کامیابی اور انعام

38

منیزہ صادق
آج جب احمد گھر میں داخل ہوا تو اس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ امی میں امتحان میں پاس ہو گیا آپ مجھے کیا انعام دیں گی۔ امی آج کہیں چلتے ہیں نا۔ احمد کو اپنے پاس ہونے کا بالکل یقین نہیں تھا۔ لیکن اس کے منہ سے بار بار شکر نکل رہا تھا کہ اللہ نے مدد کر دی۔ احمد کے لیے اپنے پیارے ابو جان کو یہ خوش خبری سنانے کے لیے رات تک انتظار کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ امی ابو رات کو اتنی دیر سے کیوں آتے ہیں میں کب بتائوں گا اپنی کامیابی کا امی نے احمد کی بے چینی دیکھ کر اس کو موبائل پر کال کرنے کی اجازت دے دی احمد نے ابو کو فون کرکے اپنے پاس ہونے کی خوش خبری دی۔ ساتھ ہی بول اٹھے آپ مجھے کیا تحفہ دیں گے۔ ابو نے کہا گھر آکر بات کریں گے احمد دل ہی دل میں بہت ساری پلاننگ کر رہا تھا اور سوچ سوچ کر خوش ہو رہا تھا۔ لیکن احمد کو یہ پتا ہی نہیں تھا کہ اس کے امی ابو نے پہلے سے ہی پلاننگ کر رکھی ہے اور یہ کہ اس سال بچوں کو عمرہ کرانے لے جائیں گے۔ رات کو جب ابو آئے تو احمد سمجھے کہ شاید ابو کوئی تحفہ لے کر آئیں گے۔ لیکن جب احمد نے ابو کے خالی ہاتھ دیکھے تو چپ ہو گئے ابو نے رات کا کھانا کھایا اور پھر گرین ٹی پی، احمد صاحب بڑی خاموشی سے ابو کے فارغ ہونے کا انتظار میں تھے۔ ابو نے ایک دم کہا کہ اللہ کا گھر دیکھنے کا شوق ہے میاں آپ کو۔ احمد سمجھے کہ شاید نماز کا کہہ رہے ہیں ابو ابھی پڑھ لوں گا۔ ارے بھئی میں نماز کو نہیں کہہ رہا خانہ کعبہ کا کہہ رہا ہوں۔ احمد کی آنکھیں حیرانی سے کھل گئیں اور فوراً زور سے بولے کیا ہم ابو عمرہ کرنے جائیں گے۔ ابو نے پھر اپنا سوال کیا میں نے پوچھا کہ آپ کو شوق ہے؟ جی ابو کیوں نہیں ضرور چلتے ہیں آپ بتائیے نہ کب جائیں گے۔ پھر ابو بولے میں نے اور آپ کی امی نے آپ کو یہی تحفہ دینا تھا۔ عمرے کا ہم ان شاء اللہ ایک مہینہ کے اندر اندر چلیں گے۔ پھر ابو کوشش میں لگ گئے اور آخر کار وہ دن آہی گیا کہ عمرے کے ٹکٹ آج احمد کے ہاتھ میں تھے۔ پھر سب عمرے پر نکلے اور سب نے وہاں جا کر دل لگا کر عبادت کی۔ اور بہت دعائیں مانگیں میری آپ سب کے لیے دعا ہے اللہ ہر بچے کو ایک دفعہ ضرور امتحان میں پاس ہونے کی کوشش میں عمرے پر جانے کا موقع دے۔ یہ ایسا تحفہ ہے جس کا کوئی۔ نعم البدل نہیں۔

حصہ