کراچی کی صدا

54

زاہد عباس
’’سنا تم نے، آل پارٹیز کانفرنس میں شریک اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر اتفاق کرلیا ہے۔‘‘
’’ایسی فضول باتیں تم ہی سنو۔‘‘
’’کیا مطلب! یہ خبر تمہارے لیے اہم نہیں؟‘‘
’’نہیں، مجھے ایسی کسی خبر سے کوئی دلچسپی نہیں جس میں فقط اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل ہو۔‘‘
’’ذاتی خواہشات! ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، روپے کے مقابلے میں آسمان کو چھوتی ڈالر کی اڑان، عوام پر لگائے جانے والے ناجائز ٹیکس، اور لاقانونیت پر اپوزیشن کی جانب سے اگر تبدیلی کا جھانسہ دے کر ملک کو آئی ایم ایف کے دیے ہوئے ایجنڈے پر چلانے والوں کے خلاف کوئی تحریک چلائی جارہی ہے تو تم اسے ذاتی خواہشات کی تکمیل کہہ رہے ہو!‘‘
’’تو پھر اور کیا کہوں، تم ہی بتادو۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ حکمران ہوں یا اپوزیشن میں بیٹھنے والے سیاست دان… سب اپنی اپنی سیٹیں پکی کرتے ہیں، کسی کو بھی عوام سے کوئی ہمدردی نہیں۔ حکومت کے حریف اور حلیف دونوں ہی وقت کی مناسبت سے اپنا اپنا سیاسی وزن بڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ابھی بجٹ پیش ہوا ہے، بجٹ کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے حکومت میں شامل جماعتوں نے اپنا بھاؤ بڑھانا شروع کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اپنے حلیفوں کو مزید وزارتیں دینے کے وعدے وعید کیے جارہے ہیں۔ ایوانوں میں پہنچ کر اپنی ذاتی حیثیت بنائی جاتی ہے، کسی کو بھی عوام کی کوئی فکر نہیں، ہر شخص اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہے۔‘‘
’’تمہاری باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تم سیاسی جماعتوں سے کچھ زیادہ ہی خائف ہو۔‘‘
’’بات سیاست دانوں یا سیاسی جماعتوں کی مخالفت کی نہیں بلکہ بات میرے شہر کراچی کی ہے، جسے تمام سیاسی جماعتوں نے نظرانداز کیا ہوا ہے۔ ملک میں کیا سیاسی تبدیلی آرہی ہے، کس کی حکومت ہے، کون وزیر بن رہا ہے مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔ اگر مجھے کسی چیز سے غرض ہے تو وہ میرا شہر ہے، جس کی محرومیوں میں ہر آنے والے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا آج اندھیروں میں ڈوبتا جارہا ہے۔ جس کی اپنی ایک الگ پہچان ہوا کرتی تھی اب وہ گمنام ہوتا جارہا ہے۔ والد صاحب بتایا کرتے تھے کہ 1960ء میں کراچی ترقی کا رول ماڈل تھا، یہی وجہ تھی کہ جنوبی کوریا نے اپنے ملک کا دوسرا پانچ سالہ منصوبہ 1960ء تا 1965ء کراچی سے نقل کیا۔ کراچی میں بلدیاتی نظام کا آغاز1933ء میں ہوا، اُس زمانے میں شہر کا ایک میئر، ایک نائب میئر، جبکہ 57کونسلر ہوتے تھے۔ آبادی میں اضافے کے باعث 1976ء میں بلدیہ کراچی کو ترقی دے کر بلدیہ عظمیٰ کراچی کا درجہ تو دے دیا گیا، لیکن 5 فیصد سالانہ کے حساب سے نقلِ مکانی کے نتیجے میں بڑھتی آبادی روکنے کے لیے کسی قسم کا کوئی اقدام نہ کیا گیا، یوں دیہات سے شہروں کی جانب بڑی تعداد میں لوگوں کی منتقلی کی وجہ سے کراچی کی آبادی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ والد صاحب کی ساری باتیں سچ ہیں۔ پرانی باتوں کو چھوڑو، آج کی صورت حال پر ہی نگاہ ڈال لو، ایک محتاط اندازے کے مطابق اب بھی ہر ماہ 45ہزار افراد کراچی پہنچتے ہیں۔ تیزی سے آبادی میں ہوتے اضافے اور وسائل میں ’’تیز رفتار‘‘کمی نے شہر کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ اس بگڑتی ہوئی صورت حال میں کسی جماعت یا کسی حکومت نے کراچی کے عوام کی بنیادی سہولیات کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اگر پورے صوبہ سندھ کے اضلاع پر نظر ڈالیں تو سندھ کے ہر ضلع میں ایک سول اسپتال ہے، جبکہ کراچی کے 6 اضلاع میں فقط ایک سول اسپتال ہے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ شہر کے ایک ’’سرے‘‘ سے دوسرے ’’سرے‘‘ تک دوسرا کوئی سول اسپتال نہیں۔ صوبہ سندھ خصوصاً کراچی سے منتخب ہونے والے نمائندوں کی عوام کے لیے صحت کی سہولیات کے منصوبوں میں دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی میں جیلوں کی تعداد تین ہے، جبکہ سول اسپتال صرف ایک ہی ہے، یعنی ڈھائی کروڑ کی آبادی کے لیے صرف ایک سول اسپتال۔
اس بدترین صورتِ حال میں کراچی کے شہریوں کی خدمت اور شہر کی تعمیر کی دعوے دار صوبائی حکومت اور اختیارات کا رونا رونے والی مقامی حکومت کے درمیان بیان بازی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے کراچی میں حقوق کے نام پر سیاست کرنے والوں اور روٹی، کپڑا اور مکان کے سبز باغ دکھانے والوں نے ڈھائی کروڑ آبادی والے شہر کے لیے کبھی بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کراچی شہر لاتعداد مسائل کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ یہاں پر لاقانونیت عروج پر ہے۔ قبضہ مافیا، لینڈ مافیا، چائنا کٹنگ کے علاوہ پانی، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ جیسے مسائل عوام کو گھیرے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ غیر قانونی طور پر پیسہ کمانے میں مصروف ہے۔ امن وامان کی صورت حال خراب ہے۔ ٹریفک پولیس ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے غیر قانونی چارجڈ پارکنگ اور ناجائز چالان کرنے میں مصروف ہے۔ دن رات سڑکوں پر ٹریفک جام رہتا ہے، پینے کا پانی گھروں میں نہیں آتا، جبکہ پانی سے بھرے بارہ بارہ وہیلر واٹر ٹینکر ہر وقت سڑکوں پر دوڑتے پھر رہے ہیں۔ اگر ذرا سی بارش ہوجائے تو گلی محلے تالاب بن جاتے ہیں، گٹروں کا پانی گھروں اور مساجد میں بھر جاتا ہے۔ صاحبِ اختیار، عوام کے سامنے مظلوم بننے کے لیے تمام اختیارات رکھنے کے باوجود اختیارات نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔ ایک طرف اگر فنڈ نہ ہونے کا بہانہ بنایا جاتا ہے تو دوسری طرف نالوں پر کے ایم سی کے راشی، بدعنوان افسران اور عملہ پختہ مارکیٹیں اور تجاوزات تعمیر کروا رہے ہیں۔ تفریح کے لیے پارکوں اور کھیلوں کے میدانوں پر قبضہ گروپوں نے قبضہ کررکھا ہے جس کی وجہ سے عوام سے تفریح کی سہولیات بھی چھین لی گئی ہیں۔ شہر کو اس بدترین صورت حال سے نکالنے کے بجائے ہر شخص اپنی سیاست چمکانے میں لگا ہوا ہے۔ اگر سڑکوں کی حالت دیکھو تو تین تین فٹ کے گڑھے پڑے ہوئے ہیں، کچرے کے پہاڑ ہیں جو کئی منزلہ دکھائی دیتے ہیں، جس کی وجہ سے شہری ہیپا ٹائٹس، چکن گونیا، ملیریا، سانس کی بیماری کے علاوہ دیگر خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں۔‘‘
’’تم نے جتنی بھی باتیں کیں وہ اپنی جگہ درست ہوں گی، لیکن تمام سیاسی جماعتیں ایک جیسی نہیں، اور نہ ہی سارے سیاست دان کرپشن میں ملوث ہوتے ہیں۔ تم یہ کیسے بھول سکتے ہو کہ اسی شہر کی ایک سیاسی جماعت نے کراچی کا نقشہ بدل کر رکھ دیا تھا۔ میئر عبدالستار افغانی اور سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے اپنے اپنے ادوار میں ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت، پارک، پینے کے صاف پانی سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا۔ میں مانتا ہوں کہ صوبائی اور وفاقی بجٹ سے کراچی کو اس کا جائز حصہ نہیں ملتا، جس کی وجہ سے کراچی کی حق تلفی ہورہی ہے، لیکن اس کے پیچھے وہ لوگ یا وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے لسانیات کے نام پر سیاست کی۔ ان جماعتوں نے ہی سندھ کے عوام میں تفریق پیدا کی۔ اس لسانی چال کی وجہ سے پورے سندھ کے عوام شہری اور دیہی کارڈ کے طور پر استعمال ہورہے ہیں۔ اندرون سندھ کے عوام کو کراچی، اور کراچی میں بسنے والوں کو دیہی سندھ میں رہنے والوں کے خلاف اکسا کر دوریاں بڑھائی گئیں۔ پہلے حقوق دلوانے کے نام پر کوئی کام نہیں کیا، اب مظلوم بننے کے چکر میں کچرا تک نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ لہٰذا ساری سیاسی جماعتوں کے بارے میں تمہاری رائے غلط ہے، اس سلسلے میں تم اپنی سوچ تبدیل کرو۔‘‘
’’بالکل، جماعت اسلامی نے جب بھی اسے موقع ملا، ضرور شہر کی ترقی کے لیے کام کیے ہیں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ میری کسی سیاسی جماعت سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، اور نہ ہی میں کسی کی مخالفت کررہا ہوں۔ میئر کراچی عبدالستار افغانی(مرحوم) اور نعمت اللہ خان صاحب نے کراچی کے عوام کی سہولت کے لیے جو کچھ بھی کام کیے تھے وہ عدم توجہ کے باعث اپنی مدت پوری کرچکے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بوسیدہ ہوچکے ہیں۔ ظاہر ہے پانی کے منصوبوں، سڑکوں، صحت اور تعلیمی اداروں کے تیار منصوبوں پر ضرورت کے مطابق فنڈ نہیں لگایا جائے گا تو ایک وقت آئے گا کہ وہ ساری سہولیات تباہ ہوجائیں گی۔ یہی کچھ اس شہر کے تمام اداروں کے ساتھ ہوا۔ اس شہر کا دامن بڑا وسیع ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اس شہر نے ہمیں بہت کچھ دیا… نام، عزت، شہرت، دولت سبھی کچھ ہمیں یہاں سے ملا، اور ہم نے اسے کیا دیا؟ آج کراچی لاوارث ہے، اس کا کوئی والی وارث نہیں۔ کراچی ہم سے اپنا کھویا ہوا مقام مانگتا ہے، اپنی عزت مانگتا ہے، وہ روشنیاں مانگتا ہے جو کبھی یہاں کی پہچان ہوا کرتی تھیں۔ آج زخموں سے چور چور کراچی ہم سے اپنے ساتھ ہوئی ناانصافی اور حق تلفی کا حساب مانگتا ہے، اپنے دکھوں کا مداوا چاہتا ہے، کھویا ہوا نام اور عزت مانگتا ہے… وہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس کی مٹی سے وفاداری نبھاتے ہوئے اس کی اصل پہچان اسے لوٹا دیں۔ کوئی ہے جو کراچی کی فریاد سنے!‘‘

میں جن کے واسطے روشن چراغ تھا کل تک
اُنہی نے راستے تاریک کر دیے میرے

حصہ