پتے کی بات

85

مریم روشن
بڑی آپا کی آمد کے ساتھ ہی سب گھبرا کے اِدھر اُدھر غیر ضروری طور پہ مصروف ہوگئے۔ بڑی بھابھی نے ایک ہی جھٹکے میں الماری سے تہہ شدہ کپڑے گرائے اور ان کو ڈھیر کی صورت میں رکھ کہ دوبارہ تہہ کرنا شروع کردیا۔ ہاتھ اتنا ہلکے چلا رہی تھیں گویا کہ کمزور سیل والا برقی کھلونا ہو۔
منجھلی بھابھی نے سرف اور اسپنج اٹھایا اور جلدی جلدی دروازے رگڑنا شروع کردیے۔ چھوٹی بھابھی نے اِدھر اُدھر نظر ڈالی کہ فوری طور پہ کیا کریں، سامنے ہی تانیہ تولیے سے سر رگڑتی نظر آئی، اس کو پکڑا اور غسل خانے میں گھس گئیں، مَل مَل کہ نہلانے لگیں۔ تانیہ لاکھ رو رو کے فریاد کرتی رہی ’’اماں ابھی تو نہلایا ہے آپ نے۔ معاف کردیں بار بار کیوں مَل رہیں ہیں، میں کوئی میلا کپڑا ہوں!‘‘
لیکن چھوٹی بھابھی جانتی تھیں کہ بڑی آپا نے اگر فارغ دیکھ لیا تو اُن کے قیام کے دوران ایک طویل لیکچر سننا پڑے گا۔ اس سے تو آسان تھا وہ تانیہ کو دو کیا دس بار نہلا دیتیں۔
بڑی آپا کی آمد بھی اچانک ہوتی تھی، ورنہ تو بھابھیاں سارے ہفتے کے کام اٹھاکر رکھتیں اور ان کی سواری بادِ بہاری کے اترتے ہی شروع کردیتیں۔ مگر لاکھ پوچھنے پر بھی وہ نہ بتاتیں کہ کس دن اور کب آئیں گی۔ بس دروازے پہ جب زوردار طریقے سے بیل بجاتیں تو سب کو پتا چل جاتا، اور ہڑبڑا کے جس کو جو کام آتا، شروع کردیتا۔
بڑی آپا پہلے ساؤتھ افریقہ میں رہتی تھیں، چھ ماہ قبل ان کی پاکستان مستقل تشریف آوری نے تو ایک نئے ہی دور کا آغاز کیا تھا، جس کا نام تھا: کام، کام اور بس ہر دم ہر لمحے سب کو دکھاکے کام۔
اور جو کوئی اس بات کو نہ مانتا، وہ گھنٹوں پکڑ کر اُس کو قائل کرنے کی کوشش کرتیں، جس کو سننے سے آسان تھا کہ تہہ لگائے کپڑے دوبارہ فولڈ کرلیے جاتے، پالش شدہ دروازوں کو صاف کر کرکے رنگ اتار لیتے، نہلائے ہوئے بچوں کو سہ بار نہلا دیتے۔
آج بھی بڑی آپا نے آتے ہی طائرانہ نگاہ سب پر ڈالی۔ ساری بھابھیاں کسی نہ کسی کام میں لگی تھیں۔ اماں بی اطمینان سے بستر پہ دراز کوئی کتاب پڑھ رہی تھیں۔
’’اماں بی کو کون سمجھائے کہ کام کرنا کتنا ضروری ہے۔ کتنی فرصت سے کتاب پڑھ رہی ہیں۔‘‘ سیدھا باورچی خانے میں گئیں، سالن تیار تھا۔ دھلے برتن، چمکتا سنک، کہیں کوئی کمی نظر نہ آئی۔
’’سب ماسیوں کا کام ہے بھئی۔‘‘عقابی نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا، آخرکار چائے کی پیالیوں کے نیچے جمی پرانی چائے کے نشان نظر آگئے۔
’’یہ دیکھو اتنی توفیق نہیں کہ ذرا سا رگڑ کے کپ دھلوا لے کوئی۔‘‘ جھٹ اسپنج نکالا اور رگڑنا شروع کردیا۔ بھابھیاں بے چاریاں الماری کئی بار صحیح کرکے، دروازے چمکا کے، بچے نہلا کے نکلیں تو بڑی آپا ابھی تک وہی کپ رگڑ رہی تھیں۔ تینوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کیا کہ اب کیا کریں۔ خیر مرتیں کیا نہ کرتیں۔ اندر آئیں اور کھانا نکالنا شروع کیا۔
سب دستر خوان پہ بیٹھ گئے۔ آپا کا انتظار تھا لیکن وہ پیالیاں مانجھ رہی تھیں۔ ’’آ جائیں آپا، کھانا کھا لیں۔‘‘
’’ آرہی ہوں بھئی۔ ذرا یہ کپ تو چمکا دوں۔‘‘ہاتھ پونچھتی آئیں۔
’’آپا کہاں آتے ہی کاموں میں لگ گئیں!‘‘ چھوٹے بھائی نے جان بوجھ کے چھیڑا۔
’’کیا کروں عمیر، گندگی برداشت نہیں ہوتی۔ کام کرنے کی ایسی عادت ہے ہمیں باہر رہ کر، کیا بتائیں۔ یہاں جیسے عیش باہر والوں کو کہاں میسر…! ماسیاں آرہی ہیں، جارہی ہیں کوئی فکر ہی نہیں۔‘‘ بڑی آپا نے کینیڈا کے سرد موسم جیسی برفیلی سانس لے کر کہا۔
چھوٹی بھابھی نے کچا چبا جانے والی نظروں سے میاں کو دیکھا۔
’’اماں اس بار پندرہ دن کے لیے رہنے آئی ہوں۔ اویس کو کہہ کے آئی ہوں کہ اماں کے گھر رہوں گی، ذرا بھابھیوں کی مدد ہوجائے گی۔ بچوں میں لگی رہتی ہیں بیچاری، گھر نہیں سنبھال پاتیں۔ ڈسٹ بن گندے، طغروں پہ گرد۔ میں ذرا کام سکھا دوں تو آؤں گی۔‘‘
بہت خوش ہوئے، کہنے لگے ’’بھئی ضرور جاؤ۔ والدین کی خدمت کا بڑا اجر ہے۔‘‘
’’ہاں خوش کیوں نہ ہوں گے، اتنے دن آزادی منائیں گے ہمارے دولہا بھائی‘‘۔ بڑی بھابھی نے جل کے سوچا اور زور سے آلو کو دانتوں میں دبا لیا۔
بس اب تو شامت ہی آگئی۔ غسل خانے کے نل ہوں یا لان میں لگے گملے، ہر چیز کو مَل مَل کے دھویا جانے لگا۔ بڑی آپا نہ صرف صفائی کرتیں بلکہ ڈنکے کی چوٹ پہ کرتیں۔ بس نہ چلتا کہ اخبار میں خبر چھپوا دیں کہ ’’آج رحمت ہاؤس کی کنڈیاں جو کثرتِ استعمال سے چکنی اور میلی ہوگئی تھیں، عظمت آرا بیگم نے خوب رگڑ کر ایسی کردی ہیں کہ گمان ہوتا ہے نئی لگوائی ہیں۔‘‘
احد نے پھوپھو کو آئیڈیا دیا کہ آپ ’’صفائی سے قبل اور اس کے بعد‘‘ کے عنوان سے تصویر کھینچ کے واٹس ایپ خاندانی گروپ پہ ڈال دیا کریں۔ یہ تو خوب ہی خیال تھا۔ پنکھے چمکانے ہوں یا کرسیوں کے اندرونی حصے کو سرف سے صاف کرنا، سب کی تصویریں کھینچی گئیں ، خوب خوب کھینچی گئیں۔
بھابھیاں تو عاجز آگئیں۔ ’’ساؤتھ افریقہ والوں کا اللہ بھلا کرے، یہ کس کو بھیج دیا۔‘‘ چھوٹی بھابھی روتے ہوئے کہتیں۔
تین چار دن بعد بڑی آپا کو خیال آیا کہ صفائیوں میں ایسا لگی ہیں کہ کھانا پکانے پہ زور ہی نہ دیا، تو اعلان کیا کہ آج ہم کھیر پکائیں گے۔ ایسی لذیذ کھیر کیا کبھی کسی نے بنائی ہوگی۔ رات بھر دودھ گاڑھا ہوتا رہا۔ قلاقند ڈلی۔ گھر کا بچہ بچہ اس شاہکار کھیر کے انتظار میں تھا کہ کب یہ کھانے کو ملے گی۔
رات کے کھانے کے بعد خوب صورت مٹی کے پیالے میں سجی کھیر لائی گئی۔ سب نے جلدی جلدی کٹوریوں میں نکالی، لیکن جس کے منہ میں پہلا چمچ گیا آخ آخ کرتا بھاگا۔
’’کیا ہوگیا؟‘‘بڑی آپا نے حیرت سے دیکھا اور چمچ بھر کھایا، دل متلا گیا، کڑوی تھو۔ شکر کی جگہ کیا نمک ڈال دیا تھا انہوں نے؟ دماغ چکرا گیا۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے تو وہ آج کی عورتوں کی نااہلی اور سستی پہ بیان دے رہی تھیں کہ کیسے جھٹ پٹ کھیر بناتی ہیں۔ بھلا ان کو کیا پتا کہ کیسے جان جوکھوں میں ڈال کے رات رات بھر دودھ میں گھونٹا لگا کے، چاول کو سل پہ گھنٹوں باریک کرکے کھیر بنتی ہے۔ اور اب کیا کہیں کون اس گھنٹوں پکی کھیر کو کھائے گا!
کلّی کی، سونف کھا کے اماں کے کمرے میں آکے خاموشی سے لیٹ گئیں۔ آج تو ہمت ہی نہ تھی کہ کچن سمیٹتیں، رات گئے تک کئی کئی بار ریک چمکاتیں، چولہے صاف کرتیں، پوچے لگاتیں۔
’’کیا ہوا بیٹے؟‘‘ اماں بی نے ان کی تکیے میں سے سڑ سڑ کرتی آواز سن کے پوچھا۔
’’اس قدر محنت سے کھیر بنائی۔ دو دن لگ گئے۔ غلطی سے نمک گر گیا اورکھیر کھانے کے لائق نہ رہی۔‘‘ روئی روئی آواز آئی۔
اماں نے بڑی آپا کو غور سے دیکھا اور دھیمے لہجے میں بولیں’’وہ دن کیسا ہوگا جب جان کھپا کے کیے جانے والے کام ذرا ذرا سی ریاکاری اور دکھاوے کی وجہ سے قابلِ قبول نہ ہوں گے۔ تمہارے اِس رونے کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں اُس دن برباد ہوجانے والے اعمال کے رونے سے۔‘‘
’’اماں کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ بڑی آپا اُٹھ کے بیٹھ گئیں۔
’’بٹیا رانی! محنت سے کھیر پکائی ، لیکن ایک نمک نے اس محنت کو صفر کیا۔ ہمارے نیک اعمال میں بھی اگر لوگوں کی تعریف چاہنے کا نمک آجائے تو رب کریم کی بارگاہ میں قابلِ قبول نہ رہیں گے۔ دھتکارے پڑے ہوں گے، کھیر کے ڈونگے کی طرح۔‘‘ بی اماں نے نرمی سے محنتی بیٹی کو دیکھا۔
’’لوگوں کو سہولت دینے والی بن جائو، کام کرو تو جتائو نہیں، بتاؤ نہیں۔ نیت اگر قدردان رب کے لیے خالص کرلو تو پھر دنیا کے کسی شخص کی تعریفیں تمہیں خوش نہ کریں۔ کام، کام اور کام کے ساتھ کچھ وقت اپنے لیے رکھو، کچھ اچھا سنو، کچھ اچھا پڑھو،کچھ اچھا دیکھو، کسی اہلِ دل کے پاس بیٹھو، کچھ سیکھو، کچھ سکھلائو، بس اپنی نیت خالص کرلو۔‘‘ بڑی آپا خاموشی سے سن رہی تھیں۔
بات واضح تھی۔ قبول کرنا نہ کرنا اب ان کا کام تھا۔ دھیرے سے اٹھیں، وضو کرکے کسی مہربان کے آگے سجدہ ریز ہونے، ندامت کے آنسو بہانے کے لیے۔ بی اماں مسکرا دیں۔ جانتی تھیں کہ ماؤں کو بعض دفعہ تیار کھیر میں نمک ملانا پڑتا ہے تاکہ زندگی کھٹ مٹھی سی رہے، نمکیں کھیر کی طرح بدمزا نہ ہوجائے۔

حصہ