عورت کی ہر منزل پر کامیابی

114

افروز عنایت
اعلیٰ تربیت، ماحول و صحبت عورت کو ہر منزل پر کامیاب کرتی ہے۔ ایک نجی محفل میں خواتین کی گفتگو کا موضوع تھا کہ کیا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی اچھی بیٹی، اچھی بہن، اچھی بیوی، اچھی بہو یا اچھی ماں ثابت ہوسکتی ہے؟ سب کی مختلف رائے تھی، لیکن بحث کا نچوڑ یہ نکلا کہ ضروری نہیں کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی کی کاغذ کی ڈگریاں اُسے زندگی کے اعلیٰ معیار پر پہنچائیں، یا اُسے ہر مقام پر کامیابی نصیب کریں جب تک اس کے ساتھ اچھا ماحول، اچھی صحبت، اچھی تربیت اور دینی تعلیم و عمل کی توفیق شامل نہ ہو۔آپ سب بھی اپنے آس پاس کا مشاہدہ و تجزیہ کریں تو یہ بات نظر آئے گی کہ ڈگریاں اسے اپنی مطلوبہ فیلڈ (شعبے) میں تو کامیابی دلوا سکتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ہر جگہ کامیابی سے ہمکنار کرسکیں۔
اس سلسلے میں میری ایک عزیزہ نے بتایا کہ کسی بھی خاتون کے ساتھ پیش آنے والے واقعات، حالات اور صورت حال اُسے کسوٹی کی طرح پرکھتے ہیں اور کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔ مثلاً دیارِ غیر میں شادی کرکے جانے والی لڑکی کو معلوم ہے وہاں کے جو حالات ہیں، اس لحاظ سے جب کام اس پر پڑتے ہیں تو وہ جلد ہی ایک سلیقہ شعار، سگھڑ عورت کے روپ میں ڈھل جاتی ہے، اور گھر کی تمام ذمہ داریوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی خوش اسلوبی سے انجام دینے کی کوشش کرتی ہے۔ پھر جو ماحول اسے ملا ہوگا اور اس نے بچپن میں جو تربیت حاصل کی ہوگی یقینا اس کے اثرات بھی اُس کی زندگی کی اگلی منزل پر نظر آئیں گے۔ اُس کا شوہر کے ساتھ تعلق و رویہ، اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں حصہ و دلچسپی میں اس کے ماں باپ کی دی ہوئی تربیت اور اس کا پچھلا ماحول نظر آئے گا۔
مثلاً دیارِ غیر میں رہنے والی ایک بچی جس کی مرحومہ والدہ دینی تعلیم و تربیت سے آراستہ تھیں، وہ گاہے بہ گاہے بچی کو بھی اس طرف راغب کرنے کی کوشش میں لگی رہتی تھیں، اب جب کہ وہ دنیا میں موجود نہیں ہیں اور بیٹی شادی کرکے دیارِ غیر میں مقیم ہے، آنے والے وقت میں جب وہ ماں بنے گی تو اس کی رائے ہوگی کہ مستقبل میں وہ کسی مسلم ملک میں مقیم ہوجائے تاکہ اس کے بچے اس (یورپ) ماحول سے دور رہ سکیں اور وہ ان کی آسانی سے اچھی تعلیم و تربیت کرسکے۔
٭…٭…٭
یہ تو تھی دیارِ غیر میں بسنے والی بچی کی کہانی۔ مجھے اپنے آس پاس بہت سی خواتین سے اس سلسلے میں بات کرنے کا اتفاق ہوا۔ ان خواتین اور ان کے ساتھ پیش آنے والے کچھ واقعات آپ سے ضرور شیئر کروں گی۔
٭…٭…٭
زرین: یہ تمہاری بہو نظر نہیں آرہی۔
عطیہ: ہاں… وہ اوپر اپنے کمرے میں ہوگی (کچھ وقفے کے بعد) اپنی مرضی کی مالک ہے، میں نے کہا تو تھا کہ آج خاص مہمان آرہے ہیں… خیر، سوگئی ہوگی۔ اصل میں چھ سات بجے شام کو آفس سے آتی ہے پھر…
زاہدہ: اوہو… اچھا اچھا آپ کی بہو ملازمت کرتی ہے۔
عطیہ کو بڑی شرمندگی محسوس ہورہی تھی۔ وہ خود اٹھیں، مہمانوں کے لیے چائے بنا کر لائیں۔ اس موقع پر وہ چاہتی تھیں کہ بہو بھی ساتھ ہو، لیکن ان کے بار بار کہنے کے باوجود وہ کمرے سے نہیں نکلی۔ زاہدہ کے جانے کے بعد زرین نے ان سے دوبارہ کہا کہ بہو کو تم سمجھا نہیں رہیں کہ…
عطیہ: آپا (زرین) بس میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی سمجھیں کہ میں نورین کو بہو بناکر اِس گھر میں لائی ہوں۔ نہ گھر، نہ گھرداری سے دلچسپی ہے۔ سال ہونے کو آیا ہے، مہمانوں کی طرح شام ڈھلے آتی ہے اور کمرے میں سوجاتی ہے۔ نہ شوہر کا خیال ہے… صبح بیچارے کو آفس کے لیے لنچ بھی میں ہی ابھی تک بناکر دیتی ہوں۔ یہ اعلیٰ تعلیم اُس کے کس کام کی! نہ کھانا بنانا آتا ہے، نہ گھرداری سنبھالنا… کل کو بچے ہوں گے، انہیں نوکروں کے حوالے کردے گی… نہ شوہر کے آرام کا خیال ہے، نہ کل کو آنے والے بچوں کے لیے وہ اچھی ماں ثابت ہوگی۔
٭…٭…٭
مسز جمشید: ثنا بیٹا… وہ اتوار کو مسز عامر جو آئی تھیں رشتے کے لیے… انہیں رشتہ پسند آیا ہے، لیکن ان کی ایک شرط ہے کہ…
ثنا (آنکھیں دکھاتے ہوئے): کیا شرط ہے؟
مسز جمشید: بیٹا وہ کہتی ہیں (ذرا رک کر) کہ ثنا کو کمپنی کی نوکری چھوڑنی پڑے گی… کیونکہ یہ فل ڈے جاب ہے، ثنا گھر کو کیا ٹائم دے سکے گی!
ثنا (غصے سے): نو… نو… کبھی بھی نہیں۔ کیا میں اَن پڑھ اور جاہل لڑکی ہوں کہ چولہا اور ہانڈی میں اپنے آپ کو ضائع کردوں!
مسز جمشید: لیکن بیٹا، گھرداری بھی تو ضروری ہے۔
ثنا: کیا گھرداری گھرداری لگا رکھی ہے آپ نے! گھر سنبھالنے کے لیے نوکر کیا مرگئے ہیں! پیسہ دو اور دس نوکر مل جاتے ہیں۔
مسز جمشید: لیکن بیٹا، شوہر کی ذمہ داری اور پھر بچوں کی…
ثنا: کیا مطلب آپ کا، میں نے M.BA اس لیے کیا ہے کہ شوہر اور بچوں کی خدمت میں اپنے آپ کو ضائع کردوں؟ بالکل نہیں، جتنا موصوف پڑھے لکھے ہیں اتنا ہی میں بھی، اور میں اچھا خاصا کما رہی ہوں… بچے بھی آیائیں اچھا پال لیتی ہیں۔
مسز جمشید: تو میں ان کو منع کردوں؟ تمہاری عمر 32 سال کی ہے، اب تمہیں شادی…
ثنا: پلیز مام، یا تو مجھے اتنا نہ پڑھایا ہوتا… وقت پر اگر میرے مطلب کا بندہ مل جائے گا تو شادی بھی کرلوں گی، لیکن جسے میری شرائط منظور ہوں۔
٭…٭…٭
دردانہ بیگم: سیرت، رات کا کھانا آپ کو بنانا ہے، ویسے ہی دیر ہوگئی ہے، آپ کچن میں چلی جائیں۔
سیرت کی شادی کو ابھی 20 دن ہی ہوئے تھے۔ 15 دن تو اس نے کمپنی سے چھٹی لے رکھی تھی، اور گزشتہ دو تین دنوں سے وہ آفس جارہی تھی۔ آتے آتے اُسے شام کے سات بج جاتے تھے۔ امی کے گھر میں تو وہ آفس سے آکر دو گھنٹے سو جاتی تھی۔ نو بجے امی اسے کھانے کے لیے اٹھاتیں۔ لیکن یہاں آکر تو ساری روٹین چینج ہوگئی تھی۔ وہ جلدی سے کچن میں گئی۔ پیچھے سے ساس کی آواز آئی ’’چکن کڑھائی اور ساتھ میں سلاد اور رائتہ بنا لینا، اوردس بارہ روٹیاں۔ آج کے لیے تو چلو صحیح ہے، کل سے پھر صحیح طریقے سے بنا لینا، اور پہلے سسر اور شوہر کو چائے بنا دو، وہ لوگ بھی ابھی واپس آئے ہیں‘‘۔ سیرت ’’جی امی‘‘ کہہ کر کچن میں مصروف ہوگئی۔
٭…٭…٭
شادی کے تین چار مہینے تو خیریت سے گزر گئے۔ وہ آفس سے آکر سارا گھر سنبھال لیتی۔ متوسط طبقے سے اس کا تعلق تھا، ماں نے گھر اور گھرداری سکھا دی تھی۔ لیکن جب اس کی طبیعت خراب ہوئی تو ایک مہینے کے اندر ہی اس نے محسوس کیا کہ اس کے لیے یہ سب ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہوجائے گا، بچے کی پیدائش کے بعد تو مزید دقت پیش آئے گی۔ وہ اس گھر کی بہو تھی، یہاں کی ذمہ داری سے وہ اپنے آپ کو الگ نہیں رکھ سکتی تھی۔ ادھیڑ عمر ساس شام تک گھر کو سنبھالتیں، جیسے ہی سیرت گھر میں داخل ہوتی، وہ سارے کام اُس کے سپرد کردیتیں۔ لہٰذا اس نے اپنی والدہ سے مشورہ کیا کہ کیا کرے؟ والدہ نے تمام بات تحمل سے سن کر کہا ’’یہ ملازمت تمہاری مجبوری نہیں ہے، بے شک تم اتنا کماتی ہو کہ فل ٹائم نوکر رکھ سکتی ہو، لیکن شوہر اور پھر آنے والے بچے کے لیے ہر صورت میں تمہیں ٹائم دینا ہوگا، اگر ان سب چیزوں کے ساتھ تم انصاف کرسکتی ہو تو ٹھیک ہے اپنی ملازمت جاری رکھو، ورنہ…‘‘
سیرت نے اسی میں بہتری سمجھی۔ والدہ نے اسے مزید سمجھایا کہ تمہاری تعلیم کبھی بھی ضائع نہیں جائے گی، تم اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرلو تو سمجھو کہ تم کامیاب اعلیٰ تعلیم یافتہ عورت ہو۔ لہٰذا سیرت نے کچھ عرصے کے لیے جاب چھوڑ دی۔
٭…٭…٭
میری بڑی بہن جو ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں، ایک معروف تعلیمی ادارے میں پرنسپل کے فرائض انجام دیتی رہیں، انہوں نے ملازمت کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ بچیوں کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی، بلکہ اُن کا کہنا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ اور اعلیٰ تربیت یافتہ عورت ایک اچھی بہو، بیوی اور ماں کے فرائض بحسن وخوبی انجام دینے کی اہل ہوتی ہے، کیونکہ وہ دنیا کے نشیب و فراز سے بہت کچھ سیکھتی ہے۔
لیکن یہاں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ میری بہن کے پیچھے میری والدہ کی تربیت کا خاص ہاتھ ہے، جس کی وجہ سے وہ ایک کامیاب بیوی، بہو اور ماں ثابت ہوئیں۔
٭…٭…٭
میرے آس پاس کچھ بچیاں ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، جن میں سے چند ملازمت بھی کررہی ہیں، لیکن اپنی فیملی کو مکمل وقت دیتی ہیں اور بچوں کی تربیت اور تعلیم پر خاص توجہ دیتی ہیں۔ ایک بچی نے بتایا کہ تعلیم نے مجھے شعور و آگہی بخشی ہے جس کی بدولت میں اپنے گھر کو صحیح طریقے سے چلا سکتی ہو، اور گھر کے تمام افراد کی عزت کا خیال رکھتی ہوں، مجھے معلوم ہے کہ اس گھرانے کا ہر شخص میرے لیے احترام کے قابل ہے۔ یہ آگہی نہ صرف میری ماں کی وجہ سے مجھے ملی، بلکہ اعلیٰ تعلیم کی وجہ سے بھی…
غرض کہ اس سلسلے میں گھر کی تربیت اور اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ماحول کی بھی اہمیت ہے۔ جیسا کہ میں نے اوپر ایک حقیقی مثال پیش کی ثنا کی، جسے صحبت اور ماحول ایسا ملا کہ گھر گرہستی کو بیکار سمجھنے لگی، جبکہ دوسری طرف سیرت نے اپنے سسرالی کنبے کی خوشی اور آنے والی اولاد کی تربیت کے لیے ملازمت تک چھوڑ دی تاکہ وہ اچھی بہو، بیوی اور ماں بن سکے۔
٭…٭…٭
کئی جگہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، باشعور، اچھی صحبت اور اچھے ماحول میں رہنے والی لڑکیاں اپنے لیے ایک مقام بنا لیتی ہیں، لیکن کہیں کہیں اعلیٰ تعلیم کے باوجود عورت تمام آداب و اخلاق سے کوری ہوتی ہے، جو نہ اچھی بیٹی، نہ اچھی بیوی، نہ اچھی ماں اور نہ اچھی بہو ثابت ہوتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جسے ایک خوبصورت خالی برتن، جو صرف شوپیس کے طور پر سجا ہوا نظر آتا ہے۔
امام غزالیؒ نے اس بارے میں خوب کہا ہے کہ ’’کسی کی پہچان علم سے نہیں ہوتی بلکہ ادب سے ہوتی ہے، کیونکہ علم تو ابلیس کے پاس بھی بہت تھا، لیکن وہ ادب سے محروم تھا‘‘۔

حصہ