زلفیں

67

سیدہ عنبرین عالم
۔19مئی 1996ء: کوئٹہ کے رہنے والے محمد اسفند یار حسین کے ہاں 8 بیٹیوں کے بعد بیٹے کی ولادت ہوئی، تمام علاقے کے لوگ مبارک باد دینے آرہے تھے، 8 بیٹیاں تو بلاوجہ بیٹے کی کوشش میں دنیا میں آگئی تھیں، اصل گوہرِ مقصود تو اب ہاتھ آیا تھا۔ محمد اسفند یار کے پاس اتنے پیسے بھی نہ تھے کہ مبارک باد دینے والوں کو مٹھائی ہی کھلا سکتا۔ وہ تو گھر کے لیے بھی مٹھائی نہ لا پایا، پتا چلا کہ بڑے مدرسے کے حافظ ادریس صاحب مٹھائی کے دو ٹوکرے لے کر آئے ہیں۔
حافظ صاحب کی آمد کا سن کر اسفند یار کو اپنی قسمت پر رشک آنے لگا۔ حافظ صاحب نے آکر اسفند یار کو گلے لگایا، مبارک باد دی اور اسفند یار نے بیٹا حافظ صاحب کی گود میں ڈال دیا۔
’’حافظ جی! بی بی مریمؑ کی ماں نے میرے رب سے وعدہ کیا تھا کہ اولاد ہوئی تو اس کی راہ میں دے گی، بس حافظ جی! ہم نے بھی اللہ سے ایسا ہی وعدہ کیا تھا۔ یہ بچہ آپ کا ہے، اس کو ایسا بنادیں کہ یہ ماں باپ کو بھی جنت کما کے دے۔‘‘ اسفند یار نے حافظ صاحب سے کہا۔
’’ہاں میرے بھائی اسفند یار! تم نے یہ وعدہ ہماری مسجد میں ہمارے سامنے ہمارے رب سے کیا تھا، اس کا نام عبداللہ ہے آج سے، اس کا سارا خرچا میں دوں گا، اس کو پالو، جب یہ چار سال کا ہوگا تو ہمارے مدرسے ’’حق بالاسلام‘‘ میں اس کی تربیت شروع ہوجائے گی، ان شاء اللہ یہ بچہ بہت بڑا عالم بنے گا۔ یہ تو اتنا نصیب والا ہے کہ یہ جس وقت پیدا ہوا اسی وقت ایک بڑا سیٹھ میرے پاس آیا، اپنا بنگلہ دیا کہ بچیوں کا مدرسہ شروع کرو، خرچا بھی سارا وہ خود ہی ہمیشہ اٹھائے گا، بس میں تو فوراً تمہارے پاس مٹھائی لے کر آگیا۔‘‘ حافظ صاحب نے کہا۔
اسفند یار کے تو دانت ہی اندر نہیں جارہے تھے، وہ بہت خوش تھا۔ ’’بہت مبارک قسمت ہے ہمارے عبداللہ کی، آپ کہیں تو اپنی بیٹیوں کو بھی آپ کے مدرسے میں داخل کرا دوں؟ سب سے بڑی بچی عائشہ 9 برس کی ہے، پھر ایک ایک سال کے فرق سے ماشاء اللہ 8 بیٹیاں ہیں‘ اب میرے اللہ نے بیٹے سے بھی نواز دیا۔‘‘ اس نے شکر گزاری سے کہا۔
’’ہاں اسفند یار! اپنے بچیوں کے مدرسے میں پہلا داخلہ تمہاری بچیوں کا ہی کروں گا، میری بیٹیاں اور بیگم وہاں پڑھایا کریں گی، کافی لوگ اپنی بیٹیوں کا داخلہ کرانا چاہ رہے ہیں، ہماری بیٹیاں دین سیکھ گئیں تو ان شاء اللہ ہماری نسلوں میں ہر بچہ خالد بن ولید اور محمد بن قاسم ہوگا۔‘‘ حافظ صاحب نے مسکرا کر کہا۔
…٭…
عبداللہ گھر بھر کا لاڈلا تھا، ایک بہن کی گود سے دوسری بہن کی گود… کبھی بستر پر تو سویا ہی نہیں تھا۔ اسفند یار کا ہوائی روزگار تھا، سردیوں میں شکرقندی لگا لی تو گرمیوں میں گولا گندا، عید تہوار پر غبارے بیچ لیے، تو محرم میں لکڑی کی تلواریں۔ بس روکھا سوکھا گزارا چل رہا تھا، مگر بیٹے کے لیے چاکلیٹ لانا نہ بھولتا۔ بیٹیاں مانگتیں تو کہتا کہ یہ تو ایک ہے اس کے لیے لے آتا ہوں، تم لوگ آٹھ ہو، بھلا آٹھ کے پیسے کہاں سے لائوں! بہرحال عبداللہ چار برس کا ہوگیا اور گھر سے رخصت ہوکر 14 سال کی تعلیم حاصل کرنے مدرسہ ’’حق بالاسلام‘‘ میں رہائش اختیار کرلی۔ سب سے پہلا صدمہ اُس وقت ہوا جب مدرسے میں داخل ہوتے ہی اس کی ٹنڈ کرا دی گئی۔ رو رو کر باپ سے شکوہ کرتا، انتہائی دکھ سے سر پر بار بار ہاتھ پھیرتا۔ باپ بہلا پھسلا کر دو چار کھلونے دے کر آنسو پونچھتا ہوا اپنے لختِ جگر کو حافظ جی کے ہاتھ سونپ کر مدرسے سے باہر نکل گیا۔
ماشاء اللہ بچیوں کی تربیت بھی مدرسے میں جاری تھی لیکن لڑکیوں کی رہائش کو حافظ صاحب نے مناسب نہ سمجھا، لہٰذا بچیاں صبح 7 سے شام 7 بجے تک مدرسے میں رہتیں، اور پھر انہیں گھر بھیج دیا جاتا۔ اسفند یار کو سہولت ہوگئی تھی۔ بچیاں خالی پیٹ گھر سے نکلتیں، مدرسے میں ہی ناشتا کرتیں، وہیں ظہر سے پہلے دوپہر کا کھانا اور ساڑھے چھ بجے رات کا کھانا کھلا کر 7 بجے شام چھٹی کردی جاتی۔ علاقے کے کئی غریب گھرانے اسی سہولت کی وجہ سے بچیوں کو مدرسے بھیج رہے تھے۔ پھر سلائی کڑھائی، کھانا پکانا، اردو پڑھنا لکھنا، حساب کتاب سب کچھ مدرسے میں بچیوں کو سکھایا جارہا تھا، اور یہ تمام خدمات بلامعاوضہ تھیں۔ علاقے اور دور دراز کے بھی مخیر حضرات لاکھوں کی امداد مدرسہ ’’حق بالاسلام‘‘ کو دیتے۔ مدرسے کے توسط سے کئی غریبوں کا علاج بھی کرایا جاتا، مفت آپریشن کرائے جاتے، دستر خوان کا بھی مدرسے میں اہتمام کیا جاتا تاکہ غریب خواتین پردے میں رہ کر عزتِ نفس بچاکر دو وقت کھانا کھا لیا کریں۔ عبداللہ جیسے کئی غریب بچے مدرسے میں ہی رہائش رکھتے تھے۔ علم کے ساتھ روٹی، کپڑا اور چھت بھی مفت حاصل تھی۔
عبداللہ کو ہر مہینے چار روز کی چھٹی ملتی، جب اسفند یار اسے گھر لے آتا۔ عبداللہ بہنوں کے ساتھ کھیلتا، اس کی پسند کی چیزیں پکائی جاتیں، مگر بس ایک ہی دکھ تھا، جی ہاں ’’ٹنڈ‘‘۔ ہر مہینے ہر بچے کے سر پر استرا پھروا دیا جاتا۔ عبداللہ کو مدرسے کی عادت تو ہوگئی تھی، بس وہ بال رکھنا چاہتا تھا۔ آخرکار عبداللہ 14 سال کا ہوگیا۔ اہم تعلیمی مرحلہ مکمل ہوچکا تھا، اب چار سال کی اعلیٰ تعلیم باقی رہ گئی تھی۔
تقسیم اسناد کی تقریب تھی۔ حافظ صاحب خطاب فرما رہے تھے: ’’میرے بھائیو! مدرسے قائم کرنا آج کی روایت نہیں ہے، یہ روایت میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈالی ہوئی ہے، پہلا مدرسہ ’’صفہ‘‘ تھا، جہاں رہائش کے ساتھ تعلیم، خوراک اور دیگر ضروریات بھی طالب علموں کو فراہم کی جاتی تھیں، پھر اسلامی ممالک میں یہی طریقہ رواج پا گیا، ہر مسجد نہ صرف عبادت گاہ تھی بلکہ علاقے کے لوگوں کے تمام مسائل بھی مسجد کا امام علاقے کے لوگوں کی مدد سے حل کرتا تھا۔ امام کا رتبہ علاقے کے میئر کا تھا، اسے علاقے کے مسائل حل کرنے کے لیے خلیفہ سے فنڈز بھی ملتے تھے۔ چونکہ امام علاقے کا سب سے نیک اور معتبر شخص ہوتا تھا، لہٰذا کرپشن کے مسائل بھی نہیں تھے۔ ترکی میں امام کا انتخاب ایک خاص طریقے سے ہوتا۔ CE1560 میں امام کے لیے ترک خلافت کی طرف سے جو اشتہار شائع ہوتے، ان میں ایسے شخص کو امام کی پوسٹ کے لیے امیدوار مانگا جاتا جو عربی، لاطینی، ترکش اور فارسی زبانوں کا ماہر ہو۔ جسے قرآن، بائبل اور تورات پر مکمل عبور ہو، جو شریعہ اور فقہ کا ماہر ہو، فزکس اور ریاضی اتنی جانتا ہو کہ تعلیم دے سکے۔ گھڑ سواری، تیر اندازی، نیزہ بازی اور تلواز زنی کی تعلیم دے سکے۔ مسجد کے تحت ہونے والے تمام کاروبار مہارت سے چلا کر مسجد کی آمدنی بڑھائے، تقریر اور منطق پر عبور رکھتا ہو… یہ تھا میرے بھائیو! خلافتِ عثمانیہ کا امام، جو مسجد سے ملحقہ مدرسے کا ہیڈ ماسٹر بھی تھا، بوقت ِ جنگ سپہ سالار بھی بن جاتا تھا، علاقے کے یتیموں کا باپ بھی تھا اور بے سہارا عورتوں کا سرپرست بھی۔ یہ ہے اسلام اور اسلامی نظام۔‘‘ انہوں نے فرمایا۔
تمام افراد انتہائی عقیدت سے حافظ صاحب کا خطاب سن رہے تھے۔ حافظ صاحب نے ایک طائرانہ نظر مجمع پر ڈالی اور تقریر جاری رکھی: ’’میرے بھائیو! برصغیر ہندوپاک میں بھی مدارس کا یہی نظام تھا۔ جب پہلا انگریز ہندوستان میں آیا تاکہ برصغیر پر قبضہ کرنے کے لیے افسران کو رپورٹ دے سکے تو اُس نے لکھا کہ برصغیر ہندو پاک میں ہر شخص پڑھا لکھا ہے اور پورے ہندوستان کے طول و عرض میں ایک بھی بھکاری نہیں پایا جاتا۔ یہ تھی مدارس کی تعلیم۔ پھر انگریز آگئے اور تعلیم کاروبار بن گئی۔ آج لوگ پیٹ کاٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو تعلیم دلا رہے ہیں۔ چوتھی پانچویں کے بچے کی اسکول فیس دس ہزار یا اس سے زائد ہوتی ہے۔ نہ کھانا، نہ رہائش، نہ تربیت۔ آج میں اپنے مدرسے کے بچوں کے بارے میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بھلے یہ چپڑ چپڑ انگریزی نہیں بول سکتے، مگر یہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت رکھتے ہیں، سچے ہیں، ایمان دار ہیں۔ یہ ماسٹرز ڈگری کے حامل افسران کی طرح ملک کو لوٹ کر نہیں کھائیں گے۔ جذبۂ ترحم، دانش اور حکمت رکھتے ہیں۔ یہی باتیں انگریزوں کو کھٹکتی ہیں، وہ انگریزی تعلیم کے حامل غدار اور خودغرض حکمران چاہتے ہیں، اس لیے مدارس کو بند کروانے کا موقع ڈھونڈتے ہیں… میرے بھائیو! کیا ’’صفہ‘‘ میں جنگی تربیت نہیں دی جاتی تھی؟ کیا یہ صحابہؓ جہاد میں شریک نہیں ہوتے تھے؟ اگر ہم سنتِ نبویؐ پر عمل کرتے ہوئے مسلمان بچوں کو جنگی تربیت دیں تو اس میں کیا غلط ہے؟ اسرائیلی اسکولوں میں بچوں کو جنگی تربیت دی جاتی ہے، مگر وہ دہشت گرد نہیں، ہم اپنے بچوں کو صرف دفاع بھی سکھائیں تو ہمیں دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔‘‘ حافظ صاحب نے فرمایا۔
…٭…
حافظ صاحب کی تقریر کی ریکارڈنگ واٹس ایپ اور فیس بک پر کثرت سے پھیل گئی اور خفیہ اداروں تک بات یہ پہنچی کہ حافظ صاحب اپنے مدرسے میں جنگی تربیت کا آغاز کرنے والے ہیں۔ ایک وبال مچ گیا، مدرسے پر چھاپے مارے گئے، تلاشیاں اور گرفتاریاں ہوئیں، مدرسہ بند کردیا گیا، ہزاروں بچے نہ صرف تعلیم و تربیت سے محروم ہوئے بلکہ دو وقت کے کھانے سے بھی محروم ہوگئے، کئی خواتین جو مدرسے سے وظیفہ پاتی تھیں، ایک بار پھر تنہا اور بے سہارا ہوگئیں۔ اسفند یار حسین کو بھی حافظ صاحب کا خاص آدمی قرار دے کر گرفتار کرلیا گیا اور ایسی جگہ منتقل کیا گیا کہ لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر بے حال ہوگئے، مگر سراغ نہ ملا۔ یہ تھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریاست، جہاں سنت پر عمل کرنے والے ’’دہشت گرد‘‘ اور انگریزوں کے غلام مالک و آقا تھے۔
عبداللہ گھر لوٹ آیا تھا۔ نہ کبھی مدرسے سے نکلا، نہ باپ کے سایۂ شفقت سے۔ بے رحم دنیا سے کیسے نمٹنا ہے، کچھ اندازہ نہ تھا۔ سب سے بڑی بہن عائشہ 22 سال کی تھی‘ مدرسے میں اچار چٹنیاں پاپڑ بنانا سیکھے تھے، جمع پونجی سے کاروبار شروع کیا، مگر اتنی غربت تھی کہ کوئی کچھ خریدتا ہی نہیں تھا۔ چھوٹی بہنوں نے سلائی کڑھائی کا کام شروع کیا۔ اماں نے تندور پر روٹیاں لگانا شروع کیں، مگر بڑی مشکل سے گزارا ہوتا۔ عبداللہ دیکھ دیکھ کر کڑھتا کہ گھر کی عورتیں کتنی محنت کررہی ہیں۔ وہ سمجھتا تھا کہ گھر کا واحد مرد ہونے کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ گھر کے تمام خرچے پورے کروں۔ آوارہ گلیوں میں پھرتا رہتا، کبھی ہوٹل پر بیٹھ کر چائے پی لیتا، مگر دماغ مسلسل چلتا رہتا کہ کیا کروں جس سے گھر کے حالات بہتر ہوجائیں۔ ایک دن مسجد گیا، نماز کے بعد دل بڑا بے چین تھا، سجدے میں گرا اور گھنٹوں روتا رہا۔ ہوش تب آیا جب کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جھنجھوڑا ’’کیا ہوا بیٹا؟‘‘ ان صاحب نے پوچھا۔ صاف ستھری پوشاک، پُرنور چہرہ، وہ بڑی ہمدردی سے عبداللہ سے مخاطب تھے۔
عبداللہ کا دل تو بھاری تھا ہی، سب کچھ ان صاحب کے سامنے بیان کردیا۔ انہوں نے کچھ دیر سوچا، پھر کہا ’’ہم کو اس نظام کے خلاف جہاد کرنا ہوگا، یہ انگریزوں کے غلام کب تک ہم کو رسوا اور برباد کریں گے! تم میرے ساتھ چلو، تمہیں تنخواہ بھی بڑی اعلیٰ ملے گی اور تم اپنے باپ اور استاد کا بدلہ بھی لے سکو گے۔‘‘
…٭…
عبداللہ ناسمجھ بچہ تھا، لاڈوں میں پلا ہوا… اسے خبر ہی نہ تھی کہ دنیا میں کیسے کیسے بھیڑیے بیٹھے ہیں۔ جلد ہی عبداللہ کو افغانستان منتقل کردیا گیا اور جنگی تربیت کا آغاز ہوگیا۔ وہ ہر ہفتے اپنی بہنوں سے فون پر بات کرتا۔ گھر میں خوش حالی آگئی تھی، ہر مہینے عبداللہ کی تنخواہ بیس ہزار روپے اس کی مال کو بھجوائے جاتے۔ ماں نے دو بڑی بہنوں کی شادی بھی کردی اور گھر کی مرمت بھی کرالی۔
’’آغا! طالبان کو تو پاکستان میں بہت پیار کرتے ہیں، انہوں نے افغانستان میں افیون کی کاشت بند کرا دی تھی، بیوہ اور بے سہارا عورتوں کو گھر بیٹھے وظیفے دیتے تھے، آپ لوگ بھی طالبان ہو ناں؟‘‘ عبداللہ نے پوچھا۔
’’ہاں! مگر وہ افغانستان کے طالبان تھے، ملاّ عمر کے لوگ۔ ہم پاکستان کے طالبان ہیں، تحریکِ طالبان پاکستان۔ ہم پاک فوج کو برباد کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ انہوں نے امریکا کے یہودیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو افغانستان میں بہت قتل کیا۔ انہوں نے ہی تمہارے باپ اور استاد کو گرفتار کیا۔‘‘ آغا عبدالرحمن نے بتایا۔
عبداللہ کی آنکھوں میں چنگاریاں چھوٹنے لگیں، اس کے باپ اور استاد نے اسے پھولوں کی طرح رکھا تھا اور اب وہ اچانک ہی لق و دق صحرا میں آن کھڑا ہوا تھا۔ ’’بدلہ تو لینا ہے…‘‘ اس نے نفرت سے سوچا۔
…٭…
عبداللہ کو پہلی بار بال رکھنے کی اجازت ملی۔ اس نے تو بال کٹوانے ہی چھوڑ دیے اور زلفیں رکھ لیں۔ پورے پورے بکرے بھونے جاتے… عبداللہ جو مدرسے میں سارا ہفتہ دال اور سبزی کھاتا اور صرف جمعہ کو گوشت ملا کرتا تھا، وہ بھی ہر طالب علم کو صرف ایک بوٹی… خوشی سے بے حال تھا، اسے ایسا لگتا کہ دوسری دنیا میں آگیا ہے۔ آغا عبدالرحمن نے اسے بائیک اور موبائل فون بھی دلا دیا تھا، ساتھ میں تربیت بھی جاری تھی کہ خبر آئی کہ عبداللہ کی والدہ کو کینسر ہوگیا ہے، آپریشن کرانا تھا، دس لاکھ کی ضرورت تھی۔ آغا نے عبداللہ کو اپنے پاس بلایا۔ ’’بیٹا! تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’ہاں آغا! رسول اور پھر شہید۔‘‘ عبداللہ نے جواب دیا۔
’’بیٹا! قربانی کا وقت آگیا ہے، تمہاری تربیت مکمل ہوگئی اور اب تمہیں ایک خودکش حملہ کرنا ہوگا۔ ہاں ان پاکستانیوں نے امریکا کے ساتھ مل کر پورا افغانستان تباہ کردیا، پھر بھی خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ یہ مسلمان نہیں ہیں، یہ کفار کے ساتھی ہیں، تمہیں مسجد میں نمازِ جمعہ پر حملہ کرنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’مگر آغا! پاکستانی حکومت نے غلط فیصلے کیے، عوام کا کیا قصور! بڑے لوگ تو اپنے محلوں میں گارڈ رکھ کر محفوظ بیٹھے ہیں، غریبوں کے گھر اجاڑنے کا کیا فائدہ! رحم کرو آغا، ایسے نہ کرو۔‘‘ عبداللہ نے کہا۔
آغا عبدالرحمن کا رویہ اور لہجہ بالکل بدل گیا اور اس نے خالص کاروباری انداز میں کہا ’’تم کو دیگیں بھر کر اس لیے نہیں کھلایا کہ جب کام کا وقت آئے تو انکار کردو، بہت خرچا کیا ہے تم پر، اگر تم نے بات نہ مانی تو تمہاری بہنوں کو اٹھوا لیں گے، اور بات مانو گے تو چالیس لاکھ روپے ملیں گے، تمہاری ماں کا علاج بھی ہوجائے گا اور تمہاری بہنیں زندگی بھر عزت سے بیٹھ کر کھائیں گی۔ بولو کیا بولتے ہو، فیصلہ کرو۔‘‘
عبداللہ ہکا بکا رہ گیا، چند روزہ عیش و عشرت کے بدلے جان مانگی جارہی تھی، اور آخرت کی بربادی بھی سر پر مسلط کی جارہی تھی۔ نمازیوں کی جانیں لے کر وہ جنت میں تو نہیں جاسکتا تھا۔ آٹھوں بہنوں اور ماں کی صورت آنکھوں میں گھوم گئی، بڑی نفرت سے اس نے اپنے بالوں کو دیکھا، اس کا جی چاہا کہ اپنے بال نوچ کر پھینک دے۔ ’’ٹھیک ہے آغا، لیکن پہلے چالیس لاکھ روپے دو، میں اپنی بہنوں کو دے آئوں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
…٭…
12 جون 2013ء: پشاور میں ایک 17 سالہ لڑکے نے نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں خودکش حملہ کردیا، 27 نمازی جاں بحق، متعدد زخمی، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
’’ہم ایسے لوگوں کو مسلمان نہیں سمجھتے جو مسلمانوں کی جان لیتے ہیں، یہ دشمن کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں، یہ معصوم بچوں کی برین واشنہ کرتے ہیں، ہم ہمت نہیں ہارے، دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، ہم جلد ہی مدرسوں کے خلاف ایکشن لیں گے، مدرسوں کو رجسٹرڈ کرانا ضروری ہے، مدرسوں میں کمپیوٹر، فزکس، کیمسٹری اور دیگر عصری علوم کی تعلیم کو بھی ممکن بنایا جائے گا، یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ان کے پاس اتنے زیادہ فنڈز کہاں سے آتے ہیں۔‘‘ وزیر داخلہ نے کہا۔
…٭…
عبداللہ کی ماں صحت یاب ہوگئی تھی، اس نے سونے کا ایک سیٹ خریدا تھا، ساری بیٹیاں وہ سیٹ مانگ رہی تھیں ’’ارے یہ عبداللہ کی دلہن کا ہے، وہ ایک ہے اس کو دے سکتی ہوں، تم تو آٹھ ہو، آٹھ کے لیے پیسے کہاں سے لائوں؟ 28 لاکھ روپے بینک میں جمع کرا دیے ہیں، اس کے نفع سے گزارہ ہوگا، دو لاکھ کا اپنے عبداللہ کی دلہن کا سیٹ لے لیا، آئے گا تواس کی شادی کروں گی۔‘‘ ماں نے بڑے مان سے کہا۔

حصہ