کرکٹ ورلڈ کپ کا فائنل یا مذاق؟۔

89

محمد عارف میمن
کرکٹ ورلڈ کپ 2019ء اپنی تمام تر رنگینیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا، انگلینڈ عالمی چیمپئن اور نیوزی لینڈ رنراپ رہا۔ فیصلہ سب کے سامنے ہوا جس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ فائنل ٹائی ہونے پر دنیا بھرمیں تمام لوگوں نے کرکٹ قوانین کو اپنی اپنی اسکرین پر دیکھااورجو شائقین لارڈز کے تاریخی گرائونڈ میں موجود تھے انہیں بھی کمنٹیٹرز کے ذریعے بتادیاگیا کہ ٹائی ہونے کے بعد اب سپر اوورز کھیلاجائے گا اوراگر سپر اوور بھی ٹائی ہوتا ہے تو پھر فیصلہ اس قانون کے تحت ہوگا جو سب کے سامنے موجود تھا۔ اس وقت کسی کو خیال نہ آیا کہ یہ قانون مذاق ہے ۔ یا پھر جب یہ قوانین بنائے جارہے تھے اس وقت بھی کسی کو خیال نہیں آیا کہ اس طرح کے قوانین بعدمیںمسائل اور بحث کا باعث بنیں گے۔
انگلینڈ اورنیوزی لینڈ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا اور انگلینڈ نے زیادہ بائونڈریز لگاتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کیا۔ پچا س اوورز کا گیم کا فیصلہ سپر اوورز پر رکھاگیاہے جو نیا قانون نہیں تھا ۔ اور ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ فائنل اور سپر اوورٹائی ہوا ہو۔2019ء کے عالمی کپ میں ٹائی ہونے والا یہ5واں میچ اور پہلا فائنل تھا۔ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں ایسا ابھی تک صرف تیسری مرتبہ ہوا ہے جب کوئی فائنل میچ ٹائی ہوا۔نیوزی لینڈ نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے مقررہ50 اوور میں8 وکٹ پر241 رنز بنائے تھے۔ انگلینڈ کے تمام کھلاڑی 50اوور میں 241 رنز بناکر آئوٹ ہوئے تھے جسکی بدولت یہ فائنل میچ ٹائی ہوا۔ اس عالمی کپ کے قوانین کے مطابق سیمی فائنل اور فائنل میچ ٹاٗئی ہونے کی صورت میں فیصلہ سپر اوور میں ہونا تھا۔ سپر اوور میں دونوں ٹیموں نے15,15رنز بنائے جسکی وجہ سے سپر اوور بھی ٹائی ہوگیا۔اب فیصلہ باونڈریوں پر ہونا تھا۔ انگلینڈ نے اپنی اننگ میں16 باونڈریاں ماری تھیں جبکہ نیوزی لینڈ کے بلے باز 15باونڈریاں لگانے میں کامیاب رہے تھے۔اس ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں پہلی مرتبہ یہ اصول اپنایا گیا جو ٹی ٹوئنئی کرکٹ کا اصول ہے۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اس اصول کا استعمال کافی مرتبہ ہوا ہے۔ انڈین پریمیر لیگ میںبھی میچ اورسپر اوورٹائی ہونے کے بعد فیصلہ باونڈریوں پر ہوا ہے۔
ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں ابھی تک 3 مرتبہ ایسا ہوا ہے جب فائنل میچ ٹائی رہا۔ عالمی کپ فائنل سے پہلے 2 مرتبہ فائنل میچ ٹائی رہے ہیں۔آسڑیلیا اورویسٹ انڈیز کے مابین ملبورن کرکٹ میدان پر 11 فروری1984 کو کھیلا گیا ورلڈ سریز کپ کا فائنل ٹائی رہا تھا۔ اس میچ ویسٹ انڈیز نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے مقررہ 50اوور میں5 وکٹ پر 222 رنز بنائے تھے۔ آسڑیلیا نے50 اوور میں 9 وکٹ پر222 رنز بناکر میچ ٹائی کرایا تھا۔بیسن اینڈ ہیجس ورلڈ سیریز کپ میں اس کے بعد2 اور فائنل ہونے تھے اس لئے اس ٹائی میچ کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اسی لارڈز کے تاریخی میدان پر2 جولائی2005 کو کھیلا گیا نیٹ ویسٹ ٹرافی کا فائنل ٹائی رہا تھا۔ اس فائنل میںآسڑیلیا نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے48.5 اوور میں196 رنز بنائے تھے۔ انگلینڈ نے مقررہ50 اوور میں9 وکٹ پر 196 رنز بناکر میچ ٹائی کرایا تھا۔دونوں ٹیموں کومشترکہ چیمپئن قرار دیا گیا تھا۔تاہم اس وقت یہ قانون موجود نہیں تھاورنہ شاید اس فائنل کا فیصلہ متناز ع ہوجانا تھا۔
عالمی کپ میں پہلا ٹائی میچ بر منگھم میں 17 جون1999 کو جنوبی افریقا اورآسڑیلیا کے درمیان کھیلا گیا سیمی فائنل میچ تھا۔اس سیمی فائنل میں پہلے بلے بازی کرتے ہوئے آسڑیلیا کے تمام کھلاڑی 49.2 اوور میں213 رنز بناکر آئوٹ ہوگئے تھے۔ جنوبی افریقا کے تمام کھلاڑی49.4 اوور میں213 رنز بناکر آئوٹ ہوگئے تھے جسکی وجہ سے یہ سیمی فائنل ٹائی رہا۔ آسڑیلیا نے لیگ میچ میں جنوبی افریقا کو شکست دی تھی اس لئے وہ ٖفائنل میں کھیلنے کی حق داد بنی۔ فائنل میں اس نے پاکستان کو 8وکٹ سے شکست دیکر دوسری مرتبہ عالمی ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔اس سے پہلے وہ1987 میں فاتح رہی تھی جبکہ اس کے بعد اس نے3 مرتبہ یہ ٹائٹل اپنے نام کیا۔
یہ تو رہی تاریخ میچ ٹائی ہونے کی ،اب بات کرتے ہیں اس متناز ع فیصلے کی جس پر اب تک بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ نیوزی لینڈ کے ہیڈ کوچ گری اسٹیڈ کا کہنا ہے کہ فائنل ٹائی ہونے پر مشترکہ فاتح والی بات پر غور کرنا چاہیے تھا،جب کہ کپتان کین ولیمسن نے بھی زیادہ بائونڈریز کی بنیاد پر فیصلے کو شرمناک قرار دیا۔ نیوزی لینڈکے اخبار نے تو یہ سرخی لگائی کہ اینڈ آف دی ورلڈ،بلیک کیپس زیرو رنز سے ہار گئے۔ اسی طرح سابق کرکٹر اسکاٹ اسٹائرس نے ٹویٹر پر لکھا کہ آئی سی سی کا شاندار کارنامہ ،آپ نے اچھا مذاق کیا۔اسی طرح پی سی بی کے سابق چیئرمین نسیم اشرف نے کہا ہے کہ ورلڈکپ ٹرافی انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان شیئر کرنا چاہیے تھی۔امریکا میں موجود نسیم اشرف نے سوال اٹھایاکہ عالمی چیمپئن کا فیصلہ باؤنڈریز پر کیسے کیا جا سکتا ہے؟ یہ کوئی اسکول ٹورنامنٹ نہیں تھا،آئی سی سی کو اس بدانتظامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دنیائے کرکٹ سے معافی مانگنی چاہیے۔
جہاں بائونڈریز کا قانون متنازع بنا وہیں امپائر کے فیصلے بھی عالمی کپ کی رنگینیوں کو کھا گیا۔ مگر امپائر ز کی غلطیوں پر آئی سی سی نے لب کشائی کرلی لیکن بائونڈریز کے فیصلے پر تاحال خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ آئی سی سی کے مطابق ورلڈکپ فائنل میں قانون کے مطابق جو کیا وہ درست تھا۔ورلڈکپ فائنل میں بین اسٹوکس کو اوور تھرو پر 5 کے بجائے 6 رنز دینے کا فیصلہ تنقید کا نشانہ بنا،سابق امپائر سائمن ٹوفل نے بھی قانون 19.8کا حوالہ دیتے ہوئے اس پر اعتراض اٹھایا،اس حوالے سے آئی سی سی کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کرلی گئی۔گزشتہ روز ترجمان نے لب کشائی کرتے ہوئے کورا جواب دیا کہ آن فیلڈ امپائرز قوانین کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی فیصلے کرتے ہیں،ہم اپنی پالیسی کے مطابق فیصلوں پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔دوسری جانب انگلینڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ ایشلے جائلز نے امپائرز کی غلطی کے باعث فتح ملنے کا تاثر ہوا میں اڑا دیا،ان کا کہنا ہے کہ میچ میں اگر مگر اور اتار چڑھاؤ کی صورتحال کئی بار پیدا ہوئی۔حقیقت یہ ہے کہ انگلینڈ نے ورلڈکپ جیت لیا اور اب اسے کوئی نہیں چھین سکتا،اگر ایک رن کم بھی دیا جاتا تو ہوسکتا تھا کہ بین اسٹوکس فتح کا مشن مکمل کرلیتے،ان کو آخری گیند فل ٹاس ملی تھی جس پر2رنز بنانے کی کوشش کرنے کے بجائے اسے باؤنڈری کے پار بھی بھیج سکتے تھے، انھوں نے کہا کہ ٹائٹل انگلینڈ نے جیت لیا اب اس کے بارے میں اگر مگر کی باتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔
ان قوانین کے حوالے سے ایم سی سی اورآئی سی سی دونوں خاموش ہیں ۔کسی جانب سے فیصلے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیاجارہا۔ درحقیقت آئی سی سی اورایم سی سی دونوں میں بگ تھری کی بنیاد رکھنے والے لوگ ہی موجود ہیں جنہوںنے پہلے بھی کئی مرتبہ ایسے قوانین بنائے جو کرکٹ میں متنازع ہی رہے مگر ان پر کبھی بات نہیں گئی۔ مگر اس مرتبہ معاملہ زیادہ پیچیدہ اس لیے بھی ہوگیا کہ دونوں ٹیمیںاور ان کے بورڈ طاقت ور تسلیم کیے جاتے ہیں ۔ ان قوانین پرآئی سی سی اور ایم سی سی کو ضرور لب کشائی کرنی ہوگی کیوں کہ یہاں بے چین صرف نیوزی لینڈ ہی نہیں بلکہ شائقین بھی ہیں جو جاننا چاہتے ہیں کہ اس طرح کی صورت حال پر بائونڈریز کا قانون جو ٹی ٹوئنٹی میں استعمال کیاجاتا ہے وہ ایک روزہ میچ میں کیوں کر استعما ل کیاگیا۔

حصہ