راشد حسین راشد کا مجموعہ کلام ’’رقصِ جنوں‘‘ ان کی صلاحیتوں کا اظہار ہے‘ مسلم شمیم

41

ڈاکٹر نثار احمد نثار
راشد حسین راشد کینیڈا میں مقیم ہیں وہ کراچی آتے ہیں تو یہاں کی مختلف ادبی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں‘ ان کی اہلیہ بھی شاعرہ ہیں تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ کس کی شاعری زیادہ پُر اثر ہے‘ 17جون 2019ء کو محترم انیس جعفری نے مجھے راشد حسین راشد اور نور شمع نور کے شعری مجموعے عنایت کیے کہ میں اپنے کالم میں ان کا تذکرہ کروں‘ میں نور شمع نور کے بارے میں کچھ الفاظ لکھ چکا ہوں‘ آج راشد حسین راشد کی شاعری پر بات ہوگی۔ ان کی کتاب ’’رقصِ جنوں‘‘ ادب و فن پبلی کیشنز کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے‘ 224صفحات کی اس کتاب میں 15 نظمیں اور 82 غزلیں شامل ہیں‘ راشد حسین راشد کا یہ دوسرا مجموعہ کلام ہے جس میں مسلم شمیم ایڈووکیٹ‘ کلیم عاجز (بھارت)‘ پروفیسر علیم اللہ حالی (بھارت) اور پروفیسر ڈاکٹر سید سرور حسین کے تبصرے شامل ہیں۔ اندرونی فلیپ پر رحمان خاور کا قطعہ اور انیس جعفری کا تبصرہ ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ راشد حسین راشد کی شاعری انسان کی پستی‘ ناآسودگی‘ محرومی‘ بے اطمینانی‘ ناانصافی‘ طبقاتی اجارہ داری‘ نظریاتی شدت پسندی جیسے اہم موضوعات سے مزین ہے‘ انہوں نے اپنے داخلی اور خارجی مشاہدات بھی لکھے ہیں اور جمالیاتی حسن کا ذکر بھی کیا ہے ان کے ہاں ترقی پسند تحریک کے اثرات بھی نظر آتے ہیں۔ مسلم شمیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ راشد حسین راشد کو شاعری ورثے میں ملی ہے۔ انہیں دبستان دہلی‘ دبستان لکھنؤ اور عظیم آباد کے شعرا نے کافی متاثر کیا ہے جس کی گونج ان کے اشعار میں موجود ہیں۔ ان کی نظموں میں جس بلند آہنگی کے ساتھ سماجی زندگی کو درپیش مسائل کا بیان ہوا ہے ان میں کربِ ذات کی کار فرمائی نظر آتی ہے‘ ان کی غزلوں میں زندگی کی بہاریں اور مشکلاتِ وقت کا تذکرہ ہے‘ ان کا نظریۂ ادب زندگی ہے‘ شاعری کے حوالے سے ان کے ہاں کلاسیکی عہد کی لفظیات‘ تراکیب‘ تمثیلات و تلمیحات کے ساتھ جدید عہد کی لفظیات اور تشبیہات اور استعارات کی جلوہ گری بھی متاثر کن انداز اور پُر تاثیر زاویوں سے نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری میں ان کی شخصیت کی بھرپور نمائندگی موجود ہے۔
راشد حسین راشد کا تعلق عظیم آباد (بھارت) سے ہے جوکہ اشوکا ’’دی گریٹ‘‘ کا پایۂ تخت ہونے کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور تھا‘ اس شہر کا نام مغلوں نے عظیم آباد رکھا تھا۔ راشد حسین راشد نے بھارت سے پاکستان میں ہجرت کی اور بینکاری سے وابستہ رہے۔ انہوں نے بچپن سے ہی شعر کہنے شروع کیے تھے‘ انہوں نے جن شعرا سے مشاورتِ سخن کی اور اصلاح لی ان میں علامہ جمیل مظہری‘ پروفیسر اجتبیٰ رضوی اور پروفیسر پرویز شاہدی شامل ہیں۔ ان کی شاعری کا ارتقائی سفر جاری ہے امید ہے کہ یہ مزید عزت و شہرت پائیں گے۔ ان کی شاعری چار دہائیوں پر مشتمل ہے‘ یہ ’’کاتا اور لے ڈوڑے‘‘ کے قائل نہیں ہیں اسی لیے انہوں نے اپنے تخلیقی روّیوں کو تجربات اور مشاہدات کی آگ میں جلا کر کندن کیا اور پھر کتابی شکل میں قارئین کے لیے پیش کر دیا۔ انہوں نے سچائی کے ابلاغ کو کلیدی اہمیت دی ہے اور شعری جمالیات کی پاسداری سے بھی نظریں نہیں چرائیں‘ ان کی شاعری میں ہجرت کے غم نمایاں ہیں کہ انہوں نے کھلی آنکھوں سے قتل و غارت گری کے مناظر دیکھے ہیں‘ ان کے ہاں جنونِ عشق معراج کا درجہ رکھتا ہے لیکن سماج کا دکھ سکھ ان کی شاعری کا خاصا ہے‘ ان کا مجموعہ کلام اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ہے۔ پروفیسر کلیم عاجز کے نزدیک راشد حسین راشد کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جو معاشرتی اقدار کے علمبردار ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ گل و بلبل کے قصوں میں وقت برباد کرنے کے بجائے لوگوں کو زمانے کے حقائق سے واقف کیا جائے تاکہ وہ بہتر مستقبل کی تیاری کریں۔ ان کی شاعری میں قدامت پسندی‘ جدت پسندی اور ترقی پسندی نظر آتی ہے اور حسن و عشق کی کارفرمائیاں بھی۔ ان کی شاعری کو اربابِ تحقیق و تنقید جس زاویے سے چاہیں دیکھیں لیکن بڑی شاعری کے سارے جراثیم ان کی شاعری میں بہ درجہ اتم موجود ہیں۔ اگر شجر ترو تازہ رہا تو نئی کونپلوں کے پھوٹنے اور نئی شاخوں کے نکلنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ پروفیسر علیم اللہ حالی نے لکھا ہے کہ راشد حسین راشد کی شاعری میں فکر و اسلوب کے جواہر پارے نظر آتے ہیں جو کہ انہیں اپنے ہم عصر شعرا سے ممتاز کرتے ہیں‘ ان کی مستحکم شعری روایات انہیں زندہ رکھیں گی۔ پروفیسر ڈاکٹر سید سرور حسین (سعودی عرب) نے لکھا ہے راشد حسین راشد کو دورِ جدید کا انقلابی شاعر بھی کہہ سکتے ہیں کیوں کہ ان کی شاعری ظلم و جبر کے خلاف تازیانہ ہے‘ وہ کہتے ہیں کہ:

گئے زنجیر پا بے شک تمہاری انجمن سے ہم
مگر آئیں گے مقتل میں یقینا بانکپن سے ہم
نہیں کچھ خوف ہم اہلِ جنوں کو سنگ و آہن کا
گزرتے آ رہے ہیں بار ہا دار و رسن سے ہم

بہرحال ان کی ادبی تخلیقات کو خانوں اور حلقوں میں نہیں بانٹا جاسکتا ان کے یہاں رومانیت‘ جدیدیت اور ترقی پسندی وغیرہ کے سارے رجحانات موجود ہیں جوکہ ان کی فکری بصیرت‘ الفاظ کی موسیقیت اور تغزل کی دل کشی میں ضم ہو کے ان کی شاعری کو جلا بخشتے ہیں۔ انہوں نے ترقی پسند اور رومانیت میں صوفی افکار و احساسات کی آمیزش سے اس دور کی اردو شاعری میں ایک نئی جہت کو پیش کیا ہے‘ وہ کہتے ہیں کہ:

ذرا سر اٹھا کے دیکھو سرِ دار جل رہا ہوں
وہ چراغِ عشق جس میں ہے مرا لہو بھی شامل

ادارۂ فکر نو کے زیراہتمام نور احمد میرٹھی کی یاد میں مشاعرہ

۔26 جولائی 2019ء بروز جمعہ ادارۂ فکرنو کراچی کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے تعاون سے حمایت علی شاعر کی یاد میں نظمیہ مشاعرہ منعقد ہوا جس میں مسلم شمیم ایڈووکیٹ صدر تھے‘ سعید الظفر صدیقی مہمان خصوصی اور سرور جاوید مہمان اعزازی تھے۔ رشید خان رشید نے نظامت کے فرائضُ انجام دیے‘ اختر سعیدی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ حمایت علی شاعر اردو ادب کے بہت بڑے قلم کار تھے‘ وہ ہمہ جہت شخصیت تھے‘ ان کے انتقال سے اردو ادب کا ایک دور ختم ہو گیا۔ انہوں نے ہر صنفِ سخن میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا‘ وہ نظم کے بھی بہت بڑے شاعر تھے‘ ان کی طویل نظمیں ریکارڈ پر ہیں‘ آج ہم نے اسی حوالے سے نظمیہ مشاعرہ ترتیب دیا ہے‘ اس سے قبل بھی ہم ایک شان دار نظمیہ مشاعرہ منعقد کر چکے ہیں ہم ہر سال ’’حمایت علی شاعر ایوارڈ‘‘ کا اجرا کریں گے جو جولائی 2020 میں کسی بھی اہم ادبی شخصیت کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے ممنون و شکر گزار ہیں کہ آج ہم ان کے تعاون سے مشاعرہ کر رہے ہیں۔ پروفیسر اوجِ کمال نے کہا وہ ادارۂ فکر نو کراچی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے حمایت علی شاعر کے لیے ایک پروگرام رکھا‘ میرے والد حمایت علی شاعر کے لیے مختلف ادارے تعزیتی ریفرنس ترتیب دے رہے ہیں‘ بلاشبہ میرے والد صاحب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن اردو ادب میں ان کا اتنا کام ہے کہ وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیںگے‘ وہ زندگی کے مختلف شعبوں کے نمائندہ انسان تھے‘ انہوں نے جس شعبے میں بھی قدم رکھا‘ کامیابیوں نے انہیں سرفراز کیا۔ وہ اس زمانے کے شاعر تھے جب ادب کی ایک کہکشاں آسمانِ ادب پر جلوہ گر تھی‘ ایک سے بڑھ کر ایک شاعر موجود تھا لیکن میرے والد نے ان کے درمیان اپنی شناخت بنائی‘ اپنا لہجہ سب سے الگ رکھا اور بہت کامیاب زندگی گزاری۔ پروفیسر ڈاکٹر اوجِ کمال نے مزید کہا کہ میرے والد صاحب نے دوسری جنگِ عظیم کے حوالے سے ایک طویل نظم کہی تھی جس میں انہوں نے اس وقت کے معاشرتی اور سیاسی حالات پر روشنی ڈالی تھی‘ آج بھی وہی حالات ہیں‘ وڈیرہ شاہی ہے‘ لوگوں کو حقوق نہیں مل رہے ہیں‘ ظلم و تشدد ہے‘ افلاس ہے اور بے روزگاری کا دور دورہ ہے لیکن ہمارے شعرا اس طرف توجہ نہیں دے رہے جس کی وجہ سے سامعین و قارئین کم ہوتے جارہے ہیں ہماری لفظیات میں اثر نہیں رہا‘ ہم آشوبِ شہر نہیں لکھ رہے‘ ہم گل و بلبل کے افسانے لکھ رہے ہیں۔ میں تمام اربابِ سخن سے ملتمس ہوں کہ میری گزارشات پر غور فرمائیں۔ سعیدالظفر صدیقی نے کہا کہ حمایت علی شاعر کے لیے ایک بڑا پروگرام ہونا چاہیے کیوں کہ وہ بہت بڑے قلم کار تھے‘ ان کی مختلف جہتوں پر بات نہیں ہو پارہی‘ ان پر سرسری گفتگو ہو رہی ہے جس کے باعث ان کی صلاحیتوں کے تمام باب روشن نہیںہو رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نظم کے مشاعروں سے شاعری ترقی کرے گی۔ سرور جاوید نے کہا کہ حمایت علی شاعر جیسے لوگ ہمارے ادب کا سرمایہ کہلاتے ہیں‘ ہم ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں‘ ان کے انتقال سے ایک خلا پیدا ہو گیا ہے لیکن ہر آدمی کو مرنا ہے تاہم اس کے کارنامے اسے زندہ رکھتے ہیں حمایت علی شاعر بھی ہمیشہ اچھے لفظوں سے یاد کیے جاتے رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نظم کی شاعری بڑی شاعری ہوتی ہے‘ غزل کے مقابلے میں نظم کہنا مشکل ہوتا ہے مجھے خوشی ہے کہ آج نظم کا مشاعرہ ہے‘ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ صاحبِ صدر مسلم شمیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ حمایت علی شاعر مشکل دور میں بھی زندہ رہے انہوں نے جرأت مندی سے شاعری کی لیکن ہم نے 70 سال میں ترقیٔ معکوس کا سفر کیا ہے‘ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرتی حالات و واقعات کے علاوہ سیاسی مظالم بھی بے نقاب کریں‘ اچھی شاعری وہ ہوتی ہے جس میں ماضی سنائی دے اور زمانۂ حال بھی موجود ہو اور اچھے مستقبل کے خواب بھی نظر آئیں۔ معاشرے کے کرب کے اظہار سے بڑی شاعری بنتی ہے‘ زمینی حقائق سے روگردانی نہیں کرنی چاہیے۔ اس موقع پر محمد علی گوہر نے کلمۂ تشکر ادا کیے۔ نظمیہ مشاعرے میں صاحب صدر‘ مہمان خصوصی‘ مہمان اعزازی اور ناظم مشاعرہ کے علاوہ ظفر محمد خان ظفر‘ فیروز ناطق خسرو‘ راشد نور‘ اختر سعیدی‘ خالد معین‘ ڈاکٹر رخسانہ صبا‘ ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی‘ سلیم فوز‘ سلمان صدیقی‘ محمد علی گوہر‘ راقم الحروف ڈاکٹر نثار احمد‘ نعیم سمیر‘ سلمان ثروت‘ کشور عدیل جعفری‘ عمران شمشاد‘ الحاج نجمی‘ ہدایت سائر‘ یاسر سعید صدیقی‘ عینا میر‘ عاشق شوکی‘ علی کوثر‘ شجاع الزماں‘ ہما اعظمی اور کاشف علی ہاشمی نے اپنی اپنی نظمیں پیش کیں۔

ادبی تنظیم دراک کی 106 ویں تنقیدی نشست اور مشاعرہ

ادبی تنظیم دراک کی 106 ویں تنقیدی نشست اور مشاعرہ 27 جولائی 2019ء پولیس گرلز کالج فیڈرل بی ایریا کراچی میں منعقد ہوئی جس کی صدارت زاہد حسین زاہد نے کی۔ مہمان خصوصی اسلام آباد سے تشریف لائے شاعر و نقاد ڈاکٹر نثار ترابی تھے جب کہ مہمان اعزازی جاوید انجم تھے۔ سلمان صدیقی نے نظامتی فریضہ انجام دیا۔ نشست کے پہلے مرحلے میں حجاب عباسی کا افسانہ ناظم تقریب سلمان صدیقی نے حسبِ روایت تخلیق کار کا نام بتائے بغیر پڑھا۔ جس پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے شائق شہاب نے کہا کہ یہ ہمارے دیہی معاشرے کی کہانی ہے اور جاگیرداری نظام کا المیہ ہے۔ آصف مالک نے کہا کہ یہ افسانہ نہیں‘ کہانی ہے‘ موضوع کاروکاری ہے اس میں کوئی نیا پہلو نہیں ہے مگر بیانیہ خوب صورت ہے‘ جملے تفصیلی ہیں جس سے افسانہ طویل ہوگیا ہے۔ انجیلا ہمیش نے کہا کہ اس افسانے میں کوئی انوکھا پن نہیں ہے سیدھا سادا بیانیہ ہے جس کو بلا جواز طویل کر دیا گیا ہے۔ حامد علی سید نے افسانے کو ایک مضبوط کہانی قرار دیا اور کہا کہ اس میں جاگیرداروں‘ وڈیروں کے روّیوں کی نقاب کشائی کی گئی ہے‘ اس میں افسانوی ٹچ وہاں ہے جہاں کارنس سے زیتو کی تصویر غائب ہوئی ہے۔ نظر فاطمی نے افسانے کو معاشرتی کہانی کہا اور یہ بھی کہ طوالت نے افسانے کا حسن برباد کر دیا ہے۔ جنید حسن نے کہانی کے ایک کردار میر شہباز کو جو کہ اپنے قبیلے کا سردار ہے‘ اس واقعے کا ذمے دار قرار دیا ہے‘ یہ کردار کہانی کی بنیاد ہے سارا افسانہ اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ سلیم عکاس نے افسانے کو وڈیرہ شاہی کا المیہ قرار دیا اور کہا کہ حکومت کو بھی اس جانب توجہ کرنی چاہیے کہانی کے اہم کردار کا گر جانا ایک مثبت علامت ہے۔ مہمان اعزازی نے کہا کہ ہم اس طرح کے افسانے ایک زمانے سے پڑھتے چلے آرہے ہیں اس میں کوئی نیا پن نہیں ہے۔ لکھنے والے نے جاگیرداروں کو قریب سے نہیں دیکھا ہے جس قسم کے جملے افسانہ نگار نے وڈیروں اور جاگیرداروں سے منسوب کیے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے‘ کہانی میں ایک ایف آئی آر کا ذکر ہے جو کہ مختصر ہے اس کو طویل ہونا چاہیے تھا۔ مہمان خصوصی نے دراک کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں مہمان خصوصی بنایا۔ آج انہیں بہت سے ساتھیوں سے شرفِ ملاقات حاصل ہو رہا ہے۔ اس قسم کی نشستوں سے ذہنی اور فکری تربیت ہوتی ہے۔ افسانے کے متعلق انہوں نے کہا کہ اس میں مکالموں کو فطری انداز سے بیان کیا گیا ہے اس میں سماج کی ایک مذموم روایت کی عکاسی ہے۔ صدر محفل نے کہا کہ افسانے پر تفصیل سے بات ہوئی لیکن کرداروں کے نفسیاتی کشمکش کے حوالے سے بات نہیں ہوئی کہانی کا موضوع وہ نہیں ہے جو سطح پر تیرتا نظر آتا ہے کہانی اگرچہ عام سی ہے مگر تعلیم و تربیت کا اثر واضح ہے۔ پنھل نے مراد کو قتل کرنے کے بعد خود کو مارنے سے پہلے زیتو کی تصویر مراد کی جیب میں رکھ دی تھی اس کہانی میں یہی افسانوی ٹچ ہے۔ اس پروگرام کے دوسرے حصے میں سلیم عکاس کی غزل تنقید کے لیے بغیر نام بتائے حامد علی سید نے پڑھی اور کہا کہ یہ 9 اشعار پر مبنی غزل ہے جس کی ردیف ’’ناممکن‘‘ ہے‘ صرف مطلع اچھا ہے اس کی علاوہ ابلاغ نہیں ہو پارہا۔ شائق شہاب نے اسے زندگی کے روّیوں سے مربوط غزل قرار دیا۔ آصف مالک نے اسے عامیانہ غزل کہا۔ خالد احمد سید نے اسے روایتی غزل قرار دیا۔ کشور عدیل جعفری نے کہاکہ یہ بہت کمزور غزل ہے‘ مصرعوں کو جوڑ کر غزل بنائی گئی ہے اس میں بے ساختگی نہیں ہے۔ خالد میر نے کہا کہ ہمیں اتنی شدید تنقید سے گریز کرنا چاہیے ورنہ ز یادہ سخت روّیوں سے شاعر بددل ہو جاتا ہے اگر آپ اس میں کمی محسوس کرتے ہیں تو پیار و محبت کے انداز میں اصلاحی پہلو سامنے لائیں۔ شامی شمس نے کہا کہ یہ ایک اوسط درجے کی غزل ہے۔ عبدالمجید محور نے غزل کے اشعار میں خیال کی بنیادی خرابیوں کو بیان کیا۔ مہمان اعزازی کے نزدیک ا س کو ہم پابند نظم کے طور پر لے سکتے ہیں۔ مہمان خصوصی نے کہا کہ ایک عمومی غزل کو ہم بہترین غزل قرار نہیں دے سکتے۔ انہوں نے اس غزل کے فنی تقاضے بھی واضح کیے۔ زاہد حسین زاہد نے کہا کہ غزل میں اصل کام مصرع ثانی کرتا ہے اس غزل میں مصرع ثانی بہت کمزور ثابت ہوئے ہیں اس غزل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ وقت کی کمی کے باعث مشاعرہ نہیں ہوا صرف نثار ترابی سے ان کا کلام سنا گیا۔ اس تقریب میں شریک ہونے والوں میں صاحب صدر‘ مہمان خصوصی‘ مہمان اعزازی اور ناظم مشاعرہ کے علاوہ انجیلا ہمیش‘ انیس احمد مرچنٹ‘ حجاب عباسی‘ سلیم عکاس‘ حامد علی سید‘ محمد یعقوب‘ جاوید صدیقی‘ عبدالمجید محور‘ شائق شہاب‘ نظر فاطمی‘ خالد احمدسید‘ ایم اکبر نارو‘ بلال راجپوت‘ فیاض علی فیاض‘ آصف رضا رضوی‘ کشور عدیل جعفری‘ آصف سالک‘ اختر عبدالرزاق‘ شامی شمس‘ فاروق کیانی‘ منتھار علی میرانی‘ جنید حسن جنیدی‘ فرید ویرانی اور فرید ہمیش شامل تھے۔ سلمان صدیقی نے اظہار تشکر کیا۔

حصہ