یوٹیوبر کی دنیا

117

آپ مانیں یا نا مانیں ، یوٹیوب اپنی ایک الگ دنیا تخلیق کر چکا ہے ۔اس وقت یو ٹیوب دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو ہوسٹنگ سائٹ ہے جس پر 3400ملین ویڈیوز سے زائد کا خزانہ موجود ہے۔یو ٹیوب نے بچوں، بڑوں ،خواتین، مذہب، سائنس، تعلیم، موسیقی، انٹرٹینمنٹ ، خرید و فروخت ،اشتہارکاری سمیت ہر شعبہ زندگی کو پوری طرح سے کور کیا ہے ۔جس طرح ہم کسی بات کے یا کسی مسئلے کے حل کے لیے گوگل کرلو کی صدا لگاتے ہیں ویسے ہی اب یو ٹیوب بھی بن چکا ہے ۔ہر مسئلہ کاحل ویڈیو کی شکل میں موجود ہے۔مصدقہ ، غیر مصدقہ ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ،اپنی عقل و ذہانت سے آپ کو خود ہی پہچاننا ہوگا۔اب حال یہ ہے کہ پاکستانی ڈرامے ٹی وی اسکرین پر کم اور یو ٹیوب پر زیادہ دیکھے جاتے ہیں ۔ کئی کئی ملین ویوز کے ساتھ پاکستانی ڈراموں کی کمائی یو ٹیوب سے جاری ہے ، بات یہی نہیں بلکہ ان ڈراموں پر تبصرہ کر کے بھی لوگ خوب کما رہے ہیں۔سمجھ نہیں آتا کہ اتنا وقت کہاں سے لوگ نکال لیتے ہیں ۔ ایک ایک ویڈیو کے کئی کروڑ ویوز ہو جاتے ہیں۔چینل سبسکرائبرز کی بات کریں تو وہ بھی کم نہیں۔جب سے وی لاگ کا اور وائنز کا کلچر متعارف ہوا ہے ، یو ٹیوبرز کی اصطلاح نے جنم لیا اور اب ٹی وی اینکر، ٹی وی ایکٹر، فلم ایکٹر کی طرح یو ٹیوبر ، وی لاگر کی اصطلاح مقبولیت پا رہی ہے ۔ اب کئی کمرشل و کار پوریٹ ادارے اپنی کسی پروڈکٹ کی یا کسی مارکیٹنگ مہم میں اخبار، ٹی وی چینل سے زیادہ سوشل میڈیا پر یو ٹیوبر، وی لاگر یا بلاگر کو اہمیت دیتے ہیں ۔اس کے علاوہ کئی اور سائٹس بھی اسی جیسے کام کے لیے موجود تھیں جن میں معروف سائٹ ڈیلی موشن بھی شامل ہے جو کہ یو ٹیوب سے ایک ماہ قبل یعنی مارچ2005میں لانچ ہوئی ۔ اس ویب سائٹ کے پیچھے بی بی سی، وائس، بلوم برگ جیسے بڑے نام موجود ہیں۔ڈیلی موشن 94ملین ویڈیوز کے ساتھ دوسرے نمبر کی ویڈیو ہوسٹنگ سائٹ قرار دی جا سکتی ہے ۔یہ اس وقت 24مختلف زبانوں میں اور ہر ملک کے مطابق 39لوکل ورژن میں موجود ہے۔ان کے اس وقت300ملین استعمال کنندگان ہیں ۔اس کے علاوہ ویمیو بھی ایک معروف ویڈیو ہوسٹنگ سائٹ کا درجہ رکھتی ہے جوکہ ایڈ فری یعنی اشتہارات سے پاک ویڈیو پلیٹ فارم ہے جس کے ماہانہ 13کروڑ ناظرین ہیں۔یہ بھی 2004میں آغاز ہوئی لیکن 2007میں ویمیو نے ہائی ڈیفینیشن ویڈیوز کے ساتھ اپنے نام کو منسلک کیا ۔اس پر بھی یوٹیوب کی طرح تمام تر فری ڈاؤن لوڈنگ کی سہولت میسر نہیں ، جبکہ ڈیلی موشن نے مکمل پابندی عائد کی ہوئی ہے ۔یو ٹیوب ، ڈیلی موشن اور ویمیو نے اپنی سائٹ پر pornography کی مکمل پابندی کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور آںے والی شکایات پر بھی عمل کرتا ہے۔پاکستان سے تعلق رکھنے والی ویڈیو ہوسٹنگ سائٹ Tune.pk ہے جس پر کوئی 4ملین کے قریب ویڈیوز موجود ہیں۔
ویسے تو 2006میں جب سے یو ٹیوب کو گوگل نے خریدا اور پھر اسے کمائی کا ذریعہ بنا یا(ہر قسم کے گاہگوں اور دکانداروں کے لیے ) تب سے تو گویا اس نے اپنے ایسے پر پھیلائے کہ اب سوشل میڈیا پر ہر شکل میں اس کا غلبہ ہی نظر آتا ہے ۔پہلے پہل تو یہ ایک ویڈیو پورٹل تھا جس پر ویڈیوز دیکھی جا سکتی تھیں ۔اسے معروف آن لائن رقم ادائیگی ایپلی کیشن پے پال کے تین ڈیولپرز دوستوں نے بنایا تھا۔یہ تینوں اپریل 2005میں یہ ویب سائٹ منظر عام پر آئی جس میں لوگوں کو اکاؤنٹ بنا کر ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کی سہولت دی گئی ۔کچھ عرصے بعد انہیں ویب سائٹ کے لیے اچھی سرمایہ کاری ملی ۔ پھر اس سائٹ میں ریٹنگ سسٹم، سبسکرائب کرنے کا آپشن متعارف کرایا گیا۔اسی طرح ویڈیوز کی بڑھتی تعداد اور ناظرین کی سہولت کے لیے پلے لسٹ کا فیچر ڈالا گیا۔ ان سب فیچرز نے یو ٹیوب کو اگلے سال یعنی 2006تک عالمی سطح پر پذیرائی پانے والی ویڈیو شیئرنگ سائٹ بنا دیا ۔اسی طرح پھر کئی اور فیچرز نے اس ویب سائٹ کو سماجی میڈیا کی نئی دنیا میں داخل ہوتی عوام کے لیے کئی نئے راستے متعارف کرائے جن میں موبائل سے ویڈیو اپ لوڈنگ کی سہولت تھی ۔دس منٹ دورانیہ کی ویڈیو یوٹیوب کی سب سے اہم شرط تھی ، تاکہ لوگ دھڑا دھڑ ڈرامہ، فلمیں و دیگر مواد اپ لوڈ نہ کر سکیں ۔ یو ٹیوب کی اولین خواہش یہی تھی کہ لوگ اپنا نشری مواد خود بنا کر شیئر کریں ۔ایک ماہ میں اوسط 100ملین ویڈیو ویوز کی رینکنگ نے یو ٹیوب کی مقبولیت کو مزید کئی بلندیوںپرچڑھا دیا۔جون2006میں یو ٹیوب نے NBC کے ساتھ مارکیٹنگ اور اشتہار کاری کا اشتراکی معاہدہ کیا اور ڈالروں کی برسات سے لطف اندوز ہوتا گیا۔ شروع میں یو ٹیوب نے ویڈیو اپ لوڈنگ پر کچھ حدود قائم کر ر کھی تھیں جو بعد میں ختم کر دی گئیں۔گوگل نے اس چڑھتے سورج کو اور اس کی اہمیت کے پیش نظر اکتوبر2006میں یو ٹیوب خریدنے کا اعلان کر دیا۔اسی سال یو ٹیوب پر گوگل ایڈ سینس بھی متعارف ہوا۔اس کے بعد جب گوگل کا ڈیٹا شام ہواتو یوٹیوب کی پرواز کو مزیدکئی پر لگ گئے۔لوکل زبانوں میں یو ٹیوب ورژن جاری ہوئے ۔2008میں ویڈیو اینالیٹکس یعنی اپ لوڈ کی گئی ویڈیو سے متعلق اعداد و شمار بھی متعارف کر ادیئے گئے ۔ویڈیو کی اپ لوڈنگ کے لیے کوالٹی بھی بڑھا دی گئی جو کہ 2009میں 720pپھر2010میں 4Kکوالٹی تک جا پہنچی ۔2011میں یو ٹیوب نے فیچر فلموں کو رسائی دی ۔بس پھر کیا تھا، سب ٹوٹ پڑے ۔اس کے بعد 2015میں 360ویڈیوز کی اپلوڈنگ کی سہولت متعارف کرائی گئی، اسی سال یو ٹیوب ریڈیعنی بغیر اشتہار والی یعنی پیسے دے کر دیکھنے والی سروس متعارف کرائی گئی۔جون2008میں معروف امریکی جریدے Forbes کے مطابق200ملین ڈالر کی آمدنی کا تخمینہ لگایا گیاتھا۔ کچھ ماہرین یو ٹیوب کی موجودہ رننگ کاسٹ کو 7-8ملین ڈالر ماہانہ تک شمار کرتے ہیں ۔
ستمبر,2012ء میں توہینِ رسالت ﷺپر مبنی ایک فلم یوٹیوب پر ڈالی گئی۔اس پر دنیا بھر میں مسلمانوں کی جانب سے شدید احتجاج شروع ہوا ۔یو ٹیوب نے ویڈیو نہیں ہٹائی تو پاکستان سمیت کئی مختلف اسلامی ممالک نے یوٹیوب کو اپنے ملک میں بند کر دیا۔جن لوگوں کو چسکا لگ چکا تھا انہوں نے وی پی این یعنی دوسرے طریقوں سے پاکستان میں یو ٹیوب کو چلا کر اپنی نام نہاد تفریحی ضرورت کو پورا کیا۔ یوٹیوب،پاکستان میں کئی سال بند رہی پھر سال 2015ء کے آواخر میں اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔اس نے پاکستان میں سوشل میڈیا طوفان برپا کیا ، ڈھیروں چینلز بن گئے اور آسان طریقہ سے شہرت، دولت کمانے کی راہ کھل گئی ۔اس میں وہ لوگ جو کچھ بیچنا یا فروخت کرنا چاہتے تھے، کوئی درس و تدریس سے وابستہ تھے ، صرف تفریح جن کا مطمع نظر تھی وہ تو ٹھیک رہے البتہ فری میڈیم نے سب کو زبان دے دی جس کا جس موضوع پر جو دل چاہے بات کر لے ،پھر نیچے کمنٹس کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ اہم سنجیدہ موضوعات پر بھی عد م معلومات ، اَدھوری معلومات کے ساتھ جانے انجانے میں نظریاتی تشخص کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔البتہ جیسا کہ میں نے پہلے کہاکہ اس فری لانس اکانومی سے کئی لوگ اچھا کمانے بھی لگے اور اسی لائن پر لگ گئے۔اس پرہمارے دوست سہیل بلخی لکھتے ہیں کہ :’’آج جب میں پاکستان میں انٹر نیٹ،گوگل، یوٹیوب اور فری لانسنگ کی اکانومی کے دور میں کسی میٹرک پاس نوجوان کو بے روزگار دیکھتا ہوں تو دل میں یہی کہتا ہوں کہ یا تو یہ خود ہی کام کرنا ہی نہیں چاہتا یا یہ پاگل ہے۔‘‘
ایسے ہی ہمارے ایک اور دوست ریحان اللہ والا بھی طویل عرصہ سے احباب کو سماجی میڈیا ، یو ٹیوب ، گوگل وغیرہ سے آمدن حاصل کرنے پر آمادہ کرنے کی مستقل ترغیب دیتے رہتے ہیں ۔اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک پورا ریحان اسکول کا چینل بھی بنایا ہے جس پر انہوں نے لوگوں کو عملی تربیت بھی دی ہے ۔اس وقت وکی پیڈیا کے مطابق Tسیریز کا چینل 104ملین سبسکرائبر کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے ۔ ٹی سیریز بھارتی فلمی گانوں کی تخلیق کار ایک کمپنی ہے ، 2006میں شروع ہونے والے اس کے چینل کے ویوز 76ارب کے قریب ہیں ۔
پاکستان کے دائرے میں دیکھیں تو دینی و مذہبی چینلز کو بھی غیر معمولی پذیرائی حاصل ہے ۔ مولانا طارق جمیل کے ایک چینل AJOfficialکے اس وقت 4.1ملین سبسکرائبر ہیں اور ان کی ویڈیوز کو 46کروڑ ویوز مل چکے ہیں۔اسی طرح اسلامی وظائف کے حوالے سے ایک یو ٹیوب چینل ہے اسلامک ٹیچر آفیشل جس کے3.8ملین سبسکرائبر ہیں جبکہ اس کی ڈالی گئی ویڈیوز کو 35کروڑ ویڈیو ویوز مل چکے ہیں ۔اسی طرح The Urdu Teacher نامی یو ٹیوب چینل ہے جس کے لگ بھگ 35لاکھ سبسکرائبر ہیں ، یہ بھی ایک اسلامی چینل ہے جس میں لوگ مسئلے مسائل کا حل معلوم کرتے ہیں، قرآنی وظائف کی روشنی میں ، اس چینل نے گذشتہ2سال میںکامیابی حاصل کی ہیں۔ ویڈیوز کی پروڈکشن صرف وائس اوور یعنی پس پردہ آواز اور اوپر مناظر پر مبنی ہے ۔، جبکہ سارا کمال اس تھمب نیل یعنی ویڈیو اسٹارٹ ہونے سے قبل متوجہ کرنے کیلیے ڈالی گئی تصویر اور جملوں کا ہوتا ہے ۔ جیسا کہ ’’سر کا درد جتنا پرانا ہو اس چیز کو استعمال کرنے سے سیکنڈوں میں غائب‘‘۔’’پاکستانیو۔ اللہ کی مدد آگئی۔انڈیا جان بوجھ کر ہارا مگر پاکستان سیمی فائنل میں کیسے پہنچ رہا ہے ۔‘‘ ’’کیا آپ بھی آم کھا کھا کر چھلکے پھینک دیتے ہو۔ویڈیو دیکھ لو پھر چھلکے اٹھا اٹھا کر چومو گے۔‘‘ ’’کراچی کا ایک نوجوان جس کی قبر سے اذان کی آواز آتی ہے۔‘‘
’’اگر آپ کے جسم پر یہ نشانیاں ظاہرہو گئی ہیں تو آپ کو سات دن میں ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے ۔‘‘
اب ایسی سرخیاں لگا کر آپ ناظر کی توجہ لیتے ہیں اور اسے ویڈیو دیکھنے پر آمادہ کر تے ہیں۔ میں نے پھر بھی بہت محتاط مثال دیں مذکورہ چینل سے ۔ ویسے دیگر چینل ریٹنگ یعنی ناظرین بڑھانے کے لیے جس طرح اس تکنیک کو استعمال کرتے ہیں اسے ہم ’ایوننگ اسپیشل کیپشن‘ پکارتے ہیں۔
ایک کیٹگری انٹرٹینمنٹ ٹی وی چیلنز کی ہے جن کے پاس پہلے سے ہی سیٹلائٹ اسکرین، نام ، شہرت موجود ہے ، لیکن ان میں بھی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔نو بجے ڈرامہ ختم ہوتا ہے اورسوا نو بجے یو ٹیوب پر ڈال دیا جاتا ہے ۔ یہ خیال ان کو ویسے تو بہت بعد میں آیا ۔ اس سے پہلے کئی دیگر ویب سائٹس ڈائریکٹ ڈرامہ ٹی وی سے ریکارڈ کر کے ، بیچ کے اشتہار کاٹ کاٹ کر ٹکڑوں میں ہی سہی اپنے پیج پر اپ لوڈ کر دیتی تھیں ۔ انہوں نے بھی خوب مال کمایا ۔ بہر حال ناظرین کو اس جانب لانے میں انہی کا کردار تھا۔ جب سیٹلائٹ ٹی وی چینل کو بہت بعد میں اندازہ ہوا تو انہوں نے خود یہ کام شروع کر دیا۔اس وقت اے آر وائی ڈجیٹل 8.6ملین سبسکرائبر کے ساتھ اول نمبر پر ، ہم ٹی وی 5.4ملین سبسکرائبر کے ساتھ دوسرے نمبر پر، جیو کا یو ٹیوب چینل ہر پل جیو کے نام سے 4.6ملین سبسکرائبر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔Aplus انرٹینمنٹ بھی 2ملین پر کھڑا ہے۔خبروں کی دنیا میں جیو نیوز 4.5ملین جبکہ اگلا نمبر سما 3.5ملین پر سخت مقابلہ کے ساتھ موجود ہیں۔اس کے علاوہ موسیقی کی کیٹگری میں کوک اسٹوڈیو7.3ملین سبسکرائبر کے ساتھ جبکہ لوکل پروڈکشن پر مبنی ایک چینل تھر پروڈکشن 2.8ملین کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
ان سب سے منفرد اعزاز کے ساتھ کوئی 25لاکھ سے زائد یو ٹیوب سبسکرائبرز اور فیس بک پر بھی لگ بھگ اتنے ہی فالوورز کے ساتھ پاکستان کا اس وقت نمبر ون ’پرینکسٹر‘ کراچی سے تعلق رکھنے والا نوجوان نادر علی ہے ۔جس نے ’پی فار پکاؤ ‘کے نام سے اپنامنفرد نام و مقام حاصل کیا۔نادر علی تو کراچی سے ہیں ، لاہور سے ان کی طرز پر جون2017میں شاہ میر عباس نامی نوجوان نے چینل آغاز کیا ۔ اس وقت وہ بھی 1.3ملین سبسکرائبر کے ساتھ پاکستان کے ایک اور مقبول پرینکسٹر بن چکے ہیں ۔نادر علی اور شاہ میر منفرد کانٹینٹ پروڈیوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خود ہی اداکاری کرتا ہے ، اس میں اس کے ساتھ ٹیم کا بھی بڑا اہم کردار ہے کیونکہ جو کام وہ کر رہا ہوتا ہے اس میں کئی بار بلکہ عموماً عوام جذباتی ہو جاتے ہیں ،کئی بار خود اپنے انٹریوز میں انہوں نے بتایا کہ لوگوں کو سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا۔پرینک سے مراد تو مذاق ہے یعنی وہ بھیس بدل کر کسی خاص صورتحال میں راہ چلتے یا کسی گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر، کسی دکان میں بطور سیلز مین بن کر عوام سے سنجیدہ انداز میں مذاق کرتے ہیں اور عوام کے رد عمل سے لوگ محظوظ ہوتے ہیں۔اہم بات یہ ہوتی ہے کہ اختتام پر جب بات زیادہ بگڑنے لگتی ہے تو سامنے والے کو بتا دیا جاتا ہے کہ یہ سب مذاق تھا ، ریکارڈنگ کر رہے تھے، جس پر عموماً غصہ میں گرم عوام کا موڈ ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور وہ مسکرا کر ہاتھ ہلا دیتے ہیں۔ پرینک کایہ سلسلہ بہت پرانا ہے ۔2003میں معروف امریکی چینل ایم ٹی وی میوزک ٹی وی پراس کا آغاز ہوا تھا۔ اس کے بعد سے مختلف شکلوں میں یہ دنیابھر میں پھیل گیا۔کھانے پکانے کا بھی ایک مقبول ٹرینڈ یو ٹیوب کی دنیا میں موجود ہے ۔ Kitchen with Amna کے نام سے آمنہ نے 2016میں کھانے پکانے کی ترکیب پر مبنی چینل شروع کیا اور اس وقت وہ 2.2ملین سبسکرائبر کے ساتھ پاکستان کی نمایاں یو ٹیوبرہیں۔
موضوع طویل چھیڑ دیا ہے جگہ ناکافی ہو چکی ہے اس لیے اگلے ہفتہ مزید تفصیلات کے ساتھ حاضر ہوں گا۔

حصہ