حقیقتوں کے کفن

63

فریدہ اشفاق
کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ ایک ایسا افسانہ تخلیق کروں جو صرف افسانہ ہو… خالص افسانہ۔
تم اس انوکھی اصطلاح پر مسکرا رہی ہو…! ہاں تمہیں مسکرانا ہی چاہیے… تم کیا جانو کتنی گم نام حقیقتیں افسانوں کا کفن اوڑھے اپنی سچائی کا ماتم کرتی نظر آتی ہیں۔
جانتی ہو ہم افسانے کب لکھتے ہیں؟ جب سچ بولنے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں، اور حقیقت برداشت کرنے کی قوت نہ ہو تو ہم بڑی ایمان داری اور بڑی سچائی سے اُسے افسانے کا کفن پہنا دیتے ہیں اور اپنے اس کارنامے پر فخر بھی کرتے ہیں۔ ہے ناں عجیب سی بات؟
تمہیں شاید میری ذہنی حالت پر شک گزرنے لگا ہے، حالانکہ میرا دماغ بالکل درست ہے… یہ بھی کتنا زبردست مذاق ہے کہ جب کبھی کوئی اپنی ذات کا خول توڑ کر باہر آنے کی کوشش کرتا ہے تو ساری دنیا اسے عجیب عجیب نظروں سے گھورنے لگتی ہے، اور وہ گھبرا کر پھر اپنی ذات کے اندر واپس چلا جاتا ہے… ریشم کے اُس کیڑے کی طرح، جو ساری زندگی سوتا رہتا ہے… یہ اضطراری حرکت اس لیے سرزد ہوتی ہے کہ وہ خود کو پاگل نہیں کہلوانا چاہتا، چاہے اس کے لیے اُسے کتنے ہی درد و کرب سے کیوں نہ گزرنا پڑے۔
دراصل ہم سب اپنی اپنی ذات میں بالکل تنہا ہیں، اس اکیلے چپ چاپ سے درخت کی طرح، جو ہمارے ڈپارٹمنٹ کے پیچھے سر جھکائے کھڑا ہے۔ تم نے کبھی سوچا گھنی چھایا رکھنے کے باوجود وہ اس طرح کیوں کھڑا رہتا ہے، اداس اداس مجرموں کی طرح؟ اس لیے کہ اُس نے ایک ابلتے ہوئے گٹر سے جنم لیا ہے، کسی نے اسے پیار سے پانی نہیں دیا، کسی نے اس کی آبیاری نہیں کی۔ اس نے تو گندگی سے جنم لیا ہے، پھر بھلا وہ کیسے لہلہا سکتا ہے!
میں نے کئی بار سوچا اس درخت پر افسانہ لکھوں، مگر جانتی ہو کیوں نہیں لکھا؟ اس لیے کہ اگر میں اس پر افسانہ لکھوں تو یہ جو ہمارے ادب میں جغادری قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں… تم جغادری پر ہنس رہی ہو، مگر میں اُن کے لیے اس سے بہتر کوئی اور لفظ استعمال نہیں کرسکتی… وہ فوراً اس میں ’’سمبل‘‘ تلاش کرلیں گے اور میرے سیدھے سادے الفاظ کو سو طرح کے معنی پہنا کر اسے ’’خالص علامتی افسانہ‘‘ ثابت کردیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ کتنے ہی لوگ غلیظ گٹر کے پانی سے اُگنے والے اس درخت کی طرح تنہا اور اداس ہوں اور مجرموں کی مانند سر جھکائے زندگی کی شاہراہ پر کھڑے ہوں۔ لیکن مجھے ان پر تو کچھ نہیں لکھنا، میں تو ایک ایسا افسانہ تخلیق کرنا چاہتی ہوں جس میں کوئی حقیقت نہ ہو، جو صرف افسانہ ہو۔
لیکن یہ ہمارے بے چارے نام نہاد ترقی پسند ادیب، جنہیں حقیقتیں قتل کردینے میں یدِطولیٰ حاصل ہے اور جنہوں نے بالکل معمولی باتوں کو اس کائنات کی سب سے اہم چیز بناکر بھیانک اذیتوں کا نام دیتے ہوئے ابہام اور سمبل کے رومانی دھندلکوں میں لپیٹ کر رکھ دیا ہے، اُن کے نزدیک ان معمولی باتوں میں بڑا ’’تھرل‘‘ اور بڑا چارم، یا ہماری زبان میں صرف حظ اور لذت ہے۔ وہ بڑے فخر سے اسے معاشرتی آپریشن بھی قرار دیتے ہیں۔ اب ذرا کوئی ان سے یہ سوال تو کرے کہ خود ہی زخم لگا کر اسے ناسور میں تبدیل کرنا اور پھر خود ہی آپریشن کرکے اسے مزید بڑھا دینا کہاں کی چارہ گری ہے؟ مجھے یہ ہرگز معاف نہیں کریں گے کہ حقیقت شناسی کے سب سے بڑے دعوے دار تو یہی ہیں۔
حقیقت… کتنا بے معنی لفظ ہے یہ بھی۔ انسان نے اپنی تسکین کی خاطر کیسے کیسے لفظ ایجاد کیے ہیں۔ بھلا کوئی پوچھے حقیقت کا مطلب کیا ہے؟ جو چیز ہمیں اپنے ذہن سے مطابقت رکھتی نظر آئے اسے ہم فوراً حقیقت کہہ دیتے ہیں… واہ رے حقیقت شناسی۔
تمہیں ایک بات بتائوں؟ کل بس پکڑنے کے لیے پوائنٹ کی طرف جاتے ہوئے مجھے سگریٹ کا ایک خالی پیکٹ نظر آیا جو بالکل صحیح حالت میں تھا۔ اُس وقت میرے ساتھ اور لوگ بھی تھے… بے فکر، ہنستے مسکراتے، باتیں کرتے، قہقہے لگاتے۔ سگریٹ کا صاف ستھرا خالی پیکٹ دھوپ میں چمک رہا تھا، یا شاید مسکرا رہا تھا، اُس نے مجھے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ میں نے پائوں سے ٹھوکر لگائی تو وہ راستے سے ہٹ گیا، مگر دو چار قدم کے بعد پھر مجھے اپنے پیروں کے پاس نظر آیا۔ میں نے پھر ٹھوکر مار دی۔ وہ کچھ اور آگے جا پڑا۔
پہلی ٹھوکر میں نے بغیر کسی ارادے کے لگائی تھی، لیکن پھر یہ حرکت مجھے کسی کھیل کی طرح دل چسپ لگی۔ پھر یوں محسوس ہوا جیسے اس صاف ستھرے سے خالی پیکٹ کی مسکراہٹ غائب ہوگئی، وہ کچھ دھندلا سا ہوگیا تھا، مگر میرے ساتھ چلنے والے انسان بہت بے فکر تھے، جب کہ میرے لیے یہ ایک دل چسپ کھیل تھا۔ میں اسی طرح اسے ٹھوکروں سے آگے بڑھاتے ہوئے منزل تک لے گئی… منزل؟ ہاں مگر یہ تو میری منزل تھی۔ میں نے شاید کہیں پڑھا تھا… راستے، منزلوں کا انتقام… منزل، راستوں کا اختتام۔ کتنی درست بات ہے۔
یہاں تو ہر چیز ہی کسی نہ کسی کا انتقام نظر آتی ہے، لیکن اُس پیکٹ کا قصور کیا تھا؟ میں نے بڑے ترحم سے اُس کی طرف دیکھا۔ اس کی صورت بالکل بدل چکی تھی، اب وہ خاک میں لتھڑا، ٹوٹا پھوٹا خالی سگریٹ کا ایک پیکٹ تھا، مگر شاید میں نے اس کی منزل کی نشاندہی کردی تھی۔ اب وہ بآسانی کسی جمعدار کے ٹوکرے یا کسی ڈسٹ بن کی زینت بن سکتا تھا۔ پھر میں اُن سارے بے فکروں سے رخصت ہوکر بس کی طرف بڑھ گئی۔ بس کے شیشے میں سے دیکھا، وہ خالی پیکٹ وہیں پڑا تھا۔ مڑاتڑا، خاک میں لتھڑا… مجھے یوں لگا جیسے وہ رو رہا ہو۔
پھر وہ چمکتا دمکتا، صاف ستھرا، مسکراتا پیکٹ یاد آیا۔ اس کی صورت کتنی مسخ ہوگئی تھی۔ میں نے حیرت زدہ ہوکر سوچا اگر میں اسے ٹھوکر نہ لگاتی تو شاید کوئی اسے اٹھا لیتا، اس سے کوئی اچھی سی چیز بناتا… بچوں کے لیے پیارا سا کھلونا، یا وہ ننھا منا بٹوا جو ہم اکثر شغلِِ بیکاری کے طور پر بناتے ہیں اور پھر کوئی معصوم سی روح اسے عزیز از جان سمجھ کر اس کی حفاظت کرتی ہے۔
پھر میں نے فیصلہ کیا کہ اس خالی پیکٹ پر افسانہ لکھوں گی، مگر جانتی ہو اس فیصلے پر عمل کیوں نہیں کرسکی؟ اس لیے کہ میں تو ایک ایسا افسانہ تخلیق کرنا چاہتی ہوں جو خالص افسانہ ہو، اگر میں اس پر کچھ لکھتی تو لوگ حقیقت کی ٹانگ کھینچ لاتے اور اس خالی پیکٹ میں جانے کس کس کے چہرے تلاش کرنے لگتے، اور میں اس پیکٹ کے سامنے کتنی شرمندہ ہوتی جس سے میں نے معافی مانگی تھی اور اپنی غلطی یا گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے اس پر افسانہ لکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تم پھر مسکرا رہی ہو…! ویسے ایک بات ہے، جب تم اس انداز سے مسکراتی ہو تو خاصی اچھی لگتی ہو… تمہاری یہ مسکراہٹ بڑی خوب صورت ہوتی ہے۔ اس لفظ ’’خوب صورت‘‘ کی بھی کیا بات ہے… اور ہم لوگ کتنے جذباتی اور کتنے بے سمجھ ہیں، کس فراخ دلی سے خوب صورتی اور بدصورتی کا فتویٰ دے بیٹھتے ہیں… کتنی آسانی سے یہ الفاظ اپنے اوپر ہونے والا ظلم برداشت کرلیتے ہیں۔ ہاں یاد آیا، کل ہم لائبریری سے اُدھر سائنس فیکلٹی کی طرف چنے کھانے گئے۔ وہاں تم نے ایک بڑا خوب صورت، پھولوں سے ڈھکا چھپر دیکھا ہے ناں، جس کے نیچے بینچ پڑے ہیں، اس پر کچھ لوگ بیٹھے تھے، میری ساتھی نے مجھ سے کہا ’’کتنی خوب صورت لڑکی ہے‘‘۔ میں نے مڑ کر دیکھا، پھر اپنے ہاتھ میں پکڑے المونیم کے ٹھنڈے پانی سے بھرے گلاس پر نگاہ پڑی تو مجھے کہنا پڑا ’’حُسن تو ہمارے اپنے ذہن میں ہوتا ہے۔ بی بی! میرا خیال ہے یہ لفظ ’’خوب صورت‘‘ اپنے تمام تر مفہوم کے ساتھ اس گلاس کے لیے زیادہ موزوں ہے‘‘۔ میری ساتھی نے بالکل تمہاری طرح بڑی حیرت سے مجھے دیکھا اور پھر گلاس کی طرف دیکھنے لگی۔
’’تم اسے اس لیے خوب صورت نہیں کہو گی کہ یہ ایک گرا پڑا، بد رنگ المونیم کا گلاس ہے، اور تمہارے نزدیک ایسی کوئی چیز خوب صورت نہیں ہوسکتی۔ اُس لڑکی کو تم نے اس لیے خوب صورت قرار دیا کہ وہ قیمتی لباس میں اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اتنے بہت سے لوگوں میں کھڑی اونچے اونچے قہقہے لگا رہی ہے اور تمہاری توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم شاید خوب صورتی کے صحیح مفہوم سے آشنا نہیں۔ گلاس اس لیے خوب صورت ہے کہ یہ سیکڑوں لوگوں کو راحت پہنچا رہا ہے، کتنے ہی لوگوں کی تشنگی دور کرچکا ہے، اور تمہارے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو خوش قسمت بھی ہے کہ جانے کتنے نام نہاد حسین لوگوں کے ہاتھوں میںرہ چکا ہے، ہونٹوں سے لگ چکا ہے۔ پھر خوب صورت کون ہوا؟ یہ گلاس یا وہ لڑکی؟‘‘
اس نے میری بات کا جواب نہ دیا۔ میں جانتی ہوں تم بھی میری بات کا جواب نہیں دو گی، اس لیے کہ تم مجھے سنکی سمجھتی ہو۔
میں نے وہاں کھڑے کھڑے سوچا، میں اس گلاس کو موضوع بناکر ایک افسانہ تخلیق کروں گی، مگر وہ دھتی برتن مجھے چاروں طرف چلتا پھرتا نظر آنے لگا اور میں نے یہ سوچ کر اپنا ارادہ ترک کردیا کہ یہ نہ جانے کتنوں کی تشنگی بڑھا دے، کون جانے یہ گلاس موجودہ صدی کا سب سے بڑا المیہ بن جائے کہ آج کی دنیا تو چمک دمک سے نسبت رکھتی ہے، اور باطنی حُسن بے حقیقت ہے۔ ویسے بھی ہم سب کی زندگی کا اس ایک گلاس نے احاطہ کررکھا ہے۔
اور میں تو ایک ایسا افسانہ تخلیق کرنا چاہتی ہوں جو صرف افسانہ ہو، خالص افسانہ۔ میں ایسا افسانہ ایک نہ ایک دن تخلیق ضرور کروں گی۔
مجھے اس قدر ترحم سے مت دیکھو… میں حقیقتوں کو افسانے کے کفن سے آزاد کرائوںگی، میں اپنی کوشش میں ضرور کامیاب ہوں گی، اس لیے کہ کپڑے سے صرف کفن ہی نہیں سلتے، نومولود بچوں کے کرتے بھی سلتے ہیں۔

۔’’تقدس‘‘ ۔

اسماء صدیقہ

ملن کا گیت لبوں پہ
کچھ ایسے مچل رہا تھا کہ
حرفِ تقدیس ہر زباں سے نکل رہا تھا
جمالِ تاباں کی ہمرہی میں
کمال ایسا ابھر رہا تھا
وہ روپ دلکش بیاں ہو کیسے
عروسِ رعنا کی چشم ِنازاں
سجیلے خوابوں سے بھر گئی تھی
دھنک کے آنچل میں سر چھپائے
حیا کے گہنوں میں جھلملاتے
عفیف جذبوں کی ترجماں تھی
حنا کی رنگت سے نکھری جائے
سنہری کرنوں کا نور پاتے
بہار سنگت میں کھِل گئی تھی
حیاتِ نو کی یہ داستاں تھی
نئے افق کی جو کہکشاں تھی
جہاں طلب ہی فقط وفا تھی
حنا کی تحریر اِک دعا تھی
کیا الوہی سی وہ اک فضا تھی
نشاط و آہنگ کے اس جہاں میں
یہ شاد کامی مگر سوا تھی
ملن کے پُر کیف سائباں میں
خدائے یکتا کا حکم احسن
رضا پہ مسرور ہو رہا تھا
سماں وہ پُر نور ہورہا تھا

حصہ