کراچی کے وارث زندہ ہیں

123

زاہد عباس
۔’’صبح سے کہے جا رہی ہوں کہ گھر میں ایک چٹکی بھی آٹا نہیں، تمام چیزیں ختم ہوچکی ہیں، بازار سے کچھ پکانے کو لے آ، لیکن یہ میری بات سننے کو تیار نہیں، صاف منع کررہا ہے۔‘‘
’’یہ تو ہے ہی ڈھیٹ، تجھے کتنی مرتبہ کہا ہے کہ اس ڈھیٹ کو کسی بھی کام کا نہ کہا کر، فرحان کو کہہ دیتی، وہی لے آتا۔‘‘
’’فرحان! اُس کی عادت کو تم نہیں جانتے، کسی بھی کام کا کہو ’’ابھی کررہا ہوں، ابھی کررہا ہوں‘‘ کہہ کر پورا دن گزار دیتا ہے، مجال ہے کوئی کام کرکے دے۔ وہ تو اِس سے بھی بڑا ہڈ حرام اور ڈھیٹ ہے۔‘‘
’’میں ایسی عادتیں اچھی طرح جانتا ہوں، ہڈ حرامی یا ڈھٹائی ایک کیفیت کا نام ہے جو انسان کے وجود میں، بلکہ اس کی روح میں سرایت کر جاتی ہے، لیکن قدرت کا یہ بھی کرشمہ ہے کہ ہڈ حرام چہرے سے پہچانا جاتا ہے، بلکہ اپنی ایک ایک ادا سے اس کی ہڈ حرامی کے انداز کھل کر نظر آتے ہیں۔ یہ تو بچے ہیں، ایسے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں، خاص طور پر سرکاری محکموں میں ان کی خاصی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ ایسے لوگ سرکاری دفاتر کو اپنی سسرال سمجھتے ہیں، پریشان حال شہریوں کو دفتروں کے چکر کٹواتے ہیں۔‘‘
’’چلو یہ بھی خوب رہی، میں فرحان کی شکایت کررہی ہوں اور تم سرکاری محکموں اور ہڈحراموں کی داستان لے بیٹھے ہو۔ گھر کے کام نہ کرنے سے دفتروں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کا کیا تعلق؟‘‘
’’بہت گہرا تعلق ہے۔ کام اپنے گھر کا ہو یا عوام کو سہولت دینے کا… وہ کام ہی کہلاتا ہے۔ اس کو خوش دلی سے کرنے والا محسن، جبکہ نہ کرنے والا ہڈحرام اور ڈھیٹ کہلاتا ہے۔ اب چاہے گھر کے بچے ہوں یا اربابِ اختیار۔‘‘
’’نہ جانے کیا کیا بولے جارہے ہو! کہاں کی بات کہاں لے جارہے ہو!‘‘
’’میں کچھ نہیں کہہ رہا… میں تو بتا رہا ہوں کہ ہڈ حرام ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ میں غلط کہہ رہا ہوں تو امریکی مؤرخ مائیکل ڈیوس کی بات ہی سن لو، وہ کہتا ہے: کراچی شہر میں قائم کچی آبادیاں شہرکا سب سے بڑا حصہ ہیں، کراچی میں پلاننگ نام کی کوئی چیز نہیں، شہرمیں سرمایہ کاری اور سرمائے کی بہتات اور ارتکاز جہاں اس کو منافع بنانے کے لیے سب سے بہتر مقام بناتے ہیں، وہیں ہر قسم کے جرائم پیشہ افراد یہاں سرکار کی باقاعدہ سرپرستی میں کام کرتے ہیں۔ ہرقسم کا جعلی مال شہرکی کچی آبادیوں میں بنتا ہے۔ ریاست عوام کو پانی، بجلی، صحت اور تعلیم دینے سے ہاتھ کھینچ چکی ہے۔ شہرکے مسائل کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتاہے کہ صوبائی حکومت اور بلدیاتی ادارے شہرکی صفائی ہی نہیں کرسکتے۔ شہر میں روزانہ 1200 ٹن فضلہ ٹھکانے لگانا حکومت کے لیے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ شہر کی حالت کو دیکھتے ہوئے جو کچھ بھی اس امریکی مؤرخ نے کہا وہ اداروں میں تعینات ہڈحرام اور ڈھیٹ افسران کی نااہلی نہیں تو اور کیا ہے! انہی نااہلوں کی وجہ سے آج کراچی کے عوام کو پانی، بجلی، ٹریفک جام، بھتہ گیری اور رہزنی کی وارداتوں جیسے بڑے اور مشترکہ مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، جن سے ہر شہری کو ہر وقت سابقہ رہتا ہے۔ صنعتیں اور سرمایہ اس شہر سے منتقل ہورہے ہیں۔ شہریوں کو پینے کے پانی جیسی بنیادی نعمت میسر نہیں ہے۔ شہر میں ٹینکر مافیا، لینڈ مافیا، ٹرانسپورٹ مافیا، ایجوکیشن مافیا، بھتہ مافیا ایک باقاعدہ صنعت کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ اس ساری صورت حال میں کسی ادارے یا صاحبِ اختیار شخصیت کی جانب سے عوامی مسائل یا ان جرائم کے خاتمے کے لیے کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں کیا جارہا، لوگوں کو تعلیم، صحت، غذا، شہروں سے قصبوں اور دیہات میں آسان سفر کی سہولتیں، سستی رہائش، غذائی اشیاء، بجلی، گیس اور پانی جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ شہر میں ایک عام آدمی اپنے رہنے کے لیے چھت کی تلاش میں ہے، جبکہ چند خاندان اور بااثر لوگ اربوں روپے کی سرکاری زمین ہڑپ کررہے ہیں۔ چائنا کٹنگ نامی قبضہ اسکیم کے تحت شہر کے میدانوں، پارکوں اور رفاہی پلاٹوں پر نائز قبضے کیے جارہے ہیں۔ سرکاری ادارے اور ریونیو کے محکمے جاگیرداروں، صنعت کاروں، وڈیروں، سرکاری افسران، اور بااثر لوگوں سے قریبی تعلق رکھنے والوں کے ساتھ مل کر سرکاری زمینوں کی بندربانٹ میں مصروف ہیں۔ بجلی، گیس اور پینے کے صاف پانی کا حصول لوگوں کے لیے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ مریضوں کو اچھے معالج سے علاج کی سستی سہولت میسر نہیں۔ دواؤں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ سبزی، پھل، مچھلی، گوشت سمیت مشروبات کے معیار اور نرخ کو مناسب رکھنے اور برقرار رکھنے کی ذمہ داری کوئی پوری نہیں کررہا۔ بڑی بڑی کمپنیوں کی جانب سے پیکنگ میں غذائی اشیاء کی فراہمی میں معیار اور نرخوں کو چیک کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کی جارہی۔ عوام ناقص غذائی اشیاء مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔ تعلیمی نظام چند سرمایہ داروں کے کنٹرول میں ہے۔ دہرے تعلیمی نظام کی وجہ سے ایک غریب طالب علم معیاری تعلیم حاصل نہیں کرسکتا۔ میڈیکل، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، ایم بی اے، اکاؤنٹس اور دیگر شعبوں کی جدید تعلیم کے لیے لاکھوں روپے درکار ہیں، اس لیے یہ سہولت بھی فقط امیروں تک ہی محدود ہوتی جارہی ہے۔ تعلیم باقاعدہ ایک کاروبار بن چکی ہے۔ کراچی میں بسنے والے لوگ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سخت محنت کے ساتھ اپنی صحت کو بھی داؤ پر لگا رہے ہیں۔ کرپشن اور اقربا پروری عام ہے۔ اس سے جڑے لوگوں سے عوام کو نجات دلانے میں کوئی سنجیدہ نہیں۔ جاگیردارانہ اور وڈیرانہ سوچ رکھنے والے سرمایہ داروں نے سیاسی جماعتوں پر قبضہ جما رکھا ہے، جو اپنے پیسے اور طاقت کے بل پرغریب عوام سے زبردستی ووٹ حاصل کرتے ہیں۔‘‘
’’تم جو کچھ بھی کہہ رہے ہو وہ سب سچ ہے، میں جانتی ہوں کہ ہمارے شہر کے ساتھ بڑی زیادتیاں ہوئی ہیں، یہاں کے عوام سسک سسک کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، وہ ہر روز یہ سوچ کر اپنے مسائل سے نبرد آزما ہوتے ہیں کہ شاید کوئی مسیحا ان کی مسیحائی کرنے کے لیے آئے گا اور اس شہر میں رہنے والوں کو اس عذاب سے چھٹکارا دلائے گا۔ مگر ابھی تک تو ایسا نہیں ہوا۔ تم اپنا خون مت جلاؤ، یہاں کے باسی توقعات باندھنے اور خواب دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ اس شہر کی جو صورت حال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔‘‘
’’نہیں نہیں ایسی بات نہیں… جس کا کوئی نہیں ہوتا اُس کا خدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی غیب سے مدد کرتا ہے۔ بے شک امید پر دنیا قائم ہے، ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اس شہر کو 1970ء والا شہر بنانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ آج کام سے واپس آتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے کراچی کو عزت دو کے تحت نکالی جانے والی ریلی دیکھ کر مجھے اپنا خواب پورا ہونے کا یقین ہوگیا ہے۔ یہ عوامی مارچ سہراب گوٹھ سے شروع ہوکر ضلع وسطی اور شرقی سے ہوتا ہوا مزار قائد کے قریب ختم ہوا، جس میں خواتین سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت وینٹی لیٹر پر ہے اور اس کے دن تھوڑے نظر آرہے ہیں، عوام مہنگائی اور ٹیکسوں سے بیزار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں نہ پانی ہے، نہ بجلی اور نہ ہی ٹرانسپورٹ۔ پارک، اسپتال اور تعلیمی ادارے سب تباہ ہیں۔ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کے لوگ بنیادی سہولتوں کے لیے بھی پریشان ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں 200 فیصد بڑھ گئی ہیں، ایک سال کے دوران حکمرانوں کی نالائقی سے روپے کی قدر میں 37 فیصد کمی آئی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم تینوں حکومت میں ہیں لیکن کراچی کی بہتری اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تینوں جماعتیں اور ان کی حکومتیں کچھ کرنے پر تیار نہیں۔ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں کراچی کو بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے، لیکن ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ کراچی کو لاوارث نہ سمجھا جائے، جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ K-4کراچی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جسے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مکمل کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ آر او پلانٹ کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن K-4منصوبہ مکمل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’کے الیکٹرک‘ عوام سے لوٹ مار کررہی ہے لیکن حکومت اسے مسلسل سبسڈی دے رہی ہے، اور یہ سبسڈی سالانہ 75ارب روپے تک بھی دی گئی ہے۔ کے الیکٹرک کی لوٹ مار کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کمپنی کے سربراہ عارف نقوی امریکا میں ایک بہت بڑے فراڈ کے جرم میں برطانیہ میں ایک مقدمے میں گھر میں زیر حراست ہیں اور انہوں نے برطانیہ کی تاریخ کی سب سے بڑی ضمانت ادا کی ہے۔ وطن عزیز کو 60 فیصد سے زائد ریونیو فراہم کرنے والے شہر کو بجلی کے معاملے میں آف شور کمپنیوں کی ملکیت ’کے الیکٹرک‘ کے حوالے کردیا گیا ہے جس نے گزشتہ 15 سال میں منافع کمانے کے لیے کراچی کے عوام کا خون نچوڑ لیا ہے، لیکن آج بھی اس کے سسٹم کا یہ حال ہے کہ پورے شہر میں شٹ ڈائون، لوڈشیڈنگ اور لوڈ مینجمنٹ کے نام پر بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے، اور کے الیکٹرک آج بھی بجلی کی مانگ پوری کرنے کے لیے دوسرے اداروں سے مہنگی بجلی خریدنے پر اصرار کررہی ہے، اور اپنا مطالبہ منوانے کے لیے بلیک میلنگ پر اُتر آئی ہے۔ وفاقی بجٹ میں صرف 45.5 ارب روپے کراچی کے لیے رکھے گئے ہیں، جبکہ عمران خان صاحب نے مارچ 2019ء میں کراچی کے دورے کے موقع پر 162 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا تھا، اس پر بھی اب یوٹرن لیا جاچکا ہے اور صرف 45.5 ارب روپے جاری اسکیموں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ یہی حال سندھ حکومت کا بھی ہے، جس نے فراہمیِ آب کے منصوبے K-4 کے لیے صرف 80 کروڑ روپے رکھے ہیں، اور نکاسیِ آب کے منصوبے ’’ایس تھری‘‘ کے لیے 5 ارب روپے۔ گویا اگر مختص کیے گئے تمام پیسے فراہم ہو بھی جائیں تو یہ صرف جاری منصوبوں کے لیے ہوں گے، وہ بھی ادھورے کام کے لیے۔ اس طرح آئندہ کئی سال تک کراچی کی صورت حال میں بہتری کی امید تو دور کی بات، مزید ابتری کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ کراچی کے حالات دوبارہ بدامنی کی طرف جارہے ہیں۔ روزانہ سرِ عام سڑکوں پر اور گھروں میں ڈکیتی کی وارداتیں اور دیگر جرائم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دعووں کا منہ چڑا رہے ہیں۔ گرین لائن اور اورنج لائن منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔ سڑکیں کھود کر چھوڑ دی گئی ہیں۔ سرکلر ریلوے کا لالی پاپ برسوں سے شہریوں کو دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں بجائے مایوس ہوکر بیٹھنے کے، جماعت اسلامی نے لوگوں کو حوصلہ، امید اور جدوجہد کے ذریعے مسائل کے حل کا پیغام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی میں تین مرتبہ شہری حکومت میں دیانت داری اور صلاحیت کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی مدد سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرچکی ہے۔ اب بھی اس شہر کی اگر کوئی حقیقی امید ہے تو وہ جماعت اسلامی ہی ہے۔ مارچ کے قائدین کا خطاب سن کر میرے دل میں روشن کراچی کی امید جاگ اٹھی، اور میرا یقین اس بات پر مزید پختہ ہوگیا کہ کراچی کے وارث ابھی زندہ ہیں اورجماعت اسلامی ہی کراچی کو بنیادی سہولیات دینے اور ڈھیٹ حکمرانوں کا احتساب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘

حصہ