تھی۔
(جاری ہے)

حصہ