اُردو کے معروف شاعر،ادیب اور نغمہ نگارحمایت علی شاعر بھی رخصت ہو گئے

96

سیمان کی ڈائری
ڈاکٹر انور سجاد اور لیاقت علی عاصم کی رحلت کازخم ابھی تازہ ہی تھا کہ اُردو کے معروف شاعر،ادیب اور نغمہ نگارحمایت علی شاعر بھی رخصت ہو گئے۔ آپ کی عمر 93برس تھی۔ حمایت علی شاعر14جولائی1926ء کو اورنگ آبادریاست حیدرآباد (دکن ) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نام میرحمایت علی اور شاعرؔ تخلص ہے۔اوائلِ عمری ہی سے اُن کی تحریریں مختلف رسائل میں چھپنے لگی تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد انھوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اورریڈیو سے وابستہ ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد جب حیدرآباد سندھ میں ریڈیو اسٹیشن قائم ہوا تب اُن کا تبادلہ وہاں ہوگیا۔ وہاں قیام کے دوران سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور بعدازاں اسی جامعہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ اُن کی شاعری اور فلمی گیت بے انتہا مقبول ہوئے۔ اردو شاعری میں ان کا ایک کارنامہ تین مصرعوں پر مشتمل ایک نئی صنف سخن’ثلاثی‘ کی ایجاد ہے۔
حمایت علی شاعر کا پہلا شعری مجموعہ ’آگ میں پھول‘ 1956 میں شائع ہوا جس پر انہیں 1958 میں صدارتی ایوارڈ دیا گیا۔ حمایت علی شاعر کونگار ایوارڈ (بہترین نغمہ نگار)، رائٹرگلڈآدم جی ایوارڈ، عثمانیہ گولڈ مڈل (بہادر یار جنگ ادبی کلب) اور ادبی خدمات اور اردو ادب پر 2002 میں حکومت پاکستان کی طرف سے پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اُن کی آواز،اُن کا ترنم اُن کی شاعری کی طرح دلنشیں تھا۔اس وجہ سے انھیں مشاعروں میں بہت پذیرائی ملتی تھی۔ ’آگ میں پھول‘، ’شکست آرزو‘، ’مٹی کا قرض‘، ’تشنگی کا سفر‘، ’حرف حرف روشنی‘، ’دودِ چراغ محفل‘ (مختلف شعرا کے کلام)، ’عقیدت کا سفر(نعتیہ شاعری کے ساتھ سوسال،تحقیق)‘، ’آئینہ در آئینہ‘(منظوم خودنوشت سوانح حیات)، ’ہارون کی آواز‘(نظمیں اور غزلیں)، ’تجھ کو معلوم نہیں‘(فلمی نغمات)، ’کھلتے کنول سے لوگ‘(دکنی شعرا کا تذکرہ)، ’محبتوں کے سفیر‘(پانچ سو سالہ سندھی شعرا کا اردو کلام)۔ آپ کی تصانیف ہیں۔
وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔شاعری سے لے کر فلم سازی تک ہر میدان میں انھوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔اُن کے منتخب نغمے،’جب رات ڈھلی‘، ’تم یاد آئے‘، ’اک نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ‘، ’نہ چھڑاسکوگے دامن‘، ’حسن کو چاند، جوانی کو کنول کہتے ہیں‘ اورملی نغمہ ’جاگ اٹھا ہے سارا وطن،ساتھیو،مجاہدو‘قابلِ ذکر ہیں۔ حمایت علی شاعر نے مختلف فلموں میں بھی کام کیا جن میں جب سے دیکھا تمہیں، دل نے تجھے مان لیا، دامن، ایک تیرا سہارا، کنیز، میرے محبوب، تصویر اور کھلونا شامل ہیں۔ بحیثیت فلم ساز اپنی پہلی فلم لوری بھی بنائی۔ 1973 میں بحیثیت فلم ساز اور ہدایت کار فلم گڑیا مکمل کی۔
حمایت علی شاعرایک عرصے سے کینیڈا میں مقیم اور زیرعلاج تھے۔ گذشتہ دنوں انھیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا، اُن کی نمازِ جنازہ ٹورنٹومیں ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ میں ادیبوں، شعرا کے علاوہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نیکثیر تعداد میں شرکت کی۔ حمایت علی شاعر کا انتقال اردو ادب کے لیے بڑا نقصان ہے لیکن اردوکے لیے اُن کی ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

بدن پہ پیراہنِ خاک کے سوا کیا ہے
مرے الاؤ میں اب راکھ کے سوا کیا ہے
ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ
دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ

کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش
جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ

کتنے سادہ دل ہیں اب بھی سن کے آواز جرس
پیش و پس سے بے خبر گھر سے نکل جاتے ہیں لوگ

اپنے سائے سائے سرنہوڑائے آہستہ خرام
جانے کس منزل کی جانب آج کل جاتے ہیں لوگ

شمع کے مانند اہل انجمن سے بے نیاز
اکثر اپنی آگ میں چپ چاپ جل جاتے ہیں لوگ

شاعرؔ ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ
ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سو رہا تھا اور کوئی بیدار مجھ میں تھا
شاید ابھی تلک مرا پندار مجھ میں تھا

وہ کج ادا سہی مری پہچان بھی تھا وہ
اپنے نشے میں مست جو فن کار مجھ میں تھا

میں خود کو بھولتا بھی تو کس طرح بھولتا
اک شخص تھا کہ آئنہ بردار مجھ میں تھا

شاید اسی سبب سے توازن سا مجھ میں ہے
اک محتسب لئے ہوئے تلوار مجھ میں تھا

اپنے کسی عمل پہ ندامت نہیں مجھے
تھا نیک دل بہت جو گنہ گار مجھ میں تھا

ہارون کی آواز

دیکھو ابھی ہے وادیٔ کنعاں نگاہ میں
تازہ ہر ایک نقش کف پا ہے راہ میں
یعقوب بے بصر سہی یوسف کی چاہ میں
لہرا رہا ہے آج بھی طرہ کلاہ میں
یہ طرہ گر گیا تو الٹ جائے گی زمیں
محور سے اپنے اور بھی ہٹ جائے گی زمیں
تاریخ کے سفر میں غلط بھی قدم اٹھے
گاہے لباس فقر میں اہل حشم اٹھے
گاہے صنم تراش بہ نام حرم اٹھے
پردے نگاہ کے بھی مگر بیش و کم اٹھے
یوں بھی ہوا دہائی اکائی میں ڈھل گئی
خورشید کے الاؤ میں ہر شے پگھل گئی
جب یوں نہ ہو سکا تو یہ تاریخ ہے گواہ
اٹھے عصا بدست غلامان کج کلاہ
زیر زمیں کشادہ ہوئی زندگی کی راہ
اور کچھ نہ کر سکی کسی فرعون کی سپاہ
ہر موج نیل سانپ سی بل کھا کے رہ گئی
اہرام کی نگاہ بھی پتھرا کے رہ گئی
اضداد کی یہ جنگ اصول قدیم ہے
اور اب کہ آدمی کی اکائی دو نیم ہے
افلاک کے تلے سہی مٹی عظیم ہے
ہارون کی زبان بھی لوح کلیم ہے
حد سے گزر نہ جائیں کہیں کمترین لوگ
موسیٰ کے انتظار میں ہیں بے زمین لوگ

حاملِ فکرِ تین، حمایت علی شاعرؔ

قطعہ تاریخ ِ وفات 2019
فراست رضوی

وہ نقّاد و نغمہ نگار و مُفکّر
وہ شاعر کھرا اور بے باک شاعر
وہ مجبور و مظلوم لوگوں کا حامی
وہ تھا دردِ انساں سے غم ناک شاعر
رگِ وقت پر تھا قلم اُس کا نشتر
وہ اظہارِ حق میں تھا سفّاک شاعر
مہ و مہر سے تھے خیالات اُس کے
بلندی میں تھا مثلِ افلاک شاعر
سراپا وہ تہذیبِ ارضِ دکن تھا
وہ خوش شکل و خوش زلف وپوشاک شاعر
وہ ہارون کی ایک آوازِ زندہ
غلامِ شہنشاہِ لولاکؐ شاعر
مکیں ہو گیا باغِ جنت میں جا کر
ہمیں دے گیا ہجر کی خاک شاعر
سُرور اس کے فن کا ہے طاری دلوں پر
وہ تھا بادہ سازِ رگِ تاک شاعر
نہیں آج رکھتا ہے کوئی جہاں میں
ـ’’حمایت علی جیسا ادراک شاعر‘‘

مجھ سے پیڑ اچھا وہ زندہ ہو تو بانٹے خوشبو
اور مر کر بھی تعفن تو نہیں چھوڑتا ہے

نجم الاصغر شاہیا

حصہ