استغفار کرو

176

اوریا مقبول جان
آج سے تقریباً تیس سال قبل راولپنڈی کے نیٹ کیفے میں خفیہ ویڈیوز کا ایک اسکینڈل منظرِ عام پر آیا تھا جس نے پاکستانی معاشرے کے ایک مکروہ اور غلیظ روپ کا پردہ چاک کیا تھا۔ اُس دور میں نیٹ کی سہولت اتنی عام نہ تھی، اس لیے لوگوں نے جابجا نیٹ کیفے بنا رکھے تھے جن میں چھوٹے چھوٹے کیبنوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں انٹرنیٹ کی سہولیات استعمال کرتے تھے۔ ای میل یا دیگر ذاتی دستاویز تک رسائی کی وجہ سے ان کیبنوں کو ایک لفٹ کی طرح بند ڈبے کی شکل دے دی گئی تھی تاکہ صارف اطمینان سے کام کرسکے۔
انٹرنیٹ اپنے ساتھ فحاشی کے جس سیلاب کو لے کر آیا، اس سے استفادہ کرنے کے لیے بھی یہ نیٹ کیفے مخصوص ہوتے چلے گئے۔ فحش فلموں اور تصاویر کا منبع و ماخذ وہ ’’عظیم‘‘ یورپ ہے جس کی تہذیب کی تعریف میں لکھتے ہوئے ہمارے دانش ور نہیں تھکتے۔ اسی معاشرے کے اخلاقی زوال کی کوکھ سے پہلے برہنہ تصاویر کے رسالوں کا کاروبار نکلا، پھر فلموں میں ڈھکے چھپے جنسی مناظر دکھائے جانے لگے، اور یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے کئی سو ارب ڈالر کی فحش میڈیا انڈسٹری تک جا پہنچا۔
شروع شروع میں یورپ پلٹ پاکستانی اپنے سامان میں اس غلاظت کو چھپا کر لاتے۔ اس کے بعد سنیما گھروں میں چند منٹ کے لیے جاری فلم روک کر یہ فحش مناظر جنہیں ’’ٹوٹے‘‘ کہا جاتا تھا، دکھائے جانے لگے۔ وی سی آر نے تو اسے گھر گھر پہنچا دیا اور انٹرنیٹ اسے ہر شخص کے موبائل تک لے آیا۔ کیبن کی تنہائی اور فحش مواد کی دستیابی کی وجہ سے، نوجوان جوڑے وہاں جانے لگے۔ نیٹ کیفے کے مالک نے ان کیبنوں میں خفیہ کیمرے لگائے اور پھر وہاں آنے والے نوجوان جوڑوں کی ایسے لمحوں کی ویڈیو بنائیں جب وہ فحش مواد کے زیراثر غیر اخلاقی حرکتوں میں ملوث تھے۔ اس کے بعد یہ ویڈیوز بیچی گئیں، اس کے ذریعے لڑکیوں اور لڑکوں کو بلیک میل کیا گیا۔ جیسے ہی ویڈیوز عام ہوئیں اس سے متاثرہ دو لڑکیوں نے خودکشی کرلی، ایک کو اس کے گھر والوں نے قتل کردیا، کچھ خاندانوں نے شہر چھوڑ دیے۔
یہ اسکینڈل سامنے آیا تو پورا ملک تھرّا کر رہ گیا۔ کون ہے جس نے اس پر کالم نہ لکھا ہو، یا اس المیے کا ماتم نہ کیا ہو۔ خفیہ ویڈیوز بناکر بلیک میل کرنے کا یہ سلسلہ ویڈیو کیمروں کے زمانے سے چلا آرہا ہے۔ فیصل آباد کی نرسوں کے اسکینڈل سے لے کر ہالہ فاروقی کی شوق میں بنائی گئی ویڈیوز تک۔ لیکن بلیک میلروں کے چہرے ہمیشہ پردے میں رہتے تھے، اگر پکڑے جاتے تو ذلیل و رسوا ہوتے۔ لیکن پاکستانی معاشرے کو ذلت و رسوائی اور بے حیائی اور ڈھٹائی کا یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ ایسی ہی خفیہ طور پر بنائی گئی ایک ویڈیو کی بنیاد پر ایک خاتون سیاسی رہنما مریم نواز اپنے باپ کے مقدمے میں ایسی’’غلیظ حرکت‘‘ پر ’’بے گناہی‘‘ کی عمارت تعمیر کرتی ہے اور ڈھٹائی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتی ہے۔
جج ارشد ملک کے کیس میں اور کیا باقی رہ جاتا ہے اگر اس غیر اخلاقی ویڈیو کو بیچ میں سے نکال دیا جائے! نہ یہ ویڈیو ریکارڈ ہوتی اور نہ جج پر دبائو کا تذکرہ نکلتا۔ اور یہ ویڈیو وہ واحد ثبوت ہے جس پر جج ارشد ملک اور مریم نواز دونوں متفق ہیں۔ اس ویڈیو اور اس جیسی ویڈیو کو بنانے والے، اس سے اپنے مکروہ مقاصد کی تکمیل کرنے والے غلیظ کردار ہر معاشرے اور ہر دور میں پائے جاتے ہیں، اور ہمیشہ ان کی حیثیت ایک بلیک میلر سے زیادہ کبھی نہیں رہی۔
انسان خطا کا پتلا ہے، اس سے گناہ سرزد ہوتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سید الانبیاءؐ کے دور میں حضرت مائز زنا کے جرم میں خود کو سنگسار ہونے کے لیے پیش نہ کرتے۔ ایسی مثالیں اور بھی ہیں کہ صحابہؓ میں سے کوئی فرد رسالت مآب کے دربار میں آیا، اپنے گناہ کا اقرار کیا اور آپؐ نے کہا جائو اور اپنے اللہ سے معافی مانگو، وہ غفور الرحیم ہے۔
رسول اکرمؐ کی اس معاملے میں احتیاط ملاحظہ ہو۔ آپؐ نے فرمایا ’’اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو فلاں عورت کو کرتا، اس لیے کہ اس کی بات چیت سے، اس کی شکل و صورت سے، اور جو لوگ اس کے پاس آتے جاتے ہیں، اس سے اس کا فاحشہ ہونا ظاہر ہوچکا ہے۔‘‘ (ابنِ ماجہ)
کسی کے عیب کی جستجو کرنا اور اس کی ٹوہ میں رہنا تو قرآنِ پاک میں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ سورہ الحجرات کی آیت نمبر 12 میں فرمایا: ’’تجسس نہ کیا کرو۔‘‘ یعنی کسی کے عیب اور گناہ ڈھونڈنے میں وقت مت لگایا کرو۔ عیب چھپانے کا اجر اللہ کے ہاں کس قدر ہے، رسول اکرمؐ نے فرمایا: ’’جس نے کسی کا کوئی مخفی عیب دیکھ لیا اور اس پر پردہ ڈال دیا تو یہ ایسا ہے جیسے کسی نے ایک زندہ گاڑی ہوئی بچی کو موت سے بچالیا‘‘ ( ابو دائود۔ الجصاص)۔ اور کسی کے عیب اچھالنے کے بارے میں جو وعید اور وارننگ اللہ کے رسولؐ نے اس خطبے میں ارشاد فرمائی ہے وہ لرزہ طاری کردینے والی ہے۔ فرمایا: ’’مسلمانوں کے پوشیدہ حالات کی کھوج میں نہ لگا کرو، کیوں کہ جو شخص مسلمانوں کے عیوب ڈھونڈنے کے درپے ہوتا ہے، اللہ اس کے عیوب کے درپے ہوجائے گا، اور اللہ جس کے درپے ہوجائے تو وہ اُسے اُس کے گھر میں رسوا کرکے چھوڑتا ہے۔‘‘ (ابودائود)
یہی وہ وارننگ تھی کہ یاد دلانے پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا حکمران کانپ اٹھا تھا۔ آپؓ نے ایک مرتبہ رات کے وقت ایک شخص کی آواز سنی جو اپنے گھر میں گا رہا تھا۔ آپؓ کو شک گزرا اور آپؓ دیوار پر چڑھ گئے۔ دیکھا، وہاں شراب بھی موجود تھی اور ایک عورت بھی۔ آپؓ نے پکار کر کہا ’’اے دشمنِ خدا، کیا تُو نے سمجھ رکھا ہے کہ اللہ کی نافرمانی کرے گا اور اللہ تیرا پردہ فاش نہ کرے گا!‘‘ اس نے جواب دیا ’’امیرالمومنین! جلدی نہ کریں، اگر میں نے ایک گناہ کیا ہے تو آپؓ نے تین گناہ کیے ہیں۔ اللہ نے تجسس سے منع کیا تھا اور آپؓ نے تجسس کیا۔ اللہ نے حکم دیا تھا کہ گھروں میں ان کے دروازوں سے آئو، اور آپؓ دیوار پر چڑھ کر آئے۔ اللہ نے حکم دیا تھا اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اجازت لیے بغیر نہ جائو، اور آپؓ میری اجازت کے بغیر میرے گھر تشریف لائے۔‘‘
حضرت عمرؓ جواب سن کر کانپ گئے، اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور بغیر سزا کا نفاذ کیے واپس لوٹ گئے (مکارم الاخلاق لابی بکر محمد بن جعفر الخزائلی)۔ معاملے کی حساسیت، معاشرے کے زوال، گناہ کی شدت اور پاکستانی سیاست میں قیادت کی پست اخلاقی کی وجہ سے مجھے اس گندے اور غلیظ ترین موضوع پر قلم اٹھانا پڑا، اور قرآن وحدیث میں بیان کیے گئے انتباہ کا بھی ذکر کرنا پڑا۔ یوں تو عزتیں اچھالنے اور ذاتی کردار کو معاشرے میں عام کرنے کی روش عام رہی ہے، لیکن میرے نزدیک یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بدترین اور بد اخلاق واقعہ ہے۔
لوگوں پر الزام لگتے تھے، پس پردہ پمفلٹ بھی پھینکے جاتے تھے، تصویریں اور ویڈیوز بھی پھیلائی جاتی تھیں، لیکن کوئی اس گناہ کو سرِ عام فخر سے تسلیم نہیں کرتا تھا۔ لیکن حیرت ہے کہ ایک لیڈر خصوصاً خاتون رہنما اپنے سارے مقدمے کی بنیاد ایک ایسی ویڈیو پر بنائے جو اخلاقاً، مذہباً اور تہذیبی طور پر ایک گھنائونی حرکت ہے۔ کیا فرق ہے اس میاں طارق اور مریم نواز میں، جس نے یہ ویڈیو بنائی اور جج کو بلیک میل کرکے اپنے بھائی کی سزا میں تخفیف کروائی۔
میرے ملک کا دانشور اس دن سے بول اور لکھ رہا ہے کہ اگر اس جج کی یہ ویڈیو آگئی تھی تو اس نے سپریم کورٹ کے انچارج جج کو کیوں نہیں بتایا؟ ایسی حالت میں کیا ایسا ممکن تھا۔ ایسے عالم میں بدنامی کے خوف سے عقل مائوف ہوجاتی ہے اور پھر وہ سفاک اور غلیظ معاشرہ، جہاں میڈیا پرسن بھی بلیک میلروں کی صف میں کھڑے ہوں، وہاں ایسی ویڈیو سامنے آنے پر لوگ خودکشیاں کرتے ہیں، بچیاں آگ لگاکر مرتی ہیں۔ مریم نواز کو ایک لمحے کے لیے بھی اللہ کا خوف نہ آیا کہ جس جج کے سولہ سال پرانے جرم کی ویڈیو پر وہ اپنے لیے انصاف کی ساری عمارت تعمیر کررہی ہے، ہوسکتا ہے اس جج کی بھی، اس کی اپنی بیٹی ماہ نور جیسی کوئی بیٹی ہوگی جو اپنے باپ سے بہت پیار کرتی ہوگی۔
میں نے آج تک کسی سیاست دان کے چہرے پر اللہ کے غیظ و غضب کی علامتیں اس قدر نہیں پڑھیں جس قدر مریم کے چہرے پر دیکھی ہیں۔ جوں جوں میں آپ کی پریس کانفرنس دیکھتاجاتا، خوف سے کانپتا جاتا۔ مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خطبہ بار بار یاد آتا رہا، فرمایا ’’اللہ جس کے درپے ہوجائے اسے اس کے گھر میں رسوا کرکے چھوڑتا ہے‘‘۔ ڈرو اُس وقت سے، استغفار کرو۔
nn

حصہ