روحانی برکت

66

صبیحہ اقبال
۔’’خالہ! آپ کے ہاں تو پانی ہوگا۔ سچ، گھر میں پانی کی بوند نہیں ہے، دو بوتل پانی دے دیں۔‘‘ یہ راحیلہ تھی، خالہ انجم کی پڑوسن، جس کا اکثر خالہ انجم سے آمنا سامنا پانی کی کمیابی پر ہی ہوتا تھا۔
’’ہاں! لائو…‘‘ خالہ نے اس کے ہاتھ سے پانی کی بوتلیں لے کر بھر دیں، اور وہ شکر گزاری کرتی ہوئی بوتلیں لے کر چلی گئی۔
’’خالہ… خالہ! ایک کین پانی دے دیں، بچوں کو منہ ہاتھ دھلا کر تیار کرنا ہے، ابھی اسکول کی وین آجائے گی اور گھر میں قطرہ پانی نہیں ہے… خالہ پلیز۔‘‘ اور خالہ انجم نے دوسری پڑوسن نوشابہ کا کین بھی بھر کر اس کے حوالے کیا، اور وہ خوشی خوشی گھر لوٹ گئی۔
خالہ انجم کے ہاں نہ تو زیرِ زمین پانی کا ٹینک تھا اور نہ ہی کوئی بہت بڑی پانی ٹنکی، جس کو وہ ہیوی موٹر کے ذریعے بھر کر رکھتی ہوں، نہیں… بلکہ ان کی سوچ تھی کہ اس طرح پانی ذخیرہ کرنے والے دوسروں کے حق پر ہاتھ صاف کرتے ہیں اور اپنے آپ پانی کے استعمال میں فضول خرچی کرتے ہیں۔ خالہ انجم کی فیملی بھی کوئی ایسی مختصر نہ تھی، بلکہ چھ افراد پر مشتمل گھرانہ تھا۔ اس لحاظ سے پانی کی ضرورت بھی معقول تھی۔ لیکن جب جب محلے کی لائنوں میں پانی نہ آتا، محلے والوں کو خالہ انجم کے ہاں سے تھوڑا بہت پانی ضرور مل جاتا تھا۔ لوگ خیال کرتے کہ ان کے ہاتھوں میں کوئی روحانی برکت یا جادوئی اثر ہے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ خالہ انجم قطرہ قطرہ دریا اور بوند بوند سمندر کے مقولے پر یقین رکھتی تھیں، یہی وجہ تھی کہ وہ پانی کا استعمال بہت محتاط رہ کر کرتیں۔ کھانا پکانے اور سرو کرنے میں بہت کم برتن استعمال کرتیں، کہتی تھیں ’’جتنے برتن استعمال کرو انہیں دھونے کے لیے اتنا ہی وقت اور پانی درکار ہوگا جو سراسر اسراف ہوگا، اور اسراف کرنے والوں کو اللہ ناپسند کرتا ہے۔‘‘ اور جب وہ یہ کہتیں تو انہیں جھرجھری سی آجاتی، گویا اللہ کی ناراضی کا خوف دامن گیر ہوتا۔
خالہ انجم بتاتیں کہ ان کے پھوپھا کا انتقال ہوا تو پانی کے ٹینکرز والوں نے ہڑتال کر رکھی تھی اور دو دن سے لائنوں میں بھی پانی کی سپلائی بند تھی۔ زیر زمین ٹینک میں گو کہ تھوڑا بہت پانی تھا لیکن ضرورت اس سے کہیں زیادہ کی محسوس ہورہی تھی، اور گھر والے پریشان کہ گھر میں تعزیت کرنے والوں کا آنا جانا لگا ہوا ہے، ایسے میں قدرتی طور پر خرچ بڑھ جاتا ہے تو بعض کام وقتِ دیگر پر اٹھا رکھے جاتے ہیں۔ یوں باورچی خانے میں جھوٹے برتنوں کا انبار لگنا شروع ہوا جو مکھیوں کا باعث بننے لگا۔ گھر کی فضا مکدّر ہونے لگی تو خالہ انجم نے اللہ کا نام لے کر تھوڑے تھوڑے پانی سے برتن دھونے شروع کردیے۔ برتن دھلتے گئے اور خالہ انجم سوچتی گئیں کہ اگر ہم پانی کو ہمیشہ احتیاط سے استعمال کریں تو حرج ہی کیا ہے! احتیاط اور اعتدال کے ساتھ خرچ اللہ کی فرماں برداری اور ثواب کا موجب بنے گا۔ اور اس ثواب پر خالہ انجم کو جنت اور جہنم کا تصور بھی آتا چلا گیا جو موت کا گھر ہونے کے باعث دیرپا ثابت ہوا۔ برتن دھل چکے تھے لیکن ضرورت کے لیے پانی پھر بھی میسر تھا۔ خالہ کے لیے طمانیت کے یہ لمحے بڑے کارآمد ثابت ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی عملی زندگی میں کبھی پانی کا بے جا استعمال نہ کیا۔ گلاس میں پانی ہمیشہ اتنا نکالتیں جتنا استعمال کرنا ہوتا۔ کپڑے دھوتیں تو نتھارے ہوئے پانی سے غسل خانے کی صفائی کرلیتیں۔ وضو کرتیں تو بہت محتاط انداز میں پانی کے نل کھولتیں کہ ایک تو پانی کے زیاںکا حساب، دوسرا وضو کے فسخ ہونے کا ڈر دامنِ گیر رہتا۔ یہی وجہ تھی کہ خالہ انجم کے گھر نہ کسی نے ٹپکتی ٹونٹیاں دیکھیں، نہ بہتے نل نظر آئے، بلکہ دوسروں کی ضرورت کو پورا کرنے کا اجر پاتے دیکھا۔
پانی کی تنگی کے اوقات میں جب وہ لوگوں کو بوتل بوتل پانی کے لیے اِدھر اُدھر بھاگتے دوڑتے دیکھتیں تو لوگوں کے طریقۂ استعمال پر متعجب ہوتیں کہ ذرا سی احتیاط انہیں اس پریشانی سے بچا سکتی ہے، لیکن ’’احساسِ زیاں جاتا رہتا…‘‘
یہ حقیقت ہے کہ پانی انسانی زندگی کی اہم ترین ضرورت ہے، اتنی اہم ضرورت کہ ربِ کائنات نے اسے آسمان سے بھی برسایا اور زمین سے بھی نکالا… بارش، چشمے، دریا، نہریں، گلیشیئر، سمندر… سب ہی اللہ کی طرف سے جاری و ساری ہیں اور انسانی زندگی میں اپنی اپنی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی تدفین تک پانی کی ضرورت و اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے، جب ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی اہمیت کے مدنظر اپنی کتب میں بار بار مختلف انداز سے اس کا تذکرہ کیا ہے اور سوال رکھا ہے کہ اگر وہ پانی کے سوتوں کو خشک کردے تو کون ہے جو واپس لا سکے گا؟ گویا پانی کی سپلائی اللہ کا وہ انتظام ہے جو کسی دوسری ہستی کی دسترس میں نہیں۔
مثال مشہور ہے کہ ’’بوند بوند سمندر اور قطرہ قطرہ دریا‘‘۔ جو لوگ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں وہ اپنے اثاثے اپنے ہاتھوں ضائع نہیں کرتے۔ ہم محسوس کرسکتے ہیں کہ نہ صرف بحیثیت فرد بلکہ بحیثیت قوم ہمارے ہاں اس طرف توجہ نہیں دی جاتی کہ یہ وہ قدرتی وسائل ہیں جو ربِ کائنات نے انسانی ضروریات کے لحاظ سے ایک خاص اندازے سے اتارے ہیں، اگر ہم آج انہیں ضائع کردیں گے تو کل اپنی ضرورت کے وقت پریشان ہوں گے۔ جب رحمتِ باراں برستی ہے تو وہ عموماً ہمارے لیے زحمت بن جاتی ہے، وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہماری حکومتوں نے بارش کے پانی کو اسٹور کرکے بعد میں بوقتِ ضرورت استعمال میں لانے کے لیے ڈیموں کی تعمیر کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، جس کے سبب بہت سا قیمتی پانی نہ صرف ضائع ہوتا ہے بلکہ ناقص حکمتِ عملی کے سبب پریشانی کا باعث بن رہا ہوتا ہے۔
دوسری طرف ہمارے گھروں میں بے شعوری کا یہ عالم ہے کہ جب اپنی ضرورت کے لیے نل کھولتے ہیں تو پھر نل بند کرنا بھول جاتے ہیں، یا اپنی توہین گردانتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ دانت برش کرتے وقت بھی نل کھلا چھوڑا ہوا ہوتا ہے۔ منہ ہاتھ پر صابن مَل رہے ہوتے ہیں اور نل فضول میں کھلا چھوڑ دیتے ہیں جس سے پانی ضائع ہوتا رہتا ہے، توجہ دلائو تو برا مانتے ہیں اور کنجوس گردانتے ہیں۔ گھر اور گاڑیوں کی دھلائی میں خوب پانی بہاتے ہیں، اور جب پانی ختم ہوجاتا ہے تو پھر پانی کے حصول کے جھگڑے، لڑائیاں اور ناانصافیاں… حد یہ کہ قتل تک ہوجاتے ہیں۔ خالہ انجم جب جب لوگوںکو پانی ضائع کرتے دیکھتی ہیں تو کڑھتی رہتی ہیں۔ اس وقت انہیں بچوںکو گود میں لے کر پانی کے مٹکے سر پر اٹھائے پانی لے کر آتی وہ خواتین ضرور یاد آتی ہیں جو اونچے نیچے راستوں پر چل کر ہلکان ہوتی ہیں تب کہیں انہیں تھوڑا سا پانی میسر آتا ہے، تب خالہ انجم فوراً سجدۂ شکر بجا لاتی ہیں کہ اللہ نے انہیں اس طرح کی مشقت سے دور رکھا ہے۔ اور شاید یہی شکر گزاری ان کے پانی کو وہ روحانی برکت عطا کرتی ہے جس کا تذکرہ محلے کی خواتین اکثر کیا کرتی ہیں۔ یقینا اللہ شکر کرنے والوں کو مزید عطا کرتا ہے۔

حصہ