ادریس صاحب جاچکے ہیں

94

وسعت اللہ خان
اگر کسی 75 سالہ شخص کے 57 برس صحافت میں گزرے ہوں تو اِس کے سوا کیا کہا جائے کہ وہ پیدا ہی صحافت کے لیے ہوا تھا۔ 1962ء میں ایوب خان سے 2019ء میں عمران خان تک قسم ہا قسم کے گیارہ ادوار میں اپنی صحافت جینے والے ادریس بختیار۔
چونکہ وہ چھ عشرے پہلے اس پروفیشن میں آئے، لہٰذا صحافت کو صحافت سمجھتے رہنے کی ضد کے ہی تادمِ مرگ اسیر رہے، اور بمشکل ایک گھر بنا پائے۔ اب سے پندرہ بیس برس پہلے صحافت میں آئے ہوتے تو شاید ایک آدھ فارم ہاؤس، بلٹ پروف گاڑی اور محافظوں کے ہمراہ ان کیمرہ بریفنگز کے عادی ہوچکے ہوتے۔
ادریس صاحب نے خبر کے کوچے میں اٹھارہ برس کی عمر میں حیدرآباد سے نکلنے والے انگریزی اخبار انڈس ٹائمز کے ذریعے اپنی طویل اننگ کا آغاز کیا۔ انھوں نے چار برس خبر رساں ایجنسی پی پی آئی، ایک برس عرب نیوز جدہ، چار برس روزنامہ جسارت، بتیس برس ڈان گروپ (اسٹار و ہیرلڈ)، پندرہ برس بی بی سی، سات برس جیو نیوز (سربراہ ایڈیٹوریل کمیٹی) میں گزار دیے۔
تقریباً تین ماہ قبل جیو نے انھیں اچانک سبک دوش کردیا اور کل 29 مئی کو ادریس صاحب نے زندگی سے استعفیٰ دے دیا۔
اس بیچ ادریس صاحب لگ بھگ 18 برس دی ٹیلی گراف کلکتہ کے پاکستان میں نامہ نگار بھی رہے، اور روزنامہ جنگ میں کالم نگاری بھی کی۔ تین برس پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے صدر بھی رہے۔
ادریس صاحب سے پہلے مرحوم اقبال جعفری اور پھر ظفر عباس (موجودہ ایڈیٹر روزنامہ ڈان) کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار تھے۔ جب 1992ء میں ظفر عباس بی بی سی اسلام آباد بیورو منتقل ہوگئے تو ادریس صاحب نے اُن کی جگہ سنبھالی۔
سن بانوے سے پچانوے تک کراچی آپریشن کے سبب ہر دن روزِ قیامت تھا۔ کسی دن ڈیڑھ سو، کبھی سو، کبھی پچاس بوری بند یا کھلی لاشیں شہر کے کونوں کھدروں سے ملتی تھیں۔ جس روز لاشوں کی تعداد صرف آٹھ سے دس ہوتی وہ دن غیر معمولی طور پر پُرامن سمجھا جاتا۔ ان حالات میں کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر حقائق کی صداقت پر سمجھوتا نہ کرتے ہوئے رپورٹنگ کرنا، اور پھر زندہ بھی رہنا اور کسی بھی فریق کی جانب سے متعصب یا جانب دار رپورٹنگ کا طعنہ بھی نہ ملنا… ایسے تھے ادریس صاحب۔
ادریس صاحب نظریاتی اعتبار سے جماعتِ اسلامی کے قریب تھے۔ مگر ان کے ساتھیوں اور دوستوں میں بائیں بازو والے بھی بہت تھے۔ جب وہ لکھتے یا رپورٹنگ کرتے تو ان کے ذاتی نظریے کا چھینٹا بھی اس رپورٹ میں ڈھونڈنا محال تھا۔ آنکھ بند کرکے کہا جا سکتا ہے کہ ادریس صاحب اس صحافتی قبیلے کی آخری گنی چنی صف میں تھے جنھوں نے خبری حقائق کو اپنی پسند ناپسند اور خواہش سے کبھی آلودہ نہیں ہونے دیا۔
میں نے ادریس صاحب کو پہلی بار اکتالیس برس قبل دیکھا۔ گھنے بالوں اور سیاہ مونچھوں والا ویسپا سوار بذلہ سنج، مسکراتا ہوا چین اسموکر صحافی جو کچھ عرصے کراچی یونیورسٹی کے علامہ اقبال ہاسٹل میں بھی قیام پذیر رہا۔ اس زمانے میں ادریس صاحب روزنامہ جسارت کے چیف رپورٹر تھے۔
جب بھی میرے جیسے ہوسٹلے لمڈے جو نئے نئے صحافی ہونے کے مغالطے میں ارسطوئی بگھارنے کی کوشش کرتے، تو ادریس صاحب جزبز ہونے کے بجائے مسکراتے رہتے اور پوری بقراطی سننے کے بعد کہتے ’’آپ جیسوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ آپ انگور بننے سے پہلے منقیٰ بننے کے چکر میں ہیں۔‘‘
ادریس صاحب نے کبھی اپنے تجربات نئے صحافیوں کو منتقل کرنے اور سکھانے میں بخل سے کام نہیں لیا۔ جب میں 1998ء میں بی بی سی اردو کے گشتی نامہ نگار کے طور پر پاکستان میں کام کرنے لگا تو کمپیوٹر ٹائپنگ اور کمپیوٹر ایڈیٹنگ کے ٹھنٹھنے سے بھی واقف نہیں تھا۔ یہ ادریس صاحب تھے جنہوں نے کہا: پریشان مت ہو، چند دنوں میں سب سیکھ جاؤ گے۔ اور پھر انھوں نے چند دنوں میں مجھے اردو ٹائپنگ اور ایڈیٹنگ کا ماہر بنا دیا۔
یہی نہیں بلکہ انٹرنیٹ کا پروفیشنل استعمال کیسے ہوتا ہے اور اس کے ذریعے خبر اور صوتی رپورٹ کیسے بھیجی جاتی ہے، یہ سب ادریس صاحب نے ہی انگلی پکڑ کے سکھایا، اور میرے جیسوں کی تعداد انگلیوں پر نہیں درجنوں میں ہے۔
ادریس صاحب کے آخری چند برس بیماریوں سے لڑتے گزرے، مگر وہ ان بیماریوں کو دوا سے زیادہ مصروفیت کے ٹانک کی مدد سے جھیلتے رہے۔ پر کب تک؟
فی الحال میں بالکل بلینک ہوں۔ ادریس صاحب کی رحلت میرے لیے اس وقت ایک خبر جیسی ہے۔ شاید یقین آنے میں کچھ دن لگیں کہ یہ محض روزمرہ خبر نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی سچائی ہے جس میں صحافت اوڑھنے، بچھانے اور سوچنے والوں کی تعداد تبرک ہو کر رہ گئی ہے۔

یہی سب کچھ تھا جس دم وہ یہاں تھا
چلے جانے پہ اس کے جانے کیا نہیں

حصہ