پاکستان قدرتی خوبصورتی کا عظیم الشان شاہکار

86

خالد معین
سفر کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک سفر اندرونِ ذات کا ہوتا ہے، جو کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ اپنے اندر سفر کرنا گویا اپنے ہونے کا ادراک کرنا ہے۔ اپنے آپ کو پہچاننا ہے۔ اس دنیا میں خدا اور کائنات کے بیچ اپنی ذات کے بارے میں جاننا ہے۔ یہ سفر آسان نہیں، اور شاید سب سے مشکل سفر یہی ہوتا ہے جس میں منزل بہت کم خوش نصیبوں کے حصے میں آتی ہے۔ اس سفر میں بھٹکنے والے تمام عمر اندر باہر بھٹکتے ہی رہتے ہیں اور منزل پر نہیں پہنچ پاتے۔ جب کہ اندرون ِ ذات سفر کی کامیابی کا مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندے پر خالص بندگی کے در کھول دیے ہیں اور وہ اپنے ہونے کی معنویت سمجھنے لگا ہے۔ دوسری جانب وہ سفر جو بیرون ِ ذات ہوتے ہیں، وہ بھی وسیلہ ٔ ظفر ثابت ہوتے ہیں، اور ایسے سفر سے بھی بند گان ِ خدا بہت کچھ سیکھتے ہیں اور اپنے تجربات کے دامن میں بیش بہا قیمتی موتی جمع کرلیتے ہیں، جو عملی زندگی میں اُن کے کام آتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پائوں میں چکر ہو تو سفر کے اسباب بنتے رہتے ہیں، اور مسافروں کے لیے چھوٹے بڑے سفر محض منصوبہ بندیوں سے نہیں، نصیب کے لکھے سے عملی شکل اختیار کرتے ہیں۔ یہاں قصہ ایک ایسے سفر کا درپیش ہے، جو نہ تنہا کیا گیا، اور نہ دوستوں کی رفاقت میں وقوع پذیر ہوا۔ یہ سفر اہل ِ خاندان کے ساتھ تھا، اور یہی اس سفر کا سب سے اہم پہلو بھی تھا، اور یہی نکتہ اس رنگا رنگ سفر کی بنیاد بھی بنا۔
ہمارے سمدھی امتیاز بھائی بڑے بھلے مانس اور متوازن مزاج کے حامل ہیں۔ ایک بڑا پن اُن کے رویوں اور عادتوں میں بھی ہے اور اُن کی گفتار اور روز وشب کے قرینے میں بھی ہے۔ بڑوں پر اُن کا دوستانہ رعب رہتا ہے، جب کہ خاندان کے سبھی چھوٹے بچے اُن سے بے حد مانوس ہیں، اور جب کسی سے نہ بہلیں تو اُنہی کے پاس جاکر بہلتے ہیں۔ اُن کی اہلیہ غزالہ باجی، ایک خوش مزاج اور زندہ دل خاتون ہیں۔ ایک نجی اسکول کی سینئر اور ہر دل عزیز ٹیچر بھی ہیں اور خاندان بھر کی مرکزیت بھی اُنہی کے پاس ہے۔ بڑے صاحب زادے اسامہ یعنی ہمارے داماد، ہماری بڑی بیٹی، اُن کا شیر خوار بیٹا عمر علی… یہ سب چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک مضبوط تکون میں بندھے رہے۔ البتہ جہاں جہاں ضرورت ہوئی، اسامہ میاں سب کے ساتھ ساتھ بھی رہے اور نمایاں بھی نظر آئے، اور اُن کی بیگم بھی کئی جگہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر عمر کی نگہداشت کے ساتھ باقی فیملی سے بھی جڑی رہیں، ہنس مکھ اور سمجھ دار تو وہ ہیں ہی۔ امتیاز بھائی کے چھوٹے صاحب زادے مصعب، جنہوں نے اس فیملی ٹور کے لیے ہمارے صاحب زادے شہریار کے ساتھ مل کر شمالی علاقہ جات کی بڑی عمدہ منصوبہ بندی کی، کیوں کہ یہ دونوں نوجوان ان علاقوں کے سفر کرچکے تھے اور ان علاقوں سے اچھی طرح واقف بھی تھے۔ بجٹ کے اجتماعی معاملات انفرادی سطح پر مصحف اور فہد میاں نے بڑے قرینے سے نبھائے، جو بڑے نازک تھے اور مشکل بھی۔ اس قافلے میں امتیاز بھائی کی بڑی صاحب زادی، اُن کے شوہر فہد میاں، بچے اشِعل اور اَشعل بھی ساتھ تھے۔ اشِعل ایک ننھی پری ہے، بڑی ذہین اور حاضر جواب بھی، سارے سفر کے دوران اس ننھی پری کی شرارتیں دل لبھاتی رہیں، جب کہ اَشعل اپنی خاموش ادائوں سے سب کو اپنی جانب متوجہ رکھنے میں کامیاب رہا۔ منجھلی صاحب زادی، اُن کے شوہر ثاقب میاں اور ننھی عنایا بھی مرکز ِ نظر رہے۔ چھوٹی صاحب زادی اپنی روایتی زندہ دلی، برجستگی اور لطیف جملوں کے ساتھ اپنی موجودی کا احساس دلاتی رہیں۔ امتیاز بھائی کی تینوں صاحب زادیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ، خوش اخلاق اور ملن سار ہیں۔ اسی قافلے میں شہریار کے علاوہ میری بیگم اور چھوٹی صاحب زادی بینش بھی ساتھ رہیں۔ بیگم نے حسب ِ طبیعت بڑی خاموشی سے سارا سفر انجوائے کیا، یہی اُن کا مزاج بھی ہے۔ وہ اپنے گہرے مشاہدے، باریک بیں تجزیے اور طبیعت کی نفاست کے ساتھ ان لمحات کو اپنے اندر اتارتی رہیں۔ کہیں کہیں سردی نے اُنہیں پریشان ضرور کیا، مگر مجموعی طور پر یہ خواب ناک سفر اُن کی ہمرہی میں ایک خوب صورت تجربہ ثابت ہوا۔ بینش کے اپنے معیارات ہیں، اور اُس کا اپنا ایک مخصوص موڈ بھی ہے، تاہم اس سفر کے دوران اُس نے حالات کے تحت نہ صرف خود کو تبدیل کیا، بلکہ اپنے موڈ کو خوش گوار بھی رکھا۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ اس دس بارہ دن کے ٹور میں کتنی نزاکتیں ہمارے ساتھ تھیں۔ ایک جانب خواتین تھیں، جن میں غزالہ باجی کی ہمت اور عزم کو سلام ہے، کیوں کہ اپنی ٹانگوں کی تکلیف کے باوجود اُنہوں نے پورے ٹور کے دوران وہیل چئیر پر کم اور اپنے بلند ارادوں کی ہمرہی میں پیدل سفر زیادہ کیا، جو عام افراد کے لیے بھی آسان نہ تھا، کیوں کہ اس سفر میں سال بھر کے موسم جن میں گرمی کے علاوہ بارش، سخت سردی، برف باری اور پہاڑوں کے گرد مسلسل کئی کئی گھنٹوں کا پُرپیچ سفر بھی شامل رہا۔
پھر اس سفر میں چار کم سن بچے بھی اپنی معصوم شرارتوں کے ساتھ عازم ِ سفر تھے۔ اسامہ ایک بڑی ٹیکسٹائل کمپنی سے وابستہ ہیں، سنجیدہ تو ہیں، لیکن اپنے لوگوں میں ہنسی مذاق اور معصومانہ طنز بھی خوب کرتے ہیں، اُنہوں نے پورے ٹور کے دوران سب کا خیال رکھا، خاص طور پر اپنے ننھے صاحب زادے عمر کا، جس کے بارے میں عمومی خیال تھا کہ وہ اس سفر میں بہت تنگ کرے گا، مگر حیران کن طور پر عمر نے مجموعی طور پر خود بھی انجوائے کیا اور اپنے اچھے موڈ کے سبب سب کو انجوائے کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ فہد میاں یوں تو اے اور او لیول کے بچوں کو پڑھاتے ہیں، مگر درحقیقت ابھی وہ خود نوجوان طالب ِ علم لگتے ہیں۔ فہد میاں نے جگہ جگہ اپنی نفیس شخصیت اور سمجھ داری سے معاملات کو کنٹرول میں رکھا۔ اُن کے والد علی بھائی کا اُن سے عشق بھی بڑا عجیب ہے، پورے ٹور میں علی بھائی کراچی سے بار بار فون کرتے رہے… بیٹے، بہو، پوتے پوتی اور دیگر افراد کی خیریت معلوم کرتے رہے، پھر اُن سے صبر نہ ہوا، اور ہماری واپسی کے آخری ایک دو دن میں وہ خود پنڈی پہنچ گئے، ویسے تو ان کا ارادہ اپنے بچوں کو لاہور لے جانے کا تھا مگر بعد میں وہ ہمارے ساتھ ہی کراچی واپس آگئے۔ اسے کہتے ہیں اولاد کی سچی محبت۔ ثاقب میاں کی موجودی بھی ہم سب کے لیے بڑی تقویت کا باعث رہی،کیوں کہ وہ پاک آرمی سے منسلک ہیں، اس لیے جہاں جہاں اُن کی ضرورت پڑی، وہ آگے بڑھ کر بعض نزاکتوں کو حل کراتے رہے اور یوں اپنی افادیت کا احساس بھی کراتے رہے۔ مصعب این ای ڈی کے سال ِ آخر کے طالب ِ علم ہیں، پاکستان دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں، اس سے قبل بھی کچھ ٹور کرچکے ہیں، نئے دور کے ذہین اور باصلاحیت نوجوان ہیں، انہوں نے اپنے ہونے سے پوری فیملی کو فائدہ پہنچایا اور بڑی سنجیدگی سے لیپ ٹاپ پر روز کے روز اخراجات کا حساب کتاب بھی رکھا اور بجٹ کو بھی اپنی ذہانت سے قابو میں رکھا۔ شہریار جو اقرا یونی ورسٹی سے میڈیا سائنس کررہے ہیں اور بڑی شان دار پروڈکشن کرنے لگے ہیں، اُنہوں نے بھی مصحف کے ساتھ مل کر ٹور کی اچھی منصوبہ بندی کی اور بعض اہم فیصلوں میں بھی شامل رہے، اس طرح اُنہوں نے بھی اپنے ہونے کا حق اچھی طرح ادا کیا۔ درحقیقت فہد، مصعب، اسامہ، ثاقب اور شہریار کے ہونے سے مجھے اور امتیاز بھائی کو خاصی ڈھارس رہی، اور اکثر بھاگ دوڑ کے کام انہی نوجوانوں نے بڑی ہمت، صبر اور خوش نیتی سے انجام دیے۔ اب رہی نوجوانوں کی آپس کی نوک جھونک اور شرارتیں… تو یہ عین زندگی کی علامت ہیں، اور کہیں کہیں کسی فیصلے کے دوران اچھی نیت کے ساتھ ہونے والا اختلاف ِ رائے بھی ایک خاندان کے مختلف اذہان کا حسن بن جاتا ہے۔ یہ، اور وہ سب جو اس ٹور پر مشترکہ طور پر گزارا، یقینا ایک طویل اور جاگتی آنکھوں کا خواب تھا، جو بہت جلد گزر بھی گیا۔ تاہم خدا کے کرم اور تمام اہل ِ خاندان کی توجہ اور آپس کی خیال داری کے سبب سب اچھا رہا، اور مشکل سے مشکل مقام بھی اسی جذبہ ٔ یگانگت کے سبب بہ خیر و خوبی گزر گیا، اور ہم سب نے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ تفریحی مقامات بھی دیکھے،آپس کی گپ شپ بھی رہی،ایک بھرپور اجتماعی رنگ بھی رہا… اور یوں یہ سفر یاد گار بھی رہا اور حسبِ منشا بھی رہا۔
کراچی سے پنڈی تک کا سفر بابا رحمان ٹرین میں کیا گیا۔ پاکستان میں ٹرین کا سفر عام طور پر مسافروں کے اعصاب کا اچھا خاصا امتحان ثابت ہوتا ہے۔گرمی کی شدت اور پیسنجرز کے اوور فلو ہونے کے باعث عمومی زحمتیں تو سبھی کو جھیلنی پڑتی ہیں، شکر کا مقام یوں رہا کہ ٹرین چوبیس گھنٹے میں پنڈی پہنچ گئی۔ پنڈی میں امتیاز بھائی کے قدیم رفقا اور اسلامی کتب کے حوالے سے ایک بڑے فعال ادارے ’تحریک ِ محنت کے مرکز‘ واہ کینٹ، جی ٹی روڈ میں ابتدائی قیام رہا۔ اس دوران تحریک کے صدر خالد حسین بخاری اور جنرل سیکریٹری خواجہ محمد اعظم صاحب ہمارے استقبال کے لیے موجود تھے، دونوں صاحبان نے بڑی خوش دلی سے پورے قافلے کی خیال داری کی۔ نہانے دھونے اور بھرپور ناشتے کے بعد ’تحریک ِ محنت مرکز‘ کا دورہ بھی کرایا گیا، جو ایک چھوٹی جگہ سے ہوتے ہوتے اب چھ کنال کے وسیع رقبے تک پھیل چکا ہے، اس مرکز میں ایک مسجد ہے، جہاں پنج وقتہ نماز کے علاوہ چھوٹے بچوں کے لیے قرآن ِ مجید کے درس کا انتظام بھی ہے۔ ایک چھوٹا سا مسافر خانہ ہے، جہاں تحریک سے وابستہ افراد کے قیام کا بندوبست موجود ہے۔ امتیاز بھائی کراچی میں اس تحریک سے تقریباً تیس برس وابستہ رہے اور پاکستان اسٹیل ملز کے قومی ادارے میں، جہاں سے وہ گزشتہ دنوں ریٹائر ہوئے ہیں، محنت کش، اور قومی ادارے کے افراد میں کتاب کی محبت اور کتاب سے عملی تعلق کی استواری کا شان دار کارنامہ تین دہائیوں تک سرانجام دیا اور وہ بھی بے لوث اور بے غرضی کے ساتھ۔ اسی قدیم تعلق کے سبب خالد بخاری اور دیگر احباب نے ہمارے قافلے کا گرم جوشی سے خیر مقدم بھی کیا ۔’ تحریک ِ محنت مرکز ‘ کے منتظمین سے بھی مل کر خوشی ہوئی اور اُن کی اس ادارے سے وابستگی سے بھی دلی مسرت ہوئی۔مرکز میں قائم ایک نئے قرآن اسکول کی عمارت بھی ہمیں دکھائی گئی،جہاں نئی نسل اور مستقبل کے معماروں کو قرآن و سنت کے علاوہ دنیاوی تعلیم و تربیت کمپیوٹر کی مدد سے دی جارہی ہے۔یہ ادارہ چالیس سال سے اپنی منفرد خدمات انجام دے رہا ہے اور اس کی شاخیں پورے پاکستان میںپھیلی ہوئی ہیں۔
(جاری ہے)

حصہ