یہ میری آبلہ پائی

115

صبیحہ اقبال
۔’’ماما! آپ نے مجھے تھری کا ٹیبل یاد نہیں کرایا تھا ناں۔‘‘ ننھی زویا نے شکایتی انداز میں زوبیا کے آتے ہی اسے مخاطب کیا تھا۔ ’’میتھ کی مس نے مجھے پورے تین پیریڈ باہر کوریڈور میں کھڑا رکھا۔‘‘ وہ اپنی سزا کے بارے میں بتاتے ہوئے روہانسی ہوگئی اور زوبیا کو بھی جیسے اختلاج سا ہوگیا تھا۔
’’بیٹا آپ کی ٹیوٹر نے آپ کو یاد نہیں کرایا تھا؟‘‘
’’وہ ماما! اُن کے سر میں درد تھا۔‘‘
’’بیٹا یاد تو آپ کو کرنا تھا ناں…‘‘
’’وہ ماما! ٹیوٹر نے کہا تھا خاموش بیٹھو میرے سر میں درد ہورہا ہے۔‘‘
’’اچھا…‘‘ وہ بظاہر اپنے کاموں میں مصروف تھی، مگر بیٹی کو ملنے والی سزا اور آج کا شدید موسم… وہ حبس تھا کہ لوگ لو کی دعا کررہے تھے… اس کے ذہن پر سوار تھے۔
’’کیا تھا زوبیا کہ تم اپنی بیٹی کو خود ٹیبل یاد کرا دیتیں…‘‘ وہ اپنے ضمیر کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑی تھی۔ ’’میرے پاس وقت کہاں تھا؟‘‘
’’کیا اپنی اولاد کے لیے پندرہ بیس منٹ بھی نہیں تھے؟‘‘
’’آفس سے آنے کے بعد دماغ اتنا تھک جاتا ہے کہ بس…‘‘ اس نے تاویل دی۔
’’آفس جانا تمہاری مجبوری ہے؟‘‘ وہ اپنے اس احتساب سے جان چھڑانے کے لیے ہانڈی میں لال ہوتی پیاز میں چمچہ چلانے لگی۔ یہ کیا! مسالے نکالتے ہوئے خالی ڈبے، یہ دھنیا، مرچ… پورے ماہ کے لیے خریداری کی تھی لیکن یہ ابھی پچیس تاریخ کو ہی خاتمہ… ہاں یہ امینہ کا ہاتھ ایک تو کھلا ہے، پھر گرنے پھنکنے کا بھی کوئی لحاظ نہیں کرتی… اور چیز بے برکت ہوجاتی ہے۔ چلو میں اسے سمجھا دوں گی۔ اس نے اپنے دل کو اطمینان دلایا اور پاس بیٹھی زویا کو تھری کا ٹیبل یاد کرانے لگی۔
…٭…
’’کیا ہوا بھئی میرے بہادر بیٹے کو…؟‘‘ زوبیا نے آفس سے آتے ہی اپنے بیٹے ذایان کی جانب دیکھا جس کا چہرہ بخار کی تپش سے سرخ ہورہا تھا۔
’’وہ ماما! اسکول میں کھیل کے دوران کان پر گیند لگ گئی تھی، جب سے کان میں سخت درد ہورہا ہے۔‘‘
’’اُف میرے خدا! بیٹا تم نے امینہ آنٹی سے کہا ہوتا، وہ کان کے درد کی دوا ڈال دیتیں۔‘‘ وہ دوائیوں کی الماری کی طرف بڑھتی ہوئی گویا ہوئی۔
’’امی وہ کہہ رہی تھیں کہ مجھے پڑھنا نہیں آتا۔‘‘
جب زوبیا نے جاب جوائن کی تو امینہ کو بچوں کی دیکھ بھال اور گھر کی صفائی، کپڑوں کی دھلائی کے لیے معقول معاوضے پر لگا لیا تھا، جو صبح اس کے جانے کے بعد آتی اور شام میں زوبیا کے واپس آنے سے تقریباً پندرہ بیس منٹ پہلے اسے اپنے بچوں کو اسکول سے لیتے ہوئے واپس چلے جانا ہوتا تھا۔ اس طرح زوبیا اور امینہ کا آمنا سامنا بہت کم ہوتا، البتہ ذیشان جو زوبیا سے تقریباً آدھے گھنٹے قبل گھر پر آجاتے تھے، امینہ بچوںکو اُن کے سپرد کرکے جاتی۔ زوبیا کو احساس ہوا کہ ذیشان تو بیٹے کے کان کو دیکھ سکتا تھا، یا امینہ کو توجہ دلا سکتا تھا۔
’’ارے آپ تو امینہ کو کان میں دوا ڈالنے کے لیے توجہ دلا سکتے تھے۔‘‘
’’آں… آں… ہاں… بس چائے کی طلب ہوتی ہے آتے ہی، اور کسی طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔‘‘ ذیشان نے بے تکا سا جواب دیا تو وہ افسوس کے ساتھ انہیں دیکھتی رہ گئی۔
…٭…
پچھلے تین دن سے زوبیا کی مصروفیات بہت بڑھی ہوئی تھیں، کیوں کہ آفس میں نئے ایم ڈی اس کی معرفت آفس کی پوری ٹیم اور اُن کی ذمے داریوں کو اس کے ذریعے سمجھ رہے تھے۔ ان کے بقول یہ ان کے لیے بالکل نیا کام تھا جس کا انہیں کوئی تجربہ نہ تھا۔ اس طرح سمجھنے اور سمجھانے میں خاصا وقت گزر جاتا۔ اس وقت بھی وہ لیٹ ہورہی تھی اور اسے گھر اور بچے یاد آرہے تھے۔ صبح سے تو حبس اور گرمی نے برا حال کررکھا تھا لیکن اس وقت موسم قدرے بہتر تھا، آسمان پر بادل چھا رہے تھے، ٹھنڈی ہوا کے ساتھ ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی ہورہی تھی، ایسے میں ذیشان کو ہمیشہ گرم گرم پکوڑوں کے ساتھ چٹنی اور چائے کی طلب ہوتی تھی۔ یہی چیز اسے پریشان کررہی تھی کہ کہیں ذیشان دیر ہوجانے پر غصہ نہ ہوجائیں۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ پَر لگا کر اُڑ جائے۔ لیکن ایم ڈی صاحب تو جیسے سارے معاملات کو آج ہی سمجھ لینے پر مُصر تھے۔
’’سر! بس اب میں چلوں گی، موسم کے تیور بہت خراب ہورہے ہیں، ایسے میں ٹرانسپورٹ کا بھی مسئلہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے باس کی طرف نظر کیے بغیر اپنا مدعا بیان کیا۔
’’عجیب بدذوق ہو تم، اتنے رومانٹک موسم کو انجوائے کرنے کے بجائے اس سے خوف کھا رہی ہو! پریشان نہ ہو، میں تمہیں خود ڈراپ کردوں گا۔‘‘
اس نے حیران ہوکر ایم ڈی کی طرف دیکھا تو نظروں کی بے باکی نے اس کے حواس خراب کردیے۔ ’’سر مجھے آج جلدی گھر جانا تھا، بچے کو اسپیشلسٹ کے پاس لے کر جانا ہے۔‘‘ اس نے سفید جھوٹ بولنے کے ساتھ ہی اپنا پرس اٹھایا اور کمرے سے نکل کر تیزی سے سیڑھیاں اترتی چلی گئی۔
نئے ایم ڈی کے آتے ہی اس کی تنخواہ میں اضافے کے نوٹیفکیشن کا اجرا… اس کی اب سمجھ میں آیا، وہ اَن دیکھے کانٹوں کی چبھن محسوس کررہی تھی۔ دل ہی دل میں ایم ڈی صاحب کو صلواتیں سناتی جیسے تیسے گھر پہنچی اور اپنی چابی سے دروازہ کھولا تو ایک اور دل خراش منظر اس کا منتظر تھا۔ امینہ گرم گرم پکوڑوں کے ساتھ چٹنی بناکر میز پر چن چکی تھی اور اب باورچی خانے سے دو مگوں میں گرم گرم چائے کی ٹرے پکڑے میز کی طرف بڑھ رہی تھی جہاں ذیشان کی دزدیدہ نظریں اس کے سراپے کے تعاقب میں تھیں۔ اپنی نگاہوں کی چوری پکڑے جانے پر وہ خفیف سے ہوئے۔
زوبیا پڑھی لکھی اور سمجھ دار عورت تھی، اسے اندازہ تھا کہ بدلتے موسم اور آتی جاتی رُتیں انسانی نفسیات پر ضرور اثرانداز ہوتی ہیں۔ اس نے اپنے تاثر کو قابو میں کرتے ہوئے آگے بڑھ کر امینہ کے ہاتھ سے ٹرے پکڑی ’’ارے! میں تو بہت ہی اچھے موقع پر آئی… گرم گرم پکوڑے اور چائے… موسم کا مزا دوبالا ہوگیا‘‘ کہتی ہوئی میز پر آبیٹھی اور ذیشان اور امینہ ہکابکا ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔
عورت چاہے کتنی ہی بہادری کا مظاہرہ کرے لیکن ذہنی تنائو کے اثرات اس کے وجود کو کمزور ضرور کرتے ہیں۔ آج زوبیا بھی ذہنی اور جسمانی تھکن محسوس کررہی تھی، لیکن پھر علی الصبح اٹھ کر وہ باورچی خانے میں بچوں کے لیے ٹفن تیار کررہی تھی۔ پھر وہ بچوںکے کمرے کی طرف آئی اور انہیں اٹھاکر تیار کرنے لگی۔ وہ ننھی زوبیا کے بال باندھ رہی تھی۔ ’’ماما! آج آپ خود تیار نہیں ہورہیں؟‘‘ زویا نے سوال کیا۔ کیوں کہ ماما اکثر اُسے خود کنگھا کرنے کا کہہ کر اپنے بالوں کو برش کرنے لگ جاتی تھیں۔ بچے اپنی مائوں کی طرز کو کتنا محسوس کرتے ہیں اِس خیال سے اُس کی آنکھیں بھیگنے لگیں، اور ہم اپنی مصروفیات میں ان کے احساسات کو روندتے چلے جاتے ہیں۔ ایک بے آواز آہ اس کے لبوں سے آزاد ہوگئی۔
’’وہ بیٹا رات کو میری طبیعت خراب ہوگئی تھی، اس کی وجہ سے میں آج آفس نہیں جائوں گی۔‘‘ اس نے بیٹی کو ممتا کی شفقت کے ساتھ پچکارا، اور دودھ کا مگ اس کے منہ سے لگا دیا۔ پھر جب وہ ننھے ذایان کو جوتے پہنا رہی تھی تو قریب کھڑے ذیشان اسے الجھی الجھی نظروں سے یوں دیکھ رہے تھے جیسے پوچھ رہے ہوں: کیوں، آج تم کو خود تیار نہیں ہونا؟ ’’زوبیا آپ جاکر اپنی تیاری کریں، میں اسے خود ناشتا کروائے دیتا ہوں۔‘‘ انہوں نے زوبیا کو گھریلو حلیے میں دیکھ کر پیشکش کی۔
’’آج میں تھوڑی کمزوری محسوس کررہی ہوں، سو آج میں آفس نہیں جائوں گی۔‘‘ اس نے بظاہر بے نیازی سے جواب دیا۔ وہ بچوں کو نک سک سے درست کرکے گاڑی تک ان کے بیگ خود لے کر آئی تھی۔ تب ہی اس نے کن اَنکھیوں سے ذیشان کو دیکھا، جن کی آنکھوں میں الجھن تھی۔
بچوں کو چھوڑ کر ذیشان کے واپس آنے سے قبل ہی اس نے ناشتے کی میز کو دوبارہ ترتیب دے لیا تھا۔ پہلے جس کام کو وہ بے مصرف سمجھتی تھی، اپنی تعلیم کی توہین گردانتی تھی، تجربے نے ثابت کیا تھا کہ ذہنی سکون کے لیے اور اپنی آئندہ نسل کی ذہنی و جسمانی آبیاری کے لیے یہی موزوں ہے۔ اس نے سمجھ لیا تھا کہ بے شک خواتین کو علم حاصل کرنا چاہیے کہ یہ دین کا ایک حصہ ہے، فرض ہے، لیکن تعلیم کے حصول کے بعد ملازمت کی خواہش اور اعلیٰ سے اعلیٰ معیارِ زندگی کی جستجو خاندان کے لیے مضر ثابت ہوتی ہے۔
’’واہ گرم گرم پراٹھے اور تازہ تازہ آملیٹ اور چائے…‘‘ ذیشان نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے اس کے سلیقے کو سراہا تو اس کا سیروں خون بڑھ گیا۔
ذیشان کے جانے کے بعد اس نے گھر پر ایک تنقیدی نظر ڈالی، ہر چیز میلی میلی اور بے جگہ سی لگی۔ اس نے اپنے پچھلے گزرے چھ ماہ کا حساب انگلیوں پر لگایا، کیا کھویا کیا پایا یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ خواتین کی بلاضرورت ملازمت دراصل صرف آبلہ پائی ہے جس میں ہم مصروف تو ہوتے ہیں مطمئن نہیں ہوسکتے۔
اس نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا اور اپنا استعفیٰ ٹائپ کرنے لگی، کیوں کہ وہ اپنے گھر اور گھر والے کو کسی اور عورت کے سپرد کرنے کے حق میں ہرگز نہ تھی۔

حصہ