کلبھوشن یادیو ہاتھ کا چھالا۔۔۔ زندہ لاش

139

عالمی عدالت نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ محفوظ راستہ فراہم کردیا ہے یہ کہہ کر کہ ’’کلبھوشن کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے اور قونصلر رسائی دے‘‘ اور مزید یہ کہ ’’ پاکستان نے قونصلر رسائی نہ دے کر ویانا کنونشن 1963کی خلاف ورزی کی۔ ‘‘
عالمی عدالت انصاف میں پاکستانی وکلا کی ٹیم کی سربراہی اٹارنی جنرل منصور علی خان جب کہ بھارتی وکلا کی ٹیم کی قیادت ہارش سلیو نے کی۔
اس فیصلے کی رو سے آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب بھارتی جاسوس اپنے ماضی کے ساتھ جس بھی حال میں ہے وہ بہرحال’’ویانا کنونشن۔ 1963‘‘ کی محفوظ چھتری میں ہے اور پاکستان کو ویانا کنونشن کی روشنی میں سزا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرنا ہوگا ۔
ضرورت تو اس بات کی ہے کہ اب ویانا کنونشن کی ان شقوں کا جائزہ لیا جائے جس میں کنونشن کسی ملک کے جاسوس کی حتمی سزا کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ چالیس صفحات پر مشتمل فیصلہ عوام کے سامنے آنا چاہیے اور محض ایک دو سطری خبر پر بغلیں بجانے کے بجائے مکمل فیصلے کا قانونی تجزیہ کیا جانا چاہیے۔
میرے خیال میں عا لمی عدالت کا یہ فیصلہ دونوں ممالک کی موجودہ کشیدگی پر ’’مٹی پاو‘‘ جیسا ہے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو کلبھوشن یادیو کی صورت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک ’’زندہ لاش‘‘ کا تحفہ دینے جیسا ہے۔
ہم نے اس سے جو کچھ اگلوانا تھا یقینا وہ اب تک اس نے اُگل دیا ہوگا۔ اب تو ’’نہ لیپنے کا رہا نہ پوتنے کا‘‘ والا معاملہ ہے۔
بھارتی حکومت کا مؤقف یہ تھاکہ ’’کلبھوشن یادیو ان کی بحریہ کا ریٹائر افسر ہے جسے پاکستان نے ایران سے اغوا کیا تھا۔ جب کہ پاکستان بھارت کے اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔‘‘
عالمی عدالت کے اس فیصلے کی جانب دونوں ممالک کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ جیسے ہی فیصلہ آیا دونوں ممالک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ کلبھوشن یادیو کے حوالے سے یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دور میں پاکستان نے بھارتی جاسوس یادیو کو 2016ء میں بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو نے ایک مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے اعترافی بیان میں ’’اس بات کا اقرار کیا تھا کہ وہ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر ہے۔‘‘
پاکستانی حکومتی ترجمان سے پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا بیان آگیا جس میں انہوں نے عالمی عدالت انصاف کے کلبھوشن یادیو کیس سے متعلق فیصلے کو پاکستان کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’آج کا دن بھارت کے لیے ایک اور 27 فروری ثابت ہوا، عالمی عدالت میں بھارت کے جھوٹے بیانیے کی شکست ہوئی اور اسے کلبھوشن فیصلے کی شکل میں آج بھی بڑا سرپرائز ملا۔‘‘ بدھ کو کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’عالمی عدالتِ انصاف نے کلبھوشن کے حوالے سے ایک شاندار فیصلہ دیا ہے جس میں پاکستان کی واضح جیت ہوئی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام کو عالمی عدالت انصاف میں سرخرو کیا ہے اس کے لیے ہماری عدالتی ٹیم اور دفتر خارجہ نے بھرپور کام کیا جو تحسین کے مستحق ہیں، کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان پراعتماد تھا کہ ہمارے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں اسی لیے ہمیں امید تھی کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔‘‘
میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ ہمارے عسکری ادارے کے انتہائی ذمے دار اس فیصلے کو پاکستان کی جیت کس اعتبار سے قرار دے رہے ہیں؟ عالمی عدالت میں بھارت کا مؤقف یہ رہا کہ ’’کلبھوشن کو قونصلر تک رسائی نہ دے کر پاکستان نے نہ صرف ویانا کنونش 1963 کی خلاف ورزی کی بلکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان قیدیوں تک رسائی کے دوطرفہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔‘‘
اب آ یئے عالمی عدالت کے فیصلے کی جانب جس کے مطابق کلبھوشن کی گرفتاری اور سزا کے حوالے سے جو اعتراضات بھارت نے اٹھائے تھے۔ عالمی عدالت کے فیصلے میں ان دونوں نکات کو مکمل طور پر درست مانا گیا ہے یعنی :
٭کلبھوشن کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے۔
٭قونصلر رسائی دے۔
عالمی عدالت کے فیصلے کے پہلے نکتے کی جانب دیکھیں جس میں عالمی عدالت پاکستان کو تنبیہ کر رہی ہے کہ ’’ملزم‘‘ کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے۔ ( انتہائی معذرت کے ساتھ یہ لائن عالمی عدالت کی درخواست نہیں بلکہ ’’ قانونی ایڈ وائز ‘‘ کے زمرے میں آتی ہے۔)
اسی طرح فیصلے کے دوسرے نکتے میں کہا گیا کہ ’’ ملزم تک قونصلر رسائی ممکن بنائی جائے۔‘‘ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ دونوں ممالک کی منظوری کے بعد بھارت کا ایک قونصلر گاہے بگاہے جیل میں ملزم سے ملاقات کرے گا، حالات حاضرہ پر گفتگو ، گپ شپ اور یہ معلومات کہ کسی نے غیر انسانی سلوک تو نہیں کیا… وغیرہ وغیرہ۔ ساتھ ہی قونصلر یا ان کا نمائندہ اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ ویانا کنونشن کے اعتبار سے ملزم کو وہ سہولیات فراہم ہو بھی رہی ہیں کہ نہیں جن کا وہ مستحق ہے؟
اس اعتبار سے کوئی بتائے کہ عالمی عدالت کے اس فیصلے پر پاکستان حکومت کا بغلیں بجانا کس حد تک درست ہے ؟ سچ پوچھیں تو عالمی عدالت نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے بارے میں اس طرح کا فیصلہ دے کر حقیقت میں ہمارے ہاتھ میں ویانا کنونشن 1963 کا وی وی آئی پی ملزم کو ’’ہمارے ہاتھ کا چھالا‘‘ بنا کر ہمارے حوالے کردیا ہے۔ یہ کیسا فیصلہ ہے کہ فریقین میں سے کسی کی بھی دل آزاری نہیں ہوئی اور دونوں ہی شاداں و فرحاں دکھائی دیتے ہیں؟
اس فیصلے کے حوالے سے بھارت میں جس طرح شادیانے بج رہے ہیں وہ ملاحظہ کیجیے کہ ان کے وکیل ہریش سالوے نے ایک ٹی وی چینل پر کھلم کھلا پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے زہر اگلا کہ پاکستان نے یادیو کے معاملے میں دوبارہ سازش کرنے کی کوشش کی تو اسے پھر عالمی عدالت میں گھسیٹا جائے گا اور اس پر عالمی پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح نریندر مودی نے بھی کلبھوشن یادیو کی پھانسی کی سزا پر پابندی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سچ اور انصاف کی جیت قرار دیا۔
عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کی پھانسی کی سزا پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے یادیو کے اہل خانہ سے فون پر بات چیت کی اور مزید صبرو تحمل سے کام لینے کو کہا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر جے شنکر نے یادیو کی بیوی اور دیگر اہل خانہ سے فون پر بات کی اور عالمی عدالت کے فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کام اہلِ خانہ کے حوصلے اور صبر کے بغیر مشکل تھا۔‘‘ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ یادیو کی بہ حفاظت رہائی ہوگی اور وہ گھر لوٹیں گے۔
پارٹی کے سینئر رہنما پی چدامبرم نے کہا کہ ’’عالمی عدالت نے دنیا کو حقیقی معنوں میں انصاف کا آئینہ دکھایا ہے۔ عالمی عدالت نے انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ دنیا میں قانون کی بالادستی کو قائم رکھا ہے۔‘‘
اس سے پیشتر ہمارے بیانیے میں اس طرح کہا جاتا رہا کہ ’’یادیو نے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ وہ پاکستان میں جاسوسی کارروائیوں میں ملوث رہاہے۔‘‘
پاکستان کی فوجی عدالت نے 10 اپریل 2017 میں کلبھوشن کو جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں سزائے موت سنائی تھی۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے بھارت کے لیے جاسوسی کرنے اور مبینہ طور تخریبی کارروائیاں کرنے کے شواہد عدالت کے سامنے رکھے ہیں جن میں حسین مبارک پٹیل کے نام سے انہیں بھارت کا پاسپورٹ بھی جاری کیا گیا تھا اور پاکستانی حکام کے مطابق اس پاسپورٹ پر کم از کم 17 بار بھارت سے بیرون ملک گیا اور واپس بھارت آیا تھا۔
پاکستانی حکام کے مطابق بھارت سے اس معاملے پر متعدد بار وضاحت طلب کی لیکن بھارت نے ہمیشہ اسے ’’غیر متعلق اور‘‘گمراہ کن پروپگنڈا قراردیا۔
لیجیے ہم نے دونوں فریق کی خوشیوں کا مکمل نقشہ اپنے پڑھنے والوں کے سامنے من و عن پیش کر دیا ہے تاکہ پڑھنے والے اپنے فہم کے مطابق ’’عالمی عدالت‘‘ کے اس ’’فیصلے‘‘ پر اپنی رائے قائم کر سکیں۔ میری نا قص رائے میں پاکستان کے پاس کلبھوشن کی صورت میں ’’ایک زندہ لاش‘‘ کے سوائے کچھ نہیں ہے۔
اس موقع پر مجھے اجمل سراج کا قطعہ یاد آرہا ہے جو انھوں نے اس عالمی عدالتی فیصلے پر کہا ہے کہ

فیصلہ عالمی عدالت کا
جو کچھ آیا ہے وہ بھی کیوں آیا
جان کر اس کو بھارتی جاسوس
ہم نے کیوں نرک تک نہ پہنچایا

لہٰذا عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ’’بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی‘‘ پاکستان شادیانے بجانے کے بجائے عقل سے کام لے اور وزیر اعظم عمران خان کے امریکی دورے سے قبل ’’بیک ڈور ڈپلومیسی چینل‘‘ کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکا کو درمیان میں رکھے اور امریکی قید میں ہماری قوم کی بیٹی اور بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ کرنل حبیب کے بدلے کلبھوشن یادیو کی حوالگی کا معاملہ کر ے۔
پڑھنے والوں کو معلوم ہی ہوگا کہ پاکستان کے سا بق ریٹائرڈ کرنل محمد حبیب کو ’’را‘‘ نے ایک منصوبے کے تحت نوکری کا جھانسا دے کر نیپال بلوایا تھا‘محمد حبیب 6 اپریل کو نیپال پہنچنے تو انہیں بھارتی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اغوا کر لیا۔ انہیں اغوا کرنے کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ اُن کے بدلے بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی حوالگی کا مطالبہ کیا جا سکے۔
اب جب کہ پاکستان عالمی عدالت کے فیصلے کا ’’شکار‘‘ ہو ہی گیا ہے تو مناسب یہی ہے کہ زندہ لاش کو اٹھائے اٹھائے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھنے کے بجائے بھارت اور امریکا کے ساتھ کوئی معاملہ کر لیا جائے کیونکہ سب ہی جانتے ہیں کہ ہم نے بنا کسی شرط کے ماضی میں قاتل ریمنڈ ڈیوس کو بھی خوشی خوشی چارٹرڈ طیارے میں امریکا روانہ کر دیا تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں امریکا کی مدد کرنے والے پاکستانی شکیل آفریدی کو عمران خان کے امریکا پہنچنے سے قبل ہی روانہ کردیں۔ حافظ محمد سعید پہلے ہی زیر عتاب آچکے ہیںاور کیا معلوم کہ ملا ضعیف کی طرح ان کے بدلے میں بھی ڈالر وصول کرلیے جائیں۔

حصہ