بھولا بھالا اونٹ

74

ایک کالا کّوا،ایک فریبی بھیڑیا ،ایک مکار گیدڑتینوں ایک جنگل کے باسی تھی۔اس جنگل کا راجا ایک شیر تھا۔وہ اس کی خدمت میں رہتے تھے۔اتفاق کی بات کہ ادھر سے ایک قافلہ گزرا۔قافلے کا ایک اونٹ یہاں آکر بیمار پڑگیا۔قافلے والوں نے بیمار اونٹ کو وہیں چھوڑ دیا اور آگے چلے گئے۔
اونٹ لوٹ پیٹ کر اچھا ہو گیا،بلکہ ہری ہری گھاس کھا کر خوب موٹا تازہ ہو گیا۔ایک دن جنگل کے راجا کی سواری اس طرف سے گزری۔اونٹ بہت گھبرایا۔اس نے خیر اسی میں دیکھی کہ شیر کے سامنے جا کر سرجھکا دیا۔
شیرنے گرج کر کہا:’’تمھاری یہ ہمت کیسے ہوئی کہ اونٹ کی طرح منہ اْٹھائے میرے ملک میں آگئے۔
‘‘اونٹ نے اپنی کہانی سنائی اور سرجھکا کر کہا:’’حضور !میں آپ کے رحم وکرم پر ہوں۔چاہوتو ماروچاہو جلاؤ۔‘‘
شیر نے اونٹ کو تا بعداری پر آمادہ دیکھا تو اسے معاف کر دیا۔پھر اسے اپنے خدمت گاروں میں شامل کرلیا۔
کوے،بھیڑے اور گیدڑ کے ساتھ ساتھ اونٹ بھی شیر کی خدمت کرنے لگا۔
اس نے شیر کی ایسی خدمت کی کہ شیر نے اس کے عہدے میں ترقی کردی۔اس پر کّوا،بھیڑیا اور گیدڑ تینوں بہت جلے۔انھیں ڈر ہو گیا کہ کہیں یہ اونٹ ترقی کرتے کرتے ان سے آگے نہ بڑھ جائے۔بس اس کی جان کے بیری ہو گئے۔
ایک دفعہ کیا ہوا کہ شیر کی ایک ہاتھی سے لڑائی ہو گئی۔
شیر زخمی ہو گیا۔اس قابل نہ رہا کہ شکار پر جائے۔وہ شکار مار کرلاتا تھا تو اس میں سے بھیڑیے ،گیدڑ ،کوے اور اونٹ کو بھی حصہ ملتا تھا۔اس طرح ان کا پیٹ پلتا تھا۔اب وہ بھوکوں مرنے لگے۔شیر نے کہا:’’میرے پیارو!میں خود تو بھوکارہ سکتا ہوں۔
تمھیں بھوکا نہیں دیکھ سکتا،مگر کیا کروں آج کل طبیعت اچھی نہیں۔لمبی مار پر نہیں جا سکتا۔ہاں اگر آس پاس کوئی شکار ہوتو مجھے بتاؤ۔‘‘
کوا،بھیڑیا اور گیدڑ تینوں ہی اپنی اپنی جگہ فتنہ تھے۔انھوں نے آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو دیکھا اور اشاروں اشاروں میں طے کر لیا۔
کوابولا:’’حضور!یہ جو اونٹ ہے کہیں باہر سے آگیا ہے اور مفت کی روٹیاں توڑرہا ہے۔آپ کا نمک کھا کھاکے موٹا ہو گیا ہے۔یہ کس دن کام آئے گا۔‘‘
شیر نے اس بات پر کوے کو بہت ڈانٹا ڈپٹا کہا:’’کیا تو نہیں جانتا کہ اونٹ ہمارے وفاداروں میں سے ہے۔
شیر اگر اپنے وفاداروں کا شکار کرنے لگے تو وہ شیر نہیں رہتا۔‘‘
کواچپ ہو گیا۔پھر تینوں نے الگ جاکر ایک سازش تیار کی۔ شیر کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اونٹ کو بھی یہ کہہ کر ساتھ لائے کہ چلو حضور کی طبیعت آج زیادہ خراب ہے۔
ان کی مزاج پر سی کر آئیں۔
کوا ہاتھ جور کر بولا:’’حضور !میں نے عمر بھر آپ کا نمک کھایا ہے۔آج کل آپ کی صحت یہ اجازت نہیں دیتی کہ شکار کے لیے نکلیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کچھ حق نمک اداکروں۔میری جان حاضر ہے۔مجھے کھائیے اور پیٹ کی آگ بجھائیے۔‘‘
گیدڑ فوراً آگے بڑھا:’’اے کوے!تیرا حبثہ ہی کتنا ہے۔حضور کا ایک لقمہ بھی نہیں بنے گا۔تیرے بجائے میں اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں چاہتا ہوں کہ حضور کے دستر خوان کی زینت بنوں۔‘‘
اب بھڑیا آگے بڑھا :’’اے گیدڑ!تْو اپنے آپ کو بہت تن وتوش والا سمجھتا ہے چہ پدی چہ بدی کا شوربا۔
تجھے کھاکر حضور کاکون سا پیٹ بھر جائے گا۔البتہ مجھ میں اتنا گوشت ہے کہ حضور کے ساتھ ساتھ حضور کے نمک خواروں کی بھی پیٹ کی آگ بجھ سکتی ہے۔‘‘
کوابولا:’’یہ تو ٹھیک ہے کہ تجھ میں گوشت اچھا خاصا ہے ،مگر تیرا گوشت صحت کے لیے مضر ہے۔
حضور کی طبیعت آج کل اچھی نہیں۔تیرا گوشت کھائیں گے تو طبیعت اور خراب ہو جائے گی۔‘‘
جب تینوں اپنی اپنی جگہ کہہ چکے تو اونٹ نے دل میں کہا کہ آخر میں بھی تو شیر کا نمک خوار ہوں۔مجھے بھی اپنی وفاداری ثابت کرنی چاہیے۔بڑھ کر کہا:’’حضور !میں حاضر ہوں۔
میں بڑاجانور ہوں اور میرا گوشت بھی ایسا ہے کہ بیمار بھی کھائے تو اسے گرانی نہ ہو۔‘‘
شیر کے بولنے سے پہلے ہی کوا،گیدڑ اور بھیڑ یابول پڑے اونٹ کو شاباش دی۔کہا:’’وفادار ہوتو ایسا ہو اور تیرا گوشت تو اس بیماری میں بہت ہی مفید ہے۔‘‘
اونٹ بے چارہ منہ دیکھتا رہ گیا۔کّوا،گیدڑ اور بھیڑ یا اس پہ پل پڑے۔دم کے دم میں اس کی تکہ بوٹی کردی۔اور اونٹ کو کچھ ہی پل میں چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔

حصہ