عید الضحیٰ

154

غازی صدیقی

ناک نقشہ بھی خوب تھا اس کا
چال ڈھال میں بھی عیاں غرور تھا اس کا
زلفیں دیکھیں تو کوئی جال تھا جس میں
ہمارا دل نجانے جکڑ دیا کس نے
آنکھوں میں اک سمندر موجزن تھا اس کی
جس کو دیکھو نگاہ کا اسیر تھا اس کی
ابا نے ہم سے جو پوچھا کہ بیٹا قبول ہے
ہم نے فوراََ سے یہ اقرار کیا ہاں قبول ہے
بات طے ہوئی کوئی پچیس ہزار میں
بکرا ہم بھی اک لے آئے پھر اپنے دیار میں

حصہ