چچا چھکن

120

(آخری قسط)
اِدھر چچا چھکن اور چچی کو معلوم تھا کہ اب ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ وہ بھی پوری تیاریوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ جیسے ہی بھتیجوں کی گاڑیوں کے بریک چڑچڑانے اور دوڑتے قدموں کی آوازیں آئیں، منصوبے کے مطابق چچا گھر کے صحن میں بنائی قبر میں جا لیٹے اور چچی قبر کے سرہانے بیٹھ کر مگر مچھ کے آنسو بہانے اور آہ و بکا کرنے لگیں۔ جیسے ہی بھتیجے اندر داخل ہوئے تو ان کے سامنے ایک اور ہی منظر تھا۔ چچی کسی کی قبر پر رونے دھونے میں مصروف تھیں۔ بھتیجوں نے بلند آواز میں کہا کہ چچا کدھر ہیں تو چچی نے کہا کہ ان کو مرے تو چار دن ہو چکے ہیں۔ ہائے تمہارے چچا دنیا سے چلے گئے۔ کتنے نیک انسان تھے۔ دیکھو قبر میں سے کتنی اچھی خوشبو آ رہی ہے۔ قبر میں ایک سوراخ بھی بنا ہوا تھا۔ بڑے بھائی نے قبر میں ناک ڈال کر جیسے ہی کچھ سونگھنے کی کوشش کی، چچا نے اس کی ناک پکڑی اور تیز چھری سے ناک کاٹ دی۔ بڑے بھائی نے ناک پر رومال رکھا اور یہ کہتا ہوا گاڑی کی جانب بھاگا کہ واقعی بڑی اچھی خوشبو آ رہی ہے۔ اس کی ناک تو کٹ چکی تھی تو وہ دوسرے بھائیوں کی ناکیں کیوں سلامت رہنے دیتا۔ دوسرے نے ناک ڈال کر کچھ سونگھنا چاہا تو تو اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا اور اس نے بھی ویسا ہی کیا جیسا بڑے بھائی نے کیا تھا۔ ایک ایک کرکے سب کی ناکیں کٹتی رہیں اور سب ہی خوشبو خوشبو کہتے ہوئے بھاگتے رہے۔
علاج و معالجے کے بعد سب نے یہ طے کر لیا کہ اب چچا کچھ بھی کہتے اور چالاکیاں دکھاتے رہیں، چچا کو تو ہر صورت میں مار ہی دینا ہے۔ جب وہ مکمل صحت یاب ہو گئے تو چاروں آندھی طوفان کی طرح چچا کے گھر چڑھ دوڑے۔ چچا چچی میں سے کسی کی کوئی بات بھی نہیں سنی۔ ایک پلنگ پر چچا کو رسیوں سے باندھ دیا اور پورے جسم اور چہرے کو چادروں سے چھپا دیا۔ چچی جو زاروقطار رورہی تھیں، ان سے کہا کہ گھر کے پیچھے جنگل کے پار جو دریا ہے آج چچا کو ادھر پھینک کر ہی دم لیں گے پھر آکر آپ سے نمٹیں گے۔ چچی نے روتے ہوئے کہا کہ اب تو تم سب نے چچا کو پلنگ پر باندھ ہی لیا ہے اور تم ان کو دریا میں پھینکے جارہے ہو۔ میں نے ان کیلیے حلوہ پکایا تھا۔ دریا میں پھینکنے سے پہلے تم وہ حلوہ ان کو ضرور کھلا دینا تاکہ میرے دل میں یہ حسرت نہ رہ جائے کہ مرنے سے قبل میں تمہارے چچا کو کچھ کھلا بھی نہ سکی۔ بھتیجوں نے حلوے کی پوٹلی لی اور نہایت غصے میں گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ جنگل کافی بڑا تھا اور وہ محنت کے عادی بھی نہیں تھے اس لیے ذراسی دیر میں ہی ان کو بھوک لگنے لگی۔ اِدھر بھوک اْدھر چچی کے ہاتھ کے حلوے کی خوشبو۔ بس پھر کیا تھا، انھوں نے پوٹلی کھول لی۔ حلوا بہت مزے کا تھا اس لیے ہاتھ رک کر ہی نہیں دیئے۔ وہ سارا حلوہ کھا گئے۔ چچی کو پہلے ہی اندازہ تھا کہ شاید ایسا ہی کچھ ہوگا اس لیے انھوں نے حلوے میں نیند کی دوا ملادی تھی تاکہ چچا کو اپنے بچاؤ کا کوئی راستہ نکالنے کا موقع مل جائے۔ کچھ تھکن اور کچھ حلوے نے اپنا کام دکھانا شروع کیا تو وہ چچا کو چھوڑ کر کچھ دور ایک ایسے درخت کی چھاؤں میں جاکر لیٹ گئے جو بہت گھنا تھا۔ تھوڑی دیر میں انھیں نیند نے آلیا۔ اسے دوران ایک اونٹ سوار قریب سے گزرا تو انھوں نے چار جوانوں کو ایک درخت کے نیچے سوتے ہوئے دیکھا اور ایک شخص کو پلنگ پر بندھے ہوئے پایا تو یہی سمجھا کہ کوئی بیمار ہوگا جس کو کسی حکیم کے پاس لے جانے کیلیے یہ جوان چارپائی پر ڈال کر لے جارہے ہونگے۔ وہ جائزہ لینے اونٹ سے اتر کر چچا کے پاس آیا تو انھیں کچھ بولتا پایا۔ منہ کیونکہ بندھا ہوا تھا اس لیئے بات سمجھ میں نہ آسکی۔ اس نے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو چچا کہہ رہے تھے کہ میں شادی نہیں کروں گا، میں شادی نہیں کرونگا۔ اس نے چاروں جانب کا جائزہ لیکر پوچھا کہ معاملہ کیا ہے۔ چچا بولے کہ میری عمر دیکھو اور میرے سگے بھتیجوں کا اصرار دیکھو۔ کہتے ہیں کہ آپ کو شادی کرنا ہی بڑے گی۔ یہ چاروں میرے سگے بھتیجے ہیں، کہتے ہیں آپ کا بڑھاپا کیسے کٹے گا۔ آپ شادی کیلیے تیار ہوجائیں ورنہ ہم زبردستی آپ کی شادی کرادیں گے۔ میں شادی نہیں کرنگا، نہیں کرنگا اور کسی صورت نہیں کرونگا۔ اونٹ والا بھی قسمت سے عقل کا کورا ہی تھا اور تھابھی چچا سے کافی کم عمر کہنے لگا کہ ایسا کرتا ہوں میں آپ کو کھولتا ہوں، آپ مجھے چارپائی سے باندھ دیں، چہرے سمیت میرے سارے جسم کو اسی طرح چادر سے ڈھانپ دیں۔ آپ کے بھتیجوں کو کیا پتا چلے گا کہ اس میں آپ ہیں یا کوئی اور، میں شادی کر لونگا۔ چچا کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ کہنے لگے جلدی کرو کہیں ان کی آنکھ نہ کھل جائے۔ اونٹ والے نے سارے کم جس برق رفتاری سے کئے، چچا نے اس سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ اونٹ والے کو پلنگ کے ساتھ باندھ کر اس کے جسم کے ساتھ چادریں لیٹ دیں اور اونٹ پر بیٹھ کر یہ جا اور وہ جا۔ کچھ ہی دیر میں بھتیجوں کی نیند پوری ہوگئی۔ انھوں نے دیکھا کہ چچا اسی طرح پلنگ کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ چاروں نے چارپائی اٹھائی اور دریا کی جانب چل پڑے۔ اونٹ والے کے کانوں میں جب پر شور دریا کی لہروں کی آواز آئی تو وہ کچھ پریشان سا ہو گیا۔ پوری قوت کے ساتھ چیخنے لگا کہ رک جاؤ میں شادی کرونگا۔ رک جاؤ میں شادی کرنگا۔ بھتیجوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور ہنسنے لگے۔ دیکھو بھئی چچا کوئی نئی چال چل رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چچا اب کوئی چال کامیاب نہیں ہوگی۔ یہ کہہ کر چارپائی کو زور زور سے جھولا دیا اور اونٹ والے کی چیخ و پکار کے باوجود اسے چچا سمجھ کر دریا کی تیز لہروں کے حوالے کر دیا۔
آج یہ چاروں بھتیجے بہت خوش تھے۔ خوشی سے ایک دوسرے سے گلے ملے اور کہا کہ چلو اب چچی سے ملاقات کرتے ہیں اور ان کو چچا کے انجام سے بھی آگاہ کرتے ہیں اور ان کی چالاکیوں کا مزا بھی چکھاتے ہیں۔ خوشی خوشی واپسی کا ابھی آدھا راستہ طے کیا تھا کہ انھیں سامنے سے ایک اونٹ سوار آتا دکھائی دیا۔ جب اونٹ سوار قریب آیا تو مارے حیرت کے ان کی چیخ نکل گئی۔ وہ تو ان کے وہ چچا تھے جن کو ابھی کچھ دیر پہلے وہ دریا میں پھینک چکے تھے۔ چچا قریب آکر اونٹ سے اترے تو ان سب نے حیرت سے پوچھا کہ چچا یہ کیا؟۔ ہم نے تو آپ کو دریا میں پھیک دیا تھا۔ چچا یہ سن کر مسکرائے۔ تم سب ٹھیک کہتے ہو، تم نے مجھے دریا کے کم گہرے پانی میں پھینکا تھا اس لیے مجھے اونٹ ہی ملا اگر مجھے زیادہ گہرے پانی میں پھینکتے تو میں ہاتھی پر بیٹھ کر آتا۔ چاروں بھتیجوں نے کہا کہ چچا کیا یہ بات سچ ہے۔ انھوں نے کہاں کہ جس جگہ تم نے مجھے دریا میں پھینکا تھا، دریا کا وہ حصہ جادو نگری کہلاتا ہے۔ اس میں پھینکے جانے والے کو سونا، چاندی، ہیرے جواہرات کے علاوہ گھوڑے، اونٹ اور ہاتھی بھی ملتے ہیں۔ بھتجوں کو چچا کی اس بات پر یوں بھی یقین آگیا کہ وہ کہ وہ چچا کو اپنے سامنے زندہ و سلامت اور اونٹ پر سوار دیکھ رہے تھے۔ چاروں نے کہا کہ آپ انھیں گہرے پانی میں پھینک دیں تاکہ وہ ہاتھیوں پر سوار ہوکر آ سکیں۔ چچا ان سب کو دریا کے کنارے لے کر آئے اور پھر ایک ایک کو پکڑ پکڑ کر دریا کی لہروں کے حوالے کرتے رہے۔ اس طرح وہ اپنے بڑے بھائی کے سارے خاندان کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
گھر پہنچ کر چچا چچی نے جشن منایا اس لیے کہ وہ اسٹامپ پیپرز جس پر ان کے بھتیجوں نے دستخط کئے تھے، ان پر لکھی تحریروں کے مطابق ان کے بھائی اور ان کے بیٹوں کی ساری جائیدادیں، ملیں اور کارخانے اب ان کی ملکیت ہو چکے تھے۔
بچو! اگر ہم آج ملکوں، چوہدریوں، وڈیروں، خانوں، سرداروں، نوابوں، جاگیرداروں، کارخانہ داروں، سرمایہ داروں اورمل مالکان کے حقائق کی چھان بین کریں تو ان میں سے ایک بہت بڑی اکثریت اسی طرح امیر ترین اور اپنے اپنے دور کے فرعونوں کی شکلوں میں نظر آئے گی۔ اللہ تعالیٰ جلن اور حسد سے سب کو محفوظ رکھے اور حلال روزی کمانے کی توفیق دے۔ (آمین)۔

حصہ