اخلاص کی فضیلت

89

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اور انہیں حکم دیا گیا کہ صرف خالص اللہ کی عبادت کریں۔‘‘ اور فرمایا ’’خبردار اللہ کے لیے خالص دین ہے۔‘‘ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا ’’اپنا دین خالص رکھ، تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے کہ آپؐ نے فرمایا ’’جب قیامت کا دن ہوگا تو فرشتے مہر شدہ نامۂ اعمال لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کو پھینک دو اور اس کو قبول کرلو۔ فرشتے کہیں گے: تیری عزت کی قسم! ہم نے تو وہی لکھا جو اس نے کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ دوسروں کے لیے تھا اور میں آج وہی عمل قبول کروں گا جو صرف میرے لیے تھا۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’فرشتے بندے کے عمل لے کر جاتے ہیں اور عمل بہت زیادہ بتاتے ہیں اور اسے بڑا اچھا کہتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی کرتے ہیں کہ تم میرے بندے کے اعمال کی نگرانی کرنے والے ہو اور میں اس کے دل کو دیکھتا ہوں۔ اس بندے نے خالص عمل نہیں کیے، اس کو سجّین میں رکھو۔ اور ایک بندے کے عمل لے کر جاتے ہیں اور بڑے تھوڑے عمل بتاتے ہیں تو ان کی طرف وحی فرماتا ہے کہ تم میرے بندے کے اعمال کے نگران تھے اور میں اس کے دل کو دیکھتا ہوں، ان کو بڑھا دو، اسے علیین میں رکھو۔‘‘
حضرت حسنؒ سے مروی ہے، آپ نے کہا ’’ایک درخت کی اللہ کے سوا پوجا ہوا کرتی تھی۔ ایک آدمی اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں اس درخت کو ضرور کاٹوں گا۔ چنانچہ اللہ کے لیے غصے میں آکر اسے کاٹنے کے لیے گیا۔ شیطان اسے انسان کی صورت میں ملا اور کہا: تم کیا کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: میں اس درخت کو کاٹنا چاہتا ہوں جس کی اللہ کے سوا پوجا ہورہی ہے۔ شیطان نے کہا: جب تم اس کی پوجا نہیں کرتے، تو جو پوجا کرتے ہیں اُن سے تمہارا کیا نقصان ہے؟ اس نے کہا: میں اسے ضرور کاٹوں گا، تو شیطان نے کہا: میں تجھے اس سے بہتر چیز نہ بتائوں۔ تُو اس درخت کو نہ کاٹ، صبح کے وقت تجھے تیرے تکیے کے نیچے سے ہر روز دو دینار مل جایا کریں گے۔ اس نے کہا: اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس نے کہا: میں۔ وہ آدمی واپس آگیا اور جب صبح ہوئی تو اسے تکیے کے نیچے دو دینار مل گئے۔ پھر دوسری صبح کو کچھ بھی نہ ملا۔ پھر وہ غصے میں آکر درخت کو کاٹنے کے لیے نکلا۔ شیطان پھر اسی صورت میں اسے ملا اور پوچھا: کیا کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اس درخت کو کاٹنا چاہتا ہوں جس کی اللہ کی سوا پوجا ہورہی ہے۔ اس نے کہا: تُو جھوٹ کہتا ہے، تُو اس کو نہیں کاٹ سکتا۔ وہ کاٹنے کے لیے چلا تو شیطان نے اسے زمین پر پٹخ دیا اور اس کا گلا گھونٹنے لگا، یہاں تک کہ وہ مرنے کے قریب ہوا۔ پھر شیطان نے اس سے کہا: جانتے ہو میں کون ہوں؟ اور اسے بتایا کہ میں شیطان ہوں، اور یہ بھی بتایا کہ پہلے دن تم اللہ کے لیے غضب ناک ہوکر آئے تھے اور میں تم پر قابو نہیں پا سکا تھا۔ میں نے تمہیں دو دیناروں کا لالچ دیا تو تم نے درخت کو چھوڑ دیا، اور اب جو تم آئے ہو تو دو دیناروں کے لیے غضب ناک ہوکر آئے ہو، لہٰذا میں نے تم پر قابو پالیا۔‘‘
حضرت معروف کرخیؒ اپنے نفس کو مارتے اور کہتے ’’اے نفس، عمل خالص کر، تب خلاصی ہوگی۔‘‘

حصہ