عوام کی چیخیں نکالنے والی حکومت کا مستقبل

121

ملک میں موجودہ جمہوری نظام ہے یا آمرانہ، عمران خان کی حکومت ہے یا کسی جرنیل کی حکمرانی… اس بات سے عام آدمی کو کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ عوام تو یہی بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ملک کو جمہوریت کے نام پر کہاں لے جایا جارہا ہے، اور قوم کو کس چوراہے پر جانے پر مجبور کیا جارہا ہے؟ لوگوں کو اب اس بات سے بھی کوئی سروکار نہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنے اہداف میں کامیاب ہورہی ہے یا نہیں۔ پوری قوم کو نوازشریف اور آصف زرداری کے مستقبل سے بھی کوئی لینا دینا نہیں رہا کیونکہ وہ طوفانی مہنگائی سے خوفزدہ ہے۔ ایسا صرف موجودہ حکومت کے 11 ماہ میں ہورہا ہے، کیونکہ روزانہ آنے والے بجٹ، نئے ٹیکسوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ وہ کچھ سوچ سکیں اور کرسکیں۔
رواں مالی سال 2019-20ء کے بجٹ پر عمل درآمد کے پہلے روز ہی یعنی یکم جولائی کو اشیائے ضروریہ عوام کی پہنچ سے دور ہوگئیں۔ اوپن مارکیٹ میں چینی 9 سے 10 روپے مہنگی ہوگئی ہے۔ اس اضافے کے ساتھ پنجاب حکومت نے چینی کی قیمت 60 روپے فی کلو مقرر کی ہے، جبکہ دکاندار 70 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کررہے ہیں۔ سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں 25 روپے اضافہ کردیا گیا۔ مختلف برانڈ کی گاڑیاں مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹوکن ٹیکس اور ٹرانسفر فیس میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے، جبکہ سگریٹ اور مشروبات سمیت خورو نوش کی مختلف اشیاء پہلے ہی مہنگی کی جا چکی ہیں۔ سوئی ناردرن گیس کمپنی نے بھی نئے مالی سال کے پہلے روز سوئی گیس کی قیمت میں 200 روپے کا اضافہ کردیا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو گیس کا کم سے کم بل 175 روپے فراہم کیا جائے گا۔ انٹرسٹی اور اربن ٹرانسپورٹروں نے بھی ریلوے اور فضائی کرایوں میں اضافے کو دیکھتے ہوئے اپنے کرایوں میں اضافہ کردیا ہے۔ ادھر پاور ڈویژن نے بجلی کے نرخ میں 75پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، قیمتوں میں یہ اضافہ 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق 5 کلوواٹ تک کے کمرشل صارفین کے لیے بجلی مہنگی نہیں کی گئی۔ نئے مالی سال کے بجٹ کے پہلے روز پاکستان ریلویز نے مختلف مسافر ٹرینوں کی مختلف کلاسوں کے کرایوں میں 8 فیصد تک اضافہ کردیا ہے، جس کے باعث اکانومی کلاس کے کرائے میں 100 روپے فی مسافر، اسٹینڈرڈ اے سی کے کرائے میں 200 روپے، بزنس کلاس کے کرائے میں 450 روپے سے 500 روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے، جس پر عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔ سی این جی کی قیمت میں اضافے کے خلاف کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے منگل(آج) سے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب آن لائن ٹیکسی سروس کریم نے بھی سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر سندھ حکومت نے وفاق سے سی این جی پر سیلز ٹیکس کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹرانسپوٹرز نے وفاقی حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلائی تو پیپلزپارٹی ساتھ دے گی۔ دوسری جانب لاہور میں میٹروبس کے کرائے میں 30روپے تک اضافہ 3 جولائی سے لاگو ہوگا۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ایسوسی ایشن نے کام بند کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کی کال دے دی ہے۔ پروسیسنگ ملز کی بندش سے ہزاروں مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔
قوم کو یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کرپٹ عناصر کے احتساب کی آڑ میں مہنگائی اور نئے ٹیکس لگاکر عوام کا کیوں احتساب کرنا چاہتی ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس نے خاص و عام سب ہی کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے!
عمران خان نے 25 جولائی 2018ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ’’تبدیلی‘‘ کی بات کی تھی۔ مگر جو تبدیلیاں سامنے آرہی ہیں انہیں کسی طور پر بھی مثبت تبدیلی نہیں کہا جاسکتا۔
حکومت کے گیارہ ماہ پورے ہونے پر یکم جولائی کو پنجاب کے سابق وزیر قانون اور مسلم لیگ نواز کے رہنما رانا ثناء اللہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ انہیں مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں ڈالنے کا اعلان تو عمران خان نے خود ہی فیصل آباد کے جلسے میں گزشتہ سال اپریل میں کیا تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہوگیا کہ عمران خان نے جو کہا وہ پورا کر دکھایا؟ رانا ثناء اللہ کو کرپشن کے مقدمے میں گرفتار کیا جاتا تو الگ بات تھی، مگر انہیں تو منشیات رکھنے کے الزام میں اینٹی نارکوٹکس فورس نے گرفتار کیا۔ اے این ایف کے ہاتھوں منشیات رکھنے کے الزام میں کسی سیاسی لیڈر کی گرفتاری ویسے ہی مشکوک ہوجاتی ہے۔ گمان ہے کہ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری سے تحریک انصاف نئے مسائل کا شکار ہوجائے گی، اور اس کا فائدہ حکومت کے مخالفین کو ہوگا۔
ویسے بھی حکومت کو اپنے جذباتی فیصلوں سے آنے والے دنوں میں ناقابلِ تلافی تقصان ہونے کا امکان ہے۔ لیکن حکومت سے زیادہ نقصان اُن سیاسی جماعتوں اور اداروں کا ہوسکتا ہے جو پی ٹی آئی کی حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کو خوش فہمی ہے کہ قوم ان کی حکومت سے خوش نہیں تو مطمئن ضرور ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت ملک کی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جس کے اقدامات سے عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ یہ مبصرین مانتے ہیں کہ اصل خرابیاں سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو ہٹاکر حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ کی حیثیت سے لانے سے پیدا ہوئی ہیں۔ عام خیال جو بہت حد تک درست بھی نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ حفیظ شیخ نے کابینہ میں شامل ہوکر آئی ایم ایف کا ایجنڈا ہی پورا نہیں کیا بلکہ وزیراعظم عمران خان کے پروگرام کو بھی سبوتاژ کردیا، جس کے نتیجے میں حکومت تیزی سے عوام میں اپنی مقبولیت کھونے لگی ہے۔
ان حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کو جنگی بنیادوں پر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن کے نتیجے میں عام لوگوں کو ریلیف مل سکے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو حکومت کے خلاف لوگوں کو غصے کے اظہار سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ ایسی صورت میں حکومت کے لیے اپنا نصف دور بھی مکمل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

حصہ