آپ کا ڈیٹا۔ دُنیا کی قیمتی متاع

116

ویسے تو لوگوں کو جوان رہنے کا شوق ہوتا ہے یا ہمیشہ جوان رہنے کا لیکن گذشتہ ہفتہ اپنے فیس بک ،ٹوئٹر پر اچانک احباب کی بڑھاپے کی تصاویر دلچسپ کیپشن کے ساتھ شیئر ہوتی اور اسٹیٹس میں ڈلی نظر آئی ۔ایسی ہی ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ مقبولیت حاصل کرتی نظر آئی جس میں موجودہ دور کے مشہور و معروف کرکٹرز کو ان کے بڑھاپے میں دکھایا گیا ہے۔اب یہ بات مختلف ذرائع سے کہی جا رہی ہے کہ یہ کا م انہوں نے خود کیا ہے یا کسی منچلے نے کیا ہے ۔البتہ جو تصاویر لوگوں کے آفیشل اکاؤنٹ سے پوسٹ ہوئی ہیں ان سے تو یہی کہا جا سکتاہے کہ انہوں نے خود یہ کام کیا ہے ۔اس میں کیا کرکٹ ، کیا انٹرٹینمنٹ و شو بز ، کیا پاکستان ،کیا انڈیا ،کیا امریکہ سب ہی شامل نظر آئے۔ویسے حالیہ دنوں کرکٹ ورلڈ کپ ختم ہوا تھا اس لیے کرکٹ اہم موضوع تھا۔شائقین نے مشہور کرکٹرز کی تصاویر کو ان کے مبینہ بڑھاپے میں دکھاتے ہوئے اپ لوڈ کی ہیں جسے شائقین کرکٹ میں بہت زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔ہر بندہ اپنے حساب سے تبصرہ دے رہا ہے ۔جن مایہ ناز کرکٹرز کی تصاویر اپ لوڈ کی گئی ہیں ان میں پاکستان کے کپتان سرفراز احمد، ان کے بھارتی ہم منصب ویرات کوہلی، آسٹریلیا کے مچل سٹارک، نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن، سابق آسٹریلوی کپتان سٹیو سمتھ سمیت پاکستان اور بھارتی ٹیم کے کھلاڑی شامل ہیں۔ویسے سب نے اپنے آپ کو بوڑھا ہی نہیں کیا کچھ نے جوان بھی کیا تھا۔کچھ نے زنانہ سے مردانہ اور کچھ نے مردانہ تاثرات سے بھرے چہرے کو زنانہ میں بھی اس خوبصورتی سے تبدیل کیا ہوا کہ تھا کہ پہچاننا مشکل ہو رہا تھا۔
اس حوالے سے مزید جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ فیس ایپ نامی ایک سوشل میڈیا فوٹو ایڈیٹنگ ایپلیکیشن ہے جو کسی جوان آدمی کی تصویر کو ممکنہ بڑھاپے میں تبدیل کر دیتی ہے ۔یہ ایپلیکیشن انڈرائڈ اور ایپل دونوں پر دستیاب ہے ۔ اس وقت اس کے دنیا بھر میں 8کروڑ استعمال کنندگان ہیں ، 2017میں اس ایپلیکیشن کو گوگل ایوارڈ ، ایپل پلے اسٹور کی جانب سے بھی ایوارڈ مل چکا ہے ۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے یہ ایپلیکیشن آپ کی تصویر کو آپ کے مقرر کردہ مستقبل کے چہرے کی شکل دے دیتی ہے ۔چہرے کی ساخت، رنگت، بالوں کے رنگ کی تبدیلی سمیت کئی فیچرز کے ساتھ یہ ایپلیکیشن لوگ تفریحی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔اس وقت یہ دنیا کے 95ممالک میں استعمال کی رہی تھی، مگر لگتا ہے کہ ٹوئٹر پرکو #FaceappChallengeکا ہیش ٹیگ ٹرینڈ لسٹ میں نمودار ہوا تو زیادہ ہلچل مچی۔یہ ٹرینڈ اڑتا ہوا پاکستانیوں کے پاس بھی پہنچاجس کا اظہار مجھے اپنی فیس بک وال دیکھ کر ہوا۔محمد بلال ٹوئیٹ کرتے ہیں کہ ’یہ فیس ایپ’روس کی ایک کمپنی نے بنائی ہے۔روسیوں نے دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کے فیسز کا اچھا خاصہ ڈیٹا اکٹھا کرلیا ہے۔جسے وہ کسی بھی طرح استعمال کرسکتے ہیں۔لیکن سانوں کی؟ہم تو تب مانیں گے جب وہ ماہ نور بلوچ کو بڈھا کرکے دکھائیں۔ماہ نور بلوچ کے آگے تو فیس ایپ بھی ہاتھ باندھ لے ‘‘۔سماجی میڈیا پر تیزی سے بوڑھی تصاوی رکی بھرمار دیکھ کر طفیل خٹک لکھتے ہیں کہ ’’کوئی جوان فیس ایپ استعمال کرنے سے رہ تو نہیں گیا ؟لگتا ہے ساری فرینڈ لسٹ بابوں سے بھر گئی اور میں اکیلا ہی جوان رہ گیا ہوں۔‘‘اس کی اہم خصوصیت بتاتے ہوئئے ایک صاحب ٹوئیٹ کرتے ہیں کہ ’’ایک ایسی ایپ جس سے آپ میرا، ریما، بشریٰ انصاری، عتیقہ اوڈھو اور مریم نواز کو بھی بوڑھا کر سکتیہیں ۔ورنہ حسرت ہی رہ جانی تھی۔کیونکہ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر جوان نظر آنے والے ، فیس ایپ پہ بخوشی بوڑھے بن رہے ہیں۔واہ میرے مولا ، تیری شان‘‘۔ اسی طرح ایک اور دوست نے پیپلز پارٹی کے بزرگ رہنما و سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی جوانی کی تصویر لگا کر کہاکہ ’’اب یہ افواہ کون اڑا رہا ہے کہ قائم علی شاہ فیس ایپ استعمال کرکے بوڑھے نظر آتے تھے ۔ورنہ انکی اصل عمر تو محض اٹھائیس سال ہے۔‘‘اسی طرح ایک اور اہم ترین بات جو تحسین ہاشمی نے محسوس کہ اور سب کو کروائی کہ ’’فیس ایپ پر ابھی تک صرف لڑکے اپنی تصاویر بنا کر پوسٹ کر رہے ہیں اور بوڑھے ہونے پر بھی خوش ہیں۔ لیکن کسی لڑکی نے فیس ایپ کا استعمال نہیں کیا۔ ثابت ہو گیا کہ لڑکیاں بڑھاپے سے گھبراتی ہیں۔‘‘ایسے میں محمد ضیاء نے بڑی اچھی بات کہی کہ ’’فیس ایپ کے ذریعے ہم خود کو ممکنہ طور پر بڑھاپے کی حالت میں دیکھ سکتے ہیں، لیکن عجیب بات ہے، کہ موت کی طرف بڑھتے ہوئے اس visualisation سے، نہ تو خوف خدا پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی مرنے کے بعد والی زندگی کے حوالے سے فکر آخرت پیدا ہوتی ہے۔‘‘
دو سال کے بعد اچانک تیزی سے #FaceApp, #Faceappchallenge #Oldageٹرینڈ بن گیا ، توشاید یہ بات کہیں ہضم نہیں ہوئی ۔اگلی معلومات یہ برآمد ہوئی کہ یہ تو روسی ڈویلپرز کی تیار کردہ ایپلیکیشن ہے۔ یہ اور اس طرح کے کئی چیلنجز سماجی میڈیا پر آتے رہتے ہیں جن کے پیچھے عوام ٹرک کی بتی کی مافق دوڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ 2016میں MannequinChallengeکے نام سے وائرل ویڈیو ٹرینڈ نے خوب جمایا تھا۔ جمایا مطلب لوگوں کو ، اس ٹرینڈ میں لوگوں کو کئی منٹ تک ساکت حالت میں ایک مجسمہ کی حالت میں رہنا تھا ۔ انسٹا گرام اور ٹوئٹر پر یہ ٹرینڈ چیلنج بہت مقبول رہا۔ٹرینڈ بنانے والے ، پیش کرنے والوں نے اپنے ایک اشارے پر کروڑوں لوگوں کو ساکت کر دیا( کچھ دیر کے لیے ہی سہی) ۔یو ٹیوب پر ہی کوئی 2000سے زائد ویڈیوز اس چیلنج کی موجو دہیں جنہیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ماڈل کی تربیت کے لیے استعمال کیا گیا۔اسی طرح اسی سال کے آغاز میں یونیورسٹی آف کولوراڈو کے طلبہ نے 1700لوگوں کی چہرے کے تاثرات والی تصاویر خفیہ طریقہ سے کھینچیں اور facial recognition algorithm میں استعمال کیا جس کی فنڈنگ امریکی انٹیلیجنس اور ملٹری اداروں نے کی ۔اب آتے ہیں اس چیلنج کی طرف جس میں بنیادی طور پر اس سیلفی (تصویر) ایڈیٹنگ ایپلیکیشن کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی تصویر کو فلٹر لگا کر اپ لوڈ کرنا تھا۔ اس کے نتیجے میں آپ کے چاہنے والے آپ کی مذکورہ تصویرکو لائیک یا کمنٹ کریں گے یا ہنس لیں گے تو آپ کو تسکین ملے گی ۔ایسے میں جوشوا نوزی نامی سافٹ ویئر ڈویلپر نے ٹوئٹر پر دیگر لوگوں کومتوجہ کیا کہ خبر دار یہ ایپلیکیشن آ پ کی مرضی اور اجازت کے بغیر بھی آپ کی تصاویر اپ لوڈ کر دیتی ہے۔اس کی ٹوئیٹ کے بعد بین الاقوامی میڈیا نے اس بات کو پیٹنا شروع کیا تاآنکہ یہ بات سامنے آگئی کہ یہ ایپلیکیشن روس سے چلائی جا رہی ہے ۔بدھ کو فرانس کے ایک سیکیورٹی ریسرچر نے ایپلیکیشن کے بارے میں اڑائی گئی ہر منفی بات کو اپنے تجربات کی روشنی میں رد کر دیا۔جواب میں جوشوا نے ایپلیکیشن کو انسٹال کرنے اور استعمال سے قبل تحریر کردہ قوائد کے اسکرین شاٹ ڈالتے ہوئے بتا یا کہ اس ایپ کا ہر یوزر خود اس ایپ کو قانونی طور پر اجازت دیتا ہے کہ وہ ناقابل واپسی ، رائلٹی فری اجازت نامہ دیتا ہے ایپلیکیشن کا مالکان کو کہ وہ آپ کے مواد کو کسی بھی طرح استعمال کریں ۔ اس طرح جوشوا نے کئی سوالات اٹھا دیئے۔( بین الاقوامی موقر صحافتی ادارے دی گارجین نے تفصیلی رپورٹ18جولائی کو جاری کی (بات یہاں نہیں رکی ، سی این این کے مطابق چونکہ یہ ایپلی کیشن روس سے آپریٹ ہو رہی ہے اس لیے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی FBIاور FTCکے ذریعہ اس ایپلی کیشن کی مکمل تحقیقات چاہتی ہیں ۔ایک امریکی سینیٹر نے تو اس ایپلیکیشن پر پابندی کا مطالبہ بھی کر دیا۔( وائس آف امریکہ)۔کچھ سائبرسکیورٹی اتھارٹی کے مطابق صارفین اس ایپ کو فوٹو لائبریری تک رسائی نہ دیں کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں راز داری اور معلومات کو خفیہ رکھنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔بہر حال کچھ اطلاعات یہاں تک آئی ہیںکہ سعودی عرب نے بھی اس ایپلیکیشن پر لوگوں کی معلومات لیک ہوجانے کے خدشہ کے پیش نظر پابندی عائد کر دی۔
میں نے کچھ عرصہ قبل اسی یعنی ڈیٹا سے متعلق اپنے مضمون میں بتایا تھا کہ ڈیٹا اس وقت دنیا میں تیل سے بھی بڑی دولت کا درجہ اختیار کر چکا ہے ۔یوں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ہمارا فون چوری ہوجائے یا چھن جائے تو ہمیں اس کے اندر موجود ایس ایم ایس و دیگر ڈیٹا کے چلے جانے کا کتنا افسوس ہوتا ہے ۔ایک دوست لکھتے ہیں کہ ’یوں تو، بقول فیض احمد فیض، دنیا میں محبت کے سوا بھی بہت سے دکھ ہیں، لیکن اپنے قیمتی ڈیٹا کے کھو جانے کا غم، کئی لوگوں کے لئے سب دکھوں سے بڑھ کر ہے۔‘ اب تو حالیہ ہے کہ اہم دستاویزات کی بھی ہم تصاویر کھینچ لیتے ہیں جوکہ فون میں ہی موجود ہوتی ہیں۔
ڈیجیٹل دور میں آپ کا ڈیٹا یعنی آپ کی ذاتی یا نجی معلومات بہت اہم ہو چکی ہیں۔آپ کی کوئی جائیداد، اثاثے آپ کی آزادی کی چابی اور رکھوالے، دونوں کا کام کرتے ہیں۔ دنیا کا دستور ہے کہ جو چیز قیمتی ہوتی ہے لوگ اسے چرانے اور اپنے فائدے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کے ڈیٹا میں آپ کانام، والد ،والدہ کا نام، تاریخ پیدائش ، شناختی کارڈ نمبر، بینک اکاؤنٹس نمبر، اے ٹی ایم پن کوڈ، آپ کا پتا ، سمیت وہ تمام معلومات شامل ہیں جس کے ذریعہ آپ کی حساس اور قیمتی چیزوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہو۔ بات یہی نہیں گوگل اس وقت سب سے بڑا ڈیٹا اسٹوریج اور اس ڈیٹا کے ساتھ AIکی بنیاد پر اپنا کاروبار بلکہ دنیا بھر کے کاروبار چلانے میں جو کام کر رہا ہے وہ خود ایک بڑا سوال ہے ۔اب آپ اس فیس ایپ والی مثال سے بھی دیکھیں کہ آپ کے فون سے ڈیٹا کی مبینہ چوری کا کتنا خوف ہے ۔ امریکہ اس کو اس تناظر میں دیکھ رہا ہے اور دکھانا چاہ رہا ہے کہ امریکیوں کا کوئی بھی ڈیٹا روس کے ہاتھ میں کیوں جا رہا ہے؟جبکہ گوگل کی شکل میں وہ ویسے ہی دنیا بھر کے انسانوں کی حرکات و سکنات ، پسند ناپسند، خواہش و آرزوؤں سمیت ہر قسم کے ڈیٹا پر سانپ بن کر بیٹھا ہوا ہے ۔گارجین کی اسٹوری کی اختتامی لائن کچھ یوں تھی:’’اس اسٹوری کا اصل سبق یہ ہے کہ ہمیں کسی روسی ایپلیکیشن کے لیے بہت پریشان نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں ہر چیز کے بارے میں پریشان ہونا چاہیے ہم صرف یہ سمجھنے کے آغازپر ہیں کہ ہم جاسوسی و نگرانی کی ایک جہنم میں جی رہے ہیں۔‘‘ایک دوست لکھتے ہیں کہ ’’ہوشیار۔ٹوئٹر، فیس بک، وٹس ایپ۔ و دیگر مختلف دلچسپ فیچرز ، گیمز کے ساتھ گردش کرتی لنکس آپ کے سمارٹ فون کی سیکیورٹی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ان کو اوپن کرنے، اس میں لاگ ان ہونے اپنا ای میل ایڈرس دینے یا کسی بھی قسم کی انگیجمنٹ سے گریز کریں شکریہ۔‘ اب یہ سب کیا ہے ۔ مفاد عامہ کے تحت لوگ ایک دوسرے کو بچا رہے ہیں سمجھا رہے ہیںکہ ہوشیار رہو۔

حصہ