شاعری کو جس نے اوّلیت دی، مشکل زندگی گزاری

183

طارق رئیس فروغ

طارق سبزواری اپنے مخصوص ترنم کی وجہ سے مشاعروں کی جان ہیں۔ طارق سبزواری نے پاکستان اور پاکستان سے باہر ہندوستان ، امریکہ ، برطانیہ ، دبئی اور دیگر ممالک میں بے شمار مشاعروں میں اپنا کلام اپنے مخصوص ترنم کے ساتھ سنا کر بے حد داد سمیٹی ہے۔ طارق سبزواری کی ملک اور بیرون ملک مقبولیت اور پسند کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اُن کو اُن کی شاعری کے حوالے سے اب تک پچاس سے زائد ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔

جسارت میگزین: اپنی ابتدائی زندگی کے متعلق اور ادب کی دنیا میں آپ کی آمد کب اور کیسے ہوئی بتائیں ؟
طارق سبزواری: میری جائے پیدائش بدایوں ہے۔ ابتدائی تعلیم بدایوں اور پھر علی گڑھ میں ہوئی،لیکن پاکستان ہجرت کرنے کے باعث میری انجینئرنگ کی تعلیم ادھوری رہ گئی۔بہرحال بقیہ تعلیم ایم بی اے میں نے کراچی آکر مکمل کی۔ہمیں پاکستان آنے کی ایک دھن تھی۔ جبکہ مجھے ہندوستان میں فلموں میں آفر تھی ۔۱۹۷۶ء میں جگجیت چترا کے پہلے البم میں میری غزل شامل ہوگئی تھی، ’’اک نہ اک شمع اندھیرے میں جلائے رکھیے‘‘۔ میرا بقیہ خاندان پہلے ہی پاکستان ہجرت کرچکا تھا۔ ہمارے شہربدایوں اور خاندان میں ادبی ثقافت مکمل طور پر موجزن تھی۔میرے خاندان میںشاعروں ، ادیبوں، مفتی اور علماء کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ، جنھوں نے اردو ادب کے ساتھ ساتھ اسلامی اور تاریخی کتب تحریر کیں۔ ہمارے خاندان کے بزرگ ایران کے رستے سعودی عرب سے ہندوستان آئے اور یہاں کے عوام میں اسلام کا پیغام پہنچایا۔ میرے بزرگوں میںعبدالحئی لطف بدایونی ایک معروف شاعر تھے۔ ان کا مشہور و معروف شعر ہے ’’ رُخِ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ؍نہ ہمارے بزم خیال میں نہ دکان ِ آئینہ ساز میں۔ اس کے علاوہ میرے تایا فوق سبزواری تھے جن کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد ہے، جن میں انجم فوقی بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میری رشتے داری حمیدی خاندان میں بھی ہے جس میں دیگر معروف شخصیات ہیں جیسے دلاور فگار، محشر بدایونی، سرور صاحب، لیث صدیقی شامل ہیں۔ چونکہ میرے تایا شاعر تھے اور میرے والد اوج سبزواری بھی مترنم شاعر تھے، اس وجہ سے ہمارے گھر میں شعراء کا اجتماع ہوتا رہتا تھا۔ شاعری کے سلسلے میں میرے والد نے ہی مجھے حوصلہ دیا۔ میں ان کے ساتھ نوجوانی سے ہی مشاعروں میں جاتا تھا۔میرے والد کے دوست اکثر مجھ سے کہتے کہ بیٹے آپ بھی کوئی غزل پڑھ کر سنائیں، کیونکہ میری آواز اچھی تھی اس لیے میرا حوصلہ افزائی کی گئی ۔ میری آواز بہت پسند کی جانے لگی۔ چونکہ بدایوں ایسا شہر تھا جس میں جگہ جگہ شعرو ادب کی محفلیں سجی رہتی تھیں۔ ان محفلوں میں بھی میں ذوق و شوق کے ساتھ شریک ہونے لگا تھا۔ اس کے ساتھ ہی جب میرا داخلہ علی گڑھ یونیورسٹی میں ہوا تو انھوں نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا، وہاں ٹیلنٹ کی بڑی قدر تھی۔ وہاں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بہت ابھارا جاتا ہے ، ادبی مقابلے، بیت بازی، شعر و شاعری، پڑھائی وغیرہ کے کمپیٹیشن ہوتے رہتے ہیں۔ گفتگو کرنے کے آداب سکھائے جاتے ہیں۔ اس ماحول میں مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے مشاعرے بہت مقبول تھے اور اس میں سامعین کی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی تھی۔ علی گڑھ میں مشاعرے پڑھنا بھی ایک کمال کا معاملہ تھا۔ ہوٹنگ بھی ادب کے دائرے میں رہ کر ہوتی تھی۔جسے آپ ایک ادبی زیور بھی کہہ سکتے ہیں۔نئے شاعر وہاں پڑھتے ہوئے گھبراتے تھے۔ مجھے ان مشاعروں میں اس وقت کے سینئر شعراء کے ہمراہ مشاعرہ پڑھنے کے بے شمار مواقع ملے۔ اسی زمانے میں دلی میں لال قلعے کا مشاعرہ بھی پڑھا جس میں اس زمانے کے جید شعراء نے بھی اپنا کلام سنایا۔ اس طرح میں نے دلی اور بدایوں سے لے کر مدراس تک پورے ہندوستان میں مشاعرے پڑھے۔
جسارت میگزین:آپ نے اپنا پہلا مشاعرہ کس عمر میں پڑھا تھا؟
طارق سبزواری: پہلا مشاعرہ سولہ سال کی عمر میں پڑھا تھا۔اور اٹھارہ سال کی عمر میں تو بدایوں سے باہر بھی جاکر مشاعرے پڑھے۔ بیس سال کی عمر میں علی گڑھ آگیا پھرمیں باقاعدہ شاعری کرنے لگا اور علی گڑھ اور باہر کے مشاعروں میںبھی شرکت کرنے لگا۔ مجھے اپنے سینئر شعراء کے ساتھ مشاعرے پڑھنے اور ان کی حوصلہ افزائی کا بھرپور موقع ملا۔ جیسے ساحر لدھیانوی جو مشاعروں میں نہیں جاتے تھے۔ پٹھان کوٹ میں ان کے اعزاز میں ایک مشاعرہ ہوا جس میں میں نے بھی غزل پڑھی۔ جسے ساحر لدھیانوی نے بے حد پسند کیا اور اپنے گلے کا ہار مجھے پہنادیا۔ اس مشاعرے میں خمار بارہ بنکوی اور بشیر بدر جیسے جیّد شعراء بھی شریک تھے۔ اسی طرح اعظم گڑھ میں کیفی کے اعزاز میں ہونے والے مشاعرے میں بھی کیفی اعظمی نے میرا کلام بہت پسند کیا۔ اس مشاعرے میں جاں نثار اختر بھی موجود تھے۔ اس طرح مجھے اپنے سینئر شعراء کی بے حد پذیرائی ملی اور میرا حوصلہ بہت بڑھا۔ پھروہ وقت آیا کہ خمار صاحب، بیکل اتساہی اور میں، ہم تینوں ہر مشاعرے میں ساتھ ہی جانے لگے۔ اتنی شہرت اور نام کو چھوڑ کر پاکستان آنا کوئی مذاق نہیں تھا۔ مشاعروں نے مجھے نقصان یہ پہنچایا کہ میں جرائد میںشائع نہیں ہوا۔
جسارت میگزین:علی گڑھ یونیورسٹی کے دور میں آپ کن شعرائے کرام سے متاثر ہوئے؟
طارق سبزواری:وہ میرا نوجوانی کا دور تھا مجھے ایسا کوئی احساس نہیں تھا کہ مجھے کسی استاد سے اپنے کلام پر اصلاح لینی چاہئیے۔ ویسے میں دلاور فگار صاحب سے وقتاً فوقتاً اصلاح لیتا تھا۔ دلاور فگار صاحب اسکول میں میرے ٹیچر تھے۔ انھوں نے مجھے چھٹی یا ساتویں کلاس میں پڑھایا بھی تھا۔لیکن پھر مجھے اصلاح کی زیادہ ضرورت نہیں پڑی شعری ذوق مجھے اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملا تھا۔
جسارت میگزین:جب آپ ۱۹۷۷ء میں پاکستان آگئے تو آپ کو یہاں کیسا ریسپانس ملا؟
طارق سبزواری:میں جب یہاں آیا تو لوگوں نے مجھے ترنم کے ساتھ پڑھتے سنا تو کہا کہ یہ تو گاتا ہے۔ ابتداء میں یہاں ترنم کی زیادہ قدر نہیں تھی۔ ہندوستان میں میں طارق بدایونی کے نام سے شاعری کرتا تھا لیکن میں نے پاکستان آکر طارق سبزواری کا نام اختیار کرلیا۔ میرا کافی کلام یو ٹیوب پر طارق بدایون کے نام سے موجود ہے۔
جسارت میگزین:یہ بتائیے کہ جب ہندوستان میں اتنی بڑی تعداد میں مشاعرے ہوتے رہے ہیںاور ان مشاعروں میں سامعین کی بھی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی رہی ہے کیا وجہ ہے کہ ہندوستان میں اردو کی ترقی کا سفر اس تیزی سے نہیں طے ہورہاہے ؟
طارق سبزواری:جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ وہاں کا ایک بڑا طبقہ اردو کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن اردو کے اندر اتنی چاشنی اور کشش ہے کہ وہ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکے بلکہ اردو دشمنی میں اس حد تک پہنچ گئے کہ انھوں نے ایسا نصاب ترتیب دیا کہ بچوں کو مجبوراً اردو چھوڑنی پڑی۔ اس طرح اردو گھروں اور مدرسوں میں رہ گئی۔ اس کے علاوہ فلموں اور گانوں سے اردو نہیں نکال سکے۔ کیونکہ ہماری اردو شاعری میں اتنی جان اور کشش تھی کہ اس کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔مشاعرے اتنے مقبول تھے کہ صبح کی اذان جب تک نہ ہوجاتی مشاعرہ ختم نہیں ہوتا، اس لیے ان کی یہ مجبوری تھی کہ وہ مشاعرے ختم نہیں کرسکتے تھے۔
جسارت میگزین:کیا ہندوستانی حکومت شاعروں اور ادیبوں کو کچھ سہولتیں بھی بہم پہنچاتی ہے؟
طارق سبزواری:جی ہاں وہاں حکومت نے یہ کیا کہ شاعروں اور ادیبوں کو ریل اور ہوائی جہاز کے کرایوں میں پچاس فی صد رعایت دینی شرو ع کردی۔ ہندوستان میں مشاعرے مقبول ہونے کی وجہ یہ بھی تھی کہ حکومت نے اردو کی تو سپورٹ نہیں کی لیکن مشاعروں کو ضرور سپورٹ کیا۔ اس کے لیے انھوں نے یہ کیا کہ مختلف صوبوں میں اکیڈمی بنادیں۔ اور ان اکیڈمیز کو فنڈ دیا اور کہا کہ آپ اردو کے شعراء اور ادیبوں کی کتابیں شائع کریں۔ اس طرح اردو کو بہت پروموشن ملا۔ وہاں ہر بڑے شہر میں سال میں ایک ٹریڈ فئیر لگتی ہے وہاں حکومت نے مشاعرہ اور میوزیکل کنسرٹ کو لازمی قرار دے دیا۔ اس طرح جب مشاعرے حکومت فنڈ کے تحت ہوں گے تو ان کو بہت تقویت ملی۔ اور شاعروں کو نذرانے اور وظائف خوب ملتے ہیں۔ یہ مراعات اور پروموشن پاکستان میں نہیں۔ ہمارے یہاں بھی مشاعروں اور دیگر ادبی تقریبات کے لیے حکومتی سرپرستی بہت ضروری ہے۔
جسارت میگزین:ہم دیکھتے ہیں کہ اردو زبان میں اب ہندی کے الفاظ کچھ زیادہ ہی استعمال ہونے لگے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
طارق سبزواری:اس کی وجہ ہندوستانی فلموں اور ٹی وی ڈرامے ہیں۔ جو یہاں بہت ذوق اور شوق کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں۔لیکن ان الفاظ سے اردو کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا۔
جسارت میگزین: آپ چونکہ ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہوں کی شاعری سے واقفیت رکھتے ہیں، کیا آپ موجودہ عہد کی شاعری سے مطمئن ہیں؟
طارق سبزواری:جی میں بہت مطمئن ہوں۔ بس یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے کلاسیکل شعراء کو پڑھتے تھے، پہلے کی اردو شاعری میں عہد کے لحاظ سے فارسی کا بہت اثر تھا۔ جبکہ اب ہم چونکہ انگریزی کے زیر اثر بہت رہے اس لیے ہماری شاعری میں بھی انگریزی کے اثرات نظر آتے ہیں۔ فیض صاحب نے ہماری شاعری کا ڈکشن تبدیل کیا ہے۔ انھوںنے خوبصورت لفظیات کا بہترین استعمال کیا۔
جسارت میگزین:آج کل فیس بک شاعری کا بہت رجحان ہے ۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟
طارق سبزواری: فیس بک اور واٹس ایپ پر جو شاعری کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، اس سے فائدہ بھی ہورہا ہے لیکن ساتھ ہی نقصان یہ ہورہا ہے کہ لوگ بے بحرا لکھ رہے ہیں یا دوسروں کے کلام میں اپنے مصرعے جوڑ رہے ہیں ہاں بس ایک چہل پہل نظر آتی ہے۔ لیکن اردو ادب کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
جسارت میگزین:نثری نظم کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟
طارق سبزواری:اصل میں ہمارے ہاں موضوعات محدود تھے۔ خاص طور سے غزل تو ہمیشہ بہت پابند رہی ہے۔پھر آہستہ آہستہ ہم پابندی کے حصار سے نکلے۔ تو وہ شعراء بھی تھے جو بحر میں غزل نہیں کہہ پاتے ، جبکہ خیال بھی ان کے پاس تھے۔ تو انھوں نے نثری نظم میں اپنے خیالات کو لانا شروع کیا۔ اس میں سے بیشتر کلام تو صفحہ ہستی سے ہی نکل گیا جو غیر معیاری تھا۔ لیکن کچھ کلام جس میں جان تھی باقی رہا۔ یہاں تک کہ اس میں غنائیت بھی آگئی۔ پھر یہ ہوا کہ مصرعوں میں غنائیت ہو تاکہ لگے کہ پوئٹری ہے۔ تو وہ سلسلہ جاری و ساری رہا۔ اس میں نئی نئی لفظیات ، نئے نئے موضوعات کے ساتھ لوگ نظمیں لکھتے ہیں۔ اب زندگی کا ہر پل جو آپ گزار رہے ہیں وہ شاعری کا موضوع بن چکا ہے۔ شادی بیاہ، میل جول، طلاق کے مسائل ، یہ سب اب شاعری کے موضوع بن چکے ہیں۔ بہرحال نثری نظم کا بھی ایک حلقہ ہے جو اس سے محظوظ ہورہا ہے۔ شمس الرحمان فاروقی نے اپنے رسالے شب خون میں نثری نظم کو بہت پروان چڑھایا۔ جو کہ خود ایک اچھے نقاد اور کمال کے رائٹر ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ ان لوگوں نے اسے سراہا۔ اس میں بھی کلاس ہے۔ مگر غزل کی اپنی ایک روایت ہے۔ جو بہت پسند کی جاتی ہے۔ نظم میں بھی ایک روانی ہے، نظم لکھنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے، بلکہ نظم لکھنا زیادہ مشکل ہے۔
جسارت میگزین:آپ کا کیا خیال ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے کیا صرف شاعری کافی ہوتی ہے ؟
طارق سبزواری:مجموعی طور پر اگر آپ دیکھیں کہ آپ بہت اچھے شاعر ہیں، لوگ آپ کو پسند کرتے ہیں، تو اس شاعری سے آپ اپنا کام چلا سکتے ہیں۔ کیونکہ ہندوستان میں تو شعراء کوئی ملازمت وغیرہ نہیں کرتے بلکہ اسی سے اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن ہمارے پاکستان میں جو عہد ہے، یا جو آنے والا عہد ہے۔
اس میں جب تک شاعری کمر شیلائز نہیں ہوگی، اس وقت تک ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ شاعری ہمارا پیٹ بھرے گی۔ اس طرح یہ ہماری لائف کا سیکنڈ آپشن ہوجاتا ہے۔ جن لوگوں نے اسے اپنا فرسٹ آپشن بنایا انھوں نے اپنی زندگی بہت مشکل گزاری۔ جہاں تک پرانے زمانے کے شاعروں میر و غالب وغیرہ کا تعلق ہے تو ان کی اس وقت کے نوابوں مہاراجوں نے بہت پذیرائی کی ۔ ان کے وظیفے باندھے انھیں رہنے کو گھر وغیرہ دئیے ۔ اگر ہماری حکومت شاعروں اور ادیبوں کی سرپرستی کرے تو پرائیوٹ سیکٹر بھی اس میں اپنا کچھ حصہ ڈالنے لگتا ہے۔ ہمارے ہاں تو گھر والے بچوں کو ادب سے دور رکھتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے انگریزی تعلیم حاصل کریں اور اپنا بہترین کیرئیر بنائیں۔ جب انھیں اس بات کا اطمینا ن ہوجائے گا کہ ہمارے بچے شاعر بن کر بھی لاکھ دو لاکھ کماسکیں گے تو پھر وہ انھیں ادب سے ہرگز نہیں روکیں گے۔ ہندوستان میں شاعر چار چار لاکھ روپے مہینہ تک کما رہا ہے۔ اور ساتھ ہی ان کی عزت بہت ہے۔ ہر محکمہ میں ان کی بات سنی جاتی ہے۔
جسارت میگزین:آپ کا کیا خیال ہے کہ فی الحال کسی ادبی تحریک کی کوئی امید ہے ؟
طارق سبزواری:ترقی پسند تحریک کے بعد جدید شاعری آئی۔ جس سے کئی طرح کی شاعری کی شاخیں کھلیں، نثری نظم وغیرہ۔ نثری نظم بھی ایک طرح کی تحریک ہی تھی۔ فی الحال تو مجھے کسی قسم کی کوئی انقلابی تحریک ادب میں نظر نہیں آرہی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں شاعر یا شاعری کو اب اتنی اہمیت نہیں دی جارہی جتنی کہ دی جانی چاہئیے۔ مقتدرہ قومی زبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کوشش کریں کہ اردو ادب کو عام فہم کیسے کیا جائے۔ تاکہ شاعر وں اور ادیبوں کی پذیرائی شروع ہو۔ کوئی کمرشیل پہلو بنے ۔ لیکن بد قسمتی سے مقتدرہ نے ایسا کوئی رول ادا نہیں کیا۔ صرف انہوں نے اپنا ہی اپنا کیا۔ شاید حکومت کچھ اس طرف نظر ڈال لیتی مگر ہمارے لوگوں نے ہی اس بات کو اہمیت نہیں دی۔
جسارت میگزین:آپ کے خیال میں ترقی پسند تحریک نے اردو ادب پر کیا اثرات ڈالے ؟
طارق سبزواری:یقینا بہت اچھے اثرات ڈالے ۔ ہر تحریک کا ایک وقت ہوتا ہے۔ اور ترقی پسند تحریک نے پاکستان کی آزادی تک بڑا واضح کام کیا۔ نچلے طبقے کے عوام کے مسائل کو اپنی شاعری اور نثر میں جگہ دی اور ریاست تک پہنچایا۔ جبکہ ہم عاشقی اور معشوقی تک ہی غزل کو محدود رکھے ہوئے تھے۔ ترقی پسند تحریک سے ہماری سوچ کے راستے کھلے، اسی کے ساتھ پھر جدید غزل آگئی۔ جس نے غزل میں نئی لفظیات اور تراکیب کا اضافہ کیا۔ آج بھی آپ جب پرانے ادیبوں شاعروں پر نظر ڈالتے ہیں تو ترقی پسند تحریک کے ہی افراد نظر آتے ہیں مثلاً کیفی اعظمی، سردار جعفری، اختر الایمان، فیض احمد فیض وغیرہ۔پھر اس کے بعد اس تحریک کی ضرورت ختم ہوگئی کیونکہ غزل ان مسائل اور موضوعات کو اپنے اندر سمو لیا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو شاعری کو عوام تک پہنچانے کے لیے مشاعروں کی سپورٹ کی ضرورت ہے جو کہ سرکاری سطح کے بغیر ممکن نہیں، ہم اس سلسلے میں صرف آرٹس کونسل کو ہی مورد ِ الزام نہیں ٹہرا سکتے۔
جسارت میگزین:آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آج کا تخلیق کار اپنے عہد کی نمائندگی کررہا ہے ؟
طارق سبزواری:دیکھیے اچھی تخلیق کرنے والا صرف اپنے ہی عہد کا نمائندہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیش نظر ماضی ، حال اور مستقبل تینوں عہد ہوتے ہیں۔ انسان کے اندر کے احساس کا صحیح انداز میں اظہار ہی بہترین تخلیق کہلاتی ہے۔ جو ہر عہد کے لیے قابل قبول ہوتی ہے۔ جیسا کہ غالب اور میر کی شاعری آج بھی پسند کی جارہی ہے۔
جسارت میگزین:طارق صاحب آپ نے زیادہ تر غزلیں لکھی ہیں کیا نظمیں بھی آپ نے لکھی ہیں؟
طارق سبزواری:میں نظمیں بہت کم لکھی ہیں۔ کیونکہ مشاعروں میں غزلیں ہی زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ اسی لیے میں نے کوشش کی کہ غزل کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے آسان الفاظ میں غزلیں کہی جائیں اور نعرے والی شاعری سے بچا جائے۔
جسارت میگزین:آپ کے خیال میں ادب کس حد تک معاشرے کو متاثر کرتا ہے؟
طارق سبزواری:جی ادب یقینا ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اور یہ معاشرے کی اصلاح کے لیے بہترین ذریعہ ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ سیاستدانوں کو جب
ضرورت پڑتی ہے تو وہ ہمارے اشعار سے ہیعوام کو متاثرکرتے ہیں۔ میرا ہی ایک شعر پارلیمنٹ میں پڑھا گیا ’’ آیا تو بار بار بلاوا امیر کا ؍ہم سے مگر نہ ہوسکا سودا ضمیر کا‘‘۔
جسارت میگزین:کیا وجہ ہے کہ اب اردو ادب میں استاد اور شاگرد کا رواج معدوم ہوگیا ہے ؟
طارق سبزواری:اس کی وجہ یہ ہے کہ جو سینئر شاعر ہے وہ نہیں چاہتا کہ اس کا شاگرد اچھے شعر کہے ، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے شاگرد میں اچھا شعر کہنے کا ٹیلنٹ ہے ،اور اگر میں نے اسے ذرا پش کردیا تو یہ مجھ سے آگے نکل جائے گا۔ لیکن اگر یہ سلسلہ کمرشلائز ہوجائے تو بھی اچھا ہوسکتا ہے لکھنے والا لکھنے کے پیسے لے گا ۔ اس طرح دونوں کو فائدہ ہوگا۔ اور اصلاح کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔
جسارت میگزین:آپ کی تصنیف کونسی ہے ؟
طارق سبزواری:میری کتاب ’’دھوپ دریچے ‘‘ کے نام سے کافی پہلے۲۰۰۸ء میں آگئی تھی۔ اس کی رونمائیاں امریکہ میں ہوئیں۔
جسارت میگزین:مزید کتاب کب تک شائع کرنے کا ارادہ ہے ؟
طارق سبزواری:چونکہ میں نے نعتیں بھی کہی ہیں۔ اس لیے اب ارادہ ہے کہ اگلی کتاب میں ملا جلا کلام ہو جس میں نئی غزلیں اور نعتیں ہوں۔
جسارت میگزین: آپ کو پاکستان اور پاکستان سے باہر شاعری پر بڑی تعداد میں اعزاز ملے ہیں؟
طارق سبزواری:اللہ کا بہت کرم ہے کہ مجھے اپنی شاعری پرپچاس سے زائد ایوارڈز ملے ہیں۔ جو زیادہ تر پاکستان سے باہر ملے ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، دبئی وغیرہ شامل ہیں۔
جسارت میگزین:نوجوان شاعروں کے لیے آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
طارق سبزواری:میں نئے لکھنے والوں سے ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ پہلے تو وہ اپنے کلاسیکل شعراء کا کلام پڑھیں، کلاسیکل شعراء سے میری مراد صرف میر اور غالب ہی نہیں، بلکہ اس دور کے دیگر شعراء بھی ہیں۔ اس کے بعد شکیب جلالی تک جو شعراء آئے انھیں پڑھیں۔ اس میں کسی نہ کسی کا انداز تو آپ کو پسند آئے گا۔ کسی نہ کسی کے آہنگ سے آپ متاثر ہوں گے۔ ان سے متاثر ہوکر آپ شعر کہیں لیکن ان کے مصرعے نہ لیں، بلکہ اپنے مصرعے بنائیں۔ گو کہ آج کل لوگ نئی نئی بحریں بنا کر تجربے کررہے ہیں۔ ٹھیک ہے مگر ابھی تک تو کوئی اچھا شعر اس میں نکلا نہیں۔
طارق سبزواری کے چند مشہور اشعار پیش خدمت ہیں:

آیا تو بار بار امیر کا ؍ہم سے مگر نہ ہوسکا سودا ضمیر کا
اس کی عطائے خاص بھی لینا حرام ہے ؍ جو شخص جانتا نہیں رتبہ فقیر کا

آپ اور وفا کرتے یہ تو اک بہانہ تھا ؍ مصلحت کے رشتے کو خود ہی ٹوٹ جانا تھا
بے زباں حویلی کو کیوں گرا دیا تم نے ؍ شہر میں پرندوں کا اک یہی ٹھکانہ تھا
بزم غیر کی خاطر کل جہاں تک آئے تھے ؍ اور دو قدم آگے یہ غریب خانہ تھا

حصہ