“شاہین” پرندوں کا بادشاہ

1125

راحیلہ چوہدری
پیارے بچو! یہ توآپ سب جانتے ہیں کہ شیر جنگل کا بادشاہ کہلاتا ہے۔پھلوں کا بادشاہ آم کو کہتے ہیں۔اسی طرح شاہین کو پرندوں کا بادشاہ اور پہاڑوں کا شہزادہ کہا جاتاہے۔شاہین کو پرندوں کا بادشاہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایسی خوبیوں کا مالک ہے جو اللہ نے اور کسی پرندے کو عطا نہیں کیں۔آج ہم دیکھیں گے کہ شاہین میں ایسی کونسی خوبیاں ہیں جس کی وجہ سے اسے پرندوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے ۔اور اس کی ان خوبیوں سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے۔
شاہین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر آسانی سے اڑان اڑ سکتا ہے ۔یہ اونچائی اتنی ہے جہاں تک صرف ایک جنگی جہاز اڑان بھر سکتا ہے۔شاہین کی اس خوبی میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ انسان کو اپنی سوچ بہت بلند رکھنی چاہیے۔زندگی میں ہمیشہ اپنا مقصد بڑا رکھنا چاہیے۔اور اس مقصد تک پہنچنے کے لیے سوچ بڑی رکھنی چاہیے۔
شاہین کی دوسری خوبی یہ ہے کہ وہ صرف اکیلے ہی اُڑنا پسند کرتا ہے۔یا اپنے جیسے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ اُڑنا پسند کرتا ہے۔اس کی
وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ خودکو اعلٰی سمجھتا ہے بلکہ اس کا مطلب بری صحبت سے گریز کرنا ہے۔پیارے بچو!شاہین کی اس خوبی میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔کہ ہر طرح کے لوگوں میں اُٹھنا بیٹھنا نہیں چاہیے۔بری صحبت سے بچنا چاہیے۔نیک اور صاحب علم لوگوں کی صحبت تلاش کرنی چاہیے۔جن میں بیٹھنے سے آپ کو کوئی نقصان نہ ہو۔
شاہین کی تیسری بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی نظر بہت تیز ہوتی ہے ۔کہتے ہیں کہ شاہین کی آنکھ ایک انسانی آنکھ سے دس گنا زیادہ دور تک دیکھ سکتی ہے۔گویا قدرت نے شاہین کی آنکھوں میں قدرتی دور بین فٹ کر دی ہے۔یہی وجہ ہے کہ شاہین اپنے شکار کو تین کلو میڑ کی بلندی سے دیکھ لیتا ہے۔اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو ۔اپنا شکار ایک ہی دفعہ میں حاصل کر لیتاہے۔
پیارے بچو!شاہین کی اس خوبی میں ہمارے لیے ایک اہم سبق ہے کہ کامیابی کے راستے میں جتنی بھی مشکلات آئیں۔ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔مشکلات سے گھبرا کر قیمتی وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔مقصدِ حیات کو حاصل کرنے کے لیے سوچ کی سمت کو درست رکھنا چاہیے۔تاکہ آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنے اور ان سے بچنے کے لیے آپ پہلے سے تیار ہوں۔
شاہین کی چوتھی خوبی یہ ہے وہ ہمیشہ تازہ شکار کر کے کھانا کھا نا پسند کرتا ہے۔اور گدھ کی طرح مردار کھانا پسند نہیں کرتا۔علامہ اقبال فرماتے ہیں۔
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
گرگس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور
پیارے بچو!گرگس گدھ کو بولتے ہیں ۔شاہین کی جسامت سے ملتا جلتا یہ بھی ایک پرندہ ہوتا ہے۔ لیکن گدھ کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ جب وہ کسی جانور کو شکار کرتے دیکھتا ہے تو درخت پہ بیٹھ کے اسے آرام سے دیکھتا رہتا ہے۔جب جانور اپنا پیٹ بھر کے باقی شکار چھوڑ کے چلا جا تا ہے تو وہ اسکا بچا ہوا شکار آ کے کھا لیتا ہے۔
اس شعر میں علامہ اقبال نوجوانوں کو سمجھا رہے ہیںکہ مومن کبھی نہ حرام کھا تاہے نہ کسی کا بچا ہوا ۔بلکہ شا ہین کی طرح اپنی محنت سے کما کے حلال کھانا پسند کرتا ہے ۔
شاہین کی تازہ شکار کر کے کھانے کی خوبی سے ایک نقطہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ مسلمانوں کو نئے علوم سیکھنے چاہیں ۔صرف پرانے علم پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔محنت سے نئے علم کی تلاش میں لگے رہنا چاہیے اور نئی نئی تحقیقات سامنے لانی چاہیں۔
شاہین کی پانچویں اور میری سب سے پسندیدہ خوبی یہ ہے کہ جب تیز آندھی کے بعد طوفان آتا ہے اور تیز بارش ہونے لگتی ہے۔تو شا ہین باقی پرندوں کی طرح گھونسلے میں چھپ کے بیٹھنے کی بجائے طوفان سے لطف اندوز ہونا پسند کرتا ہے۔اور کالے بادلوں سے بھی اوپر جا کے اڑتا ہے۔شاہین طوفان کی مخالف سمت کو مزید اُونچا اُوڑنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔یہ طوفانی ہوا شاہین کو کم طاقت لگاتے ہوئے زیا دہ اُونچائی پر لے جاتی ہے۔شاہین کی اس خوبی کو دیکھتے ہوئے علامہ اقبال نے ایک جگہ فرمایا۔
تندیِ بادِ مخا لف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اُڑانے کے لئے
اس شعر میں بھی علامہ اقبال درحقیقت مسلمان نوجوانوں سے مخاطب ہیںاور کہہ رہے ہیں ۔زندگی میں مسائل اور مشکلات آتی رہتی ہیں۔اس لیے ہمیں کسی مشکل وقت سے گھبرانا نہیں چاہیے۔اور شاہین کی طرح مشکلات کا سامنہ بہادری اور خوشی سے کرنا چاہیے۔
پیارے بچو!آج ہم نے آپ کو شاہین کی پانچ ایسی خصوصیات بتائی ہیں۔جن سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک مسلمان اور مومن کو شاہین کی طرح بہادر اور بے خوف ہونا چاہیے۔اس کی سوچ میں شاہین کی طرح بلندی ہونی چاہیے۔اور مقصدِ حیات میں کامیابی کے لیے شاہین کی طرح کا جنون اور عشق شامل ہونا چاہیے۔کیونکہ شاہین جب کچھ کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو ناممکن کو بھی ممکن بنا لیتا ہے۔
علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں شاہین کو مسلمانوں کے سامنے بہادر، خودار ،بلند پرواز اور بلند عزمی کی علامت بنا کر مسلمانوں کو ہندوں اور انگریزوں سے اپنا حق لینے کے لیے بیدار کیا۔وہ مسلمانوں کو شاہین کی طرح بلند نگاہ،بلند پرواز اور بلند رفتار دیکھنا چاہتے تھے۔
پیارے بچو! آج ہم اسی لیے ناکام ہیں کیونکہ ہم نے شاہین کی زندگی چھوڑ کر گدھ جیسی زندگی کو اپنانا زیا دہ پسند کیا ہے۔آئیے اور آج ہی سے عہد کیجیے۔کہ اقبال کے شاہین بنے گے اور اپنے ملک پاکستان کا نام روشن کریں گے۔

حصہ