قیمتی موتی کی تلاش

60

مائلہ خان
بہت پرانے زمانے کی بات ہے ،کسی ملک کا ایک تاجر تجارت کی غرض سے بغداد پہنچا۔ان دنوں تجارت کا یہ قانون تھا کہ تاجر جس ملک میں تجارت کرنے جاتا،سب سے پہلے وہاں کے بادشاہ سے ملاقات کرتا،اپنا سارا سامانِ تجارت دکھاتا اور اس کی خوبیوں اور انفرادیت سے آگاہ کرتا۔
چنانچہ اس تاجر کو بھی بغداد پہنچنے کے بعد بادشاہ کے دربار میں پیش کیا گیا۔تاجر نے بادشاہ کے حضور تحائف پیش کئے اور پھر مالِ تجارت نکالا اور ایک ایک چیز کی خوبی بیان کرتے ہوئے دکھانے لگا۔
حضور ،یہ پانی سے چلنے والی گھڑی ہے جو میں نے یونان سے خریدی ہے۔
یہ قالین ہے جو ایران سے خریدا ہے اور یہ خالص ریشم کے تار سے بنا ہے۔یہ قلم ملا حظہ فرمائیے جو میں نے جاپان سے بہت مہنگے داموں خریدا ہے۔
تاجر نے ایک ایک مال کی اہمیت بیان کی۔
بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا؛بہت خوب ،تمام چیزیں بہت عمدہ نایاب ہیں جو تم نے ایران ،یونان اور جاپان سے خریدی ہیں لیکن یہ تو بتاؤ کہ تمہیں ہندوستان میں ہمارے شایانِ شان کوئی چیز نظر آئی۔
تاجر نے بادشاہ کو متاثر کرنے کے لیے کہا ؛’’بادشاہ سلامت یوں تو وہاں پر آپ کے شایانِ شان بہت سی چیزیں تھیں لیکن جو چیز مجھے پسند آئی ،اس کو حاصل کرنے کے لیے مجھے کچھ عرصہ وہاں قیام کرنا پڑتا جبکہ میرے پاس صرف دو دن کا وقت تھا اِس لیے میں وہ نہیں لا سکا۔
بادشاہ نے کہا؛بھلا وہ کیا چیز تھی؟
تاجر بولا؛جناب وہ ایک موتی ہے اور اس کی خوبی یہ ہے کہ وہ دوسروں کو بانٹنے سے بڑھتا ہے۔اس کو کوئی چرا بھی نہیں سکتا اور اس موتی سے بہت سے زیور بھی بنا کر پہنے جا سکتے ہیں۔
بادشاہ تاجر کی اِس بات سے بہت متاثر ہوا اور کہنے لگا؛’’میں اسے ضرور حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
اس نے فوراً اپنے ایک خاص وزیر کو مع سامان و سواری اِس ہدایت کے ساتھ رخصت کیا کہ اب وہ موتی لے کر ہی لوٹے۔وزیر اپنے مقصد کے لیے نکل پڑا۔جنگلوں ،سمندروں ،پہاڑوں اور صحرا ؤں ،غرض کہ ہر جگہ کی خاک چھان ماری ،وادی وادی گھوما،ہر شخص سے اس نادرونایاب موتی کے بارے میں پوچھا مگر سب نے یہی کہا کہ ایساکوئی موتی نہیں جو چور ی نہ ہو سکے اور اس سے بہت سے زیور بھی بن جائیں۔
لوگ اس کی بات سن کر ہنستے اور کہتے ؛مسافر پاگل ہوگیا ہے۔
یوں ہی مہینوں بیت گئے ،ناامیدی کے سائے گہرے ہونے لگے مگر بادشاہ کے سامنے ناکام لوٹنے کا خوف اس کو چین نہیں لینے دے رہا تھا۔
وزیر نے ہر ممکن کوشش کرلی کہ اسے کوئی ایساموتی مل جائے لیکن نہ ملا،آخر کار اس نے واپسی کا ارادہ کرلیا۔
وزیر اپنی ناکامی پر زاروقطارروتا جنگل سے گزررہا تھا۔رات خاصی بیت چکی تھی اور وہ تھک بھی گیا تھا۔ایک درخت کے پاس آرام کے ارادے سے لیٹا ہی تھا کہ اسی لمحے ایک روشنی اپنی جانب بڑھتی نظر آئی۔پہلے تو وہ ڈر گیا مگر پھر ایک آواز نے اس کو حوصلہ دیا۔
ارے نوجوان ڈرومت ،میں اچھی پری ہوں۔بتاؤتمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے ،مدتوں کا تھکا مسافر معلوم ہوتا ہے ،بتا میں تیری کیا مدد کروں؟
وزیر نے اپنی داستان کہہ سنائی کہ اسے جس موتی کی تلاش تھی ،وہ اس کو کہیں سے بھی نہیں ملا۔
اب اچھی پری وزیر کے سامنے آچکی تھی اور وہ وزیر کی بات سن کر بے ساختہ ہنسنے لگی اور بولی ؛’’افسوس کہ تو نے عقل سے کام نہ لیا اور محض ایک موتی کی تلاش میں مہینوں مارا مارا پھرتا رہا‘‘۔
وزیر بولا؛’’اچھی پری ،میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا‘‘۔
پر ی بولی،بھلے آدمی ،وہ موتی دراصل علم کا موتی ہے لیکن تو اس کی ظاہری شکل کو تلاش کرتا رہا۔علم تو ایک ایسی شے ہے ،جسے ہزاروں نام دئیے جا سکتے ہیں۔کہیں اسے پھل دار درخت کہتے ہیں تو کبھی سورج سے تشبیہ دیتے ہیں اور اسے سمندر بھی کہا جاتا ہے لیکن اسے کوئی چرا نہیں سکتا۔
’’لیکن اس سے زیور بنانے والی صفت ؟‘‘وزیر نے حیرت سے پوچھا؟
پری نے مسکراتے ہوئے کہا؛علم کی بہت سی صفات ہیں۔تم اس موتی کی صورت کو کیوں تلاش کرتے ہو۔یادرکھو،ہر شے کی تاثیر کا تعلق اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کی اندرونی خوبیوں سے ہوتا ہے۔
اسی طرح علم بھی ایک نایاب موتی ہے کہ جس سے یہ حاصل ہوجائے ،وہ اس سے ایسے ہی سج جاتا ہے جیسے انسان زیور پہن کر سجتا ہے اور اسے کوئی چرا نہیں سکتا بلکہ یہ تو بانٹنے سے بڑھتا ہے ،گھٹتا نہیں ہے۔
وزیر بڑے غور سے پری کی بات سن رہا تھا اور بالآخر قائل ہوگیا کہ واقعی علم ایک ایسا موتی ہے کہ جس کے پاس ہو،وہ دراصل دنیا کے سب سے قیمتی زیور کا مالک بن جاتا ہے۔
وزیر نے پری کا شکر یہ ادا کیا،جس کے بعد اچھی پری وہاں سے غائب ہوگئی۔اب وزیر بہت خوش تھا اور اپنی کامیابی کے گیت گاتااپنے ملک کو روانہ ہوگیا۔وہاں پہنچ کر اس نے بادشاہ کو علم کے موتی کے بارے میں بتایا اور سمجھایا تو بادشاہ بھی پری کی بات کا قائل ہوگیا کہ صرف علم ہی وہ موتی ہے جسے کوئی چرا نہیں سکتا۔
پیارے ساتھیو! علم ایک ایسا موتی ہے جس کی چمک دمک زمین سے آسمان، فرش سے عرش تک ہے اور علم کے اس موتی کی روشنی میں ہی انسان اس کائنات کے خالق ومالک تک رسائی حاصل کرتا ہے۔

حصہ