شریک مطالعہ: مختار مسعود صاحبِ اسلوب نثر نگار

156

نعیم الرحمن
مختار مسعود پاکستان کے ایک بیوروکریٹ کی حیثیت سے اپنی الگ شناخت رکھتے تھے۔ وہ دیگر افسروں کی مانند بکاؤ مال نہ تھے۔ جو فیصلہ کیا، جوکام کیا اپنی مرضی اور اپنی شرائط پر کیا۔ وہ ملک کے بڑے عہدوں پر فائز رہے اور جہاں بھی گئے اپنے نقش چھوڑ آئے۔ سی ایس پی کے رکن کی حیثیت سے انگلینڈ سے پبلک فنانس اور آسٹریلیا سے ترقیاتی انتظامیہ کی تربیت حاصل کی۔ انڈر سیکریٹری اور فنانس ایڈوائزر رہے۔ ریونیو بورڈ میں پہنچے تو ایڈمنسٹریٹو اسٹاف کالج کے نصاب کے کوائف مرتب کیے۔ ملتان، کراچی اور بہاول پور میں ڈپٹی کمشنر اور لاہور کے کمشنر رہے۔ لاہور میں بیت القرآن قائم کرکے سرمایۂ آخرت بنایا۔ بطورکمشنر لاہور میں مینارِ پاکستان کی تعمیر ان کا اہم کارنامہ ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر جب مینارِ پاکستان کی تعمیر کا احوال انہوں نے ’’آوازِ دوست ‘‘ کے نام سے تحریر کیا تو اس کتاب نے شائع ہوتے ہی کلاسک کا مقام حاصل کرلیا۔ کتاب کے دونوں مضامین ’’مینارِ پاکستان‘‘ اور ’’قحط الرجال‘‘ نے باذوق قارئین کے دل میں گھر کرلیا۔ مختار مسعود اپنی پہلی ہی تحریر سے صاحبِ اسلوب نثرنگار قرار پائے۔ انہوں نے اپنے منفرد اور دل فریب اسلوب سے بے شمار دلوں کو تسخیرکیا۔ آواز ِدوست 1973ء میں شائع ہوئی اور اب تک اس کے 37 ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ آٹھ سال انتظار کے بعد مختارمسعود کی دوسری کتاب ’’سفر نصیب‘‘ قاری کے ذوقِ مطالعہ کے لیے منظرعام پر آئی، اور آتے ہی چھا گئی۔ کتاب کے دو حصے ہیں، پہلے حصے میں دو مضامین ’’برف کدہ ‘‘ اور’’پس انداز‘‘، جبکہ دوسرے حصے میں بھی ’’طرفہ تماشا‘‘ اور’’زادِراہ ‘‘ کے نام سے دومضامین ہیں۔ اس کتاب کے بھی اب تک سولہ ایڈیشن آچکے ہیں۔ آر سی ڈی کے ڈائریکٹرکی حیثیت سے ایران میں مختارمسعود کے قیام کے دوران ہی شہنشاہ ایران کے خلاف امام خمینی کے انقلاب نے جنم لیا۔ مختارمسعود نے اپنی آنکھوں سے انقلاب برپا ہوتے ہوئے دیکھا، اور’’لوحِ ایام‘‘ میں اس انقلاب کا احوال قارئین کی خدمت میں پیشِ کیا۔ لوح ِایام کے تین مضامین ’’شاہ نامہ‘‘، ’’آمدنامہ‘‘ اور’’منظرنامہ‘‘ میں شہنشاہیت کی تاریخ اور ایران کے حالات اور انقلاب کی تفصیلات کچھ اس طرح پیش کی ہیں کہ قاری کی نظرمیں پورا منظرنامہ آجاتا ہے۔ مختارمسعود نے نصف صدی سے زائد مدت میں تین کتابیں تحریر کیں۔ لیکن یہ چندکتابیں بھی بعض مصنفین کی درجنوں کتب پر بھاری ہیں۔ ہرکتاب کے بیسیوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی ہرکتاب کلاسک ہے۔
مختارمسعودکے والد شیخ عطااللہ علی گڑھ کالج کے استاد تھے۔ انہوں نے بھی علامہ اقبال کے انتقال کے بعد ان کے خطوط ’’اقبال نامہ‘‘ کے نام سے مرتب کیے تھے۔ اس طرح مختارمسعود پیدائشی علیگ تھے۔ انہوں نے اپنی تمام تر تعلیم علی گڑھ یونیورسٹی میں ہی حاصل کی۔ اس لیے علی گڑھ یونیورسٹی اور اُس کے بانی سرسید احمد خان کے بارے میں تحریر کا حق اُن سے بہترکوئی ادا نہیں کرسکتا تھا۔ اور مختارمسعود نے اپنے انتقال سے قبل یہ قرض بخوبی ادا کردیا، اور اردو ادب کو’’حرفِ شوق‘‘ کا منفرد اور بے مثال آخری تحفہ دے گئے۔ حرفِ شوق کے مختصر دیباچہ میں مختارمسعود نے لکھاہے کہ ’’ایک دن والدِ محترم نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا غلام رسول مہرسے فرمائش کی کہ اس کے سر پر ہاتھ پھیردیں اور دعا کریں کہ اسے بھی تصنیف و تحقیق کا شوق اور ہنر عطا ہو۔ اس واقعے کے کوئی دس بارہ برس کے بعد ’’آوازِدوست‘‘ شائع ہوئی۔ اتنا عرصہ کون کسی کی تحریر کا انتظارکرتا ہے! وہ دونوں بزرگ اُس وقت تک دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔ وقارعظیم اور ملاواحدی نے ’’سفرنصیب‘‘ کا انتظار نہیں کیا۔ محمدطفیل، ابوالفضل صدیقی، جمیلہ ہاشمی اور ابنِ حسن برنی نے ’’ لوحِ ایام‘‘ کا انتظار نہیں کیا۔ محترم رشید احمدصدیقی نے آوازِدوست پڑھ کرمجھے دعا دی۔ اس کے بعد میری تحریر ان کی مزید دعاؤں سے محروم ہوگئی۔‘‘ لیکن مختارمسعود خود اپنا آخری تحریری شاہکار ’’حرفِ شوق‘‘ چھپا ہوا نہ دیکھ سکے۔ لیکن اردوادب کے قارئین کو ایسا الوداعی تحفہ دے گئے جس کی روشنی طویل مدت تک قارئین کے ذہنوں کو منورکرتی رہے گی۔
حرفِ شوق کے چار ابواب ہیں، پہلا باب ’’ماضی کے ساتھ ایک نشست‘‘، دوسرا باب ’’سرسید احمدخان کون تھے؟‘‘، تیسرا باب ’’ باعثِ تحریر‘‘ اور چوتھا اورآخری باب ’’مرحوم کے نام ایک خط‘‘ کے عنوان سے ہے۔ پہلے دو ابواب تو علی گڑھ کالج اور یونیورسٹی کے قیام اور تدریسی عمل اوراس کی تاریخ، اور علی گڑھ تحریک کے بانی سرسید احمد خان اوران کی تحریک کے دوررس اثرات کے بارے میں ہیں۔ تیسرا باب مصنف کی آپ بیتی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جبکہ آخری باب میں انہوں نے اپنی تصنیف آواز دوست کے جواب میں مرحوم علیگ مصنف نسیم انصاری کی تحریر’’جوابِ دوست‘‘ کاجواب دیاہے۔یہ تمام تحریریں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔
مطالعے کا بڑے سے بڑا شوقین کبھی کسی کتاب کو پورا نہیں پڑھ سکتا۔ بلکہ صفحات کے صفحات چھوڑ کر ہی پڑھے جاتے ہیں۔ بہت کم کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو صفحۂ اوّل سے آخر تک خود کو پڑھوا لیتی ہیں۔ مختارمسعود کی تحریر کاکمال یہ ہے کہ قاری ان کی کتاب کی کوئی ایک سطر بھی چھوڑ نہیں سکتا، بلکہ کئی پیراگراف لطف لینے اور سوچ کے در وا کرنے کی خاطر باربار پڑھنے پڑتے ہیں۔ ان کی کسی کتاب کے اقتباس دینا بھی ایک کڑا امتحان ہوتا ہے۔ کس سطرکو منتخب کیا جائے اور کس کو چھوڑ دیا جائے، یہ فیصلہ ہرگز آسان نہیں۔ آوازِ دوست میں جہاں انہوں نے تحریکِ پاکستان کا منظر اور پس منظر پیش کیا، وہیں دنیا بھرکے میناروں کی تاریخ بیان کردی۔
حرفِ شوق بھی ان کے اسی منفرداسلوب کی حامل ہے، جس میں جہاں جس بات کا ذکرآیا، اسے اس طرح بیان کیاکہ بات دل میں اترگئی۔ قاری ان کی نثری شاعری کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے اسٹریچی ہال کا بادشاہوں کی تعمیرات سے کیا خوب موازنہ کیا ہے کہ ایک ایک لفظ امر ہوگیا:
’’مینار، فصیل، خندقیں، نہریں، ساختگی آبشاریں، دیوان ہائے خاص وعام، بادشاہوں کے محلات اورکسی حد تک ان کے مقبروں کو ہی زیب دیتے ہیں۔ علم و حکمت کے مسکن کو باوقار سادگی اور مسکنت کی خودداری درکار ہوتی ہے۔ اسٹریچی ہال کی مثال لے لیں۔ اس کی کرسی دانستہ بہت نیچی رکھی گئی ہے۔ اتنی پست گویا سات ہزار مربع فٹ کی وسیع وعریض ہی نہیں بلکہ بلندوبالا عمارت زمین میں استواری، سلامتی اور انکساری کے استعارے کی طرح پیوست ہو۔ ایسے فیصلے بہت سوچ سمجھ کرکیے جاتے ہیں۔ فیصلہ کرنے والے کا کارشناس، صاحبِ ذوق اور صاحبِ دل ہونا ضروری ہے۔ علی گڑھ کے بانی میں یہ تینوں خوبیاں موجود تھیں۔
بادشاہوں کی بنائی ہوئی عمارتوں میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ شان وشوکت، جمال وجلال، قوت وہیبت، رعب وداب۔ قوم کی بنائی ہوئی عمارتوں میں ان کے مقابلے میں صرف آدھی خوبیاں ہوتی ہیں۔ شان ہوتی ہے شکوہ نہیں ہوتا۔ جمال ہوتا ہے، جلال نہیں ہوتا۔ قوت ہوتی ہے، ہیبت نہیں ہوتی۔ رعب ہوتا ہے، دبدبہ نہیں ہوتا۔‘‘
شہنشاہوں کے اختیار اور سرسید احمد خان جیسے جینئس کے کیے ہوئے کاموں کا ذکرکچھ ایسے منفرد انداز میں کیا ہے کہ بات ذہن و دل میں گھر کرلیتی ہے۔ آج بھی آثارِ قدیمہ میں ایسی مثالوں کی کمی نہیں کہ شہنشاہ کے بنائے شہروں کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا، لیکن بغیر وسائل کے دل سے کیا ہوا کام تاابد روشنی کے مینارکی مانند قائم ودائم رہتا ہے۔ یہ پیرا دیکھیے اورسردھنیے:
’’یہاں عطا اور انعام کی مثالوں کی کمی ہے، نہ عبرت اور انتباہ کی نشانیوں کی۔ یہ قدم قدم پر موجود، وہ جابجا منتشر۔ یہاں آباد علی گڑھ بھی اور ویران فتح پور سیکری بھی۔ رونق اور ویرانی کی علامتوں کا حاصل یہ ہے کہ عظیم سلطنت، وسیع مملکت، طویل اقتدار اور بھرے ہوئے خزانے والے مغل اعظم کی حیثیت سے آپ بے شک فتح پور سیکری کی خوب صورت شاہی بستی بناسکتے ہیں، مگراسے بسانا آپ کی شہنشاہیت کے بس میں نہیں ہوتا۔ شہرکو آبادکرنے کے لیے علم ِ آب شناسی اور علم ِابروبادکی ضرورت تھی جو جلال الدین اکبرکے یہاں مفقود تھا۔ پس ثابت ہوا کہ اگرکوئی بڑا کام کرنے کی خواہش رکھتے ہو تو پہلے علومِ نافع اور فنونِ جدیدہ پر دسترس حاصل کرو۔ اگرتمہارے پاس کوئی علی گڑھ نہیں، تو پہلے علی گڑھ بناؤ۔ دوسرے یا تیسرے درجے کانہیں، اول درجے کا علی گڑھ بناؤ، تاکہ تمہیں چین جانے کی ضرورت نہ رہے۔ جب تمہیں علم، عزم، قوت اور اختیار حاصل ہو تو پھر شوق سے نئے ملک بناؤ، نئے شہر بساؤ اور ان میں نئے افکار سجاؤ۔‘‘
قراردادِ پاکستان 23 مارچ 1940ء کومنظور ہوئی۔ابتدا میں اسے کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ قائداعظم کے عزم نے صرف سات سال میں پاکستان کو قرارداد سے حقیقت کے روپ میںدنیا کے سامنے پیش کردیا۔ بھارت کے معروف شودر لیڈر امبیدکر کی چشمِ بینا اور اپنوں کی بے رخی کا ذکر مختار مسعود کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ امبیدکرکی بصیرت اور پاکستان کے نام نہاد بزرجمہروں کا رویہ ہر قاری پر روشن ہوجاتا ہے:
’’مارچ انیس سو چالیس میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی۔ مخالفین اس کا مذاق اڑانے میں مصروف ہوگئے۔ امبیدکر نے اس کا سنجیدگی سے تجزیہ کیا اور سال ختم ہونے سے پہلے پاکستان کے بارے میں اُن کی کتاب شائع ہوگئی۔ اس کا دوسرا ایڈیشن نظرثانی کے بعد انیس سو پینتالیس میں شائع ہوا۔ وہ آج بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ اس کتاب کے آغاز میں انہوں نے لکھا ہے’’ میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کا مطالبہ محض سیاسی ناراحتی کا نتیجہ ہے جو وقت کے بہاؤکے ساتھ جاتا رہے گا‘‘۔ امبیدکر کی تیزنگاہی کا یہ عالم تھا کہ اسے انیس سوچالیس میں انیس سو سینتالیس کی جھلک صاف نظرآرہی تھی۔ ادھر بے خبری کا یہ عالم ہے کہ قیامِ پاکستان کو ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے مگراس کے باوجود اب بھی کوئی نہ کوئی بزرجمہر، خواہ وہ اپنا ہو یا غیر، قراردادِ پاکستان کو محض بساطِ سودابازی قرار دیتا ہے۔‘‘
کالج اور یونیورسٹیوں کی تقریبات میں نعرے بازی، ہلڑ اور شور و غل ایک عام سی بات ہے۔ لیکن مختلف نعروں کا فرق مختار مسعود نے کس دلکش انداز میں بیان کیا ہے: ’’مجھے پہلی بار پتا چلا کہ نعرے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک محض ہانک پکار اور شوروغل کا نام ہے، ریوڑکو راہ پر لگانے کے کام آتا ہے۔ دوسرا ایک عہد اور عزم ہوتا ہے جو نوجوانوں سے تاریخ سازی کا کام لیتا ہے۔ آوازکتنی ہی بلندکیوں نہ ہو، اس کی زندگی لمحہ بھر ہوتی ہے۔ عہد زندگی بھرکے لیے ہوتا ہے۔‘‘
مختارمسعود سابقہ مشرقی پاکستان میں بھی تعینات رہے۔ اس دوران انہوں نے وہاں کی صورت حال سے جوکچھ اخذکیا، وہ ان کے صاحبِ بصیرت ہونے کا ثبوت ہے۔ جن باتوں کا اندازہ ایک سی ایس پی افسر نے برسوں پہلے کرلیا تھا، ہمارے مقتدرادارے ان کا ادراک آخر تک نہ کرسکے۔ ڈھاکا یونیورسٹی کے مرکزی ہال کی تعمیر کے لیے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا جائزہ لیا گیا۔ ڈھاکا یونیورسٹی میں مشاعرے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مشاعرہ ختم ہونے سے پہلے ہی میری بہت سی غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔ ان کی جگہ اندیشوں نے لے لی۔ آج ڈھاکا میں جس ہال میں مشاعرہ ہورہا ہے، کل یہاں اردو بولنا ممکن نہ ہوگا۔ ڈھاکا یونیورسٹی کے مرکزی ہال کی تعمیرکے سلسلے میں مسلم یونیورسٹی کی عمارتوں کا مطالعاتی دورہ کرنے والے کو چاہیے تھا کہ وہ علی گڑھ سے نقشے کی جگہ نقشۂ کار، طرزِ تعمیر کی جگہ طرزِفکروخیال، اور عمارت کی جگہ نصب العین اور منزل مستعار لیتا۔‘‘
کیا خوب بیان ہے اورکیا عمدہ طرزِ ادا، سبحان اللہ۔ علی گڑھ یونیورسٹی کی پہلی تقریبِ تقسیم اسناد 1922ء میں منعقد ہوئی۔ جلسے کے چار سال بعد یونیورسٹی کی خاتون چانسلر ہرہائی نس سلطان جہاں بیگم والیہ بھوپال نے اپنے مرحوم بیٹے کی یاد میں تعمیر ہونے والے ہوسٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے کیا کمال کے نکات بیان کیے۔ مصرعے میں ذرا سی تحریف کے بعد عرض ہے کہ ’’ذکراس پری وش کا اور پھر بیاں مختارمسعود کا‘‘سونے پہ سہاگہ سے کم نہیں:
’’مسلم یونیورسٹی کے پہلے جلسۂ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کی خاتون چانسلر ہرہائی نس سلطان جہاں بیگم والیہ بھوپال نے صدارتی خطبہ دیا۔ خطبۂ تقسیم اسناد کے چار برس بعد ان ہی خاتون نے مسلم یونیورسٹی میں اپنے مرحوم بیٹے کی یاد میں تعمیرکیے گئے ہوسٹل کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے دو لطیف نکات کا اضافہ کیا۔
(اول) حضرات! اینٹ اورگارے، چونے اورپتھرکی رفیع الشان عمارتیں بلاشبہ جاذبِ نظر ہوتی ہیں، لیکن ان کی حقیقی شان اُس وقت نمایاں ہوتی ہے جب اُن کے اندرکیے ہوئے کاموں کے شاندار نتائج ظاہر ہوں۔ دنیا کی کوئی عمارت اس معاملے میں خام دیوار اور نیچی چھت والے حجرۂ نبوی سے زیادہ شاندار نہیں۔
(دوم) حضرات! یونیورسٹی شاندار ایوانوں، سربہ فلک عمارتوں اور رفیع الشان بورڈنگ ہاؤسوں کا نام نہیں، نہ یونیورسٹی ہر سال ہزاروں طلبہ کو ڈگری ہولڈر بنانے کے کارخانے کوکہہ سکتے ہیں، بلکہ اس کو مطلع العلوم ہونا چاہیے جس سے علم کا نور دنیا میں پھیلے اور جہالت کی ظلمت و تاریکی دُور ہو۔‘‘
(جاری ہے)

حصہ