میری وال سے (ملبورن)۔

44

افشاں نوید
اگر کبھی آپ کا آسٹریلیا آنا ہو توملبورن کرکٹ گراؤنڈ دیکھے بنا واپس نہ جائیے گا۔
جی ایم سی میں چند گھنٹے گزار کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ
٭قومیں ترقی کی منازل کیسے طے کرتی ہیں ؟
٭نوجوان نسل کو کیسے ہیروز دیتی ہیں؟
٭اپنی تاریخ کی کتنی حفاظت کرتی ہیں؟
٭نوجوانوں کی ترجیحات کس طرح متعین کرتی ہیں؟
٭سرمایہ کاری کہاں کررہی ہیں؟
٭اپنی تاریخ کو کیسے قابل فخر بناتی ہیں؟
٭زندہ قومیں کیسے ناز کرتی ہیں خود پر؟
اور۔۔۔ان کے پاس دکھانے کو بہت کچھ ہوتا ہے…
داخلے کا فی کس ٹکٹ پینتیس ڈالر ہے۔ایک ورکنگ ڈے میں وہاں کا رش دیکھ کر اندازہ ہواکہ یہ لاکھوں ڈالر ماھانہ آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔
زندہ قومیں کس سلیقے سے جیتی ہیں۔
کرکٹ اسٹیڈیم ہے دیکھنے دکھانے کی چیز۔
ایک “رائل ٹچ” دیا ہواہے پورے اسٹیڈیم کو۔تین چار گھنٹے مسلسل چل کر بھی لگا کہ ابھی بہت ان دیکھی دنیا ہے یہاں!!!
پاکستانیوں کی تو جذباتی وابستگی ہے اس گراؤنڈ سے۔1992 کے ورلڈ کپ کی فتح کی یادوں سے جڑی۔انتہائی مستعد عملے کئی بزرگ استقبالیہ کاؤنٹر پر موجود۔پتا چلا یہ سب رضاکار گائیڈ تھے۔۔(اب تک کی پوسٹوں سے آپ لفظ بزرگ کی اصطلاح سے واقف ہو چکے ہونگے یقینا)۔ایک دادی پوتے کے ساتھ ہمارے ہمراہ گروپ میں شامل تھیں جو آپ کو تصویر میں نظر آرہے ہیں۔ہمیں بھی گائیڈ کے حوالے کردیا گیا۔۔ مسٹر میلکم جو تصویر میں ہیں۔(ہم نے انکا نام ان کے سینے پر لگے بیج سے ہجے کرکے یاد کیا کہ میموری میں سلامت رہ جائے)۔
کیسے نومولود بچوں کی طرح اسٹیڈیم کی سیوا کی جارہی تھی اللہ اللہ۔
مصنوعی دھوپ کے ذریعہ اسٹیڈیم کے ایک حصہ کو خشک کیا جارہا تھا۔کیونکہ یہاں مسلسل بارش رہتی ہے اس لیے مصنوعی دھوپ کا مستقل انتظام ہے۔
کچھ ہماری آنکھیں دیکھ رہی تھیں اور کچھ میلکم سے سن رہے تھے۔انکو تو سب ذراذرا یاد تھا۔اگر وہ خاتون انجلینا یعنی بچہ کی دادی (جو پکچر میں ہیں)ہمارے ساتھ نہ ہوتیں تو یہ دورہ تشنہ ہی رہ جاتا۔مسٹر میلکم نے بتایا وہ رضاکار ہیں ہفتہ میں تین دن یہاں آتے ہیں۔دو گروپس کو دن میں وزٹ کراتے ہیں اس سے زیادہ ان میں ہمت نہیں۔یہ بتاتے چلیں کہ ایک وزٹ چار گھنٹہ کا تھا۔مسلسل چلنا کئی کلومیٹر پھیلے ہوئے اسٹیڈیم میں ان کی ضعیفی کو خراج تحسین پیش کرتے ہی بنتی ہے۔
پہلے آپکو دادی انجلینا اور مسٹر میلکم کی باہم گفتگو کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔
مسٹر میلکم۔۔یہ جگہ جہاں اس وقت آپ لوگ بیٹھے ہیں یہاں کے ممبران کے لیے مختص ہے۔دوران میچ عام تماشائیوں کے لیے نہیں دستیاب۔
میں۔۔اگر مجھے یہاں کی رکنیت لینا ہے تو کیا کرنا ہوگا؟
مسٹر میلکم۔پچیس سال انتظار۔جو کسی بھی خواہش مند کو کرنا ہوگا۔
خوشی سے بتاتے ہیں کہ میں 1954 سے یہاں کا ممبر ہوں۔
میں نے سوال کیا۔اور مس انجلینا آپ۔؟
انجلینا۔۔اوں ہوں۔۔۔میں نے 1954 کا ورلڈ کپ ضرور یہاں دیکھا تھا مگر اس وقت مجھے رکنیت نہیں ملی تھی۔پھر اگلے سال شادی ہوئی اور رکنیت بھی مل گئی۔
میرا پاکستانی سوال۔آپ کے شوہر اب آتے ہیں یہاں میچ دیکھنے۔(سوال کے اندر کوئی اور سوال پوشیدہ تھا۔شائد پاکستان میں اس عمر کی خاتون سے ہم منہ کھول کر پوچھ لیتے کہ ماں جی آپ کے شوہر حیات ہیں؟؟)
مس انجلینا نے کہا کہ ان کی عمر 93برس ہے۔چند ہفتہ پیشتر وہ کاؤنٹی کا میچ یہاں ان کے ساتھ دیکھنے آئے تھے!!!!
دادی دراصل بارہ سالہ پوتے گراہم کو وزٹ کرانے لائی تھیں۔
جو گریڈ سیون کا طالب علم ہے۔وہ جس انداز سے وزٹ کرارہی تھیں رک رک کر پکچرز کی طرف اشارے کررہی تھیں یقینا آج کے دن انھوں نے گراہم کو ہیرو دیدئیے۔وہ اپنے اسکول کی فوٹی ٹیم کا ممبر ہے۔یہاں اسکول کا ہر بچہ کسی نہ کسی ٹیم سے منسلک ہوتا ہے۔اسکول کے علاوہ ہفتہ وار کسی گراؤنڈ میں اجتماعی پریکٹس ہوتی ہے۔اسکولوں کے مقابلے میں بھی اسٹیڈیم بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔نئی نسل کی حوصلہ افزائی کے لیے لوگ کثرت سے اسٹیڈیم کا رخ کرتے ہیں۔۔۔۔
ایم سی جی کو آپ میوزیم بھی کہہ لیں جہاں نوادرات رکھے ہیں۔
پچھلی صدی کے بلے اور گیندیں۔ڈیڑھ سو سال پرانی تصاویر،ایک ایک پر تاریخ لکھی ہوئی۔آسٹریلیا کے نامور کرکٹرزکی قد آدم تصاویر انتہائی نادر فریمز میں۔دنیا کے نامور بلے بازوں کے تعارف۔ان کے دستخط شدہ بلے آویزاں۔ایک گیلری میں فہرست تھی ان کرکٹرز کے ناموں کی جن کے ریکارڈ آج تک نہیں ٹوٹ سکے۔وہاں چند مایہ ناز پاکستانی کرکٹرز کے نام دیکھ کر جس طرح ملی جذبات بیدار ہوئے اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
وسیع وعریض کمرے۔میلکم بتاتے رہے یہ ڈریسنگ رومز ہیں۔یہ کھانے کے پرتکلف کمرے۔جہاں عام آدمی کا داخلہ ممنوع ہے۔”مشروبات”کے پرتکلف نفیس کرسٹل کے برتنوں سے سجے کمرے۔سینکڑوں لوگ اس وقت صفائی کے کام میں مصروف تھے۔پتا چلا کہ ہفتہ میں دو میچ ہوتے ہیں یہاں ہر میچ کے تماشائی لگ بھگ پچھتر ہزار ہوتے ہیں۔مسٹر میلکم نے پرجوشیلے اندز میں بتایا کہ دیکھیں ہم چوبیس گھنٹہ میں پچھتر ہزار تماشائیوں کے جانے کے بعد اگلے میچ کے لیے گراؤنڈ بالکل ریڈی کردیتے ہیں۔یہاں کئی ہزار لوگوں کو روزگار ملا ہوا ہے۔
آس پاس شیشوں سے نظر آرہا تھا کہ بیک وقت کئی گروپ اسٹیڈیم کا دورہ کررہے ہیں۔زیادہ تر اسکولوں کی بچے تھے جو اسکول سے سیدھے اسٹیڈیم آئے تھے۔دوسرے گائیڈ اسی طرح انھیں دورہ کرا رہے تھے۔باہر اسکول کی بسیں کھڑی تھیں۔لڑکے لڑکیاں اپنے اساتذہ کے ساتھ تھے انکا جوش وخروش دیدنی تھا۔جیسے میلکم نے ہمیں بتایا کہ اس زینے سے ہیروز گراؤنڈ میں جاتے ہیں،اس زینے سے واپس آتے ہیں،یہاں وارم اپ کرتے ہیں،یہ ٹھنڈے یہ گرم پانی کے حوض،یہ زخمیوں کے کمرے۔یہاں آپریشن کی فوری سہولت۔یہ میڈیآ کے کمرے۔یہ ریڈیو ،ٹی وی، سوشل میڈیا اخبارات کے صحافیوں کے کمرے ہر ایک جدید ترین سہولیات سے مزین۔۔۔
بھانجے نے تعارف کرادیا کہ خالہ کی قلم شناسائی ہے تو مسٹر میلکم نے فرمائش کی کہ آپ صحافیوں کی میزپر قلم کے ساتھ ایک تصویر ضرور بنوائیں۔
اچھے خاصے زندہ دل تھے میلکم ،نوے کے پیٹے میں بات بات پر قہقہے لگاتے۔وہ اس بات پر خوش تھے کہ پاکستانی ایک زندہ قوم ہیں۔جنہوں نے ایک کرکٹر کو وزیراعظم بنا دیا ہم بھی خوش ہوئے کہ ہمارے وزیراعظم کو دنیا جانتی ہے۔۔۔
…٭…
ملبورن کا ویک اینڈ
اپنے حساب سے تو ہم علی الصبح ہی نکلے تھے یعنی دس بجے۔کیونکہ بروز اتوار ہماری سڑکوں پر سناٹا ہوتا ہے اس وقت۔اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے شہر شب بیدار ہوگئے ہیں۔
یہاں تو پتا نہیں کب صبح ہوگئی تھی ،اس وقت تو رونق جوبن پر تھی۔سائیکلوں کی بہار تھی سائیکل ٹریکس پر۔
لوگوں کے قافلے چاروں طرف سے برآمد ہورہے تھے۔معلوم ہوا ہر ویک اینڈ پر یہاں میچ ہوتے ہیں اور اتنا ہی رش ہوتا ہے۔ہم اسٹیڈیم کے سامنے سے گزر رہے تھے اور ساتھ ہی ریلوے اسٹیشن تھا۔یہ قافلے وہاں سے برآمد ہورہے تھے۔
یہاں ٹرینوں کا شاندار انتظام ہے جسے دیکھنے کے لیے ہم نے کئی گھنٹہ ٹرین کا سفر کیا۔جس کو رقم کرنے کے لیے ایک باب الگ سے درکارہے۔
افسوس یہ ہواکہ ہمارے حکمران بھی تو ان ملکوں میں آتے جاتے ہیں۔کیا کچھ نہیں سیکھا کبھی کسی نے یا بیگمات کو شاپنگ کرانے آتے ہیں اور آنکھیں اپنے وطن میں ہی چھوڑ آتے ہیں۔۔خیر یہ ملبورن کی اتوار کی صبح ہے۔یہ اسٹیڈیم 75ہزار افراد کی گنجائش رکھتا ہے اور ہر ہفتہ کھچاکھچ بھرا ہوتا ہے۔یہ لوگ کھیل کو عبادت سمجھتے ہیں۔ایک جم غفیر تھا۔کیا بوڑھے کیا بچے۔تین چار نسلیں اکٹھی ہوتی ہیں یہاں اسٹیڈیمز میں ہر ویک اینڈ پر۔آسٹریلیا میں سال میں چھ ماہ کرکٹ ہوتی ہے اور چھ ماہ آسٹریلین فٹ بال جسے فوٹی کہتے ہیں۔
ہزاروں لوگ جرسیاں پہنے کچھ بزرگ(واضح رہے یہاں ساٹھ سال کے نوجوان ہوتے ہیں ٹائٹ جینز اور ٹی شرٹوں میں جوگر پہن کر بھاگتے ہوئے)یہاں اسی سال کے لوگ بزرگ کہے جاسکتے ہیں۔اس کا اندازہ ان کی دھیمی چال،آواز کی لڑکھڑاہٹ اور جھریوں بھرے ہاتھوں سے ہوتا ہے۔
ہمارے سوالوں بھری ٹوکری سے ایک سوال باہر آگیا۔کیا سارے ہی ٹرین سے آتے ہیں میچ دیکھنے۔گاڑیوں سے بھی آتے ہونگے؟
جواب ملا عموماً وہ لوگ جن کے ساتھ چھوٹے بچے ہوں۔کیونکہ میچ کے اختتام پر اکثریت بارز(شراب خانوں) کا رخ کرتی ہے اور اٹھارہ برس سے کم عمر بچوں کا وہاں داخلہ ممنوع ہے۔
واضح رہے اسٹیڈیم میں داخلہ مفت نہیں ہے۔ترقی یافتہ قومیں اپنے مستقبل پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔25ڈالر فی کس میچ کا ٹکٹ ہوتا ہے۔پندرہ ڈالر کے لگ بھگ ٹرین کا کرایہ۔پندرہ ڈالر کی شراب اسٹیڈیم کے اندر پیتے ہیں۔باہر سے شراب اسٹیڈیم کے اندر نہیں لے جاسکتے۔پھر میچ سے سیدھے بار کا رخ۔۔یہاں پھر تیس،چالیس ڈالر کے مشروبات۔ویک اینڈ پر بار پوری رات کھلے رہتے ہیں۔چونکہ نشے کی حالت میں ڈرائیونگ پر یہاں لائسنس منسوخ کردیتے ہیں کچھ عرصے کے لیے۔سخت جرمانے الگ۔اس لیے انگور کی بیٹی کے محرم زاد ٹرینوں سے سفر کو ترجیح دیتے ہیں اسٹیڈیم آنے کے لیے۔۔۔
چونکہ شہر بھر کا رخ اسٹیڈیم کی طرف تھا اس لیے ہم بھی اس مقامی میچ کی معلومات لیتے رہے۔آج مقابلہ ملبورن نارتھ اور ویسٹرن بل ڈوگز کے درمیان تھا جسے ان پچھتر ہزار تماشائیوں نے دیکھنا تھا۔
یہاں لوگ ویک اینڈ دیر تک سو کر نہیں گزارتے؟اگلے سوال کے لیے ہماری پوٹلی کا منہ خود ہی کھل گیا۔بھانجے نے جواب دیا یہاں ویک اینڈ پورے ہفتہ سے زیادہ مصروف ہوتا ہے۔یہ سب فجر سے قبل بیدار ہونے والی قوم ہے۔کل سویرے آپ کو جم لے کر چلوںگا۔ کئی جم تو کئی کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں۔صبح سات بجے تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔اسی طرح پلے گراؤنڈ جو ہر کلومیٹر پر آپ دیکھیں گی بھرے ہوئے ہوتے ہیں اسکولوں کے بچوں سے۔۔اگر آپ کسی والدین سے ہفتہ کا دن مانگیں اور اس کا بچہ اسکول کا طالب علم ہو تو وہ لازمی معذرت کرے گا کہ میرے بچے کا پریکٹس ڈے ہے۔یہاں کھیل تدریس کا لازمی حصہ ہیں۔
میں ویک اینڈ پر سائیکل لے کر روڈ پر ہی آجاتا ہوں کہ جم کی بھیڑ بھاڑ سے بچوں۔ہفتہ کے یہ دو آخری دن اس قدر تھکا دیتے ہیں کہ پیر کی صبح جب آفس میں آپ کسی سے سوال کریں کہ تمہارا ویک اینڈ کیسا گزرا تو اس کا ایک ہی جواب ملتا ہے۔۔۔
I come to work for rest.
…٭…
ملبورن اور شگفتہ نقوی
سلیم احمد نے کہا تھا۔
خود کو خود سے ضرب دیجئے اور کئی ہو جائیے۔
شگفتہ نقوی نے خود کو خود سے جانے کتنی بار ضرب دے رکھا ہے۔ہم بھی ان میں سے ایک شگفتہ نقوی سے ملے۔
ملتے تو آپ کتنے ہی لوگوں سے ہیں مگر کچھ احساس بن کر آپ میں حلول کر جاتے ہیں،کچھ کے ہاتھ میں آئینہ ہوتا ہے تب ہم جھینپ سے جاتے ہیں اپنی بگڑی صورت دیکھ کر،کچھ کے ہاتھوں میں عطر کی کھلی شیشیاں جو خوشبو سے بھر دیتی ہیں آپ کو،کچھ لہجے ایسے مترنم کہ جلترنگ بج اٹھتے ہیں چہار جانب۔
وہ سفید۔ کوٹ میں ڈاکٹر ہوتی ہیں۔گھر میں اس وقت سراپا میزبان۔
صدف نے کہا آپ کی شگفتہ نقوی سے ملاقات کو ذرا وسعت دے کر ادبی محفل کا نام دے لیتے ہیں۔سو کچھ اور اردو سے محبت کرنے والے اکھٹے ہوگئے۔ایک خاتون اقبالیات میں ڈاکٹریٹ کررہی ہیں۔ایک نے ماسٹرز کیا ہوا تھا اردو ادب میں۔باقی بھی لکھنے پڑھنے کے شائقین۔
مشکل ہوگئے ان سے مل کر کہ انھیں دیکھیں،سنیں یا محسوس کریں۔
لکھنے کا ملکہ تو کسی آدم بیزار فرد کے حصہ میں بھی آسکتا ہے مگر وہ لوگوں کے اندر بس جاتی ہیں۔ان کے اندر چھپی کہانیاں مہارت سے پڑھ لیتی ہیں۔پھر وہ اور ان کا قلم۔
لوگوں کے ذہنی امراض،جسمانی امراض،روحانی امراض،کسی رسالہ میں بچوں کی ڈاک لیے بیٹھی ہیں تو کہیں درود ووظائف کی محفل۔۔۔
اتنا کچھ کرچکی ہیں مگر ہر دم کچھ نیا کرنے کو بیتاب۔ایک طرف اولادوں کی اولادوں کے ناز اٹھاتی ہیں تو دوسری طرف فارسی کے کسی امتحان کی تیاری کا ان کی میز سے پتا چلا۔ساری دنیا میں ان کے مریض بھی ہیں اور ان کے قارئین بھی۔بات بات پر برجستہ شعر۔جب گنگنانے لگتی ہیں تو منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
جو کتاب،جو رسالہ چاہے ان کے گھر سے لے لیں۔محفل میں اپنی مزاحیہ تحریر پوری پنجابی ٹون کے ساتھ سنائی اور محفل کو زعفران زار کر دیا۔
تحریر یوں تھی کہ نازوں کی پلی ایک جاگیردار خاندان کی بیٹی زینما جب شادی ہوکر پنجاب سے آسٹریلیا آئی تو لوڈ شیڈنگ نہ ہونے،نلوں میں پانی نہ جانے،ٹریفک کے بہترین انتظام۔صاف ستھرے شہر کی رہائش پر بہت خوش۔۔۔مگر جب جھاڑو پوچا کرنا پڑا،باتھ روم دھونا پڑے،کپڑے خود دھونے استری کرنا پڑے تو بابا کو رورو کر فون کئے کہ تمہاری لاڈلی پر کیا وقت پڑا ہے کبھی ماسی،کبھی جمعداروں والے کام۔کوئی پرسان حال نہیں،قسمت پھوٹ گئی تمہاری دہی کی۔۔۔
جس انداز سے انھوں نے سنایا واقعی سننے لائق تھا۔پھر ہم سب ان کی شاعری پر سر دھنتے رہے۔
یہاں ریڈیو کے ایک چینل سے انکا کلام ان کی زبان میں نشر ہوتا ہے۔۔دیگر نے بھی اپنی تازہ تخلیقات پیش کیں۔
کئی صفحات کا مضمون درکار ہوگا اس نشست کے احوال کے لیے۔ان کی گائنی کی فیلڈ کے معجزے۔وہ اللہ کا نام لے کر انہونی کو ہونی کر دکھاتی ہیں۔ڈاکٹرز حیران رہ جاتے ہیں۔
ان کی شخصیت کی خاص بات وہ ہروقت ہر ایک کو دستیاب ہیں۔
وہ کھانا بنانے میں دلچسپی نہیں لیتیں پھر بھی اس دن کھانا خود بنایا کہ پاکستان سے مہمان آئے ہیں۔لوکی روز پکاتی ہیں کسی نہ کسی شکل میں کہ نبی پاک ؐ کو پسند تھی۔ہر ایک سے اتنی محبت سے ملتی ہیں کہ دوسرا حسد میں مبتلا ہوجائے کہ مجھ جیسا ہی سب کو چاہتی ہیں۔سب کو تحفے دئیے۔میں نے ان کی ایک کتاب کی طلب ظاہر کی تو کرسی رکھ کر الماری پر چڑھ کر بالاء خانے سے نکال کر دی۔میں نے کہا پاکستان آئیں تو شرف ملاقات بخشیے گا۔ایک دم تڑپ کر بولیں۔بس اب پاکستان ہی آؤنگی، مستقل آؤنگی۔بیٹے سے کہہ دیا اب اپنے لوگوں کی خدمت کرونگی۔
حالانکہ یہاں بیٹھ کر بھی خدمت پاکستانیوں ہی کی کر رہی ہیں۔لوگوں کے روزگار سے لے کر رشتے ناتے لگوانے تک۔۔
میں نے کہا کسی عزیز کو کاؤنسلنگ کی ضرورت ہے آپ سے بات کرادوں۔بولیں میرا سب کچھ پاکستان کے لیے ہے۔آج ہی بات کراؤ۔بس نو بجے سوجاتی ہوں اس کا خیال رہے۔جس انداز سے شعر گنگناتے ہوئے استقبال کیا اسی بھرپور طریقے سے رخصت کیا۔اصرار کیا کہ جب اس نشست کا احوال لکھو تو یہ شعر ضرور لکھنا جن کی کل ظہر کا وضو کرتے ہوئے مجھ پر آمد ہوئی۔۔کل ہی ان کے چودہ روزے پورے ہوئے تھے جو بیماری کی وجہ سے چھوٹ گئے تھے۔۔

افشاں کے آنے کی جب نوید ملی
روزے پورے ہوئے تو عید ملی
دیس میں ممکن نہیں تھا ہم ملتے
پردیس میں دید کی نوید ملی۔۔۔

گھر آکر ان کی کتابوں کو دوبارہ پڑھنا شروع کیا۔ان سے مل کر انھیں پڑھنے کا اور ہی لطف آیا۔۔۔رب ان کو اور ان سے جڑے ہر رشتے کو سلامت رکھے۔۔آمین،
…٭…
ملبورن کی مڈنائٹ
ہم رات کا شہر دیکھنے نکلے تھے۔چوڑی کشادہ سڑکیں۔ہرجگہ چار ،پانچ لینوں میں سے دو تین پر کراس کے نشان تھے۔یعنی بند تھیں آگے جانے کے لیے۔رات کے اس حصہ میں یہاں سڑکوں کی مرمت ہوتی ہے تاکہ دن میں شہریوں کو زحمت نہ ہو۔
پتا چلا یہاں کوئی سڑک ٹوٹی پھوٹی نہیں ہوتی مگر سارا سال کارپٹنگ ہوتی ہے،ہر چند ماہ بعد۔۔تاکہ ٹریفک کی روانی میں خلل نہ آئے۔
یہاں رات کی مزدوری دو گنا ہے۔پھر بھی یہ سب کام رات کو ہوتے ہیں تاکہ دن کے معمولات میں خلل واقع نہ ہو۔
یہ یونیورسٹیوں کا شہر ہے۔رات گئے طلباء کی چلت پھرت تھی ھاسٹلز کے باہر۔کئی جگہ صفائی ستھرائی کاعملہ بھی چاق و چوبند سڑکوں کی صفائی میں مصروف۔۔
یہاں دکانیں تو پانچ بجے بند ہوجاتی ہیں مگر “بار”اور “قحبہ خانے” فجر تک کھلے رہتے ہیں بالخصوص ویک اینڈ پررہائشی و تجارتی علاقے خامشی کی چادر اوڑہے ہوئے تھے مگر شراب خانوں کے اطراف آمدورفت نظر آئی۔قحبہ خانے یہاں قانونی طور پر منظور شدہ ہیں۔کچھ کو دھوکہ دہی کے ذریعہ یہاں لایا جاتا ہے۔کچھ مجبوری کے ہاتھوں مجبور۔بہت کچھ کلچر کی اجازت بھی۔
قحبہ خانے لیگلائز؟؟نہ چاھتے ہوئے بھی سوال زبان سے پھسل گیا۔
یہاں کی ریاست کہتی ہے قانون خدا ہے قانون نہ توڑو۔ہم ہر اس چیز کو قانون بنادیں گے جو تم چاھو گے مگر تمھیں قانون کی گرفت میں رہنا ہوگا۔اب عوام کا ایک طبقہ مصر ہے کہ چرس کو قانونی حیثیت دی جانی چاھئے۔مطالبہ زور پکڑا تو چرس کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائیگی جیسے کہ ہم جنس پرستی عوامی مطالبے کے پیش نظر قانونی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
آپ کا دل کیسے ایمان سے بھر جاتا ہے کہ یہ قانون کے غلام
چاہے وہ قانون فطرت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو
ہم اپنے رب کے غلام!!۔

حصہ