آؤ سنواریں اپنا کراچی

66

کراچی کے مسائل اور ان کے حل کے لیے خواتین صحافیوں کے ساتھ ایک نشست

روداد: فائزہ مشتاق، عشرت نواز
یہ ایک گرم دوپہر تھی جب ہم کراچی پریس کلب پہنچے ،جہاں حسبِ معمول حکومت کے خلاف احتجاج ہو رہا تھا جس کی وجہ سے ٹریفک متاثر تھا۔ اس سے بچتے ہوئے اندر پہنچے، آڈیٹوریم میں قدم رکھا تو وہاں کا فرحت بخش ماحول بہت بھلا معلوم ہوا۔ سامنے بڑا سا سبز اور سفید رنگوں سے سجا خوب صورت بینر لگا تھا ’’آئو سنواریں اپنا کراچی۔‘‘
اسے دیکھ کر آنکھوں میں ٹھنڈک سی اتر آئی، یہ سوچ کر بے انتہا خوشی ہوئی کہ کراچی کو اپنا سمجھنے اور اس کو سنوارنے کی کوششیں کرنے والے اتنے سارے مؤثر صحافی جمع ہوئے ہیں، یقینا کوئی نہ کوئی بہتری آئے گی۔
وقت تو ایک بجے کا دیا ہوا تھا لیکن بھلا ہو ٹریفک کا، جس کی وجہ سے لوگ دیر سے پہنچ رہے تھے۔ البتہ چند شناسا چہرے وقت کی پابندی کے ساتھ موجود تھے۔ ٹھیک ڈیڑھ بجے محترمہ شبانہ نعیم نے میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے اس محفل کا آغاز کیا۔ ابتدا تلاوتِ قرآن پاک اور ترجمہ کے ساتھ کی گئی۔ نعتِ رسولِ مقبولؐ سے ماحول مزید پُررونق ہوچکا تھا۔ دل کش اشعار وسیع ہال میں گونج رہے تھے:

یہ خواب میں نے عجیب دیکھا
نبیؐ کا روضہ قریب دیکھا

شبانہ نعیم نے شرکا کو خوش آمدید کہا۔ بڑی تعداد میں ٹی وی چینلز اور اخبارات کی صحافیات اور اینکر پرسنز کی نمائندگی نظر آرہی تھی۔ ثنا غوری، حمیرا اطہر، مونا صدیقی، خورشید حیدر، امیمہ ملک، ثمین نواز، صفیہ ملک، رضیہ سلطانہ، غزالہ فصیح، مریم حسن، شیما صدیقی اور دیگر نے شرکت کی۔
میزبان نے گفتگو کے آغاز میں کہا کہ صحافت معاشرے کو علم و عرفان دیتی ہے جو کہ انسان کا بنیادی حق ہے۔ صحافی رائے عامہ کے ترجمان ہوتے ہیں۔ حق اور سچ کے ساتھ معلومات پہنچانا صحافی کا اوّلین اخلاقی فریضہ ہوتا ہے اور قومی امانت بھی۔ اس موقع پر انہوں نے حاضرین سے مختلف نوعیت کے سوالات کیے۔ درست جوابات دینے پر خواتین کو انعامات سے بھی نوازا گیا۔
بعدازاں ’’آئو سنواریں اپنا کراچی‘‘ کے عنوان سے گفتگو کا سیشن رکھا گیا، جس کے لیے جسارت سنڈے میگزین کی صحفہ خواتین کی انچارج محترمہ غزالہ عزیز اور محترمہ ریحانہ افروز (سابق سٹی کونسلر) کے سپرد مائیک کیا گیا۔ محترمہ غزالہ عزیز نے گفتگو کے آغاز میں صحافیات کی آمد پر مسرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عید تو اصل میں اپنوں کے ساتھ ہی مل بیٹھنے کا نام ہے، اسی لیے ہم نے گفتگو کے اس سیشن کے ساتھ عید ملن کا بھی اہتمام کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے شعر پڑھ کر بات چیت کا باقاعدہ آغاز کیا:

جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

یہ بالکل سچ بات ہے کہ اگر کسی کے اندر خوشی ہو تو باہر بھی خوشی نظر آتی ہے۔ مطلب یہ کہ جس کے اندر جیسی کیفیت ہوتی ہے باہر کا منظر بھی ویسا ہی دِکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی بالکل درست ہے کہ اگر باہر آسانیاں ہیں، امن ہے، راحت ہے تو گھر کے اندر بھی سکون ہوگا۔ اور اگر باہر مشکلات اور تکالیف ہیں تو گھر کے اندر بھی ویسا ہی ماحول ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے باسی باہر کی پریشانیوں اور دکھ کے بارے میں سمجھتے ہوں گے کہ آج کی جو تکلیفیں، پریشانیاں، آزمائشیں اور مشکلات ہیں چاہے وہ بجلی، پانی کے مسائل ہوں، تو ایسے میں پریشانیاں ہی حاوی رہتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سوچیں، سوال کریں کہ کیا وجہ ہے کہ کراچی کے حالات اس نہج تک پہنچے؟ کراچی تو وہ شہر تھا کہ جہاں پورے ملک سے لوگ آکر بسا کرتے تھے، لیکن آج یہاں حالات یکسر مختلف ہیں۔ مشکلات، تکلیفیں، دکھ قدم قدم پر سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ اس بارے میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، جواب لیتے ہیں کہ آخر کیا حل ہے ان مسائل کا؟ کیا تجاویز ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے موقع کے لحاظ سے شعر سنایا:

خنک ہوا کا جھونکا شرار کیسے بنا
میرا یہ شہر دکھوں کا دیار کیسے بنا؟

انہوں نے کہا کہ کچھ اقدام انفرادی سطح پر اور کچھ اجتماعی سطح پر اٹھانے کی ضرورت ہے، لیکن کئی مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں فرد کا بس نہیں چل سکتا۔ اجتماعی طور پر ہماری کیا کوتاہیاں ہیں؟ اس سلسلے میں سب سے پہلے سینئر صحافی محترمہ یاسمین طلحہ کو دعوتِ اظہارِ خیال دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی کام کرتا ہے وہ محض اقتدار حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے، اس کے بعد شہر کو کوئی نہیں پوچھتا۔
اس موقع پر محترمہ ریحانہ افروز نے تائید کی اور کہا کہ بالکل، اب ہمیں شکووں سے آگے نکل کر حل کی نشاندہی کرنی ہوگی۔ یہاں پر محترمہ غزالہ عزیز نے یاددہانی کرائی کہ کراچی میں بہت سے حکمران ایسے بھی آئے جو روشنیوں کے اس شہر سے مخلص نہ تھے، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں کام کرنے ہی نہ دیا گیا، رکاوٹیں ڈالی گئیں جیسے جماعت اسلامی کے تحت میئر عبدالستار افغانی مرحوم اور سٹی ناظم جناب نعمت اللہ خان۔ جب پانی کی بات ہوتی ہے تو کراچی کو فراہم کیے جانے والے چار منصوبوںK-1, K-2, K-3, K-4 میں سے تین منصوبے جماعت اسلامی کے ادوار میں مکمل ہوئے اور چوتھا منصوبہ ان کی حکومت ختم ہونے کے باعث مکمل نہ ہوسکا، جو آج تک نامکمل ہے۔ اب اس منصوبے کے لیے اربوں روپے درکار ہیں، جب کہ بجٹ میں محض چند کروڑ روپے اس منصوبے کے لیے مختص کیے گئے ہیں جو کہ ملک سے سب سے زیادہ ریونیو بنانے والے شہر کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔
اس موقع پر محترمہ صفیہ ملک صاحبہ نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں سیاست سے بالاتر ہوکر اپنی انفرادی ذمے داریوں کا ادراک ہونا چاہیے، جب ہی ہم بہت سے مسائل مثلاً گندگی، پانی کی عدم دستیابی سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اس سلسلے میں ذاتی طور پر ریڈیو پر بھی آواز اٹھائی اور متعلقہ حکام سے بھی بات کی، لیکن کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ دوسرا بڑا مسئلہ تجاوزات کا ہے۔ میرے مشاہدے میں ہے کہ نہ صرف رہائشی مکانات، کاروبار، بلکہ مساجد بھی تجاوزات پر تعمیر کی گئیں جس سے شہر کی خوب صورتی ماند پڑی۔
محترمہ ریحانہ افروز نے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی لازمی عنصر ہے، یہ سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے توجہ مبذول کروائی کہ جب انگریز جاتے جاتے کہہ گیا تھا کہ وہ ایک ایسا صندوق بھی لے جارہا ہے جس کے بعد یہ قوم پنپ نہیں سکے گی، اور پھر انگریز نے کہا کہ اس صندوق میں دو چیزیں بند کیے جارہا ہوں ایک خوفِ خدا اور دوسری قانون کی بالادستی۔ سو واقعتاً آج ہمیں نظر آرہا ہے کہ یہ دونوں چیزیں ہمارے معاشرے میں ناپید ہوتی جارہی ہیں اور کراچی کی ابتر صورت حال کی وجہ قانون پر عمل درآمد کا نہ ہونا بھی ہے۔ یہاں پر غزالہ عزیز نے محترمہ رضیہ سلطانہ کو جو کہ اپنی تحریروں کے ذریعے قلم کا بھرپور حق ادا کررہی ہیں، تجاویز اور رائے دینے کے لیے دعوت دی۔ انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی رونقیں بحال کرنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں سیاست سے بالاتر ہوکر سوچنا پڑے گا۔ انہوں نے ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اپنے طور پر محلے سے کچرا اٹھوانے پر، صفائی کروانے پر متعلقہ اداروں کی جانب سے نوٹس آگیا کہ کس کے کہنے پر اٹھایا، اور پھر جرمانہ ادا کرنا پڑا۔
ریحانہ افروز صاحبہ نے اتفاق کرتے ہوئے سوال کیا کہ کچرا کیوں نہیں اٹھتا؟ آخر یہ کس کی ذمے داری ہے؟
اس موقع پر جیو ٹی وی سے وابستہ صحافی شیما صدیقی صاحبہ نے ڈسکشن میں حصہ لیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ دوسرے ممالک کی طرح ہمیں بھی کچرے کو استعمال میں لانا چاہیے، اسے Recycle کرنا چاہیے۔
معروف صحافی محترمہ حمیرا اطہر نے نہایت خوب صورتی سے واضح کیا کہ کراچی کی رعنائیاں واپس لانے کے لیے انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی انتظام رکھتا ہے، وہی ذمے دار ہوتا ہے، سو ذمے داری کی شروعات تو گھروں سے ہی ہوتی ہے۔ سب سے پہلے گھروں میں تربیت ہونی چاہیے۔
14 برس سے جیو ٹی وی سے منسلک لبنیٰ ریاض نے بھی اپنی گرانقدر تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر کوئی ایسا فورم بنایا جائے جہاں کراچی کے مسائل اور حل پر گفتگو ہوسکے۔ ہمیں اجتماعی طور پر مل کر کام کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ ہمارے بہت سے مسائل کی وجہ قدرت سے دوری ہے، ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں جس سے اس شہر کی خوب صورتی دوبارہ لوٹائی جاسکتی ہے۔
ریحانہ افروز نے شرکا کی توجہ کراچی کے ایک اور سنگین مسئلے کی جانب دلائی کہ پوری دنیا میں الیکٹرانک میں کوپر (تانبا) کے تار استعمال کیے جاتے ہیں جب کہ کراچی میں کے الیکٹرک نے کوپر کے تار ہٹاکر کے بی سی وائرنگ کا جال بچھا دیا ہے جس سے آئے روز جانی نقصان کے واقعات رونما ہورہے ہیں، دوسری جانب کراچی کا الیکٹرک سسٹم کمزور ہوچکا ہے، اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
غزالہ عزیز نے پانی کے بحران کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ شدت اختیار کرچکا ہے جس کے باعث پانی فراہم کرنے والے ٹینکرز مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ تجویز کے طور پر ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم انفرادی طور پر پانی کے استعمال میں غفلت نہ برتیں، پانی کو ضائع ہونے سے بچائیں، بلا ضرورت پانی کا نل نہ کھولیں تو اس مسئلے پر بہت حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔
اختتام پر ڈائریکٹر میڈیا سیل جماعت اسلامی خواتین محترمہ عالیہ منصور اور ناظمہ کراچی اسماء سفیر صاحبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صحافیوں کے کردار کو اہم قرار دیا اور کہا کہ صحافی اپنے قلم کے ذریعے کراچی کو درپیش مسائل کا حل دے سکتے ہیں۔ مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد شرکا نے شہر کو مثالی بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم کیا۔ خواتین صحافیوں نے جماعت اسلامی خواتین کو ’’عید ملن‘‘ کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد دی اور ان کی کاوشوں کو سراہا۔ غزالہ عزیز نے شرکا کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔ دعا کے بعد طعام کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔
آخر میں صحافی خواتین کے ساتھ جماعت اسلامی خواتین کی رہنمائوں کا یادگار کے طور پر گروپ فوٹو بھی لیا گیا۔ اس طرح یہ نشست خوب صورت یادوں کی ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

حصہ