مرد مضبوط سائبان اور محافظ

60

اریشہ خان
کسی بھی معاشرے میں اچھے اور برے دونوں پہلو ہوتے ہیں۔ مرد و زن بھی ایسے ہی 2 اہم ترین پہلو ہیں۔ اچھا اور غیر اچھا دونوں میں موجود ہے۔ صنف نازک کو اچھا اور مخالف صنف کو برا کہا جائے گا تو یہ حقیقت کے برعکس ہوگا۔ اسی طرح سے صنف نازک کو برا اور مرد کو اچھا کہا جائے گا تو یہ بھی غلط ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں دونوں طرح کا رویہ پایہ جاتا ہے لیکن میڈیا پر اس رویے کا انداز تھوڑا مختلف بھی ہے۔ میڈیا پر مرد کو عورت کی نسبت کچھ سخت جملوں اور منفی صفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کئی بار محسوس کیا گیا کہ ہمارا میڈیا مرد کے سخت روپ کو ہی دکھاتا۔ مرد میں خامیاں ہی خامیاں نمایاں کی جاتی ہیں۔ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں جہاں معاشرے میں مرد برے ہیں وہاں کچھ عورتیں بھی ہیں۔ جہاں عورتیں دکھ سہتی ہیں ، وہاں ہمارے معاشرے میں مرد کو بھی بہت سے دکھ جھیلنے پڑتے ہیں اور مجھے مشرقی عورتوں کی نسبت مشرقی مرد کچھ اس لیے بھی زیادہ مظلوم لگتا ہے کہ اس بیچارے کو ہم رونے کا حق بھی نہیں دیتے۔ وہ جتنا مرضی ٹوٹ جائے اسے مضبوط دکھنا ہوتا شاید یہی وجہ ہے کہ عورتوں کی نسبت مردوں کو زیادہ ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔ وہ مرد ہی ہوتا ہے جو اپنے سے وابستہ لوگوں کے لیے صبح سے شام تک زمانے کی خاک چھانتا ہے۔ میں نے ایک مرد کو اپنے کنبے کے لیے زمانے کی جھڑکیں کھاتے دیکھا۔۔۔ ایک مرد کو گھر چلانے کے لیے دن رات ہلکان ہوتے دیکھا ہے۔
مرد باپ کی صورت میں دنیا کا سب سے بڑا سائبان ہے۔۔۔ جو زمانے کی گرم سرد ہوا خود برداشت کر لیتا مگر اپنے سائے میں رہنے والوں کو اس کا احساس تک نہیں ہونے دیتا ۔ جانے کیوں نام نہاد حقوق نسواں کی تنظیموں کو مرد کا یہ روپ نظر نہیں آتا۔ مرد بھائی کی صورت میں تحفظ کی ایسی دیوار جسے کوئی چھو ناسکے۔ لیکن منہ سے اظہار نہیں کرتے تو شاید یہ بھی زمانے کو نظر نہیں آتے۔ یہی مرد جب بیٹا ہو تو ماں باپ کے لیے سہارا اگر شوہر ہو تو ڈھال۔ مشرقی مرد کو اگر اس لئے دقیانوسی کہا جاتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی عورت پہ کوئی بری نظر نہ پڑے۔۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی عورت زمانے کی ہر چالاکی سے بچے ، زمانے کی گرم ہواؤں سے اس کا پالا نہ پڑے ۔ یقین جانئے وہ دقیانوسی مرد دنیا کا سب سے بہترین مرد ہے۔ یقین نہیں آتا تو مغربی معاشرے کی کسی بھی عورت سے پوچھ لیں۔
یہ لبرل ازم کے چکر میں مشرقی عورت خود ہی اپنا نقصان کر رہی ہے۔ جان بوجھ کے مرد کی برابری کے چکر میں خود کو ہلکان کر رہی ہے۔ جان بوجھ کے تحفظ کی چھت سے نکل کر جسے آزادی سمجھ کے گلے لگا رہی ہے وہ آزادی نہیں غلامی ہے۔ عورت کو گھر کی ذمے داری دی گئی ہے مرد کو باہر کی کیونکہ مرد عورت کی نسبت زیادہ طاقت ور ہوتا ہے۔ مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔ عورت مرد کے برابر سوچ بھی نہیں سکتی خاص طور پہ مشرقی مرد کے مقابلے میں۔کیونکہ اس صورت میں مجھے بھی مردوں کے ساتھ بسوں میں لٹک کر سفر کرنا پڑسکتا۔ میں اتنی مضبوط نہیں ہوں کہ اینٹیں، سیمنٹ اٹھا کر 10 گھنٹے مزدوری کروں کبھی بجلی کے کھمبوں پہ سخت گرمی میں لٹک کہ ان کی مرمت کروں۔ میں اتنی مضبوط ضرور ہوں کہ مشکل وقت میں اپنے کنبے کو پال سکتی ہوں لیکن جب میرے پاس کما کر کھلانے والا ہوگا تو پھر گھر سے نکلنا سراسر میری بے وقوفی ہوگی۔ جب خدا نے مجھے سائبان دیا ہے تو میں کیوں زمانے کی خاک چھانوں۔ اس برابری کی لڑائی میں اگر عورت سمجھے تو نقصان صرف اسی کا اپنا ہے۔
جو لوگ کہتے ہیں مرد سخت دل ہوتے ہیں میرے خیال سے بالکل غلط کہتے ہیں۔ سخت ہم انہیں بناتے ہیں۔ اسے سخت بنانے میں 80% ہاتھ ایک عورت کا ہی ہوتا۔ کیوں کہ ایک بچہ جب پیدا ہوتا تو اسے پتا نہیں ہوتا میں مرد ہوں ، میں سخت ہوں ، میں کچھ بھی کر لوں مجھے کوئی پوچھے گا نہیں بلکہ یہ چیزیں ہم ہی اس میں ڈالتے ہیں۔ تربیت کی بات ہو تو بچہ جب چھوٹا ہوتا ہے تو زیادہ ماں سے ہی سیکھتا ہے۔ باپ تو سارا دن باہر ہوتا۔ اگر ایک ماں سکھائے کہ بیٹا عورت کوئی بھی ہو عزت کے قابل ہوتی ہے۔ ہماری مائیں باہر جاتی بچی کو تو کہتی ہیں دوپٹہ سر پہ رکھنا ہماری عزت کی لاج رکھنا مگر یہ ہی بات اگر بچہ کو کہیں کہ بیٹا باہر جا رہے ہو تو نظریں نیچی رکھنا۔ باہر کی عورت کی بھی اتنی عزت کرو تو بہت سے مسائل حل کو جاتے ہیں ۔

حصہ