خاک کے ڈھیر

61

اُمِ عثمان
۔’’امی جان، ابوجان، صبیحہ آپی، حبیبہ آپی، چھوٹی نائلہ، چچی زہرہ، تائی مہناز، چچا حبیب، تایا ظفر، مامون غضنفر، ماموں نعیم، ممانی طیبہ، ممانی نفیسہ سبھی اسپتال میں ہیں۔ سب سخت بیمار ہیں۔‘‘ یہ محسن علی تھا، اور دوسری طاہرہ حیران، پریشان ٹیلی فون پر اپنے سب رشتے داروں کی یک بارگی سخت علالت کی خبر وصول کررہی تھی۔
’’مگر پچھلے مہینے جب میں کراچی آئی تھی تب تو سب ٹھیک ہی تھے، اب اچانک یہ سب کس طرح بیمار ہوگئے؟‘‘ طاہرہ انتہائی کرب کے عالم میں چھوٹے بھائی محسن علی سے استفسار کررہی تھی۔
محسن علی گویا ہوا ’’آپا! تم خود ہی آکر دیکھ لو۔ میری نماز کا وقت ہورہا ہے۔ ٹھیک ہے پھر، اللہ حافظ۔‘‘
دوسری جانب خاموشی چھا گئی۔ طاہرہ صوفے پر ڈھیر ہوگئی۔ جی چاہ رہا تھا اُڑ کر چلی جائے، مگر کہاں کراچی اور کہاں اسلام آباد!
فوراً نصیر صاحب کو فون ملایا۔
’’سنیے! مجھے بس تین منٹ کی بات کرنی ہے، ابھی کرلوں یا ٹھیر کر فورن کرلوں؟‘‘ طاہرہ جانتی تھی کہ اس کے شوہر نصیر صاحب بہت مصروف آدمی ہیں، اس لیے فون پر آناً فاناً قصہ گوئی کے بجائے وہ نصیر صاحب سے ٹیلی فون کال کا اندازاً دورانیہ بتلا کر وقت لے لیا کرتی۔
’’ابھی بات کرلو، میں فارغ ہوں۔‘‘ نصیر صاحب گویا ہوئے۔
’’دیکھیں وہ میں کہہ رہی تھی کہ میرے سب رشتے دار سوائے محسن علی (چھوٹا بھائی) کے، سخت بیمار ہیں۔ اسپتال میں ہیں۔ میں کراچی چلی جائوں؟‘‘ طاہرہ نرمی سے بولی۔ نصیر صاحب انتہائی ہمدرد طبیعت کے مالک تھے، پانچ وقت کے نمازی، اور بقول اُن کے ’’بیوی کے انتہائی تابعدار اور فرماں بردار‘‘۔ فوراً بولے ’’ہاں ہاں بالکل، میں ابھی تمہاری سیٹ بک کروائے دیتا ہوں، تم تیاری کرو اور آج ہی چلی جائو۔‘‘
طاہرہ کے پیروں تلے سے زمین نکلی جارہی تھی۔ کب سامان پیک کیا، کب ڈرائیور کے ساتھ ہوائی اڈے پہنچی اور کب جہاز اسلام آباد سے کراچی پہنچا… اُسے کچھ ہوش نہ تھا۔
بھائی محسن علی لینے آچکا تھا اور گاڑی فراٹے بھرتی اسپتال کی جانب رواں دواں تھی۔
واقعی پورا اسپتال طاہرہ کے ہی رشتے داروں سے بھرا پڑا تھا۔ سب رشتے دار بے ہوشی میں تھے اور طاہرہ کا چہرہ غم و اندوہ کی تصویر نظر آرہا تھا۔ وہ کبھی باپ کی جانب بھاگتی، کبھی ماں کی جانب، کبھی بہنوں کو دیکھنے ان کے کمروں کا چکر کاٹتی، اور کبھی دوسرے رشتے داروں کی طرف دوڑتی۔
حیران کن بات یہ تھی کہ سب کا ہیمو گلوبن انتہائی کم سطح پر پہنچ چکا تھا اور سبھی انتہائی خطرناک صورت حال سے دوچار تھے۔
ڈاکٹرز صرف دعا کا کہہ رہے تھے، جب کہ علاج کوئی اثر نہ کررہا تھا۔
’’ڈاکٹر صاحب! اگر صرف ہیموگلوبن لیول کا ہی مسئلہ ہے تو آپ کوئی دوا دیجیے جس سے یہ لیول بلند ہوجائے اور یہ سب لوگ ٹھیک ہوجائیں‘‘۔ طاہرہ ڈاکٹر صاحب کی منتوں پر اتر آئی تھی۔
’’دیکھیں بی بی! علاج میں ہم کوئی کمی نہیں کررہے، مگر ان کا مرض عجیب طرح کا ہے۔ کوئی دوا اثر نہیں کررہی، اور اب ان کے بچنے کی امید بہت کم ہے۔ آپ سے اسی لیے بار بار دعا کا کہہ رہے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر صاحب شاید بہت ہی صاف گو تھے جو روتی دھوتی طاہرہ کے منہ پر ایسی باتیں کہہ گئے کہ اس کا رہا سہا حوصلہ بھی جواب دے گیا۔
طاہرہ کو کراچی آئے تین ماہ بیت چکے تھے، سب رشتے دار آنکھیں بند، زندہ لاشیں بنے بستروں پر دراز تھے۔ انہیں ایسے بے سدھ پڑھے دیکھ کر طاہرہ کا دل خون کے آنسو روتا۔ اسے یوں بے سدھ پڑے وجود بالکل خاک کے ڈھیر، مٹی کے انبار معلوم ہوتے… نہ زندوں میں، نہ مُردوں میں۔
اسے محسوس ہوتا کہ اگر خدانخواستہ یہ سب وفات پا جاتے تو شاید مجھے صبر آجاتا، مگر ان کی ایسی دگرگوں صورت حال تو مجھے پاگل بنا ڈالے گی۔
چھوٹا محسن علی طاہرہ کو تسلیاں دیتا، دعا کا سہارا لینے کا کہتا، اور طاہرہ چند لمحوں کے لیے غم کو دل سے نکال دیتی۔
نصیر صاحب بھی اس دوران تین چکر کراچی کے لگا چکے تھے اور اب طاہرہ کو واپس بلانا چاہتے تھے، مگر طاہرہ اپنوں کو ایسی تکلیف دہ کیفیت میں چھوڑ کر کیونکر جا سکتی تھی!
اسے نہ کھانا یاد تھا نہ پینا، نہ دنیا اچھی لگتی نہ دنیا کی کوئی چیز ہی متوجہ کر پاتی۔ ہر طرف اندھیرا سا چھایا نظر آتا۔ اس کا دل چاہتا کوئی نہ ہنسے، کوئی نہ بولے۔ بس وہ غم کی چادر اوڑھے اسپتال میں ہی اپنے دن رات کاٹے جارہی تھی۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ کسی طرح میرے پیارے اچھے ہو جائیں… پھر سے جی اٹھیں، ان کے دل پھر سے زندہ ہوجائیں۔
اسی کشمکش میں حیران و پریشان ایک دن کسی گہری سوچ میں تھی جب نصیر صاحب کی آواز سنائی دی’’طاہرہ بیگم! کیا آج نماز نہیں پڑھنی… اب اٹھ جائیے۔‘‘ اور طاہرہ بیگم ایک گھٹی ہوئی چیخ کے ساتھ اچھل کر اٹھ بیٹھیں۔
’’سنیے کیا یہ خواب تھا، کیا یہ خواب تھا… ہاں! ہاں شکر ہے کہ یہ خواب تھا۔ بہت لمبا خواب تھا، میں تین مہینے سے کراچی میں تھی۔‘‘ طاہرہ ابھی تک اسی خواب کے سحر میں گرفتار تھی۔
’’اچھا تو آپ میکے پہنچی ہوئی تھیں!‘‘ نصیر صاحب صبح صبح شرارت کے موڈ میں تھے۔
طاہرہ اٹھ کر نماز کے لیے چل دی۔ نماز فجر کے بعد خوب روئی… اللہ کا بہت شکر ادا کیا، مگر ساتھ ہی ساتھ اپنے پیاروں کی مسلسل بے ہوشی کی کیفیت کو ذہن میں لاتے ہوئے تر آنکھوں کے ساتھ رب سے مناجات کرنے لگی:
’’میرے اللہ! میرے پیارے واقعی کوما میں ہیں، مٹی کے انبار جیسے ہیں۔ خاک کے ڈھیر جیسے ہیں۔ مُردہ جسم تو نہیں مگر مُردہ دلوں کے ساتھ بے سمجھی بوجھی زندگی گزارے چلے جارہے ہیں۔ یارب العالمین میرے پیاروں کے دلوں کو زندہ کردیجیے۔ الٰہی وہ نابینا ہیں، انہیں بینا کردیجیے۔ الٰہی میرے پیاروں کے دلوں کو منور کرکے، انہیں حقیقتاً زندہ کرکے، انہیں اپنی معرفت عطا کرکے انہیں کوما کی کیفیت سے نکال لیجیے۔الٰہی یہ غم میری کمر توڑ ڈالے گا، الٰہی یہ غم میری جان لے لے گا، الٰہی اپنے پیاروں کے اندھیروں میں بھٹکنے کا غم مجھے کھا جائے گا‘ الٰہی میرے پیاروں کے نفس ان سے خرید لیجیے، الٰہی میرے پیاروں کو اپنا بنا لیجیے۔ الٰہی! میرے پیاروں کی زندگیوں کی تاریکیاں روشنیوں سے بدل دیجیے۔الٰہی میرے پیارے ناواقفِ راہ، پریشان حال، دنیا کی رعنائیوں میں گم ہیں، الٰہی آپ ان کی جانیں اور ان کے مال خرید کر اس کے بدلے ’’جنت الفردوس‘‘ ان کے نام کردیجیے۔ الٰہی میرے غم کو مسرت سے بدل دیجیے۔ الٰہی میرے پیاروں کو جنت الفردوس کے وارثوں میں سے بنا دیجیے۔‘‘ (آمین)۔

حصہ