ٹرمپ یا پیوٹن

117

او ریا مقبول جان
آج سے ستائیس سال پہلے پوری مسلم امہ یورپ کے ایک خطے بوسنیا میں مسلمانوں کے قتلِ عام کا ماتم کررہی تھی۔ بلقان کے اس ملک کے خوب صورت لوگ آرتھوڈوکس چرچ کے ماننے والے سرب باشندوں کے ہاتھوں بدترین دہشت گردی کا شکار ہورہے تھے۔ یہ جنگ تقریباً چار سال تک جاری رہی، اور اس میں پانچ لاکھ کے قریب مسلمان لقمۂ اجل بنا دیے گئے تھے۔ یہ میڈیا اور سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا، مگر اس کے باوجود بھی جو تصویریں، خبریں اور فلمیں حکومتی ذرائع ابلاغ تک پہنچتی تھیں وہی اس قدر خوف ناک اور دل دہلا دینے والی تھیں کہ راتوں کی نیند حرام کردیتی تھیں۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے بارے میں سربیا یعنی سابقہ یوگوسلاویہ کے سربراہ ملا سووچ نے یورپی یونین کے سامنے یہ سوال رکھا تھا کہ ’’اب یہ تمہیں فیصلہ کرنا ہے کہ تم عین یورپ کے وسط میں ایک مسلمان ملک چاہتے ہو یا نہیں‘‘۔ اس سوال کے بعد پورا یورپ مسلمانوں کے قتلِ عام پر ایک خاموش تماشائی بن گیا تھا۔ جیسے ہی بوسنیا کے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کرنے لگی اور دوسرے ملکوں کے مسلمانوں نے جو جذبۂ جہاد سے سرشار تھے، بوسنیا کا رخ کرنا شروع کیا تو پھر دنیا بھر کی طاقتوں پر ایک خوف سوار ہوا کہ کہیں یہ ملک عالمی جہاد کا مرکز نہ بن جائے۔ اس لیے کہ سب طاقتیں چاہتی ہیں کہ جنگ کا میدان امریکا اور یورپ سے باہر کسی اور جگہ سجتا رہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے یہ ایک مشترکہ حکمت عملی ہے کہ جنگ جنوبی امریکا، افریقہ، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا، یا مشرقِِ بعید میں کہیں بھی ہوتی رہے اور ہمارا اسلحہ بکتا رہے، لیکن جنگ کو یورپ اور امریکا کی سرحدیں عبور نہیں کرنی چاہئیں۔ اسی لیے فوراً اقوام متحدہ کے دستے بوسنیا بھیج کر وہاں امن زون بنائے گئے۔ فوراً بعد نیٹو نے وارننگ دی کہ جنگ بند کرو۔ اور پھر کروشیا اور سربیا کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی۔ اس بمباری میں امریکی فضائیہ بھی شامل ہوگئی، اور اس کے بعد بوسنیا کے مسلمانوں اور کروشیائیوں اور سربوں کو ملا کر ایک ایسی سیکولر جمہوری حکومت قائم کی گئی جس کے خدوخال میں کہیں بھی اسلام شامل نہ تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب روس مکمل طور پر اپنی تباہی اور زوال کے راستے پر گامزن تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سربیا کے وہ روس نواز حکمران جنہوں نے امریکا اور نیٹو کی بات نہیں مانی تھی اور بوسنیا سے جنگ جاری رکھی تھی، انہیں عالمی عدالتِ انصاف کے کٹہرے میں لاکر سزائیں سنائی گئیں۔
اس چار سالہ جنگ سے دو مقاصد حاصل کیے گئے، ایک یہ کہ اب آزادی صرف اس شرط پر مل سکتی ہے اگر آپ سیکولر جمہوری طرزِ زندگی اختیار کریں، اور دوسرا یہ کہ روس کو یہ باور کرا دیا گیا تھا کہ سوویت یونین کے زوال کے بعد وہ اپنی حدود تک محدود رہے اور علاقائی بالادستی کے خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ لیکن بیس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد روس نے اتنی انگڑائیاں لے لی ہیں کہ دنیا کو ہر لمحے یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کسی بھی وقت جنگ کا بگل بج سکتا ہے، اور اگر ایسا ہوگیا تو پھر یہ جنگ صرف اس خطے تک محدود نہیں رہے گی جہاں سے شروع ہوئی تھی، بالکل ویسے ہی دنیا میں پھیل جائے گی جیسے پہلی جنگِ عظیم بھی اسی بوسنیا کے شہزادے کے قتل ہونے سے شروع ہوئی تھی اور اس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
بلقان کی دو جنگوں نے خلافتِ عثمانیہ کی بالادستی کو یورپ سے نکال باہر کیا اور بلغاریہ، یونان، مونٹی نیگرو، سربیا جیسے علاقے ترکوں کے ہاتھوں سے نکل گئے تھے۔ آج روس جس حیثیت میں ہے، یوں لگتا ہے وہ اپنے اردگرد کے تمام ممالک سے امریکا اور نیٹو کے سائے کو بھی دور کردینا چاہتا ہے۔ یوکرین کا معاملہ روس کی جانب سے ایک جارحانہ قدم تھا۔ شام میں اپنے مفادات کے حوالے سے وہ جنگ میں کودا اور پھر مشرقِ وسطیٰ میں شام پہلا ملک تھا جہاں امریکا اپنی مرضی سے اپنی حکمت عملی پوری نہ کرسکا۔ بس دانت پیستا ہوا بشار الاسد کے خلاف زہر اگلتا رہا۔
بوسنیا وہ ملک ہے جس کی علاقائی اہمیت کی وجہ سے امریکا اور یورپ کی رال اس پر شروع ہی سے ٹپکتی رہی ہے۔ بوسنیا کو 2010ء میں دعوت دی گئی کہ وہ نیٹو اتحاد میں شامل ہوجائے۔ چونکہ بوسنیا کو ایک اسلامی مملکت بننے سے روکنے کے لیے دیگر قومیتوں کے لوگوں کو بھی اس کا حصہ بنایا گیا تھا، اس لیے وہاں ایک کثیر تعداد میں سرب آبادی بھی موجود ہے جو روس کے زیر سایہ ہے۔ اس آبادی کے لیڈر می لورڈ ڈوؤک نے اس کی مخالفت کی، اور گزشتہ ماہ اعلان کیا کہ اگر بوسنیا نیٹو میں شامل ہوا تو یہ اس ملک کے خاتمے کا اعلان ہوگا۔ نو ماہ بعد بوسنیا کے انتخابات ہوگئے لیکن اسی وجہ سے حکومت نہیں بن سکی۔
گزشتہ ایک سال سے روس سے فوجی قافلے خاص طور پر اس خطے خصوصاً بوسنیا سے مسلسل گزارے جاتے رہے ہیں تاکہ اس بات کا احساس رہے کہ یہ روس کا پرانا اتحادی علاقہ ہے اور اسی کے زیر اثر رہے گا۔ روس بوسنیا کو ایک بار پھر غیر مستحکم اور جنگ کا شکار کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں اُس نے وہاں کی نسل پرست تنظیموں کی سرپرستی بھی شروع کردی ہے۔ کیونکہ اگر بوسنیا میں ایک دفعہ پھر خانہ جنگی شروع ہوگئی تو یہ نیٹو کا حصہ نہیں بن سکے گا۔ اس طرح ایک تباہ حال ملک روس اور مغربی طاقتوں کے درمیان ایک بفر زون بنا رہے گا۔ لیکن ایسی صورت حال شاید اب قائم نہ رکھی جاسکے۔ امریکی مفادات پر گزشتہ چند برسوں سے جس طرح روس حملہ آور ہورہا ہے اس نے جنگ کو ہوا دے دی ہے اور اس کے نقاروں کی صدا بلند ہورہی ہے۔
ترکی نے روس کے ساتھ جو 5.400 میزائل خرید کر اپنے ڈیفنس سسٹم میں ڈالنے کا معاہدہ کیا ہے اس نے نیٹو کی ساری حکمت عملی کو چیلنج کردیا ہے۔ یوں وہ یورپ، جو گزشتہ ستّر سال سے جنگ کے شعلوں سے بچتا چلا آرہا تھا، ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہ جنگ صرف یورپ میں نہیں لڑی جائے گی بلکہ اس کے شعلے بحیرہ روم عبور کرتے ہوئے شام، مصر، عراق، اسرائیل اور دیگر عرب ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیں گے اور دونوں طاقتیں بلکہ دونوں گروہ یعنی ایک طرف یورپ اور امریکا، دوسری جانب روس، چین جب جنگ میں کودیں گے تو پھر وہ پاکستان، بھارت، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ملائشیا تک اس جنگ کے جنون کو پھیلا سکتے ہیں۔ ان تمام ممالک میں جنگوں کی چنگاریاں پہلے سے موجود ہیں۔ اس ضمن میں دونوں جانب سے تجزیے ہورہے ہیں اور حیران کن طور پر ان کا مرکز و محور پاکستان ہے۔
ہر کوئی دم بخود ہے کہ پاکستان کس گروہ کے ساتھ کھڑا ہوگا! کیونکہ پاکستان دونوں کے لیے اہم ہوگیا ہے۔ عمران خان کو ڈونلڈ ٹرمپ سے ملایا جارہا ہے کہ دونوں کے عادات و اطوار ایک جیسے ہیں، جب کہ اسرائیل کے یروشلم پوسٹ نے ایک اور حیران کن مماثلت ڈھونڈی ہے۔ اس کے نزدیک پیوٹن اور عمران خان بھی ایک جیسے ہیں۔ دونوں 5 اور 7 اکتوبر 1952ء کو پیدا ہوئے، دونوں ایتھلیٹ اور مضبوط جسم رکھتے ہیں، دونوں امریکا مخالف ہیں، دونوں کرپشن کے خلاف ہیں، دونوں قوم پرست اور محبِ وطن ہیں۔ صرف ایک فرق ہے کہ عمران خان ریاستی کاروبار میں نئے نئے ہیں، اور پیوٹن خفیہ ایجنسی کے جی بی سے آئے ہیں۔ لیکن اخبار کے مضمون میں اسرائیل کا خوف نظر آتا ہے۔ اس کے نزدیک اگر کسی بھی وقت یورپ میں آگ کی چنگاری سلگی تو وہ بوسنیا سے ہوسکتی ہے، مگر اس کے شعلے چاروں جانب پھیلیں گے اور ایک بلند شعلہ پاک بھارت جنگ کا بھی ہوگا۔ ایسے میں پاکستان جس طرف بھی ہوا، جنگ پر اثر ڈالے گا۔
دیکھیں عمران خان کی ٹرمپ سے مماثلت کام آتی ہے یا پیوٹن سے۔

حصہ