خاندان ایک حصار

192

قدسیہ ملک
۔’’ہائیں، ذرا اس کو تو دیکھو، روز برقع اوڑھے آجاتی ہے۔ اچھا ہوا جو اسٹیٹ نے ان پر جرمانہ کردیا ہے، لیکن یہ لوگ ہمارے ملک کو گندا کرنے اور قانون توڑ کر اتنے بھاری جرمانے بھر کر بھی اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے۔ ہماری تو ساری دنیا ان مسلمانوں نے خراب کردی ہے۔‘‘
’’ارے چھوڑو بھی سوزین! کن پاگلوں کا ذکر لے کر بیٹھ گئی ہو۔ بیچاری گھرمیں کیا کیا ظلم سہتی ہوگی۔ اس نے کیا کوئی جرم کرنا ہے، یہ اپنے چار بچے اور یہ خطرناک عبایا ہی سنبھال لے تو بڑی بات ہوگی، پتا نہیں کن حالات میں جی رہی ہے یہ، مجھے تو اس پر رحم آتا ہے، ایک ہی زندگی ہے اور یہ کم عقل اس میں بھی اتنی مصیبتیں جھیل رہی ہے۔ زندگی میں شاید ہی اس نے کوئی سُکھ دیکھا ہو۔ میں نے سنا ہے مسلم مرد اپنی بیویوں کو بہت مارتے ہیں۔ بیچاری گھٹن زدہ ماحول کی عادی خواتین۔ میں تو سوچتی ہوں کیا ان کی سانس نہیں رکتی ہوگی!‘‘ سوزین کی باتیں سن کر ماریانہ بولی۔
’’یار میں تو یہ کہتی ہوں کہ مسلم عورتیں کتنی جاہل اور فضول خرچ ہیں، پہلے کپڑے خریدتی ہیں اور پھر شامیانے جیسا موٹا اور بڑا کپڑا لگاکر اس میں اپنے آپ کو چھپاتی ہیں۔‘‘
دونوں اس مسلمان عورت کو دیکھنے لگیں جو ابھی ابھی چار بچوں اور اپنے شوہرکے ہمراہ پارک میں داخل ہوئی تھی۔
دونوں سہیلیاں فرانس کے مشہور شہر پیرس کی رہائشی تھیں۔ فرانس چونکہ ایک ترقی یافتہ ملک ہے جو خام ملکی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کی ساتویں، اور مساوی قوتِ خرید کے لحاظ سے نویں بڑی معیشت سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی خانگی دولت کے حساب سے فرانس دنیا کا چوتھا مالدار ترین ملک ہے۔ فرانس دنیا کی سات ایٹمی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ یورپی ممالک میں سب سے زیادہ مسلمان فرانس میں موجود ہیں جن کی تعداد 57 لاکھ 20 ہزار ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نفرت آمیز تقاریر اور مسلمانوں سے برتے جانے والے امتیازی سلوک کے باعث فرانس میں بھی مسلم دشمنی عروج پر ہے۔ یہ دونوں سہیلیاں بھی اسی مسلم دشمنی کا شکار ہوچکی تھیں۔ میڈیا کے پھیلائے ہوئے جال میں آکر یہ بھی مسلمانوں کو ہر دہشت گردی اور انتہا پسندی پر موردالزام ٹھیرایا کرتیں۔ مسلم خواتین پر انتہاپسندوں کے حملوں پر مسلم عورتوں کو ہی برا سمجھتیں۔ جرمنی اور فرانس کی طرح آسٹریلیا میں بھی زیادہ تر مسلم خواتین پر اُن کے مکمل لباس کی وجہ سے حملے کیے جاتے ہیں۔
اس دن کے بعد ماریانہ مسلسل اس مسلم عورت کے بارے میں سوچ رہی تھی جو اس کے گھر اسٹریٹ 8 کے پاس موجود مسلم کمیونٹی میں رہتی تھی۔ وہاں پر بھی مسلمانوں پر حملوں میں دو افراد شدید زخمی ہوگئے تھے، لیکن قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے زیراثر آکر ماریانہ نے کبھی مسلمانوں کے درد کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ بالآخر وہ وقت آہی گیا جب ماریانہ اس مسلم عورت کے گھر جاپہنچی۔ وجہ تھی اس کی چھوٹی بیٹی عائشہ، جو کبھی کبھی کھیلتے ہوئے اس کے پاس آجاتی تھی۔ عائشہ اپنے ابو کی گود میں کھیلتی تھی۔ ماریانہ اس بچی کی وجہ سے اپنے ماضی میں کھو جاتی۔ اس کو یاد نہیں پڑتا تھا کہ کبھی اس نے اپنے والد کو دیکھا ہے یا ان سے کوئی بات کی ہے۔ وہ جب بھی اپنی ماں سے اپنے باپ کا پوچھتی تو وہ کسی مسٹر جیمز کا نام لیتی جو اس کی ماں کو کینیڈا کے سفر کے دوران ملا تھا۔ آخر تھوڑی بڑی ہوئی تو وہ بھی اپنی ماں کو چھوڑ آئی۔ اس کی نظر میں فیملی اور ماں باپ کے رشتوں کا کوئی تصور نہ تھا۔
لیکن جب وہ چھوٹی عائشہ کو دیکھتی تو ماضی سے اب تک اس کے دل کے دریچے میں موجود اس کی تمام محرومیوں کے دروازے یکدم کھلتے چلے جاتے۔ حالانکہ اس کے پاس اب کسی چیز کی کوئی کمی نہ تھی۔ اچھی نوکری تھی۔ اچھا ہوسٹل تھا۔ جب دل چاہتا فلیٹ اور اپنی جاب بدل لیتی۔ اس نے کبھی خاندان اور رشتوں کے بارے میں نہ سوچا تھا۔ عائشہ کی مسلسل موجودگی اسے بار بار اپنے ماضی میں دھکیل دیتی۔ ایک رات جب وہ اپنے فلیٹ میں اکیلی تھی، بار بار اپنے آپ سے ایک ہی سوال کرتی’’کیا خاندان پر میرا حق نہیں؟‘‘ اسی سوچ میں اسے ساری رات نیند نہ آسکی۔
اگلی صبح اس کے قدم نہ چاہتے ہوئے بھی اس مسلم خاندان کے گھر کی جانب اٹھ گئے تھے۔ وہ عائشہ کی ماں سے بہت کچھ جاننا چاہتی تھی۔ اس نے ڈور بیل پر انگلی رکھی ہی تھی کہ ننھی عائشہ دوڑتی ہوئی آئی اور وہیں سے پکارا ’’ماما پارک والی آنٹی آئی ہیں۔‘‘
عائشہ کی ماں آئی۔ اس کا نام سارہ تھا۔ چار بچے تھے۔ ماریانہ کے آنے سے وہ بہت خوش ہوئی۔ ماریانہ کو اس گھر میں بہت مزا آرہا تھا۔ لیکن وہ کسی انجانے ڈر سے جلدی واپس آگئی۔ اگلے دن اس کا کسی کام میں جی نہ لگا۔ وہ مسلسل اس مسلم فیملی کے بارے میں سوچتی رہی۔ وہ کچھ نہ سوچتے ہوئے دوبارہ ان کے گھر پہنچ گئی۔آج وہ کھل کر سارہ سے بات کررہی تھی، اور سارہ بہت اطمینان سے اسے اس کے سارے سوالوں کے جواب دے رہی تھی۔
وہ سارہ سے مساجد پر ہونے والے حملوں کے متعلق پوچھ رہی تھی، اور سارہ اسے بتارہی تھی کہ حکومت نے ان مساجد کو دہشت گردی کے پھیلاؤ اور ملک میں ہونے والی ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر بند کردیا ہے۔ سارہ نے کہا: ’’ماریانہ کیا یہ انصاف ہے کہ ہم ہی پر حملے ہورہے ہیں اور ہماری ہی عبادت گاہوں کو بند کیا جارہا ہے، کیونکہ حکام کے خیال کے مطابق ان مساجد سے ہی انتہاپسندی شروع ہوتی ہے۔ ماریانہ تم آج جاکر فرانس میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پرکسی کتاب کا مطالعہ کرنا، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ مسلمانوں پر کتنے مظالم ڈھائے گئے ہیں۔‘‘
ماریانہ دل ہی دل میں سارہ کے اخلاق سے متاثر ہورہی تھی۔گھر آکر اس نے فرانس میں مسلمانوں کی مساجد کے بارے میں پڑھا تو اسے اندازہ ہوا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ فرانس میں مساجد بند کی گئی ہوں، اس سے قبل 2016ء میں بھی ملک بھر میں بیس سے زائد مساجد کو بند کیا گیا تھا۔ اور اس سے پہلے کی تاریخ تو بہت ہی کربناک تھی۔
ماریانہ اگلے روز سارہ سے اُس کے خاندان کے بارے میں پوچھنے لگی، جس پر سارہ نے بتایا کہ وہ پاکستان سے یہاں آئی ہے، جبکہ یوسف اسلام کے احکامات اور اسلام کے اصولوں کو دیکھ کر مسلمان ہوا ہے۔ پھر مسلم کمیونٹی اور اس کے والدین نے جو خود حال ہی میں مسلمان ہوئے تھے، یوسف سے اس کی شادی کروائی۔
ماریانہ نے سارہ کو بتایا کہ اس کی پیدائش کے بعد اس کے والد اس کی ماں کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اور آج تک ان کی کوئی خبر نہیں۔ میری ماں اور میں نے زمانے کے بہت ظلم سہے ہیں۔
سارہ یہ بات سن کر ماریانہ کو بتانے لگی کہ ماضی میں بھی یونان میں، مصر میں، عراق میں، ہند میں، چین میں، غرض ہرقوم میں، ہر خطے میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی، جہاں عورتوں پر ظلم کے پہاڑ نہ ٹوٹے ہوں۔ لوگ اپنے عیش وعشرت کی غرض سے عورتوں کی خریدوفروخت کرتے، ان کے ساتھ حیوانوں سے بھی بُرا سلوک کیا جاتا، حتیٰ کہ اہلِ عرب عورت کو موجبِ عار سمجھتے تھے۔ وہ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ ہندوستان میں شوہر کی چتا پر اس کی بیوہ کو جلایا جاتا تھا۔ دنیا کی زیادہ تر تہذیبوں میں عورت کی سماجی حیثیت نہیں تھی۔ اسے حقیر و ذلیل نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔ اس کے معاشی وسیاسی حقوق نہیں تھے، وہ آزادانہ طریقے سے کوئی لین دین نہیں کرسکتی تھی۔ وہ باپ کی، پھر شوہر کی اور اس کے بعد اولادِ نرینہ کی تابع اور محکوم تھی۔ اس کی اپنی کوئی مرضی نہیں تھی، اور نہ ہی اسے کسی پر کوئی اقتدار حاصل تھا۔
یہ باتیں سن کر ماریانہ بولی’’لیکن بعض تہذیبوں میں عورتوں کا غلبہ بھی رہا ہے۔ اس بارے میں تم کیا کہتی ہو؟‘‘
سارہ نے کہا ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض مرتبہ عورت کے ہاتھ میں زمامِ اقتدار بھی رہی ہے اور اس کے اشارے پر حکومت و سلطنت گردش کرتی رہی ہے۔ یوں تو خاندان اور طبقے پر اس کا غلبہ تھا، لیکن بعض قبائل میں مرد پر بھی ایک عورت کو بالادستی حاصل رہی۔ اب بھی ایسے قبائل موجود ہیں جہاں عورتوں کا بول بالا ہے، لیکن ایک عورت کی حیثیت سے ان کے حالات میں زیادہ فرق نہیں آیا، ان کے حقوق پر دست درازی جاری ہی رہی، اور وہ مظلوم کی مظلوم ہی رہی ہے۔‘‘
ماریانہ سارہ کی باتوں کو سوچتی تو اسے لگتا کہ یہی سچ ہے۔ اس نے سوزین سے ملنا اور بات کرنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ ماریانہ ایک دن بھی سارہ سے نہ ملتی تو اسے اپنے اندر ایک خلا سا محسوس ہوتا۔ وہ اسلام کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔ دوسرے دن وہ آفس سے سیدھا سارہ کے گھر پہنچی، جہاں سارہ بچوں کو کھانا کھلاکر سلارہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد سارہ ایک ٹرے میں کھانا و دیگر لوازمات لیے کمرے میں داخل ہوئی اور ماریانہ سے کہا ’’تم کھانا کھاکر فریش ہوجاؤ، پھر ہم آرام سے باتیں کرتے ہیں۔‘‘
لیکن ماریانہ نے سارہ کو ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا، بولی ’’سارہ تم نے اسلام کو کیسا پایا؟‘‘
سارہ بولی’’میری فطرت اسی مذہب کو ڈھونڈ رہی تھی۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسانِ عظیم کیا اور اس کو ذلت وپستی کے گڑھوں سے نکالا، جب کہ وہ اس کی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ اس کے وجود کو گوارا کرنے سے بھی انکار کیا جارہا تھا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپؐ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا، اور عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے۔ اور قومی وملّی زندگی میں عورت کی کیا اہمیت ہے، اِس کو سامنے رکھ کر اُس کی فطرت کے مطابق اسے ذمہ داریاں سونپیں۔‘‘
ماریانہ کے اندر بہت کچھ تبدیل ہورہا تھا، لیکن ابھی وہ مزید کچھ جاننا چاہتی تھی۔ وہ سارہ کے خاندان اور اس کے ملنے جلنے کے انداز سے بہت متاثر تھی۔ ایک روز اس نے سارہ سے پوچھا ’’کیا تمہارا شوہر تمہیں باہر نکلنے اور کام کرنے سے منع کرتا ہے؟‘‘
سارہ بولی ’’نہیں، یوسف نے کبھی مجھے منع نہیں کیا۔ لیکن میں کیوں جاب کروں جبکہ میرا شوہر میری اور میرے بچوں کی ذمہ داری خود اٹھا رہا ہے! میری ذمہ داری بس اتنی سی ہے کہ میں بچوں کی صحیح پرورش کروں۔ انہیں اسلامی طرز پر جینا سکھائوں۔ ہمارے پاکستان میں تو یہ بالکل عام ہے کہ شادی کے بعد عورت اور بچوں کی ساری ذمہ داری مرد کی ہی ہوتی ہے۔ میں نے مغربی نظام کو بھی بہت قریب سے دیکھا ہے اور اپنے اسلامی نظام کو بھی… مغربی تہذیب بھی عورت کو کچھ حقوق دیتی ہے، مگر عورت کی حیثیت سے نہیں، بلکہ یہ اُس وقت عورت کو عزت دیتی ہے جب وہ ایک مصنوعی مرد بن کر ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے پر تیار ہوجائے، مگر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین عورت کی حیثیت سے ہی اسے ساری عزتیں اور حقوق دیتا ہے، اور وہی ذمہ داریاں اس پر عائد کی ہیں جو خود فطرت نے اس کے سپرد کی ہے۔‘‘
ماریانہ حیرت سے سارہ کی باتیں غور سے سن رہی تھی کیونکہ بچپن سے اب تک اس کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے خاصی محنت وکوشش کرنی پڑی تھی، تب کہیں جاکر اسے اس کے حقوق ملے تھے۔ سارہ بتارہی تھی کہ یہ احسان اسلام کا ہے، سب سے پہلے اسی نے عورت کو وہ حقوق دیے جن سے وہ مدتِ دراز سے محروم چلی آرہی تھی۔ اسلام نے عورت کا جو مقام و مرتبہ معاشرے میں متعین کیا، وہ جدید وقدیم کی روایتوں سے بالکل پاک ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کی لڑکی ہو وہ نہ تو اُسے زندہ درگور کرے اور نہ اُس کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرے، اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔‘‘
اگلے دن جب وہ سارہ سے ملنے گئی تو سارہ بولی’’ماریانہ اس معاشرے میں رہن سہن کے لیے انسان کا تنہا زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ انسان کسی معاشرے میں رہنے کے لیے معاشرے میں تعلقات استوار کرتا ہے۔ اپنا ایک الگ گھر بناتا ہے اور پھر اس گھر کا منتظم بن کر، گھر کے نظام کو احسن طریقے سے چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس نظام کو خاندان کہا جاتا ہے۔ اسلام میں خاندان کی بہت اہمیت ہے۔‘‘
ماریانہ بولی ’’میں خود اس نظام، اس معاشرے سے اکتا چکی ہوں، مجھے اب پناہ ہی کی تلاش ہے۔‘‘
اس پر سارہ بولی ’’بے شک خاندان ایک معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ جب ہمارے معاشرے میں خاندان کا تصور ہی مٹ گیا تو معاشرے کی اساس بھی کمزور ہوگئی۔‘‘
ماریانہ بولی ’’سارہ مجھے تم لوگوں کا باہم مل جل کر رہنا اور تمہارے شوہر کا تمہارے بچوں سے پیار کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔‘‘
اس پر سارہ بولی’’ماریانہ! یہ صرف میرے نہیں یوسف کے بھی بچے ہیں۔ پاکستان میں تو یہ سب بہت عام ہے۔ ایک مسلم معاشرے کی اساس ہی خاندان پر اٹھتی ہے۔ وہاں بچوں کی ذہنی نشو ونما ایک ایسے پاکیزہ ماحول میں ہوتی ہے جہاں شہوانیت سے پاک محبت اور مفادات سے بلند قربانی کے مظاہر جنم لیتے ہیں۔ یہ خاندان ان معصوم بچوں کی تربیت گاہ بھی ہوتا ہے جو اس تعلق سے وجود میں آتے ہیں، اور ان بزرگوں کی پناہ گاہ بھی ہوتا ہے جو پہلے ہی اپنے بچوں کو پال پوس کر بڑا کرچکے ہوتے ہیں۔ یہاں بچوں کو والدین اور اپنے تمام رشتے داروں کا پیار ملتا ہے۔ اس لیے مسلم آج بھی سب سے مضبوط خاندانی نظام رکھتا ہے۔‘‘
اور آخرکار اس دن ماریانہ دل کے پورے اطمینان کے ساتھ اپنے گھر واپس آئی۔
بالآخر وہ مبارک دن آہی گیا جب ماریانہ نے اسلام قبول کیا۔ فرانس کے مسلم کمیونٹی سینٹر میں اُس کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ اس کا اسلامی نام ’فاطمہ‘ رکھا گیا۔ سارہ خوشی خوشی اس کے پاس آئی ’’مبارک ہو فاطمہ! تمہیں اللہ نے توفیق بخشی کہ تم مسلمان ہوجاؤ۔ ہم سب مسلمان ایک امت کی مانند ہیں۔ ہم سب ایک خاندان ہیں۔ اللہ نے تم پر احسان کیا کہ تمہیں مسلم گھرانے میں شامل کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں میں سب سے قیمتی نعمت ایمان کی دولت ہے، جوکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں میسر فرمائی ہے، اور اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے، کم ہے۔ تمہیں مبارک ہو۔ کیا تم میری بھابھی بننا پسند کرو گی؟‘‘
فاطمہ اس کے گلے لگ گئی اور دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرنے لگی جس نے اسے اسلام کی نعمت کے ساتھ ساتھ مستحکم خاندان جیسی نعمت سے بھی سرفراز کردیا۔

حصہ