خان صاحب! یہ آگ کا دریا ہے

148

اگر کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات ہے کہ موجودہ پاکستانی حکومت کو امریکی راہداریوں میں جو عزت و تکریم ملی ہے، اُس میں ان کا کچھ اپنا کمال ہے تو اس خبطِ عظمت کو ذہن سے نکال دیں۔ اس لیے کہ جس قسم کے کردار اور جس قسم کے ’’مذاکراتی ڈومور‘‘ کی پاکستان سے توقع کی جارہی ہے، وہ اتنا آسان نہیں ہے۔
ایک جانب مسلّمہ فاتح طالبان ہیں جنہوں نے یہ فتح نصرتِ الٰہی اور ’’شہادت ہے مقصود و مطلوبِ مومن‘‘ کے جوہر سے کشید کی ہے، اور دوسری جانب ٹیکنالوجی کے عالمی بت کی بدترین شکست ہے، اور اس شکست کو وہ مذاکرات کی میز پر ’’برابر‘‘ کرنا چاہتا ہے۔ میرے ملک کے ٹیکنالوجی پرست دانش وروں کے سامنے بھی میرے اللہ نے حق کو روزِ روشن کی طرح واضح کردیا۔ نہ صرف دانش وروں بلکہ اس ملک کے اقتدار پر متمکن تمام قوتوں کو بھی اصل قوت کے مرکز کا پتا بتادیا۔ لیکن ہم کس قدر بدقسمت ہیں کہ اس آگہی پر شکر ادا کرتے ہوئے صرف اور صرف اللہ پر توکل کا اعلان نہیں کرتے، بلکہ ہم نے پہلی کھیپ کے طور پر امداد کی صورت میں بھی ایف 16 کی اسی ٹیکنالوجی کی بھیک قبول کی، جسے طالبان افغانستان میں بری طرح شکست دے چکے تھے۔
یہ ورلڈ کپ جیسی فتح نہیں ہے، سدھرنے کا موقع دیا گیا ہے آپ کو۔ ایک ایٹمی قوت ہونے کے باوجود میرے اللہ نے آپ سب کو یہ احساس دلایا ہے کہ مرتبہ ومقام انہی کا ہے جو اسلحہ و بارود پہ توکل سے ماورا ہوکر جنگ لڑتے ہیں۔ کل بھی آپ امریکا کے کہنے پر ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور آج بھی اسی امریکا کے کہنے پر ان کو مذاکرات پر امریکی اہداف کے لیے قائل کرنے پر آمادہ کرنے کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ تو ان کا بڑا پن ہے کہ وہ آپ کی بات سننے کو تیار ہیں۔ صرف ایک رشتہ ہے طالبان اور آپ کے درمیان، اُمتِ مسلمہ کا رشتہ، کلمہ طیبہ کا رشتہ۔ یہ اسی کا فیضان ہے، یہ اسی اُمت کی شرم و حیا ہے کہ آپ کی بات سنی جارہی ہے، آپ کو عزت مل رہی ہے۔
لیکن! اور یہ ’’لیکن‘‘ بہت اہم ہے… یہ انتباہ ہے اُن تمام لوگوں کے لیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مذاکرات کسی سیاسی جدوجہد کرنے والی پارٹیوں کے گروہوں کی طرح ہیں، یا پھر ویت نام اور رہوڈیشیا کی طرح قوم پرستانہ جنگ کے نتیجے میں منعقد ہورہے ہیں۔ دونوں صورتوں میں مقصد صرف اور صرف اقتدار ہوتا ہے۔ ایک خطے کو آزاد کروا کر اس پر اقتدار اور حاکمیت قائم کرنا۔ اس علاقے پر عوام کے اقتدار کو بحال کرنا۔ لیکن یہاں معاملہ بالکل مختلف ہے، اور اس معاملے کا ادراک امریکی حکومت کو لاتعداد مذاکراتی نشستوں کے بعد بہ خوبی ہوچکا ہے۔ ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ طالبان کی افغانستان میں جنگ صرف اس خطے میں اللہ کی حاکمیت کے قیام کی جنگ ہے، اور اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں انہیں اپنا یہ مقصد حاصل نہ ہوا، تو طالبان اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔ سیاسی اور فوجی جنگ والے تو بہرصورت اقتدار چاہتے ہیں۔ انہیں بس اقتدار مل جائے، اس کے بعد جو بھی قوانین نافذ ہوجائیں، انہیں پروا نہیں ہوتی۔ لیکن یہاں معاملہ برعکس ہے۔ یہاں طرزِ حکومت کا تعین پہلے سے ہونا ہے اور آزادی پر مذاکرات بعد میں۔ اسی لیے 7-8 جولائی 2019ء کو دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کا جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا ہے، اس کی شق نمبر 7 میں امریکا اور طالبان نے جو روڈمیپ دیا ہے اس کا پہلا نقطہ یہ ہے جس پر دونوں فریق متفق ہوئے ہیں:
“Institutionalizing Islamic system in the country for the implementation of comprehensive peace”
’’جامع امن کے لیے تمام اداروں کو اسلامی نظام میں ڈھالنا۔‘‘ یہ وہ بنیادی مقصد ہے جس کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ طالبان کے نزدیک ملک میں امریکی افواج کا وجود ہے۔ امریکیوں کے انخلا کے بعد وہ اپنے ملک میں اپنی منزل یعنی شریعت کا نفاذ خود کرلیں گے۔ یہ فتح افغان طالبان نے ایک مقدس فریضے ’’جہاد‘‘ کے ذریعے حاصل کی ہے۔ ’’جہاد‘‘ جس لفظ کا استعمال اب پاکستانی میڈیا پر شجر ممنوع ہے، لیکن اسلامی امارتِ افغانستان کے یہ سرفروش اسی ’’جہاد‘‘ کے نعرے سے سربلند ہوئے اور تائید و نصرتِ الٰہی ان کے ہمرکاب ہوئی۔ یہ راستہ آسان نہ تھا۔ یہ آگ کا دریا تھا جسے عبور کرکے وہ اس منزل تک پہنچے ہیں۔
اگست 2017ء میں امریکا نے آخری دفعہ افغانستان پر پوری قوت استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے اس ظلم کو فتووں کی چھتری پہنانے کے لیے کابل، انڈونیشیا اور سعودی عرب میں علماء کانفرنسیں منعقد کرائیں۔ لیکن چند سرکاری علماء کے سوا کوئی قائل نہ ہوسکا۔ پروردہ این جی اوز سے ہلمند میں پیدل امن مارچ شروع کروایا، اور یہاں تک کہ بموں کی ماں، دنیا کا سب سے بڑا غیر ایٹمی بم بھی نہتے عوام پر پھینکا۔ لیکن دوسری جانب اللہ نے فرزانوں کو کامیابی سے سرفراز کیا۔ صرف 2018ء کا احوال یہ ہے: اس سال دس ہزار چھ سو اڑتیس(10,638) کارروائیاں ہوئیں جن میں 31 فدائی حملے تھے۔ ان کے نتیجے میں 249 امریکی فوجی ہلاک ہوئے اور 153 زخمی۔
وہ افغان فوج جسے امریکا، بھارت اور ایران نے تربیت دی تھی، اس کے بائیس ہزار پانچ سو چورانوے (22,594) فوجی ہلاک اور 14063 زخمی ہوئے جن میں قندھار پولیس کا سربراہ جنرل عبدالرزاق، ہلمند کا جنرل عبدالجبار قہرمان، پکتیا کا کمانڈر عزیز اللہ کاروان اور جنرل مومن حسن خیل سمیت 514 کمانڈر شامل تھے۔ 8 ڈرون طیارے اور 17 ہیلی کاپٹرگرائے گئے۔ 3613 گاڑیاں اور ٹینک تباہ کیے گئے۔ اس سب کے نتیجے میں افغانستان کے 61 اضلاع امارتِ اسلامی کے زیر کنٹرول آگئے۔ دوسری جانب امریکی مظالم آگ بن کر شہریوں پر برسے۔ 606 مکانات، 495 دکانیں، 15 اسکول، 5 مساجد، 398 موٹر سائیکلیں، 58 گاڑیاں، 7 مارکیٹیں اور 3 کشتیاں تباہ کی گئیں، جس کے نتیجے میں 2029 شہری شہید اور 1676 زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد کا منظرنامہ شکست کا منظرنامہ ہے۔ جنرل نکلسن کی جگہ جنرل اسکاٹ ملر آگیا۔
مذاکرات میں امریکا کی ہزیمت واضح ہونے لگی۔ گوانتانامو کے قیدی مولانا فاضل آخوند اور دیگر چار رہنما امریکا کے مقابل قطر مذاکرات کی میز پر بیٹھے۔ ملا عبدالغنی برادر قید سے رہا ہوئے اور فاتح طالبان کی ٹیم کے سربراہ مقرر ہوئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ’’مومن کی فراست سے ڈرو، اس لیے کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔‘‘ (ترمذی، الجامع)
مردِ مجاہد کی امریکی ریڈیو پر یہ آواز 2001ء میں گونجی تھی ’’افغانستان میں امریکیوں کی شکست یقینی ہے۔ آج یہ ہمارے ساتھ دوٹوک بات کرنے کو تیار نہیں لیکن ایک دن آئے گا جب یہ ہم سے مذاکرات کی بھیک مانگیں گے۔‘‘ پاکستان اس امریکی بھیک کا کشکول بردار ہے۔ کاش ایسا ہونے کے بجائے، یہی کشکول پاکستان کے سامنے بھی طالبان کی طرح براہِ راست رکھا جاتا۔ پاکستان کے جوشِ جذبات میں آئے ہوئے افراد جنہیں اپنے لیڈر کو فتح پر ہار پہنانے سے فرصت نہیں، طالبان ترجمان کے منہ میں اپنے الفاظ ٹھونستے رہے کہ ان کو افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے قائل کرلیا گیا ہے۔ اس کا جواب طالبان کو براہِ راست دینا پڑا کہ وہ افغان حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے۔ وہ انہیں ایک سیاسی گروہ تصور کرتے ہیں، اس حیثیت سے مذاکرات ہوسکتے ہیں، لیکن قانونی حکمران کی حیثیت سے نہیں۔ یہ مذاکرات کا پہلا پڑائو تھا۔
خان صاحب! ٹیکنالوجی پرست مشیروں نے آپ کی زبان سے افغانستان میں ’’جمہوریت‘‘ اور ’’انتخابات‘‘ کے الفاظ بھی نکلوا دیے ہیں۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو امریکا نے چار سال پہلے بولنا شروع کیے تھے اور طالبان نے انہیں مسترد کردیا تھا۔ طالبان کیا چاہتے ہیں، ان کا مقصد کیا ہے، ان کی جنگ ’’مالِ غنیمت‘‘ اور ’’کشور کشائی ‘‘ کے لیے نہیں تھی، یہ سب باتیں خان صاحب اور پاکستانی ٹیم کو ذہن نشین کرنا ہوں گی۔ طالبان کا تصورِ جہاد جدید فوج سے مختلف ہے۔ وہ آگ کا دریا عبور کرکے یہاں تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے عالمی بت کو شکست دی ہے۔ خان صاحب! ٹیکنالوجی پرستوں کی معیت اور مشورے آپ کو ناکام بھی کرسکتے ہیں، احتیاط! یہ آگ کا دریا ہے۔

حصہ