میں صحافی ہوں!۔

58

عارف رمضان جتوئی
حقیقت سے پرے مصنوعی سماجی شہر (سوشل میڈیا) کی دیوار پر لکھا تھا ’’نامعلوم مسلح ڈاکوشہری کو لوٹ کر نامعلوم سمت میں فرار ہوگئے‘‘۔ تفصیلات میں شہری بھی نامعلوم رہا اور ذرائع بھی نامعلوم رہے۔ جس کے بعد خبر کچھ یوں بن گئی ’’نامعلوم مسلح ڈاکو نامعلوم شہری سے نامعلوم رقم لوٹ کر نامعلوم سمت فرار ہوگئے‘‘۔ ایک اور خبر اسی دیوار کے نیچے پھر دیکھی ’’۔۔۔ لڑکی کو اس کے بچے کے سامنے قتل کردیا گیا‘‘۔ پھر کچھ روز بعد پھر وہاں سے گزر ہوا تو ایک اور خبر کی سرخی چسپاں تھی ’’15برس کے بچے کی لاش برآمد‘‘۔
مصنوعی سماجی شہر تھا اس لیے سوچا اس پر کیا بات کرنی، میں واپس دھول مٹی والے اپنے حقیقی شہر میں لوٹ آیا۔ نظریں نیچی رکھنے کی تاکید کے باوجود دل کے بالغ رویوں سے مجبور ادھر ادھر تاڑتے ہوئے سڑک کنارے لگے اسٹال پر منہ لٹکائے اخبار کی ایک سرخ دکھائی دی۔ مہان اخبار کے عظیم سب ایڈیٹر نے بڑی مہارت سے سرخی جمائی ہوئی تھی۔ ’’دفاعی بجٹ سے متعلق فوج کے ’’سپاہ سالار‘‘ کا بڑا اعلان‘‘۔ سرخی پڑھ کر پہلی بارنظریں نیچی رکھنے والی تاکید پر سختی سے عمل کرنے کا احساس جاگا۔ اگر میں خود اخبار سے منسلک نہ ہوتا تو شاید مجھے اس وقت سرخی پر ندامت نہ ہورہی ہوتی۔ یہ تو میرے اپنے ہی پیٹی بھائی کی قائدانہ صلاحیتیوں کا ثمر تھا۔
پھر مجھے احساس ہوا کہ شاید میں غلطی پر ہوں، دراصل حقیقت کا ادراک ہوتے ہی ندامت کی جگہ میرا سینہ چوڑا ہوگیا۔ سب ایڈیٹر کو سلام پیش کرنے کو دل چاہا۔ موصوف کی ماہرانہ صلاحیتیں مجھ پر آشکارہ ہوچکی تھیں۔ ’’سپاہ سالار کا اعلان اس قدر بڑا تھا کہ انہیں ایک بار فوج لکھنا کم لگا، فوج اور سپاہ سے اعلان میں وزن بڑھ گیا‘‘۔ اتنی سی بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سربراہ پاک فوج کا بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا اقدام قابل تحسین ہے۔ یہاں تو ہم اپنے سب ایڈیٹر کی ماہرانہ صلاحیتوں پر دکھی ہوئے بیٹھے ہیں۔ فوج عربی کا، سپہ فارسی کا لفظ ہے، لیکن مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔
مجھے مصنوعی سماجی شہر کی دیواروں پر لکھی سرخیوں پر اعتراض ہرگز نہیں تھا۔ کل ملا کر بات اتنی تھی کہ ’’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘۔ جب گلی محلے میں ہر شخص صحافت کی اپنی برانچ کھول لے گا تو تھوک کے بہائو رپورٹر مل ہی جائیں گے۔ اسی تعداد میں سب ایڈیٹر اور ایڈیٹر بھی دستیاب ہوں گے۔ ایسے میں بچے کے سامنے قتل ہوتی ماں لڑکی ہی دکھائی دے گی، نامعلوم سے نامعلوم تک کا یہ سفر ایسے طے ہوجائے گا کہ سڑک سے پرنٹنگ تک سب کچھ نامعلوم ہی رہے۔ اخبار کے ادارے کو سیکورٹی کے نام پر رپورٹر چار روپے زیادہ دے کر آئے تو اسے اپنے جوان لڑکے کی طرح ہر 15برس کا لڑکا معصوم بچہ ہی لگتا ہے۔ میرے جیسے جمعہ جمعہ 8 دن والے صحافی اخبار کی فیلڈ میں بھرے پڑے ہیں۔ جب ایسا ہو تو پھر سرخیاں ’’گرمی کے ستائے شہری ساحل سمندر کے کنارے نکل آئے‘‘ ہی ملتی ہیں۔ ورنہ تو سمندر کا کنارہ اور ساحل کچھ الگ نہیں ہیں۔
علی احمد ساگر کی تحریر میں ایک دلچسپ واقعہ پڑھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ایک صحا فی تانگے پر سفر کر رہا تھا جب وہ اپنی منزل پر پہنچا اور’’کوچوان‘‘ نے کرا یہ مانگا تو صحافی نے اپنا پریس کارڈ نکال کرپیش کردیا اور ساتھ ہی کہا کہ ’’میں تو رپورٹر ہوں‘‘۔ ’’کوچوان‘‘ نے اپنے گلے میں لٹکا کارڈ نکالا اور پیش کرتے ہوئے ’’تم صرف رپورٹر ہو میں تو بیورو چیف ہوں‘‘۔
یہ واقعہ فرضی بھی ہوسکتا ہے مگر حقیقتیں بھی کئی گھوم رہی ہیں۔ اس سے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ پہلی بات تو یہ کو کوچوان بیوروچیف بن بیٹھا یا پھر بیور و چیف مشکل حالات سے تنگ آکر کوچوان بھی بن گیا۔ جو بھی ہے دونوں صورتوں میں نقصان تو صحافت ہی کا ہورہا ہے۔ ایسے کئی لوگ ہیں جن کا پیشہ کچھ اور ہے (اس اور میں بہت کچھ ہے) مگر وہ عظیم صحافی بنے ہوئے ہیں چونکہ وہ ادارے کو کما کر دے سکتے ہیں تو اچھے صحافی بن چکے ہیں۔
موجودہ حالات نے بھی صحافت میں مجھ جیسے ایسے کئی صحافی اور ایڈیٹر پیدا کیے ہیں جن کی حیثیت خود ایڈیٹر، سب ایڈیٹر یا انچارج کے چپراسی جیسی ہے۔ مالکان پیسے دیتے نہیں، ایڈیٹر کو مجبوراً انچارج کو لمبی رخصت پر بھیجنا پڑتا ہے۔ ایڈیٹر کے جاتے ہی اس کرسی پر سب ایڈیٹر تشریف فرما ہوتا ہے۔ پیج انچارج کے جاتے ہی پیج میکر اور کمپوزر انچارج بن جاتا ہے۔ ادارہ بڑی رقم سے بچ جاتا ہے اور یوں صحافت میں میرے جیسے نااہل فرد کو نمایاں جگہ مل جاتی ہے۔ بعد ازاں متعلقہ جگہ اور اس کی حیثیت کا جو حشر ہوتا ہے وہ مذکورہ سرخیوں میں نمایاں ہے۔ یہ تو معمولی غلطیاں ہیں یہاں ایسی بے شمار غلطیاں اور بھی ہوتی ہیں جن کو ذکرکرتے صحافت بے چاری شرما جائے۔ حواس باختہ کی جگہ حیا باختہ چلا جائے تو یقینا منہ چھپانے کی جگہ ڈھونڈنی پڑے مگر کبھی اس نوعیت کی غلطی کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی۔ اس سنجیدگی کے لیے بھی تو اہل دل ہونا ضروری ہے۔
آخر میں میرے عزیز صحافی دوستو! یہ پیشہ عظیم ہے اس کی تعظیم کیجیے۔ یہ اتنی بڑی ذمے داری ہمارے کمزور کندھوں پر ہے تو اس کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کیجیے۔ مانا نااہل ہیں مگر کیا ہوا اب سنبھالنا بھی تو ہم ہی کو ہے۔ ادارہ نہیں پوچھتا نہ پوچھے مگر صحافتی رویوں کا خیال رکھنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔ جس غلطی کو ہونا ہے وہ تو ہوگی چاہیے کتنے ہی پروف ریڈر بٹھا لیے جائیں مگر ایسی غلطی نہ ہو جس سے اپنی نااہلی کا پردہ فاش ہو۔ کوشش کر کے ان باتوں پر دھیان دیجیے کہ لفظ خود بہت کچھ بولتے ہیں۔ مانا ماں کے پیٹ سے سب سیکھ کر نہیں آتے مگر لکھنے سے پہلے پڑھنے کا رجحان بڑھانا ہوگا۔ جو سمجھ میں نہیں آرہا وہ پوچھ لینے میں حرج نہیں، بجائے اس کے کہ وہ جگ ہنسائی کا سبب بنے۔
میں اپنے استاد کی ڈانٹ سے بہت ڈرتا ہوں مگر جانتا ہوں ان کابتایا ہوا ان کے نہیں میرے کام کا ہے۔ آپ کے اردگرد کوئی ایسا شخص موجود ہوگا جس سے آپ یہ سب وصول کرسکتے ہیں۔ اپنی صحافت کو معیاری بنائیں۔ غلطی ہونا اور جان بوجھ کر غلطی کرنے میں فرق ہے اور وہ فرق آپ خود ختم کرسکتے ہیں۔ ذیل میں کچھ چیزیں دے رہا ہوں۔ یہ میرے اپنے لیے ہیں کہ شاید میں خود ان کو سمجھ سکوں۔ آپ بھی لازمی ان باتوں کو اپنائیں۔ یہ اطہر ہاشمی کے کالم ’’خبر لیجیے زبان بگڑی ‘‘ سے پیش کیے جارہے ہیں۔
سب سے زیادہ رائج غلطی ’’سوااور علاوہ‘‘ کے استعمال میں کی جا رہی ہے ۔ دونوں الفاظ کا اصل مفہوم ایک دوسرے کے الٹ ہے۔ اگرچہ ’’سوا‘‘ کے بجائے ’’علاوہ‘‘ کا لفظ استعمال کرنے سے بعض اوقات کام چل جاتا ہے لیکن اصل میں یہ غلط ہوتا ہے۔ مثلاً اس جملے کو دیکھئے ’’اسلام کے علاوہ دیگر تمام نظام کفر و شرک کی دعوت دیتے ہیں‘‘۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ نعوذ باللہ اسلام بھی کفروشرک کی دعوت دیتا ہے۔ صحیح عبارت یوں ہونی چاہیے تھی ’’اسلام کے سوا دیگر تمام نظام کفرو شرک کی دعوت دیتے ہیں۔ علاوہ میں سب شامل ہیں، سوا میں اسثتنا ہو جاتا ہے۔
ارسال اور روانہ کی غلطی۔ اکثر سنا ہوگا خط روانہ کرنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ارسال کا لفظ کسی غیرمتحرک یا بے جان چیز کو بھیجنے کے لیے استعمال کرنا صحیح اور روانہ کا لفظ جاندار یا متحرک چیز کو بھیجنے کے لیے استعمال کرنا صحیح ہے۔ مثلاًخط ارسال کیا جاتا ہے جبکہ قاصد روانہ کیا جاتا ہے۔
لفظ ’’عوام‘‘ کا بطور مؤنث استعمال کرنادرست نہیں ہے۔ ’’عوام بولتی نہیں‘‘ یا ’’عوام فیصلہ کرے گی‘‘۔ لفظ عوام کو مذکر کے طور پر جمع کے صیغے میں استعمال کرنا صحیح ہے۔
افشا بھی عام غلطی ہے۔ ’’راز افشاں ہوگئے‘‘۔ افشا اور افشاں میں فرق ہے۔ درست لفظ افشا ہے، الف بالکسر کے ساتھ۔
ت اور ط کے استعمال میں بھی غلطی ہوتی ہے۔ ’’وتیرہ‘‘ کو وطیرہ لکھا جاتا ہے۔ یہ عام غلطی بن چکی ہے۔ اسی طرح سے ’’ناتا‘‘ کو ’’ناطہ‘‘ لکھنا بھی غلط ہے۔ وتیرہ اگرچہ عربی کا لفظ ہے مگر پھر بھی ’’ت‘‘ کے ساتھ لکھا جائے گا۔ ’’ناتا‘‘ ہندی کا لفظ ہے اور ہندی میں ’’ط‘‘ کا استعمال نہیں ہے۔
بیزار آنا بھی لکھا جاتا ہے۔ بیزار فارسی کا لفظ ہے اور اس کو ہونا چاہیے۔ یعنی بیزار ہونا لکھا جانا چاہیے۔ اسی طرح ’’لاپروائی یا بے پروا‘‘ اس کو بھی غلط لکھ کر آخر میں ’’ہ‘‘ لگا دیا جاتا ہے۔ یعنی پرواہ لکھ دیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔ ایسے کئی الفاظ ہیں جنہیں صحافی اور قلم کار حضرات و خواتین بے دھڑک لکھے جارہے ہیں۔ لکھیے ضرور مگر پڑھیے بھی اور اچھا پڑھیے تاکہ اچھا لکھ سکیں۔
یہ میرا دکھڑا تو تھا اپنے جیسے پرنٹ میڈیا کے نااہلوں کا، ایک بڑی روشن دنیا بھی ہے جسے الیکٹرانک دنیا کہا جاتا ہے۔ وہ پڑھنے لکھنے سے زیادہ بولنے پر توجہ دیتے ہیں۔ بڑے لوگ بڑی باتیں مجھ جیسا ناکارہ بندہ کیا کہہ سکتا ہے۔ حیدر علی آتش صاحب کا شعر سنانے کو دل مچل رہا ہے۔ یہ تو ویسے سنارہا ہوں اپنے دلِ ناداں سے مجبور ہوکر، کوئی دل آگاہ اس پر دل گرفتہ ہرگز نہ ہو، وہ کہتے ہیں کہ

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجیے دہن بگڑا…!

اب ایک پرانا واقعہ بھی سن لیجیے۔ جس زمانے میں اردو اخبارات میں خبریں انگریزی میں آتی تھیں اور سب ایڈیٹرز ترجمہ کرتے تھے۔ ایک خبر یوں شائع ہوئی، ’’12سال کی بوڑھی لڑکی حادثے کا شکار ہوگئی‘‘۔ نیوز ایڈیٹر نے پوچھا کہ یہ کیا لکھا ہے۔ تو انگریزی کی خبر دکھا دی جس میں صاف لکھا تھا، ’’Twenty years old girl‘‘
کا ترجمہ بوڑھی یا بوڑھا ہی پڑھا تھا۔ Old اب ہم نے تو

حصہ