کراچی کو عزت دو

119

اعظم طارق کوہستانی
مجھے یاد ہے ہمارے گھر کی طرف منزل پمپ سے لے کر اسپتال چورنگی تک سفیدے کے درختوں کی ایک لمبی قطار تھی۔ اُس وقت تک کراچی میں رکشوں کا یہ سمندر بھی ابھی نہیں اُمڈا تھا، اس لیے پیدل چلنے کا رجحان موجود تھا اور لوگ ان درختوں کے سائے میں اپنا سفر طے کیا کرتے تھے۔ اور پھر ہوا یوں کہ ترقی کے نام پر آہستہ آہستہ ان گنے چنے درختوں میں اضافے کے بجائے شدید کمی ہوتی چلی گئی، کہیں سڑک کی تعمیر نے پورے شہر کے درختوں کو آہستہ آہستہ ختم کردیا اور کہیں بڑے بڑے پلازے اور سوسائٹیوں کے نام پر درختوں کا قتل عام کیا گیا۔ میدانوں میں بھی جابجا درخت ہمیں نظر آتے تھے۔ ناظم آباد میں کٹی پہاڑی کے قریب اشرفی گرائونڈ میں ہم کھیلا کرتے تھے۔ نانی کے گھر جانے کے بعد یہاں آنا لازم و ملزوم تھا۔ اب آپ آئیے یہاں… نظر ڈالیے تو میدان کا نام ونشان بھی آپ کو نہیں ملے گا۔ یہ کراچی میں صرف ایک گرائونڈ کا حال نہیں ہے جو آپ کو سنا رہا ہوں، اس شہر کے اپنوں نے سیکڑوں میدانوں اور پارکوں کو چائنا کٹنگ کرکرکے صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ اب کہاں کا میدان اور کہاں کا پارک…! جائیے بھائی صاحب… پان چبائیے۔ اب تو وہ بھی کہاں رہ گیا ہے! منہ بھر کر گٹکے اور ماوے نے پان کی جگہ کیا لے لی، گندی بو اور سڑاند نے جینا دوبھر کردیا ہے۔
اس شہر سے متعلق سنتے تھے کہ یہ ماں کی طرح ہے جو ہر ایک کو اپنی بانہوں میں سما لیتی ہے۔ لیکن اس ماں کا حلیہ باہر سے آنے والوں نے کیا بگاڑا ہوگا، اپنوں ہی نے ماں کو بیچ کھایا۔ جب آپ شہر کو کھانا شروع کردیں گے تو باہر سے آنے والے کب تک صرف آپ ہی کو لوٹتا اور کھسوٹتا دیکھیں گے، کچھ حصہ تو وہ بھی لیں گے۔ شہر کا حال یتیم جیسا ہوگیا ہے، جس کا دل چاہے جیسا سلوک کرے، کون پوچھنے والا ہے! لینڈ مافیا کا کردار دیکھیے تو یوں لگتا ہے جیسے بلڈرز، ججز اور وزیر بلدیات اپنی ملی بھگت سے اس شہر کو دیمک کی طرح چٹ کرتے جارہے ہیں۔ اس وقت اس شہر کے کئی بڑے مسائل ہیں، چند مسائل پر بات کرتے ہیں جو اس شہر کو بچانے کے لیے فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔
K-4کراچی کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے، جسے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مکمل کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ آر او پلانٹ کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن K-4 منصوبہ مکمل نہیں کیا جاتا۔
معروف صحافی محمد انور نے کے فور منصوبے پر اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ 2014ء میں نوازشریف کی حکومت نے کے فور منصوبے کی منظوری دی۔ 25 ارب روپے کی لاگت کے اس منصوبے کو جون 2018ء میں مکمل ہوجانا چاہیے تھا، مگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ تاخیر کا شکار ہوگیا۔ دنیا بھر میں اصول ہے کہ کنٹریکٹ کے مطابق منصوبہ مکمل نہ کیے جانے پر کنٹریکٹر فرم کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ مگر K-4 پراجیکٹ کی تکمیل کی مدت جون 2018ء آنے سے قبل ہی فروری میں کنٹریکٹر فرم فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو تکمیل کی مدت کے لیے مزید دس ماہ دے دیے گئے۔ کنٹریکٹر فرم نے اس مقصد کے لیے 17 فروری کو درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ K-4 پراجیکٹ معاہدے کے تحت اِس سال جون تک مکمل نہیں ہوسکے گا، لہٰذا منصوبے کی مدت میں اضافہ کیا جائے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پراجیکٹ کے سابق پی ڈی انجینئر سلیم صدیقی نے تکمیل کی مدت بڑھانے سے انکار کردیا تھا۔ اسی دوران پی ڈی کو عہدے سے ہٹادیا گیا اور اُن کی جگہ سابق ایم ڈی سید ہاشم رضا کی سفارش پر سندھ گورنمنٹ کے گریڈ 18 کے نان انجینئر افسر اسد ضامن کو پی ڈی مقرر کیا گیا۔ نئے پی ڈی نے ایف ڈبلیو او کی جانب سے کام کی تکمیل کی مدت میں اضافے کی درخواست کو دو روز کے اندر ہی منظور کرکے مدت میں نو ماہ کا اضافہ کردیا۔ اس طرح مذکورہ منصوبے کی تکمیل کی حتمی مدت مارچ 2019ء کردی گئی۔
لیکن یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آرہا ہے اور اب اس منصوبے کی مدت میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے، اور بجٹ دستاویز میں جون 2021ء میں اس کی تکمیل کا اشارہ دیا گیا ہے۔ منصوبے کی تکمیل کی مدت میں اضافے کے باعث اس کی لاگت میں بھی اربوں روپے کا اضافہ ہونا یقینی ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ جس طرح کا رویہ وفاق اور سندھ حکومت کا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ منصوبہ آئندہ 5 سال بعد بھی مکمل نہیں ہوسکے گا۔
شہر کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہیں۔ وفاق، صوبہ اور شہر تینوں جماعتوں کے پاس ہونے کے باوجود صورت حال یہ ہے کہ وفاقی بجٹ میں صرف 45.5 ارب روپے کراچی کے لیے رکھے گئے ہیں، جبکہ عمران خان نے مارچ 2019 ء میں کراچی کے دورے کے موقع پر 162 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا تھا، اس پر بھی اب یوٹرن لیا جاچکا ہے اور صرف 45.5 ارب روپے جاری اسکیموں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ صرف پانی کی فراہمی کا ایک منصوبہ K-4 ہی 75 ارب روپے کا ہے، اور سیوریج کا منصوبہ’’ایس تھری‘‘ 32 ارب روپے کا ہے۔ یہی حال سندھ حکومت کا ہے جس نے فراہمی آب کے منصوبے K-4 کے لیے صرف 80 کروڑ روپے رکھے ہیں اور نکاسی آب کے منصوبے ’’ایس تھری ‘‘ کے لیے 5 ارب روپے… گویا اگر مختص کی گئی تمام رقم فراہم ہوبھی جائے تو یہ صرف جاری منصوبوں کے لیے ہوگی وہ بھی ادھورے کام کے لیے، اس طرح آئندہ کئی سال تک کراچی کی صورت حال میں بہتری کی اُمید تو دور کی بات، مزید ابتری کے امکانات نظر آرہے ہیں۔
کراچی کے حالات دوبارہ بدامنی کی طرف جارہے ہیں۔ روزانہ سرِعام سڑکوں پر اور گھروں میں ڈکیتی کی وارداتیں اور دیگر جرائم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دعووں کو منہ چڑاتے نظر آرہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے معزز جج نے کہا کہ شہر میں ٹرانسپورٹ کی وہ بدترین صورت حال ہے جو شاید افریقا کے قحط زدہ ممالک میں بھی نہ ہوگی۔ سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان صاحب کے ماس ٹرانزٹ پروگرام کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔ حکومتِ سندھ کی شرمناک کارکردگی کا یہ حال ہے کہ ہزاروں بسیں چلانے کے منصوبے کے بعد صرف 10 بسیںشہر میں چلانے کا اعلان کیا ہے، چنانچہ عام آدمی اپنی سواری کا خود انتظام کرنے پر مجبور ہے، جس کے باعث لاکھوں کی تعداد میں موٹر سائیکلیں اور کاریں سڑکوں پر ہیں، جس سے ٹریفک کے بدترین مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ گرین لائن اور اورنج لائن منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔ سڑکیں کھود کر چھوڑ دی گئی ہیں۔ سرکلر ریلوے کے نام پر لوگوں کے گھروں کی دیواریں زمین بوس کردی گئی ہیں، لیکن کئی برس گزرنے کے باوجود ہم نے اس منصوبے پر کوئی پیش رفت نہیں دیکھی۔ اب تو بس رضا علی عابدی کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ گیلان آباد کا اسٹیشن کہاں تھا، اور ریل کراچی میں کہاں کہاں سفر کیا کرتی تھی۔ وہ سرکلر ریلوے اور ٹرام خواب وخیال بن کر رہ گئی ہیں اور صرف تصویروں ہی میں نظر آتی ہیں۔
کراچی کی سڑکوں کا حال اتنا برا ہے کہ جب ہم سندھ سے باہر جاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کراچی بنا درختوں کے کوئی جنگل ہے جہاں ہم جانوروں کی طرح زندگی بسر کررہے ہیں۔ ملیر کے پل کے پاس کوئی ہفتے سے زیادہ ہوگیا گٹر اتنے اُبلے کہ سڑک کو چاروں طرف سے گھیرلیا، یہاں گاڑیاں آہستہ ہونے لگیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام الگ ہونے لگا۔کل ہی کی بات ہے، میاں بیوی بائیک پر جارہے تھے، گیلی سڑک کی وجہ سے بائیک پھسلی اور خاتون زمین پر، بچہ اس کی گود میں تھا، اس نے اپنی پوری کوشش کرکے بچے کو خود میں سمالیا لیکن بچے کو پھر بھی چوٹ لگ گئی اور بچے کی طرف سے خاموشی۔ خاتون نے اپنے بچے کی یہ حالت دیکھی تو دکھ سے اس کے آنسو نکل آئے، اس کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا۔ بچے کو فوری اسپتال لے جایا گیا، معلوم نہیں کہ آگے کیا ہوا؟ قائدآباد اور دائود چورنگی کے پل پر سڑک یوں عجیب سی ہوئی ہے جیسے کوئی کبڑا شخص لیٹا ہو، اس کی وجہ سے یہ دونوں پل خطرناک ہوچکے ہیں اور متعدد حادثات یہاں رونما ہوئے لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
پورے شہر میں شکستہ سڑکوں نے لوگوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کررکھا ہے۔ جو سڑک بنتی ہے، اس کی چائنا کے مال کی طرح کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ چھ ماہ بھی نہیں نکال پاتی۔ کہیں سے نیچے، تو کہیں سے اوپر… اور اس پر لطیفہ یہ کہ جہاں جہاں پانی کی نکاسی کے لیے نالے بنائے ہیں وہاں سڑک نیچے ہے اور نالہ اوپر…اور اس پر مستزاد گٹر کچھ یوں بنائے ہیں کہ عین سڑک کے درمیان پورے گنبد کے ساتھ براجمان نظر آتے ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ بلدیات کے انجینئروں کو ان ہی گٹروں میں بند کردیا جائے۔
پانی کی فراہمی اور سیوریج کے معاملات کا ذمہ دار واٹر بورڈ فنڈز اور ملازمتوں کے لالچ میں حکومتِ سندھ اور KMC کے درمیان کھینچاتانی کا شکار ہے اور خود ایک مافیا کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اب تو حال یہ ہوگیا ہے کہ واٹر بورڈ کا کام لوگوں کو پانی کی فراہمی کے بجائے قلت پیدا کرکے مال بٹورنا رہ گیا ہے۔ اس وقت کراچی کی 70 فیصد سے زائد آبادی شدید قلتِ آب کا شکار ہے۔ پورے کراچی میں گٹر بہہ رہے ہیں لیکن کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ کچرے کا یہ حال ہے کہ پورا کراچی اس وقت دنیا کے سب سے بڑے کچرا خانے کا منظر پیش کررہا ہے۔ نالے کچرے سے بھرے ہوئے ہیں۔ کروڑوں روپے نالہ صفائی کے نام پر صرف ہڑپ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ کچرے کا مسئلہ بھی حکومتِ سندھ اور میئر کراچی کے درمیان سیاست کا شکار ہے۔ دوسری جانب سڑکوں کی مرمت تو اب ہم شہریوں کے لیے خواب بن کر رہ گئی ہے۔
کے الیکٹرک اس وقت اس شہر کا سب سے بڑا مافیا بن گیا ہے، جو نمبروں کی معمولی اکھاڑ پچھاڑ سے شہریوں کی جیبوں سے اربوں روپے بٹور رہا ہے اور اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
اب آپ یہی دیکھیے کہ کے الیکٹرک عوام سے لوٹ مار میں مصروف ہے لیکن حکومت اسے مسلسل سبسڈی دیے جارہی ہے، اور یہ سبسڈی سالانہ 75ارب روپے تک بھی دی گئی ہے۔ کے الیکٹرک کی لوٹ مار کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کمپنی کے سربراہ عارف نقوی امریکا میں کیے جانے والے ایک بہت بڑے فراڈ کے جرم میں برطانیہ میں زیر حراست ہیں اور اُنھوں نے برطانیہ کی تاریخ کی سب سے بڑی ضمانت ادا کی ہے، اور ہمیں اس میں ذرا بھی کوئی شک وشبہ نہیں کہ ضمانت کی یہ رقم ہم کراچی والوں ہی کی جیب سے نکالی گئی ہے۔ وطنِ عزیز کو 60 فیصد سے زائد ریونیو فراہم کرنے والے شہر کو بجلی کے معاملے میں آف شور کمپنیوں کی ملکیت ’کے۔الیکٹرک‘ کے حوالے کردیا گیا ہے، جس نے گزشتہ 15 سال میں منافع کمانے کے لیے کراچی کے عوام کا خون نچوڑ لیا ہے لیکن آج بھی اس کے سسٹم کا یہ حال ہے کہ پورے شہر میں شٹ ڈاؤن، لوڈشیڈنگ اور لوڈ مینجمنٹ کے نام پر بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے اور کے الیکٹرک آج بھی بجلی کی مانگ پوری کرنے کے لیے دوسرے اداروں سے مہنگی بجلی خریدنے پر اصرار کررہی ہے، اور اپنا مطالبہ منوانے کے لیے بلیک میلنگ پر اُتر آئی ہے۔
کراچی کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں نے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم تینوں حکومت میں ہیں لیکن کراچی کی بہتری اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تینوں جماعتیں اور ان کی حکومتیں کچھ کرنے پر تیار نہیں۔ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں کراچی کو بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔
کراچی اُس کا ہے جس نے کراچی کے لیے کام کیا ہے۔ جس نے اس شہر کو نفسیاتی اور عملی طور پر یرغمال بنایا، یا پھر وہ جس نے اس شہر کو سندھ کا اٹوٹ انگ بناکر لوٹ مار شروع کی، اس شہر کے مجرم ہیں۔ وہ ظالم ہیں کہ اُنھوں نے ایک امن پسند شہر کو شورشوں کا مسکن بنایا، یہاں کی ہریالی چھین لی اور اچھے موسم کو غارت کیا۔ خدا کی طرف سے عطیہ کردہ اس شہر کو کتوں کی طرح بھنبھوڑ ڈالا گیا۔ جب ہم نے اس کے امن پسند شہر کو تباہ کیا تو …
ہم بارشوں کے لیے ترسادیے گئے ہیں۔
امن کے لیے ہماری آنکھیں پتھرا گئی ہیں۔
سکون کے لیے پیسے اُڑادیے لیکن نہیں مل رہا۔
ہمارے محافظ ہماری عزتوں کے لٹیرے بن گئے ہیں۔
جج سے لے کر چپڑاسی تک انصاف کے لیے پیسہ مانگتا ہے۔
انصاف کے لیے اپنی آبرو بیچنی پڑتی ہے، پھر بھی نہیں ملتا۔
گرمی اور شدید گرمی نے اس دنیا ہی کو ہمارے لیے جہنم بنا دیا ہے۔
اس شہر میں ایمان داری کو پائوں تلے کچلا گیا۔
اور حقیقت یہی ہے کہ اس شہر کو کچھ دینے والوں کے ساتھ ہم نے کچھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ ہم نے ذاتی فائدوں کے لیے اجتماعی فلاح وبہبود کو دائو پر لگا دیا۔
لیکن اب نہیں… اس شہر کو عزت دینی ہوگی۔ اس شہر کو ایک نئی پہچان کی طرف موڑنا ہوگا، ورنہ جیسا رویہ ہم شہروں کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں، ویسا رویہ اس رب نے ہمارے ساتھ رکھا تو کہیں بھی ہمیں جائے پناہ نہ ملے گی۔ دنیا کی رسوائیاں الگ…آخرت کی بربادیاں الگ…
چونکہ قریش مانوس ہوئے (یعنی) جاڑے اور گرمی کے سفروں سے مانوس، لہٰذا اُن کو چاہیے کہ اِس گھر کے ربّ کی عبادت کریں جس نے اُنھیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا۔ (سورۃ القریش)

حصہ