سرکاری نظام تعلیم۔۔۔ ایک سوالیہ نشان

68

فرح اخلاق
پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ماضی قریب تک سالانہ امتحانات کا نظام رائج تھا (بعض درس گاہوں میں یہ نظام اب بھی جزوی طور پر رائج ہے) ابھی کچھ عرصے پہلے ہی ملک میں سمسٹر سسٹم کو متعارف کروایا گیا۔ اس نطام کے تحت بی ایس آنرز کی ڈگری کو عام طور پر آٹھ جب کہ ایم فل کی ڈگریوں کو چار سمسٹر میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر سمسٹر چھ ماہ پر مشتمل ہوتا ہے اس طرح ایک سال میں دو سمسٹر مکمل ہوتے ہیں۔
کہنے کو تو یہ چھ ماہ کا سمسٹر ہے لیکن اس چھ ماہ میں سے ایک ماہ امتحانات اور تقریباً ڈیڑھ ماہ تعطیلات کی نذر ہو جاتا ہے‘ باقی بچ جانے والے ساڑھے تین ماہ کے سمسٹر میں اسائنمنٹ‘ پریزینٹیشن اور ٹیسٹ وغیرہ کا انعقاد بھی ہوتا ہے۔ اب بچ جانے والے اس مختصر سے عرصے میں طالب علم صرف اس مخصوص کورس کی جزوئیات کو ہی پڑھ پاتا ہے کہ سمسٹر ختم ہو جاتا ہے پھر اگلے سمسٹر میں کورس تبدیل ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں پچھلا تھوڑا بہت پڑھا ہوا سبق بھی بھول کر اگلے سمسٹر کو پاس کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں جب کہ سالانہ امتحانی نظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں پڑھایا جانے والا نصاب اور عملی کام طالب علم کو دیر تک یاد رہتا ہے۔
اس وقت ہمارے ملک میں تقریباً 200 کے قریب یونیورسٹیاں قائم ہیں اور ان کی تعداد میں مستقل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم اور نصاب عصرِ حاصر کے تقاضوں کو پورا کر پا رہا ہے یا نہیں؟ کیا کسی کورس کو چند ہفتے پڑھا کر ہم اپنے طالب علموں سے یہ توقع کرسکتے ہیں کہ وہ اس مضمون میں ماسٹر ہو جائے گا؟
کراچی یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے ایک استاد سے اس حوالے سے بات کرنے کا موقع ملا تو ان کا کہنا یہ تھا کہ یونیورسٹی صرف ڈگری دے سکتی ہے‘ کمپیوٹر پروگرامنگ میں مہارت حاصل کرنے کے لیے کمپیوٹر کورسز کرانے والے کسی ادارے میں جائیں۔ اب وہ طالب علم جو سمسٹر کی فیس بمشکل ادا کر پاتا ہے‘ وہ کورسز کی بھاری فیس کیسے دے پائے گا؟
دنیا بھر میں تحقیق کی مد میں جو ترقیاں ہو رہی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی لیکن ہمارے ہاں حالات اس کے برعکس ہیں۔ یہاں پی ایچ ڈیز اور ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والے طالب علموں کی بھرمار ہے‘ قابلیت نام کو نہیں یہی وجہ ہے کہ جب یہ طالب علم عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سمسٹر سسٹم کے کچھ مثبت پہلوئوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا لیکن ہمارے ملک میں اس سسٹم کے رائج ہونے کے بعد ابھی تک کوئی غیر معمولی نتائج سامنے نہیں آسکے۔ ہمارے یہاں سمسٹر سسٹم کو جس انداز میں چلایا جارہا ہے اگر اس میں مناسب ترامیم نہ کی گئیں تو مستقبل میں پاکستان میں ایسے ڈگری کے حامل نوجوانوں کی کثرت ہوگی جو علم کے اعتبار سے کھوکھلے ہوں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ امتحانوں کے نظام‘ پرچوں کی جانچ اور تدریس کے طریقہ کار کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور اس میں ایسی ترامیم کی جائیں جن کے نتیجے میں ڈگریوں کی پیداوار کے بجائے حقیقی معنوں میں علم کی ترویج ہو سکے۔

حصہ