عدل و انصاف

117

قدسیہ ملک
مسز اکبر کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ اپنے بچوں کی پرورش میں کسی قسم کی کمی کی وہ قائل نہ تھیں۔ بیٹے بیٹیاں اپنی مرضی اور خوشی سے رہنے کے قائل تھے۔ بڑے ہوئے تو سب بچے ماسوائے ماہین کے، بچپن کی پرورش کو نظرانداز کرنے لگے۔ مسز اکبر ہر وقت ان کی ہر ضرورت کو نہ صرف پورا کرتیں، بلکہ اکبر صاحب سے بھی یہی کہتیں کہ تم پر پہلا حق تمہارے بچوں کا ہے۔ بے جا آزادی کے نتیجے میں لڑکے ہر وقت موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال میں مصروف نظر آتے۔ اب وہ اپنی دوستوں سے یہ رونا روتیں کہ بچے بات نہیں سنتے۔ ان کی بیٹی ماہین ان کا ہر لحاظ سے خیال رکھتی۔ لیکن ماہین سے محبت کرنے کے بجائے اب سارے کام ماہین کی ذمہ داری تھے۔ گاڑی ہونے کے باوجود ماہین بسوں میں کالج جاتی تھی جبکہ باقی بھائی بہنیں اوبر،کریم کرواکر جاتے۔ بڑی والی نے تو وین لگوائی ہوئی تھی۔ لیکن ماہین یہ سب دیکھتے ہوئے بھی اپنے والدین کی فرماں برداری میں مشقت برداشت کرتی رہی، یہاں تک کہ اس کی عمر نکل گئی۔ مسز اکبر نے اچھے رشتوں کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ میرا دل مطمئن نہیں، یا استخارہ صحیح نہیں آیا۔ اب وہ اپنی بھابھیوں اور شادی شدہ بہنوں کے بچے پالتی ہے۔
………٭٭٭………
بیگم عامرکے دونوں بیٹے جب شادی کی عمر کو پہنچے تو دونوں کی ساتھ بیویاں لانے کا فیصلہ ہوا۔ بڑا بیٹا تھوڑا لاڈلا اور بدتمیز تھا، اس کے لیے انہوں نے خاندان کی لڑکی کا انتخاب کیا تاکہ خاندان کو باندھ کر رکھے۔ چھوٹا بیٹا چونکہ پہلے سے ہی فرماں بردار تھا، اس کے لیے سلجھے ہوئے گھرانے سے چھوٹی عمر کی لڑکی لائیں۔ بیٹے سے 10 سال چھوٹی اس لیے لائیں تاکہ رعب میں رکھا جاسکے۔ شادی کے بعد ایک سال ہی گزرا تھا کہ خاندان والی بہو ہر وقت الگ گھر لینے کی بات کرتی، کیونکہ یہاں سارے گھر کا کام کرنا تھا۔ بیگم عامر بڑی بہو کی الگ گھر کی دھمکیوں میں آگئیں اور اب وہ سارے کام چھوٹی بہو سے کرواتیں، بڑی بہو کمرے سے صرف کھانا کھانے نکلتی، یا جب اُسے اپنے میکے جانا ہوتا۔ سارے کام چھوٹی بہو کرتی، اپنی جیٹھانی کا بچہ بھی سنبھالتی،.نندوں کے آنے پر اُن کے لیے فرمائشی پکوان بھی بناتی۔ سگھڑاپا تھا، سمجھدار بھی تھی، اسی لیے سارے کام بخوشی کرتی تھی۔ لیکن اگر بڑی بہو کا ذکر آتا تو بیگم عامر بڑے زور شور سے خاندان بھر میں یہ اعلان کرتی نظر آتیں کہ بڑی بہو خاصی کمزور ہے، وہ جلدی تھک جاتی ہے، بیمار بھی رہتی ہے، جبکہ چھوٹی بہو صحت مند اور جلد کام کرنے کی عادی ہے، اس لیے اگر وہ دو وقت کا کھانا بنا لیتی ہے، گھر کے دیگر کام کرلیتی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم نے بھی جوانی میں بہت کام کیے ہیں، یہ عمر تو ہوتی ہی کام کرنے کے لیے ہے،کام کرنے سے کوئی گھستا نہیں ہے، وغیرہ وغیرہ۔
………٭٭٭………
پروفیسر شکیل یوں تو بہت اچھے اور ہر دل عزیز پروفیسر تھے۔ ہر طالب علم اُن کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ ان کے طلبہ بہت شاندار نمبر لے کر کامیاب ہوتے۔ ہر سال اُن کے طالب علموں کا تعلیمی ریکارڈ دوسرے اساتذہ کی نسبت سب سے اچھا ہوتا تھا۔ پورے شعبے میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے والے پروفیسر شکیل سے کچھ پرانے طلبہ ناراض رہتے تھے۔ پروفیسر صاحب کا یہ مؤقف تھا کہ یہ طلبہ چونکہ ہر سیمسٹر میں فیل ہوجاتے ہیں اسی لیے یہ ایسی فضول حرکتیں کرتے ہیں، جبکہ ان طلبہ کا کہنا تھا کہ یہ ہمیں بلاوجہ کم نمبر دیتے تھے، ہم نے احتجاج کیا تو ہمیں فیل کردیا، آپ پیپر نکال کر چیک کرلیں۔ لیکن پیپر کی ری چیکنگ سرکاری یونیورسٹی میں ممکن نہ تھی۔
………٭٭٭………
عظیم چینی فلسفی ’’کنفیوشس‘‘سے کسی نے پوچھا: ’’اگر ایک قوم کے پاس تین چیزیں ہوں انصاف، معیشت اور دفاع… اور بہ وجہ مجبوری کسی چیز کو ترک کرنا مقصود ہو تو کس چیز کو ترک کیا جائے؟‘‘ کنفیوشس نے جواب دیا:’’دفاع کو ترک کردو‘‘۔ سوال کرنے والے نے پھر پوچھا ’’اگر باقی ماندہ دو چیزوں انصاف اور معیشت میں سے ایک کو ترک کرنا لازمی ہو تو کیا کیا جائے؟‘‘ کنفیوشس نے جواب دیا: ’’معیشت کو چھوڑدو‘‘۔ اس پر سوال کرنے والے نے حیرت سے کہا:’’معیشت اور دفاع کو ترک کیا تو قوم بھوکوں مر جائے گی اور دشمن حملہ کردیں گے؟‘‘ تب کنفیوشس نے جواب دیا:’’نہیں! ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ ایسا ہوگا کہ انصاف کی وجہ سے اُس قوم کو اپنی حکومت پر اعتماد ہوگا اور لوگ معیشت اور دفاع کا حل اِس طرح کریں گے کہ پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا راستہ روک لیں گے۔‘‘
عائلی زندگی پورے معاشرے کی بنیاد ہے۔ وہ گھرانہ جنت کا نمونہ ہوتا ہے جس میں میاں بیوی، والدین اور اولاد ایک دوسرے کے باہمی حقوق عدل و انصاف سے اداکرتے ہیں۔ ازدواجی زندگی میں عدل کی سب سے زیادہ ضرورت اُس شخص کو ہوتی ہے جس کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں، کیونکہ اگر وہ ایک بیوی اور اس کی اولاد کی طرف زیادہ دھیان دے گا، ان کی زیادہ نگہداشت کرے گا تو باقی عدل و انصاف سے محرومی کا شکار ہوں گے۔
عدل و انصاف ہی وہ پیمانہ ہے جس کی بدولت انسانیت زندہ ہے۔ اگر معاشرہ عدل و انصاف سے عاری ہو تو وہ صالح معاشرہ نہیں ہوسکتا، بلکہ ظلم و جبر اور وحشت و درندگی کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ عدل و انصاف کے لغوی معنیٰ دو ٹکڑے کرنا، کسی چیز کا نصف، فیصلہ کرنا،حق دینا ہے۔کسی چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھنا، حق دار کو اس کا پورا حق دینا اور انفرادی و اجتماعی معاملات میں اعتدال کو اپناکر افراط و تفریط سے بچنا ہے۔ عدل کی ضد ’’ظلم و زیادتی‘‘ ہے۔
قرآن کریم نے جہاں ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت دی ہے وہاں ایک شرط بھی لگائی ہے کہ جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو، لیکن اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی نکاح کرو۔
حدیث شریف میں ہے:
’’اگر کسی نے اپنی بیوی کو معلق کردیا، یعنی اس کے حقوق ادا کرنے بند کردیے تو قیامت کے دن اس کے جسم کا ایک حصہ مفلوج ہوگا۔‘‘
اسلامی معاشرے میں عدل وانصاف کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو، اللہ تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اللہ سنتا (اور) دیکھتا ہے۔‘‘ (النساء 58)
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
’’اور اگر تم ان (فریقین) کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ (المائدہ 42)
سورہ المائدہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’کسی قوم (یا فرد) کی عداوت تمہیں بے انصافی پر نہ ابھارے، تم عدل کرتے رہو (کیونکہ) وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔‘‘
ناانصافی کی سزا صرف آخرت میں ہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی مل کر رہتی ہے۔ بقول شاعر

عدل و انصاف قیامت پہ ہی موقوف نہیں
زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے

عدل وانصاف کا صرف یہ مطلب نہیں کہ سب کو برابر، برابر دیا جائے، بلکہ ایک ماں کی طرح ہر بچے کو اُس کی ضرورت کے مطابق دیا جائے، یہ ہے عدل و انصاف۔ سچ، ہمت، دیانت داری، دولتِ ایمانی، جذبۂ رحم و ہمدردی، حقائق شناسی، حسنِِ تدبیر، درست آئین اور و قوانینِ ریاست سے آگاہی… یہ ہیں عدل و انصاف کے بنیادی تقاضے، جنہیں پورا کیے بغیر ممکن ہی نہیں کسی معاشرے میں نظامِ عدل قائم کیا جاسکے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا سب سے نمایاں پہلو معاشرے میں عدل و انصاف کا متوازن نظام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک کا بنیادی مقصد ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ تھا۔ مکی زندگی کی کٹھن اور روح فرسا داستان ہو یا میثاقِ مدینہ کا فاتحانہ اجراء… نبی ِ آخر الزماں کی حیاتِ پاک کا سب سے بیّن سبق تقاضا ہائے عدل و انصاف کی بجا آوری ہے۔ ایک بار خاندانِ بنی مخزوم کی فاطمہ نامی خاتون چوری کے الزام میں پکڑی گئی۔ اس کا قبیلہ چاہتا تھا کہ اسے ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ ملے۔ انہوں نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سفارشی بناکر بھیجا کہ سزا میں کچھ نرمی فرمائی جائے۔ آپؐ کا چہرۂ مبارک سرخ ہوگیا اور فرمایا: ’’پہلی قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ جب کوئی بااثر آدمی جرم کا ارتکاب کرتا تو اس کی خاطر قانون کی تاویلیں کرکے اسے بچالیا جاتا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم اس کی جگہ اگر میری بیٹی فاطمہؓ چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹتا۔‘‘
عدل و انصاف صرف حکمرانِ وقت کی ضرورت نہیں، بلکہ اس معاشرے کی ہر اکائی یعنی ہر خاندان کی ضرورت ہے۔ اللہ ہمیں اپنے رشتے داروں، قرابت داروں، دوست احباب اور والدین کے ساتھ عدل وانصاف کرنے والا بنادے، آمین

سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

حصہ