سالگرہ کا تحفہ

44

دانیہ آصف

ساحلِ سمندر پر سورج غروب ہو رہا تھا۔ احمد، علی عثمان اور رضا اس نظارے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آپس میں باتیں کررہے تھے۔ احمد بولا۔ دوستو! ہم ہر بار ایک دوسرے کی سالگرہ پر ایک دوسرے کو تحفے دیتے ہیں۔ قومی دن قریب ہے کیوں نہ اس بار ہم اپنے ملک کو بھی تحفہ دیں۔ عثمان بولا: بات میں تو دم ہے لیکن ہم کریں تو کیا کریں۔ علی نے کہا کہ کیوں نہ اس ساحل کو ہی صاف کر دیں دیکھو کچرے سے اس کی خوبصورتی خراب ہو رہی ہے۔ رضا نے ساحل پر نظر دوڑائی اور حیرت سے بولا! تم پاگل تو نہیں ہو گئے۔ اتنا بڑا ساحل کیسے صاف ہو گا اور فرض کرو ہو بھی گیا تو روز ہزاروں لوگ آتے ہیں یہاں دوسرے ہی دن وہی حال ہو جائے گا۔ علی بولا یار سچ کہتے ہو لیکن مستقل مزاجی سے کوئی کام ہو تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ احمد بولا کہ یہ کام کیسے کیا جائے چاروں نے دماغ لڑانے شروع کر دیے اچانک عثمان نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا: ’’آئیڈیا!‘‘ ہم پرنسپل صاحب سے بات کرتے ہیں وہ ضرور ہماری مدد کریں گے۔
اگلے دن چاروں پرنسپل صاحب کے آفس میں بیٹھے اس موضوع پر بات کررہے تھے۔ پوری بات سن کر پرنسپل صاحب بولے بچو! آپ کی یہ سوچ اور جذبہ جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور اس اچھے کام میں، میں آپ کی مدد ضرور کروں گا۔ میں ساحل کی انتظامیہ سے بات کرتا ہوں پھر ہم بچوں کے والدین کو بھی سرکلر بھجوا کر انہیں بھی اس کام کے لیے دعوت دیں گے آپ لوگ بھی اپنے عزیز و اقارب کو رضا کارانہ طور پر شامل ہونے کی دعوت دیں۔ چاروں دوستوں نے پرجوش انداز میں پرنسپل صاحب کا شکریہ ادا کیا اور رخصت ہوئے۔
اور پھر یوم آزادی پر پورے ساحل پر جگہ جگہ بچوں کے بنائے ہوئے رنگ برنگے بینرز لہرا رہے تھے سبز ہلالی پرچم بھی اپنی شان دکھا رہا تھا۔ انتظامیہ کے ساتھ لوگوں کی بڑی تعداد بھی اسکول کے بچوں کے ساتھ ساحل کی صفائی میں مصروف تھی آخر میں ایک چھوٹی سی تقریب بھی منعقد کی گئی جس میں ساحل کے انچارج نے اپنی تقریر میں احمد، علی، عثمان اور رضا کے جذبے کو سراہا اور عوام کا بھی اس کام میں شامل ہونے پر شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ ’’جس طرح آپ نے آج اپنے کاموں سے وقت نکال کر یہاں ہمارے ساتھ صفائی میں حصہ لیا اگر آپ ہر تھوڑے عرصے میں میں اسی طرح ہمارے ساتھ تعاون کریں تو یہ ساحل مزید خوبصورت ہوجائے گا۔‘‘ اس موقع پر سب کی خوشی دیدنی تھی۔ سب نے مل کر نعرہ لگایا:
’’پاکستان زندہ باد‘‘

حصہ