ترکیب

61

عشرت زاہد
آج رات بھی مار یہ اور عبدالرحمن ہمیشہ کی طرح اپنے سارے کام نمٹا کر دادی جان کے کمرے میں حاضر تھے۔
” دا دی جان ہم لوگ آ گئے ہیں۔ ہم نے دانت بھی برش کر لیے ہیں اور ڈریس بھی چینج کر لیا ہے۔یعنی ہم نے رات میں سونے والا لباس تبدیل کر لیا ہے۔ اب آپ ہمیں کوئی اچھی سی کہانی سنا دیں۔”
” اچھا جی، بہت اچھی بات ہے۔ کون سی کہانی سننی ہے؟”
دادی جان آج کوئی بادشاہ والی کہانی سنائیے۔”
“ٹھیک ہے بیٹا جی۔ میں آپ کو مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کی کہانی سناتی ہوں۔ یہ ہندوستان کا ایک بہت بڑا بادشاہ تھا۔ اس کی حکومت کے زمانے میں ہندوستان میں بہت ترقی کے کام ہوئے۔ اکبر بادشاہ کے دربار میں بہت سے سے وزیر تھے۔ ان میں سے 9 وزیر اس کے بہت چہیتے اور پسندیدہ تھے۔ ان کو وہ نورتن کہا کرتا تھا۔ ان میں سے ہر بندہ بہت قابل تھا۔ اور ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی اہم ذمہ داری تھی۔ ان ہی میں سے ایک وزیر بیربل بھی تھا وہ بہت ذہین تھا۔ اور اکبر بادشاہ کو مشکل وقت میں بہترین مشورے دیا کرتا تھا جس سے بادشاہ کو اتنی بڑی سلطنت کا کاروبار چلانے میں آسانی ہوتی تھی۔
اکبر بادشاہ بھی بہت ذہین ،ذمہ دار اور بہادر تھا۔ اپنی حکومت بہت اچھی طرح چلایا کرتا تھا۔ جب کہ یہ کام آسان نہیں ہوتا۔ پھر جب کبھی تھک جاتا تھا، تو تروتازہ ہونے کے لئے لیے وہ تم لوگ کہتے ہو نا نہ فریش ہونے کے لئے لیے ہاں تو فریش ہونے کے لیے اکثر بیربل کو بلا لیتا۔۔۔۔ وہ مختلف قصے اور کہانیاں سناتا اور سلطنت میں جو کام رکے ہوئے ہوتے تھے، ان کی طرف توجہ دلاتا۔ کبھی کسی کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہو تو اس کی فریاد بھی بادشاہ تک پہنچا دیتا۔ ایسے بہت سے کام کرتا تھا۔ اور بادشاہ کا دل بہلایا کرتا تھا۔ جب بھی مشورہ دیتا، ایمانداری سے اور ٹھیک دیتا۔ اس لیے بادشاہ اس کو بہت پسند کرتا تھا۔
ایک مرتبہ بادشاہ کے دربار میں ایک قصیدہ گو شاعر آیا۔ اس نے اپنے بادشاہ کی شان میں ایک قصیدہ سنایا۔ جس کو سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا۔
“دادی جان یہ قصیدہ کیا ہوتا ہے؟” ماریہ نے سوال کیا۔ ہاں قصیدہ کا مطلب ہوتا ہے کسی کی تعریف میں شعر وغیرہ کہنا۔ لیکن اس میں اکثر مبالغہ ہوتا ہے یعنی کے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔
خیر تو بادشاہ نے جب قصیدہ سنا تو بہت خوش ہوا اور اس نے ان کو انعام میں ایک ہاتھی کے وزن کے برابر سونا دینے کا اعلان کر دیا۔
“یہ تو بہت سارا سونا ہوگا”
“ہاں۔ اس زمانے میں خزانے خوب بھرے ہوئے ہوتے تھے۔ خوش حالی تھی۔ اور پھر بادشاہ کی مرضی ہوتی۔ جو چاہے عطا کر دے۔
خیر بادشاہ نے کہہ دیا سو کہہ دیا۔ اب ہاتھی کے وزن کے برابر سونا دینا آسان نہیں تھا۔ اتنا بڑا ترازو کہاں سے لاتے؟ اور اس زمانے میں میں آج کے زمانے کی طرح اسکیل وغیرہ نہیں تھے، کہ اس پر چڑھ کر کھڑے ہو جاؤ او اور وزن لکھا ہوا آ جائے۔
اب بادشاہ کے ملازم مشکل میں پھنس گئے تھے۔ خود بادشاہ بھی سوچ میں پڑ گیا تھا۔ سارے وزیروں سے پوچھا لیکن ان کے پاس بھی اس کا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں تھا۔ اسی لیے بادشاہ نے بیربل کو بلوایا لیا۔ تا کہ وہ شاید کوئی راستہ نکال دے۔
جب بیرل نے آ کر یہ ساری بات سنیں تو مسکرا دیا۔ اور کہا، کہ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ یہ مسئلہ ابھی حل کیے دیتے ہیں۔ آپ اس ہاتھی کو لے کر دریا چلیں۔ اکبر بادشاہ اور سارے درباری دریا پر پہنچ گئے۔ ساتھ میں قصیدہ گو شاعر بھی تھا۔ وہاں جا کر بیربل نے ایک بڑی کشتی منگوا کر ہاتھی کو اس میں سوار کرادیا۔
اور ہاتھی کے وزن سے کشتی پانی میں جہاں تک ڈوبی تھی وہاں پر ایک نشان لگادیا۔ پھر ہاتھی کو کشتی سے اتار دیا گیا اور اسی کشتی میں سونے کے سکوں سے بھری ہوئی تھیلیاں ڈالی گئیں۔ اور تب تک ڈالتے رہے جب تک کشتی نشان تک ڈوب نا گئی۔ اس طرح سے ہاتھی کے وزن کے برابر سونا تولنے میں آسانی ہو گئی۔۔یہ سب دیکھ کر اکبر بادشاہ بہت خوش ہو گیا۔ اور اس نے بیربل کو بھی انعام سے نوازا۔۔۔۔۔۔
” ارے واہ دادی جان آپ نے تو بہت اچھی کہانی سنائی ہے۔”،عبدالرحمان چہکا۔۔۔” اس کہانی سے مجھے کچھ یاد آرہا ہے۔۔ ابھی بقرہ عید پر جب بکرے کے گوشت کے تین حصے کرنے تھے تو آپ نے اسی طرح مجھے پہلے اسکیل پر یعنی وزن کرنے والی مشین پر کھڑا کیا۔۔ پہلے میرا وزن کیا پھر میرے ہاتھ میں گوشت کی تھیلیاں پکڑا کر وزن دیکھ کر آپ نے تین حصے کئے تھے۔ ہے نا دادی جان؟” عبدالرحمن نے پوچھا۔۔۔
“جی ہاں۔ میری جان، تم نے بالکل ٹھیک کہا میں نے اسی کہانی سے یہ ترکیب نکالی تھی کہ پہلے بندے کا وزن کرو۔ پھر اس کے ہاتھ میں کوئی بھی چیز جس کا وزن کرنا ہو وہ دے دو اور بعد میں پہلے وزن کو دوسرے وزن سے تفریق کر دو۔ یعنی مائنس کر دو۔ تو اس کا اصل وزن نکل آتا ہے۔ جو بالکل ٹھیک ہوتا ہے۔ارے واہ دادی جان زبردست ترکیب لڑائی تھی آپ نے۔۔۔۔
شکریہ دادی جان آپ نے بہت مزے دار کہانی سناء۔

حصہ