معروف شاعر لیاقت علی عاصم کی رحلت پر اہلِ اَدب کے تاثرات

126

سیمان کی ڈائری
۔29جون کی رات بہت ہواچلی۔ میں اور کامران نفیس نارتھ کراچی میں چائے کے ایک ڈھابے پربیٹھے ہوئے تھے۔چوراہے پرشور کرتی گاڑیاں،ڈھابے پر لوگوں کی آوازیں نہ جانے کون سے سناہٹے میں گم تھیں۔اُس رات ہم دونوں کے درمیان بھی ایک گہری خاموشی تھی ۔تیز ہوا سے نیم کی ٹہنیاں پیلے پتوں کا بوجھ اتارر ہی تھیں۔ کوئی پتا چہرے پرآ لگتا تودونوں ایک دوسرے کی جانب چونک کر دیکھتے جیسے کوئی مخاطب ہو۔مگر کون؟یکا یک دونوں کے موبائل فون پر محمد سیف اللہ کے پیغام نے اِ س خامشی کا سکوت توڑ دیا ۔’بابا اب اِس دنیا میں نہیں رہے ‘۔انا للہ وانا علیہ راجعون۔

وہ دن گراں تھا اہلِ محبت پہ کس قدر
وہ رات کتنی اہلِ تمنا پہ بھاری تھی

خبر سنتے ہی جسم لرز اٹھا۔ہم دونوں نے ایک دوسرے کو سوالی نظروں سے دیکھا ۔ابھی کچھ لمحے پہلے ہی تو عاصم بھائی کے گھر سے واپسی ہوئی تھی اور اسی دوران مرشد عارف امام اور برادر عرفان ستار کی خبر گیری پر انھیں تسلیاں دے رہے تھے۔اب کس منہ سے انھیں یہ افسوس ناک اطلاع پہنچائیں…جیسے تیسے ہمت باندھی ، پہلے عارف اما م پھر عرفان ستار بھائی سے بات کرتے ہوئے الفاظ آنسوؤں کی روانی میں تیزی سے بہہ نکلے ۔
دسمبر کے آخری دنوں میں عاصم بھائی کو پیٹ میں تکلیف ہوئی ۔صاحبزادے کے ساتھ سیفی اسپتال گئے ۔ڈاکٹر نے دوائیں اورٹیسٹ لکھے۔دو دن بعد ڈاکٹرکے پاس گئے اور انھیں ٹیسٹ رپورٹ دکھائیں لیکن دواؤں سے تکلیف کم نہیں ہوئی تھی۔ڈاکٹر نے مزید ٹیسٹ لکھے۔وہ ٹیسٹ کرانے بعد جب دوبارہ اسپتال پہنچے توڈاکٹر رپورٹ دیکھ کر پریشان ہوئے کیوں کہ اِن رپوٹس میں بھی کوئی ایسی بات نہ تھی جس سے درد کی وجہ معلوم ہو سکے۔ ڈاکٹر نے ان کو فوراً بائیوپسی کا مشورہ دیا۔ اگلے روز عاصم بھائی ایس۔ آئی۔ یو۔ٹی میں ایڈمٹ ہوئے۔ تین روز ایس۔ آئی۔ یو۔ٹی سے واپس آئے ۔بائیوپسی کی رپورٹ میں جگر کا کینسرتشیص ہوا۔اس کے بعد کیمو تھراپی کا عمل شروع ہوا۔ مقامی اسپتال میں پانچ کیمو تھراپی ہوئے جس کے سبب دن بہ دن ان کا وزن کم ہوتا چلا گیا۔بیس جون کو ڈاکٹرز نے انھیں گھر واپس بھہج دیا کہ آپ کی کیمیو تھراپی مزید نہیں ہو سکتی۔27جون تک گذشتہ پانچ ماہ سے میری،کامران نفیس،عمران شمشاد،طارق رئیس فروغ،سعید آغا اور اجمل سراج کی عاصم بھائی سے گھر پر ملاقاتیں ہوتی رہیں۔اُن سے بہت سی باتیں ہوئیں۔رمضان المبارک سے قبل رئیس فروغ کے صاحبزادے طارق رئیس فروغ کی دعوت پر لیاقت علی عاصم بھائی نے ہمارے ساتھ سپرہائی وے پر کھانا بھی کھایا۔اُس ملاقات میں اجمل سراج،طارق رئیس فروغ،سحرتاب رومانی،کامران نفیس،عمران شمشاد،راقم الحروف کے علاوہ طارق بھائی کے تمام صاحبزادے بھی موجود تھے۔اُس نشست سے قبل اُنھوں نے اپنی اہلیہ سے ہمارے ساتھ باہر جانے کی اجازت لی تھی کیوں کہ اُس وقت بھی عاصم بھائی کی صحت ایسی نہیں تھی کہ وہ زیادہ دور جا سکیں۔وہ ایک طویل اور یادگار ملاقات تھی۔
ستائیس جون تک عاصم بھائی ہوش میں رہے ،اُس کے بعد ان کی طبیعت بگڑتی چلی گئی ۔ پہچان اور سماعت معدوم ہوگئی۔29جون کی شب سو ا دو بجے کے قریب میں اور کامران نفیس اُن کے گھر سے واپس آئے ہی تھے کہ اُن کے صاحبزادے سیف اللہ نے ہمیں اُن کے انتقال کی خبر دی۔اُس وقت رات کے دو بج کرتیس منٹ ہوئے تھے۔چونکہ اہل ادب کے بڑے لوگ اُن سے رابطے میں نہیں تھے تو یہ بات ادبی حلقوں تک نہیں پہنچ سکی ۔ہمارے علاوہ بھی کچھ احباب عاصم بھائی کی عیادت کو آئے لیکن بہت کم لوگ تھے۔30جون کونمازِ ظہر کے بعد انھیں سیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں نارتھ کراچی کے کوکنی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا ۔نمازِ جناز و تدفین کے دوران ،عزیزواقارب کے علاوہ اہلِ ادب اوردیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔ان شخصیات میں عادل فریدی،جاوید صبا،اجمل سراج،انورجاویدہاشمی،اقبال خاور،رونق حیات، کشورعدیل،راشد نور،طارق جمیل،سلمان ثروت،نثار احمد نثار،شکیل احمد خان،ڈاکٹر شاہد ضمیر،انیس مرچنٹ،طارق رئیس فروغ،عبدالحکیم ناصف،کامران نفیس،علی ساحل، شبیر نازش ، م م مغل، نعیم سمیر، فہیم شناس کاظمی،وقار زیدی کے علاوہ بہت سے احباب شریک تھے۔اُسی دن صبح لیاقت علی عاصم کے بڑے بھائی عبدالحمید بھی اُن کے پیچھے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ عاصم بھائی کے انتقال سے متعلق بہت سے اخبارات میں اُن کے انتقال سے متعلق غلط خبریں شائع ہوئیں۔
لیاقت علی عاصم اردو کی عصری شاعری میں ایک صاحب اسلوب غزل گوکی حیثیت سے وہ ہمیشہ نمایاں رہیں گے۔عاصم بھائی کے کل آٹھ شعری مجموعے شائع ہوئے۔’سبدِ گل‘،’آنگن میں سمند‘ر’،رقص وصال‘،’ نشیبِ شہر‘، ’دل خراشی‘، ’باغ تو سارا جانے ہے‘،’ نیشِ عشق ‘،’میرے کتبے پہ اُس کا نام لکھو‘ اور کلیات ’یکجان‘ شامل ہیں۔باتیں تو بہت سی کرنے والی ہیںجن کا ذکر آئندہ ایک مضمون میں شامل کروں گا۔میرا موجودہ کالم لیاقت علی عاصم بھائی کی رحلت پراردو شاعری کے معتبر شعرا،نثر نگاروں،نوجوانوں کے تاثرات پر مشتمل ہے جو میری درخواست پر اُنھوں نے اپنے قیمتی وقت سے مجھے بھیجا میں اُن کا تہِ دل سے مشکور ہوں۔ اُن میں جناب افتخارعارف،جناب نصیر ترابی،جناب سحر انصاری،جناب انور شعور، محترمہ شاہدہ حسن،محترم محمد حمید شاہد، ڈٖاکٹر ضیا الحسن، جاوید اختر بھٹی، اطہر عباسی،راشد نور، احمد مبارک، باقر رضا، افضل گوہر راؤ، مجید اختر،حسنین اکبر،خالد معین،اجمل سراج،عرفان ستار،باصر سلطان کاظمی،شاہین عباس،گلناز کوثراور دیگر شامل ہیں۔محترم افضال سید صاحب سے جب بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میں نے زندگی میں لیاقت علی عاصم کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا تو اب کس منہ سے اُن کے بارے میں کچھ کہوں۔

افتخار حسین
لیاقت علی عاصم ہماری شاعری کے عصری منظر نامے میں غزل گو کی حیثیت سے ایک نمایاں مقام کے حامل تھے۔ بیسویں صدی کے اواخر سے بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ بیسویں اور اکیسویں صدی میں غزل روبہ انہطاط ہے مگر ہر پانچ دس برسوں کے بعدمنصہ شہودپرکچھ غزل گو اس موقف کی تردیدکرتے نظر آتے ہیں۔جدین نظم اور نثری نظم کے پرشور زمانے میں بھی جن لوگوں نے غزل کو اعتبار بخشا،لیاقت علی عاصم اُن میں نمایاں نام ہیں۔ وہ صرف کراچی یا پاکستان کے صاحبِ اسلوب شاعر نہیں تھے۔ میں اُن کو اردو دنیا کے ایک مایہ ناز شاعر کے طور میں ان کا احترام کرتا ہوں ۔مجھے مشاعروں میں یا جہانِ تشہیر کے غزل بازوں سے پرخاش نہیں ہے مگر وہ لوگ زیادہ قابلِ قدر ہیںجنھوں نے اپنا تعارف لکھے ہوئے لفظ سے کروایا۔گوشۂ گمنامی میں رہے مگر خلوت گزینی بھی اُن کے ہنرکی شہرت و مقبولیت میں حائل نہیں ہو پائی۔شاید ہی کوئی ایساقاری ہوگاجس کے حافظے میں عاصم کے اشعار محفوظ نہ ہوں

ورنہ سقراط مر گیا ہوتا
اس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں

موت صاحبانِ ہنر کا راستہ روکتی نہیں ۔ہر تخلیق کارایک سطح پر موت کو شکست دیتا اور آگے بڑھتا نظر آتا ہے ،عاصم یاد رکھے جائیںگے مجھے اس کا پورا یقین ہے۔

نصیر ترابی
لیاقت علی عاصم مصرع لکھنے کا ڈھب جانتے تھا۔اسی بنیاد پر عاصم غزل کے رچاؤ سے واقف تھا۔لہاذا وہ عموما اجتہائی سے زیادہ اعتباری شعر کا قائل تھا۔لغت بانی کے شعبے سے وابستگی نے اسے لفظ کے واجبات اور تناسبات سے آشناکردیا تھا۔ غزل سے نسبتی تعلق سے سن 80کے بعد جن غزل کاروں کوبہ تکرار یاد کیا جائے گا اُن میں لیاقت علی عاصم کا نام ضرور شامل ہوگا۔میری دعا ہے کہ ربِ لوح و قلم لیاقت علی عاصم کو اپنی رحمتوں سے آبرو مندانہ نہال کر دے۔ آمین

سحر انصاری
لیاقت علی عاصم ایک شاعر کی حیثیت سے بھی اور انسان کی حیثیت سے بھی ایک محبوب شخصیت کے مالک تھے۔جامعہ کراچی میں وہ میرے طالبِ علم بھی رہے ۔اس کے بعد جب میں اردو ڈکشنری بورڈ کا چیف ایڈیٹر ہوا،اس وقت بھی وہ وہاں بہ حیثیت مدیر کے کام کررہے تھے۔میں نے یہ دیکھا کہ جو شاعرانہ انداز ہوتا ہے لوگوں کا عموماً ،وہ کار کردگی میں ان کانہیں تھا۔ بہت ہی ذمے داری سے اور بڑی وسعت ِ نظر سے وہ لغت کے الفاظ کا اور ان کے ماخذ کا اور ان کے حوالوں کا بہت ہی توجہ سے کام کرتے تھے۔ان کے لکھے ہوئے کارڈ میں شاذو نادر ہی کوئی غلطی نکلتی تھی۔ایک تو یہ میرے ذہن میں ان کا ایک تاثر ہے۔دوسری بات یہ کہ ہم ان کے ساتھ مشاعروں میں باہردوبئی وغیرہ میں بھی گئے۔وہاں بھی ہم نے دیکھا کہ وہ لوگوں میں پاپولر ہیں۔ساتھ ہی ساتھ ان کے اندر انکسار اور بے نیازی بھی اپنی جگہ ہے۔انھوں نے اپنے لیے جو موضوعات اور علامتیں تلاش کیں وہ گردو پیش کی زندگی سے تعلق رکھتیں ہیں ۔سب سے پہلے وہ منوڑا میں رہتے تھے۔سمندر اور جزیرہ یہاں تک کہ انھوں نے اپنے پہلے شعری مجموعے کا نام ہی ’’آنگن میں سمندر ‘‘رکھا۔ اس طرح سے وہ روایتی اور کلاسیکی غزل کے انتہائی اچھے قاری ہونے کے ساتھ ساتھ انھی تشبیہات و استعارات وہ علامات میں ایک نئی بات پیدا کرنے کا ہنر جانتے تھے۔سقراط پر کتنے شعر کہے جارہے ہیں لیکن یہ شعر ان کا کہ

ورنہ سقراط مر گیا ہوتا
اس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں

یہ شعر یا اور بھی ’خیال تیری طرف گیا ‘جیسی غزلوں میں نیاپن ،نئے زاویے، نئی بحریں ،نئی زمینیں خود اختراع کیں ۔پھر ان کا جو کلیات شائع ہوا اس میں بھی مجھ سے انھوںنے دیباچہ لکھوایا۔ان سے مجھے بہت ہی زیادہ ایک تعلقِ خاطر تھا۔دو ہمارے نوجوان شعرا ایک عزم بہزاد اور لیاقت علی عاصم،اِن کے جدا ہونے کا مجھے بے انتہا رنج ہے۔ایک تو یہ شاعر بہت اچھے تھے اور دوسرا ان کا جو انداز تھا سماجی زندگی میں اقدار کوجس طرح یہ لوگ عزیزرکھتے تھے وہ چیزیں ذراکم نظر آتی ہیں۔

انور شعور
لیاقت علی عاصم سے میری پہلی ملاقات عزم بہزاد کے ساتھ ہوئی تھی۔ ان دونوں میں بہت دوستی تھی۔پچھلے دنوں جب مجھے علم ہوا کہ عاصم کو کینسر ہے تو سوچا تھا کہ ان کی عیادت کو جاؤں گا۔ کینسرکے مرض کاآج علاج ممکن ہے۔ میرے بہت سے دوست جنھیں کینسر ہے انھیں اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا سمجھا جاتا ہے۔یہ توقع تھی کہ علاج کے بعد لیاقت علی عاصم ٹھیک ٹھاک ہو جائیں گے لیکن خبر آئی کہ لیاقت علی عاصم کا انتقال ہو گیا ہے تو سچی بات ہے کہ یہ خبرمجھے غیر متوقع معلوم ہوئی اور گہرا صدمہ ہوا اور افسوس ہوا کہ ہم ان کی عیادت کو جا بھی نہیں سکے۔میری عاصم سے زیادہ ملاقاتیں نہیں ہیں لیکن ہم نے پانچ بار باہر کے سفر ایک ساتھ کیے ۔لیاقت علی عاصم خوش اخلاق اور دلچسپ انسان تھے۔وہ جملے بہت اچھے بولتے تھے اورشاعر بھی بہت اچھے تھے۔

موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ، کل ہماری باری ہے

محمد حمید شاہد
پہلے لیاقت علی عاصم کی بیماری کی پریشان کن خبریں آئیں۔ ان کے اسپتال میں داخل ہونے کی اور پھر چل بسنے کی اور اس سارے عرصے میں ان کا ایک شعر میری سماعتوں میں گونجتا رہا:

ورنہ سقراط مر گیا ہوتا
اُس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں

وہ غالباً لیا قت علی عاصم کا ۱۹۸۸ء میں شائع ہونے والا شعری مجموعہ تھا ،’’آنگن میں سمندر‘‘ ، جس سے میں اس شاعر کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ پہلے اس مجموعے کے نام سے چونکا تھا اورپھر اس شاعر کو توجہ سے پڑھا تو محسوس ہوا کہ یہ شاعر ایسا نہیں ہے جسے اپنے قاری کی توجہ پانے کے لیے کسی بھی مرحلے پر چونکانے والے موضوعات برتنے کا حیلہ کرنا پڑا ہو یا پھراس نے ایسے انوکھے لسانی تجربات کے ہوں کہ قاری کا دھیان اس وسیلے سے بٹورا جا سکے کہ اسے تو ہر حال میں اپنی بات کہنی تھی اور اپنے سلیقے سے کہنی تھی۔ ایسا سلیقہ جس میں نیا پن شعریت اور تخلیقی جمالیات سے بہم ہو کر آتا تھا، ان سے کٹا ہوا یا اُچٹا ہوا نہیں ۔ شاید یہی سبب رہاہے کہ عاصم کا تذکرہ کم کم ہوتا رہا ہے ۔ جی جتنا ہونا چاہیے تھا ، اس سے بہت کم اور ہم جانتے ہیں کہ یہ بات لیاقت علی عاصم کو دِل گرفتہ رکھتی رہی ہے۔ نہ صرف دل گرفتہ،اسے تنہا بھی کرتی گئی ہے ۔ شاید اسی لیے اُس نے کہہ رکھا ہے ۔

داد بیداد میں دل نہیں لگ رہا
دوستو شکریہ ، شاعری شکریہ

تاہم ایسا نہیں ہے کہ ان کا شاعری ،اور بہ طور خاص غزل سے کبھی رشتہ کٹا ہو ۔ان کے سات مجموعے شائع ہوئے ہیں اور بیسیوں شعر ایسے ہیں جو زبان زد عام ہیں ۔ کتنے غزل گو ہیں جن کے اتنی مقدار میں اشعار مقبول ہوں

میرے چہرے میں کسی اور کا چہرہ تو نہیں
جانے وہ کس کی رعایت سے مجھے دیکھتا ہے
کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیا
مجھے اپنا ہاتھ بھی چھوگیا تو خیال تیری طرف گیا
میں طلسمِ حسن میں کھوچکا مرا کیا نشاں مرا کیا پتا
ترا خواب دے مجھے راستہ تو میں آؤں اپنے خیال میں
بہت روئی ہوئی لگتی ہیں آنکھیں
مری خاطر ذرا کاجل لگالو
کہاں تک ایک ہی تمثیل دیکھوں
بس اب پردہ گرا دو تھک گیا ہوں

مجھے ذاتی طور پر بہت دکھ ہوا ہے کہ غزل کی اپنی محبوب روایت سے جڑا ہوا شاعر خوب صورت اور تازہ شعر کہنے سے نہیں تھکا مگر زندگی کرنے سے تھک گیا اور کینسر جیسی بیماری نے اسے عمر کے اس حصے میں موت کی طرف دھکیل دیا کہ جب اُس کی طرف پشت کئے ہوئے لوگ بھی، اُس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہونے لگے تھے ۔

ڈاکٹر ضیاالحسن
لیاقت علی عاصم سے میری پہلی ملاقت 1988 میں ہوئی جب میں پہلی کراچی آیا۔ احمد نوید،حسنین جعفری،جاویدصبا،عزم بہزاد،اجمل سراج،خالد معین اور لیاقت علی عاصم میرے اس زمانے کے دوست ہیں۔عاصم کی شاعری اسی زمانے سے مجھے بہت مختلف لگی۔وہ بحراور قافیے کی مکینکل شاعری کرنے والے مشاعرہ باز شاعروں سے بہت مختلف تھے۔ان کے لیے شاعری وجود کی بازیافت کا عمل تھااوروہ پوری سنجیدگی سے اس عمل میں محو رہتے تھے۔شاعری کرنا اور زندگی کرناان کے لیے مترادفِ عمل تھے۔لیاقت علی عاصم ان شاعروں میں سے ہیںجن کی شاعری اُن کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ہم ہمیشہ انھیں ان کی شاعری میں محسوس کرتے رہیں گے۔ اس لیے میرے لیے ان کا جسمانی طور جانا کچھ زیادہ معانی نہیں رکھتا۔وہ اپنی شاعری کے توسط سے پہلے بھی میرے دل میں رہتے تھے اور آئندہ بھی اپنی خوبصورت شاعری کے ساتھ میرے دل میں رہیں گے۔

شاہدہ حسن
لیاقت علی عاصم کی علالت کی اچانک خبر اور پھر اُن کی خبر ِ مرگ تک کا عرصہ،اس قدر تیزی سے گزر گیا ہے کہ دل کو یقین ہی نہیں آرہا ہے کہ وہ اب ہم میں نہیں۔میں فروری میں کراچی گئی تھی۔کراچی لٹریچر فیسٹیول میں اور شہر ِ قائد کے مشاعرے میں شامل رہی۔ کافی دوستوں سے ملاقات رہی مگر کہیں بھی لیاقت علی عاصم نظر نہیں آئے۔لیاقت علی عاصم نے ایک دن خود فون کیا اور اپنی کُلیّات بھیجنے کے لئے پتہ مانگا۔کتاب موصول ہوئی تو میں نے شکریہ کا فون کیا۔عاصم نے خواہش ظاہر کی کہ میں اس پر کچھ لکھوں۔میں ان کے شعری مجموعوں کی تقاریب میں شریک ہوکر مضمون پڑھ چکی تھی اور اُن کی شاعری کو دل سے پسند کرتی تھی اس لئے وعدہ کرلیامگر ابھی اس وعدہ کو پورا کرنے کی نوبت بھی نہ آئی تھی کہ یہ الم ناک خبر سننے کو مل گئی۔ہم عصر شعری منظر نامے میں لیاقت علی عاصم کا نام اپنے ابتدائی دور ہی سے اک مستحکم حیثیت کا حامل ہے۔عاصم نے ایک بار اپنا اولین شعر سنایا تھا

فرہنگ ِ دلبراں میں نہاں حرف ِ التفات
آیا تو بے شمار معانی میں آئے گا

اُن کی شاعری میں واقعی یہ جہات نمایاں ہوئیں۔وہ بلا شبہ اک صاحب ِ اسلوب شاعر تھے۔اُن کی غزلیں،ہمارے عہد کی پُر آشوب زندگی کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔اپنی شعری بصیرت،تخلیقی تجربے کی سچائی اور اپنے اظہار کی تازگی اور انفرادیت کے ساتھ،عاصم جو کچھ بھی لکھتے رہے ہیںوہ سنجیدہ ادب کے شائقین کے لئے کسی انمول تحفے سے کم نہیں۔شہرت اور نام و نمود کی موجودہ دوڑ سے بے نیاز،ایک خوش کلام شاعر جو ہماری تہذیبی اقدار کی جیتی جاگتی تصویر تھا اب ہم میں نہیں رہا مگر اُن کا نام ادب و شعر کی دنیا میں اک پائدار وقعت اور اہمیت کا حامل ہے۔

مجھے دوراہے پہ لانے والوں نے یہ نہ سوچا
میں چھوڑ دوں گا یہ راستہ بھی،وہ راستہ بھی
دشمنی تک وہ آگیا تو کیا
وہ مرا دوست ہے جہاں تک جائے

پروردگار انھیں ابدی سکون سے ہم کنار فرمائے اور اپنی رحمتوں کے سائے میں جگہ دے۔آمین

جاوید اختر بھٹی
لیاقت علی عاصم منفرد لہجے کے شاعر تھے۔ان کے بہت سے اشعار زبانِ زد عام ہیں۔ وہ کراچی کے اُن شعرا میں سے تھے کہ جن کے اشعار پورے ملک میں سنے گئے۔عاصم صاحب کی وفات اردو ادب کے لیے عظیم سانحہ ہے۔۔ان کی وفات کو محسوس کیا گیا۔دوست ٖغمزدہ تھے ،ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔لیاقت علی عاصم نے زندہ رہنے والی شاعری کی ہے۔ایسے اشعار کون کہے گا۔

ورنہ سقراط مر گیا ہوتا
اس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں

انھوں نے موت پر بہت شعر کہے

پھر وہی بے دلی پھر وہی معذرت
بس بہت ہو چکا زندگی معذرت
کہاں تک ایک ہی تمثیل دیکھوں
بس اب پردہ گرا دو تھک گیا ہوں

افسوس کہ میری لیاقت علی عاصم سے ملاقات نہیں ہوئی۔ لیکن ان کے اشعار میں ان کی شخصیت نظر آتی ہے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ لیاقت علی عاصم کی شاعری انھیں مرنے نہیں دے گی۔

اطہر عبّاسی
لیاقت علی عاصم اپنے عہد کا ترجمان اپنے ہم عصر شعراء میں ممتاز، منفرد لب و لہجے اور زندہ ضمیر کا عکاس، خوبصورت اور خوب سیرت خیالات کا صورت گر تھا ۔اس کا ایک ایک حرف فکر کے اچھوتے نقش و نگار سے آراستہ کبھی شعر کے قالب میں ڈھل جاتا تو کبھی پورٹریٹ کی صورت دل و نگاہ کو تسخیر کرتا ہوا نظر آتاہے۔ان کی شاعری میں جہاں جمالیات ہیں وہیں نئی حقیقتوں کی چہرہ نمائی بھی نظر آتی ہے۔ تلاش و جستجو کی اذیت اور تنہائی کے کرب کا بیان بھی ان کے کلام میں جگہ جگہ ملتا ہے۔دوست و احباب سے سچی محبت کرنے والا بے لوث انسان، بیماری میں کئی مرتبہ گفتگو ہوئی تو بس دعا کی درخواست اور اب اس باکمال شاعر،پیارے انسان دوست کے لئے ہمارے پاس دعاؤں کے سوا اور کیا ہے، بہترین تحفہ دعائیں ہیں اور ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی آگے کی منازل میں آسانیاں عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں بلند درجات سے نوازے۔ آمین

راشدنور
لیاقت علی عاصم باکمال شاعر تھا دوستوں کا دوست،نہ کسی سے گلہ نہ شکوہ بس شاعری میں ڈوبا ہوا۔اس کا ہر شعر ہمارے احساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔

احمد مبارک
۔86کی گرمیوں کی شام تھی۔ رفعت القاسمی کے ہاں نارتھ ناظم آباد میں اُن دنوں ہم سب جمع ہوتے تھے۔کبھی کبھار کی اُس محفل میں ایک شام حسنین جعفری، عبیداللہ علیم ایک اجنبی دوست کے ہمراہ داخل ہوئے۔کھانے اور غیر رسمی بات چیت کے بعد سب نے شعرسنائے اور لیاقت علی عاصم اُس شام رات ڈھلنے تک ایک تازہ کار کمیٹیڈ شاعر کی دریافت ثابت ہوئے۔رات بارہ بجے انھوں نے کہا کہ میں اب واپس منوڑہ نہیں پہنچ سکتا،واپسی کی آخری کشتی روانہ ہو چکی ہوگی۔کسی کو خبر نہیں تھی کہ اُن کے اداس دل کے آنگن میں کتناسمندر ہے۔کھارا اور نیلگوں سمندرجس نے اُن کے بدن سے ہوکر ہونٹوں تک نمک بھر دیا تھا۔اُس تلخی سے شاعرِ زودرنج ایک نغمہ تخلیق کرتا تھا۔جسے سمندر اپنی موجوں کے تلاطم میں سنتا تھااور اس کی پرشور خامشی کو شاعر نے نظر انداز کرنے پرمحمول اورایک روز اپنی ڈائری کچھ اور برش لے کرشہر کے بیچوں بیچ آرہا۔دوستوں کی تلاش میں ایک اور سمندر میں چپ چاپ تیرنے لگاجن کے درمیان اس کی فسردہ دلی اسے چائے خانوں کی دیواروں کو گھورتے،خاموشی اور تنہائی کے بیچ جی کڑا کر کے کوئی فقرہ لگاتے ہوئے تمباکو کے دھوئیں اور چائے کی کڑواہٹ میں اُسے حالتِ شعر میں ڈوبتے ابھرتے رہنے کو چھوڑدیتی۔ لغت کے دفتری روزوشب نے مصرعے کو نکھار نکھار دیا جو آغاز تھا ادبی سرمائے میں ایک گراں قدرحصہ ڈالنے کا۔لیاقت علی عاصم نے اپنی تنہائی نہیں بانٹی۔دوستوں نے خود ہی اُس میں شراکت داری قائم کرلی تھی اور جب سب اُنھیں اپنی ابدی آرام گاہ میں سپردخاک کرکے لوٹے تو دوچند ہوتی تنہائی کو اُن کے شعرسناکر غم غلط کرنے کوبیٹھ گئے۔روایت اور کلاسیکی شاعری کے موضوعات کو اپنے اندرکے سمندر کی لہروں میں بہتے ڈولتے ایک نئی آب و تاب دینے والا شاعرہم سب دوستوں کے درمیان اپنے شعرکے ساتھ موجود رہے گا۔زندگی اسی طرح دوام سے آگے نکل جاتی ہے۔

افضل گوہر راؤ
لیاقت علی عاصم کا شمار اردو کے ہنرمند شاعروں میں ہوتا ہے..سماجی ہوں یا فطری معاملات اُن کے اشعار دل کو چھولینے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں۔جہاں تک تخلیقی وفور کی بات ہے تو لیاقت علی عاصم ہجومِ سخن وراں میں واضح دکھائی دیتا ہے۔عمدہ کرافٹ اور الفاظ کے برتنے کا ہنر اُسے موجودہ دور کے شعرا سے ممتاز کرتا ہے۔مجھے اُس کی شاعری نے ہمیشہ خوش کیا۔

مجید اختر
کامران نفیس کہتے ہیں کہ لیاقت علی عاصم کا جنازہ جب اٹھا تو جانے اداسی کی کس کیفیت میں اجمل سراج کہہ گئے:

ہمیں اٹھاؤ ہماری لحد کی سمت چلو
اب اس زمین پہ ہم پاؤں بھی دھریں گے نہیں

کم و بیش یہی کیفیت پردیس میں ان کے چاہنے والوں کی ہے۔ اجمل سراج کی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ شعر ہوگیا:

عدم کی رہ کے مسافر دلوں میں زندہ ہیں
خبر کرو یہ ُعدو کو ابھی مریں گے نہیں

ایک زمانہ بیت گیا۔ یادیں رہ گئیں۔
۵۹۹۱-۶۹ کا ذکر ہے، ہم بھی جوان تھے اور کچھ کر گزرنے کا عزم بھی۔ چنانچہ طے ہوا کہ سکہ بند مشاعرہ باز و گلوکار و نام نہاد شعرا کی جگہ ڈیزرونگ اور جینئیوین شعرا کو بلایا جائے۔ سقراط اور زہر کے پیالے والے شعر نے دھوم مچائی ہوئی تھی۔ چنانچہ لیاقت علی عاصم اور انور شعور کے ویزے امریکہ میں مشاعروں کیلئے داخل کیے گئے۔ عاصم بھائی کا ویزہ یوں ریجیکٹ ہوا کہ وہ ابھی جوان تھے اور کونسلیٹ والوں کو ڈر تھا کہ یہ امریکہ سے پلٹ کر نہیں آئیں گے۔ انور شعور اپنی طبعی سادگی کی بنا پر بہت سخت پریشان تھے۔ بالآخر انہیں پہلے لاہور اور پھر اسلام آباد بھجوانا پڑا۔ یہاں یہ اعتراف ضروری ہے کہ امجد اسلام امجد صاحب کی محنت اور تعلقات کے سبب ان کا ویزہ ممکن ہوسکا۔ ان دنوں انٹرنیٹ نہیں تھا، فون پہ رابطہ بھی مشکل تھا۔ فیکس یا خط و کتابت پرزیادہ انحصار تھا۔ ان رابطوں کے علاوہ عاصم مرحوم سے ملاقات اسی صورت میں ہوتی جب میرا پاکستان جانا ہوتا۔ مجھے ایسا لگا کہ وہ ایک سرد مہر، لیے دیے رہنے اور فاصلہ رکھنے والے شخص ہیں۔ پھر دھیرے دھیرے کھلا کہ اصلی لیاقت علی عاصم ان پردوں کے پیچھے چھپا بیٹھا ہے۔ جب تک یہ حقیقت آشکار ہوئی بساِطِ وقت نے بازی ہی لپیٹ دی۔ان نکی بیماری اور مہلک بیماری کی اطلاع نے گویا جھنجھوڑ سا دیا۔ تسنیم عابدی اور عارف امام سے امریکہ میں رابطہ رہا۔ یہ دونوں حضرات عاصم بھائی کے قریبی حلقہ کے لوگ تھے۔ مجھے تو ترکِ وطن کئے طویل زمانہ گزر گیا۔ اسی لئے صحبتیں اور بیٹھکیں میسر نہیں رہیں۔ اللہ سلامت رکھے کراچی میں نوید عباس(سیمان) اور کامران نفیس اپ ڈیٹ دیتے رہے اور ہمارا شاعرِ خوش نوا کسی کو زحمت دیے بغیر اپنی دُھن میں اٹھا اور چل دیا۔

باقر رضا
سادگی اور پر کاری اگر جدت کے ساتھ دیکھنی ہو تو لیاقت علی عاصم کی شاعری کا مطالعہ کریں۔وہ عام زندگی میں بھی نہایت سادہ اور شاندار انسان تھے۔سادگی ان کے حلیے سے اور شانداری ان کے کلام سے عیاں ہوتی تھی۔اب جب وہ ہماری بزم سے اٹھ کر بزم_رفتگاں کا حصہ بن چکے ہیں تو اردو کے دیگر بڑے شعراء کی طرح ان کی کلیات موجود ہے جو ان سے بات کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔اب مستقبل میں ان کے اشعار کی نو بہ نو تفہیم بھی ہونا ہے۔دیکھیں ان کی شاعری ہمیں زندگی کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

حسنین اکبر

بولتے ہیں کواڑ کے قبضے
ایسے جیسے کلام کر رہے ہیں

اور اب نہ کواڑ کھولنے والا رہا نہ قبضوں کی آہ و بکا سننے سنانے والا!
فیس بک کی بہت ساری برائیوں میں ایک لازوال خوبی بہترین شعرا تک رسائی ہے اور خوش بختی سے میں لیاقت علی عاصم بھائی کی وال تک پہنچا اور حیرت زدہ ہوا کہ ایسا باکمال شاعر عوامی سطح پر کیوں شہرت یاب نہیں پھر وقت کے ساتھ ساتھ حیرتیں بڑھتیں گئیں۔ شریف النفس انسان اپنے لیے راہ ہموار نہیں کرتا بس اپنا کام جی جان سے کرتا ہے۔آج لیاقت علی عاصم بھائی ہم میں نہیں رہے اور فیس بک دو روز مکمل ماتم خانہ بنا رہا اور لفظی پھوڑی بچھی رہی کہنے کو بہت دکھ ہیں مگر کہنا نہیں چاہتا کہ احساسات کا زیاں گوارہ نہیں۔عاصم بھائی غزل کے موجودہ مشاعراتی شعرأ کے سر پر قدم رکھ کر سفر کر سکتے تھے مگر اپنی تنہائی میں اپنا سفر مکمل کر کے چلے گئے ۔اُن کے بیسیوں شعر نمائندہ شعر ہیںجن سے خواص واقف ہیں اور عوام تک اپنا سفر کر کے رہیں گے ۔ان شااللہ
(جاری ہے)

حصہ